(آخری قسط) میں ہوں نجود

127

فارس کی واپسی

اگست 2008

چند دن پہلے مجھے ایک جدید قسم کے ریسٹورنٹ میں پیزا کھانے کا موقع ملاجہاں ویٹر سفید ٹوپیاں سر پر رکھے آرڈر لےکرپھروائرلیس پر آگے آرڈر پہنچا رہے تھے۔

کیا ہی ذائقہ تھا ! یہ کسی بڑے نرم کیک کی طرح تھا اور اوپر طرح طرح کی چیزیں سجائی گئی تھیں، ٹماٹر، مکئی کے دانے، مرغی کا گوشت، زیتون اور نہ جانےکیا کیا اس پر لگا ہوا تھا۔ ہمارے ساتھ والے ٹیبل پر کچھ خواتین بیٹھی تھیں، وہ بالکل یمن ٹائمز کی صحافیوں کی طرح لگتی تھیں۔ وہ بہت رکھ رکھاؤ والی لگ رہی تھیں اور چھری کانٹے سے پیزے کو کاٹ کاٹ کر منہ میں ڈال رہی تھیں۔ میں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی ویسا ہی کرنے کی کوشش کی، پہلے پہل تو بہت مشکل ہوئی، مجھ سے سارا پیزا ادھر ادھر بکھر گیا۔ میں نے حیفا کو دیکھا، اس کے ساتھ والے ٹیبل پر ایک لڑکی شیشے کی بوتل سے اپنی پلیٹ میں کیچپ ڈال رہی تھی تو حیفا نے بھی ویسا تجربہ کرنے کی کوشش مگر پہلے ہی لقمے پر تیز مرچ کے ذائقے سے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، یہ تو اس کی خوش قسمتی تھی کہ پاس کھڑے ایک ویٹر نے اپنا وائرلیس چھوڑا اور پانی کا جگ ہمیں پکڑا دیا۔

اس دن سے ہم نے گھر میں یہ کھیل کھیلنا شروع کردیا کہ جب بھی ہم کھانا لگانے میں امی کی مدد کرتیں تو یوں ظاہر کرتیں کہ ہم کسی پیزا ہٹ میں ہیں اور یہاں کوئی لذیذ سی ڈش کھانے آئی ہیں۔

“آپ کیا کھانا پسند کریں گی؟” حیفا ہال میں دسترخوان بچھاتے ہوئے مجھ سے پوچھتی۔

“آج تو میں پیزا کے ساتھ پنیر کھانا چاہوں گی”۔

میں نے پنیر کا نام اس لیے لیا کیونکہ تھوڑی دیر پہلےمیں کچن میں دیکھ چکی تھی کہ آج گھر میں صرف پنیر ہی تھا۔ آج تو اسی پرگزارا کرنا ہوگا۔

ابھی ہم دسترخوان پر بیٹھے ہی تھے کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔

“نجود! کیا آج بھی کسی صحافی نے آنا ہے؟”محمد نے مجھے شاکی نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔

“نہیں ہر گز نہیں، کم از کم آج تو نہیں۔”

“شاید یہ ٹینکر ہے پانی بھرنے آیا ہوگا، لیکن وہ تو عموماً صبح کے وقت آتا ہے۔” تیوریاں چڑھائے وہ اٹھا اور تیز تیز قدم اٹھاتا دروازہ کھولنے چلا گیا، لقمہ ابھی تک اس کے منہ میں تھا۔ اگست کی گرمی میں اس وقت کون آسکتا ہے؟ کیونکہ موسم گرما میں مہمان عموماً دن ڈھلنے کے بعد آتے تھے۔

“یہ تو فارس ہے! فارس لوٹ آیا ہے!” ادھر وہ چیخا، ادھر ہم سب اچھل پڑے۔

مجھے لگا میری جان نکل جائے گی، اپنے پیارے بھائی فارس کو دیکھنے کے لیے تو میں چار سال سے ترس گئی تھی۔ میری والدہ کاپنتے ہاتھوں سے دیوار کا سہارا لیے ہوئے بڑی مشکل سے دروازے کی طرف چل پڑیں اور ہم سب ان کے پیچھے لپکے۔ چھوٹی روضہ نے آگے نکلنا چاہا مگر وہ پھسلی اور ہمارے پیروں میں کچلی گئی، دروازے تک کا یہ چھوٹا سا فاصلہ آج بہت لمبا محسوس ہورہا تھا۔

دروازے پر ایک نوجوان کھڑا تھا، دھوپ کی تمازت نے اس کا رنگ سانولا کر کے رکھ دیا تھا اور اس کے گال پچکے ہوئے تھے، کتنا بدل گیا تھا وہ! دبلا پتلا اور لمبا تڑنگا ہو گیا تھا۔ یہ وہ تصویر والا چھوٹا سا فارس تو نہیں تھا جسے میں بغور دیکھا کرتی تھی کہ کہیں میں اس کا چہرہ بھول نہ جاؤں۔ اب اسے قریب سے دیکھنے کے لیے مجھے گردن اٹھانا پڑ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں سخت ہوچکی تھیں اور پیشانی پر اپنے والد کی طرح سیاہی مائل لکیروں کا جال بن چکا تھا۔ اب وہ پورا مرد لگ رہا تھا۔

میری والدہ اپنی نحیف سی آواز میں فارس! فارس! پکارتے ہوئے اس سے لپٹ گئیں اور اس کی سفید قمیض کو پکڑ کر زور سے اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا۔ “ہم تو تمہیں دیکھنے کو ترس گئے تھے” میری باری آنے پر میں نے اسے گلے لگا کر کہا۔ فارس خاموش کھڑا رہا، وہ کسی پریشانی کا شکار نظر آرہا تھا، خالی خولی نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا، شاید وہ دکھی بھی تھا، کہاں گیا اس کا وہ باتونی مزاج جو اس کو بہت جچتا تھا؟

“فارس!فارس!”روضہ کسی خودکار آلے کی طرح بولے جارہی تھی، اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ لمبا جوان اس کا بھائی ہے جو اس کے بچپن میں ہی گھر چھوڑ گیا تھا۔

گھر سے جانے کے دو سال بعد اس نے سعودیہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، پھر اس کا کوئی اتا پتہ نہیں چلا، یہاں تک کہ پچھلے مہینے ایک رات کو اچانک اس کی کال آئی، جب میری والدہ نے دوسری طرف سے اس کی آواز کو پہچانا تو خوشی سےچیخ پڑیں اور ہم سب نے ایک دوسرے سے رسیور کے لیے چھینا جھپٹی شروع کردی۔ وہ ہم سے تو بہت دور چلا گیا تھا مگر یہ اطمینان تو ہوگیا کہ زندہ ہے۔

“فارس بیٹا! گھر لوٹ آؤ،”میری والدہ اس سے عاجزانہ انداز میں سماجت کررہی تھی۔

“میں نہیں لوٹ سکتا، امی!میں یہاں کام کرتا ہوں۔” کال کاٹنے سے پہلے اس نے کہا تھا۔

فون پر دس منٹ کی اس بات چیت کے بعد میری امی دوبارہ مایوسیوں میں ڈوب گئیں۔ تب سے ان کامزاج بدل گیا تھا، میرے طلاق کے بعد وہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ رہی تھیں مگر اب اچانک پھر سے انہوں نے بات بات پہ بلاوجہ بھڑکنا شروع کردیا تھا۔ وہ پھر سے اپنے بیٹے کو دیکھنا اور اسے سینے سے لگانا چاہتی تھیں، ان کے نصیب میں یہی رہ گیا تھا کہ اپنی اولاد میں کسی کو گھر سے بھاگتا تو کسی کو اغوا ہوتا دیکھیں۔ کیا ان کے نصیب میں یہی کچھ لکھا ہوا تھا؟ کیا دوسری ماؤں کی طرح ان کا حق نہیں تھا کہ وہ بھی کبھی ہنسی خوشی چین کی زندگی گزاریں؟

ان کی پریشانیاں لوٹ آئی تھیں اور انہیں لگ رہا تھا کہ اب وہ کبھی فارس کو دیکھ نہیں پائیں گی۔ مجھے تو لگ رہا تھا کہ اس نے آخر کار خاندان سے الگ تھلگ ہی رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے، اب وہ بس اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے ہی کبھی کبھار ہم سے رابطہ کرتا ہے۔ میری والدہ کی بے خوابی کی عادت لوٹ آئی تھی، ان کو اس حالت میں دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو روتا تھا۔ طلاق نے میری آنکھیں کھول دی تھیں اور اب میں دوسروں کے دکھوں کو پہلے سے بڑھ کر محسوس کرنے لگی تھی۔

اب اچانک سے اس تپتی دوپہر کو وہ لوٹ آیا تھا، میرے دماغ میں جس فارس کی تصویر بیٹھی ہوئی تھی یہ اس سے زیادہ کم گو اور خاموش طبع تھا، البتہ اس کی گھنی بھنویں اور گھنگھریالے بال آج بھی ویسے کے ویسے تھے۔ میں اس کے بارے میں ایک ایک بات جاننا چاہتی تھی، اس کا مالک اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتا تھا یا نہیں؟ کیا سعودیہ میں اس نے کوئی نئے دوست بھی بنائے تھے یا نہیں؟ یہ لوگ ضرور وہاں پیزا بھی کھاتے ہوں گے؟

امی اسے چھوڑ نہیں رہی تھیں، وہ اسے لے کر چھوٹے صحن میں آئیں۔ فارس زیادہ بول نہیں رہا تھا۔ اس نے آہستہ سے اپنے جوتے اتارے اور ایک چٹائی پر بیٹھ گیا۔ میں بس اسے ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہی۔ امی جلدی سے ایک کپ چائے بنا کر لے آئیں اور اس نے جلدی جلدی گھونٹ بھرنے شروع کر دیے۔

“بیٹا سب ٹھیک تو تھا نا وہاں؟” میرے والد کی کپکپاتی ہوئی آواز آئی، یوں لگ رہا تھاکہ وہ ابھی روپڑیں گے۔ میرے والد سب کچھ جاننا چاہتے تھے، وہ کہاں رہا اورکس کے پاس کام کرتا رہا؟ کیا وہ وہاں خوش تھا؟ اورکیا کچھ کماتا تھا؟ لیکن وہ جواب میں ایک سوال بار بار دہرائے جارہا تھا کہ “تم لوگ اپنا بتاؤ، کیسے ہو آپ سب؟”

وہ “آپ سب ” پر زور دے کر کہتا۔

“مجھے اپنے گھر والوں کی بہت فکر رہی، میں نے بہت الٹی سیدھی باتیں سنی ہیں، کوئی مجھے بتائے گا؟ سب خیریت تو ہے ناں۔۔۔”

وہ بہت پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ کیا اسے کوئی شک ہو گیا تھا؟ وہ کہہ رہا تھا کہ وہاں ہمارے خاندان کے متعلق کچھ باتیں زبان زد عام تھیں۔ اتنی دور سعودیہ تک یہ باتیں پہنچ گئیں، مجھے تو نقشے میں معلوم نہیں تھا کہ سعودیہ کہاں واقع ہے۔ یہاں سے جانے والے کچھ مسافروں نے اس کو تھوڑا بہت تو بتایا تھا کہ یہاں ہمارے ساتھ کیا کچھ ہوا تھا مگر کسی نے تفصیل نہیں بتائی تھی۔ ایک دن اس نے ایک مقامی اخبار میں میری اور میرے والد کی تصویریں دیکھ لیں۔ وہ تو چونکہ پہلی کلاس کے بعد سکول سے بھاگ گیا تھا تو تصویروں کے نیچے لکھی خبر نہیں پڑھ سکا تھا۔ اس دن کے بعد سے وہ تشویش میں پڑ گیا تھا یہاں تک کہ اس کی نیندیں اڑگئی تھی۔ لوگوں کی باتیں، اخبار میں تصاویر، میری طلاق کی خبر۔۔۔ میرے والد نے ان کو پچھلے مہینے کے واقعات مختصر الفاظ میں سنادیے۔

“اب میں اچھی طرح سمجھ گیا ہوں پورا قصہ” میرا بھائی کہنے لگا۔

“اپنے بارے میں بھی کچھ بتاؤ ناں ہمیں”میرے والد نے اصرار کیا۔

فارس نے کپ دسترخوان پر رکھ دیا اور سر جھکا کر دھیمی سی آواز میں بولنے لگا: “مجھے افسوس ہے کہ میں چار سالوں میں کچھ زیادہ نہیں کما پایا، کاش کہ میں پہلے یہ بات سمجھ لیتا” کمرے میں پھر سے خاموشی چھا گئی۔ پھر وہ زیرلب مسکراتے ہوئےبولا.”آپ کو یاد ہے ابو! اس دن میں نے آپ سے بد تمیزی کی تھی کیونکہ میں نانبائی کے پاس سے کچھ روٹی مانگنے گیا تھا اور خالی ہاتھ ناکام واپس آگیا تھا۔ مجھے بہت ہی شرم آرہی تھی کہ میں ادھر سے بھیک مانگ کر پیسے جمع کروں۔ میری تو خواہش تھی کہ میرے ہم عمروں کی طرح میرے بھی نئے نئے کپڑے ہوں، لیکن ہمارا تو گھر کے کھانے پینے کا خرچہ ہی بڑی مشکل سے پورا ہوتا تھا۔ اگلے دن میرے سر پرایک جنون سوار ہوگیا تھا اور مجھے اپنے سوا کسی پر بھروسہ نہیں رہا تھا، میں کامیاب انسان بننا چاہتا تھا اور پیسہ کمانا چاہتا تھا تاکہ میں اپنے پسندیدہ کپڑے خرید سکوں۔ اسی وقت میں گھر سے نکلا اور خود سے یہ عہد کیا کہ میں تب تک نہیں لوٹوں گا جب تک بہت زیادہ پیسہ نہ کما لوں”۔

ایک لمحے کو رک کر اس نے چائے کا گھونٹ بھرا اور دوبارہ بولا: “محلے کے دوستوں میں سے کسی نے بتایا کہ سعودیہ میں کام کے بہت مواقع ہیں، کہا جاتا ہے کہ وہاں آدمی اتنا کما لیتا ہے کہ نہ صرف اپنی گزر بسر اچھی ہوتی ہے بلکہ پیچھے اپنے گھر والوں کو بھی پیسے بھیج سکتا ہے۔ یہ بات میرے دل کو لگی اور میں نے یہ مہم جوئی کرنے کی ٹھان لی،میرے حوصلے بہت بلند تھے، کیونکہ میرے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں تھا، لیکن میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ کام اتنا دشوار ہوگا”۔

“سعودیہ پہنچنے میں مجھے چار دن لگے، پہلے میں نے یمن کے شمال مغرب میں واقع صعدہ شہر میں ایک ٹیکسی چلانا شروع کی، وہاں تو قدم قدم پر فوج کی جانب سے چیک پوسٹیں بنی ہوئی تھیں، مجھے لگا کہ یہاں گزارا بہت مشکل ہوگا۔ صعدہ میں مجھے ایک اسمگلر ملا جس نے پانچ ہزار ریال میں مجھے بارڈر پار کروانے کی ذمہ داری لینے کی پیشکش کی، یہ اگرچہ بہت زیادہ تھا مگر یہاں تک پہنچنے کے بعد میں واپسی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا، کم از کم یہ آدمی اس کا م کا ماہر تھا، بقول اس کے اسے ایسے راستے معلوم تھے کہ جہاں سے گزرتے ہوئے بارڈر پر تعینات فورسز کے چھاپوں سے بچا جاسکتا تھا۔ میرے حق میں بہتر بھی یہی تھا کہ میں اس کی خدمات لے لوں کیونکہ میرے پاس تو شناختی کارڈ بھی نہیں تھا۔”

“ہمیں تو بہت پریشانی ہوئی تھی، ہم سمجھے کہ ہم تمہیں کھو چکے ہیں اورشاید دوبارہ کبھی نہیں دیکھ پائیں گے۔” میرے والد بیچ میں بولے۔

فارس اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے بولا: “ہم لوگوں نے رات کی تاریکی میں بارڈر پار کیا، میں نے کبھی زندگی میں اتنی خوفناک صورتحال کا سامنا نہیں کیا۔ راستے میں مجھے اور یمنی بھی ملے جن میں سے کچھ تو مجھ سے بھی چھوٹی عمر کے تھے۔ میری طرح انہیں بھی نہیں پتہ تھا کہ آگے کس قسم کی صورتحال سے واسطہ پڑنے والا ہے۔ سب پر ایک ہی دھن سوار تھی کہ کسی طرح پیسے کمائیں اور امیر ہوجائیں۔ مجھے سارے راستے اسی بات کا خوف کھائے جا رہا تھا کہ اگرفوج نے ہمیں پکڑ لیا تو وہ مجھے واپس صنعاء بھیج دیں گے۔

بارڈر پار کرتے ہی میں نے سکھ کا سانس لیا، لیکن جانا کہاں ہے؟ یہ میری زندگی کا پہلا موقع تھا کہ میں نے کسی اجنبی شہر میں قدم رکھا تھا۔ میں تھکن سے چور ہونے کے باوجود چلتا رہا یہاں تک کہ خمیس مشیط شہر کے قریب پہنچ گیا۔ یہ کیا!اس جگہ سے تو صنعاء شہر ہزار درجے بہتر تھا۔ وہاں ایک آدمی سے میں نے راستے کے بارے میں راہنمائی چاہی تو اس نے مجھے رات اپنے ہاں گزارنے کی پیشکش کی۔ وہ وہاں دیہات میں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رہ رہا تھا۔

اگلے دن اس نے مجھے اپنے ہاں کام کرنے کی پیشکش کی تو میں نے فوراً ہاں کردی، دیکھا جاتا تو میرے پاس اور کوئی راستہ تھا بھی نہیں۔ اس کے پاس بہت ساری بھیڑیں تھیں۔ اس نے کوئی چھے سو بھیڑوں کا ریوڑ میرے حوالے کیا کہ ایک دوسرے سوڈانی چرواہے سے مل کر ان کو روز چرانے لے جایاکروں۔ مجھے روزانہ بارہ گھنٹے کام کرنا پڑتا تھا۔ میری ڈیوٹی صبح چھے سے شام چھے بجے تک تھی۔ رات کو میں اور سوڈانی چھوٹے سے مکان کے ایک کمرے میں سوجایا کرتے جس میں صرف دو چھوٹے چھوٹے بستر لگے ہوئے تھے، نہ ٹی وی، نہ فریج، نہ باتھ روم اور نہ ہی اے سی، پتہ نہیں یہ کہاں پھنس گیا تھا میں”۔

اس کی آواز بھاری سی ہونے لگی تھی۔ وہ یقیناً بہت تھکا ہوگا۔ بولتے بولتے وہ تھوک نگلنے رکا اور پھر گویا ہوا: “اس دن سے گویا میری شامت کا آغاز ہوگیا۔ مالک کے مطالبات روز بروز بڑھنے لگے، جانوروں کو چارہ بھی کھلانا ہوگا، پانی بھی پلانا ہوگا ان کو کھیتوں میں لے کر جانا ہوگا۔ دن بدن کام بڑھتا ہی جارہا تھا۔ ایک مہینے بعد جب مجھے دو سو ریال کی پہلی تنخواہ ملی تو تب جا کے مجھے حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا، اتنے پیسوں کی تو پاس والی دکان سے مٹھائی ہی خریدی جاسکتی تھی جو خود اسی کی ملکیت تھی، قسمت نے ہمارے ساتھ یہ کیا کھیل کھیلا تھا۔”

میں تو تنگ آگیا تھا، میں نے دل ہی دل میں حساب لگا لیا تھا کہ اگر صنعاء واپس جانا ہے تو کم از کم ایک سال کام کرنے کے بعد میں اتنی رقم اکٹھی کرنے میں کامیاب ہوں گا۔ میرے پاس اتنی رقم تک نہیں تھی کہ آپ لوگوں سے رابطے کے لیے ایک ٹیلی فون کال کرسکتا۔ میرےاندر کی خود سری اب بھی مجھے اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے سے روک رہی تھی۔ میں نے پہلی دفعہ آپ لوگوں اسی لیے رابطہ کیا تھا کہ آپ لوگوں کو لگے کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ اس کے دو سال بعد میں نے دوسری دفعہ رابطہ کیا کیونکہ میں بہت پریشان تھا۔”

اس نے سرجھکایا اور ایک لمبی سانس لے کر بولا:”رسیور کے دوسری طرف امی کی سسکیاں سن کر میں خود پر قابو کھو بیٹھا تھا۔ میری راتوں کی نیندیں اڑ گئی تھیں۔ میں نے اپنے پاس موجود پیسے گنے تو معلوم ہوا کہ اتنے پیسے ہوگئے تھے کہ صنعاء پہنچ سکتا تھا۔ پچھلے ہفتے ایک صبح میں اپنے مالک کو الوداع کہنے گیا تھا۔ میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اب گھر جانے کا وقت آگیا ہے۔”

“اب تم کیا کرو گے؟”محمد نے پوچھا۔

“اب میں باقی لوگوں کی طرح کام کروں گا۔ میں چھوٹی موٹی چیزوں کی دکان ڈال لوں گا۔” وہ کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح بولا۔

“کتنا بدل گیا تھا وہ! کتنے بلند حوصلے ہوا کرتے تھے اُس کے اور اب حالات کے آگے کتنا بے بس نظر آرہا تھا۔ اب میں پھر سے اس کی نظروں میں وہی شرارت دیکھنا چاہ رہی تھی جو کسی انمٹ لکیر کی طرح تھی۔ مجھے اس کی وہ شرارتیں یاد آرہی تھیں جو میرے والدین کے لیے تو درد سر تھیں، مگر میں ان سے خوب محظوظ ہوتی۔ اگر اس دن وہ ہمارے ساتھ پیزا کھانے آیا ہوتا تو شاید وہاں رکھے ٹشو پیپرز سے کاغذی جہاز بنا بناکر پاس والی ٹیبلوں کی طرف اڑانے لگتا۔ اُس کی اِسی عادت کو سوچ سوچ کر ہی تو اپریل کے مہینے میں مجھ میں بھاگ کر عدالت جانے کی ہمت پیدا ہوئی تھی، اُسی سے تومجھے پرواز کا سبق ملا تھا، مجھے لگتا تھا کہ یہ اُس کا میرے اوپر بہت بڑا قرض تھا۔

فارس آج شکست کھا گیا! نہیں، یہ نہیں ہوسکتا، وہ کبھی ہار نہیں مان سکتا۔ میں تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتی کہ وہ یوں ہتھیار ڈال دے گا۔ مجھے لگتا تھا کہ میں بے ہوش ہوجاؤں گی۔۔۔ اب میرے اوپر لازم ہو گیا کہ اب میں اُس کی مدد کی کوشش کروں۔ مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ کیسے مگر اس کے لیے کچھ کرنے کی کوشش تو ضرور کروں گی۔

جب میں وکیل بنوں گی

ستمبر 2008

صنعاء میں گرمیوں میں چلنے والی آخری ہوائیں یہ نوید سنا رہی تھیں کہ حسین شاموں اور بارشوں کا موسم لَوٹ رہا ہے۔ اب میرے چھوٹے بہن بھائی بھی اپنے ہم جولیوں کے ہمراہ تالابوں پر کھیلنے جاسکیں گے۔ جلد ہی خزاں چھا جائے گی اور پھیری والے گرم کپڑے بیچنے آجائیں گے۔

میرا معاملہ الگ تھا، میرے لیے تو یہ پڑھائی کے نئے سال کی ابتداء کی نوید تھی۔ کتنا انتظار کیا تھا میں نے اس لمحے کا۔ اس رات نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ میرا دل کررہا تھا کہ بستر پر جانے سے پہلے میں اپنے کپڑے کے خاکی بیگ کو نئی کاپیوں سے بھر دوں۔ کاغذ کے ایک ٹکڑے پر میں اپنا اور ملاک کا نام لکھنے کی مشق کرتی رہی۔ میں نے اپنی ہم سبق دوست کو بہت یاد کیا، لیکن مجھے اس بات کا بڑا قلق رہا کہ اس دفعہ مجھے اس کا ساتھ نہیں ملے گا کیونکہ میں نے ایک نئے سکول میں داخلہ لے لیا تھا۔

میرے خوابوں میں اب سفید کاپیاں، رنگین قلم اور اپنے آس پاس اپنی ہی عمر کی بہت سی لڑکیاں نظر آتیں۔ پچھلے کچھ ہفتوں سے میرے اوپر آنے والی پریشانیوں کا سلسلہ رک گیا تھا۔ آج بھی جب مجھے وہ دروازے کا زور سے بند ہونا اور چراغ کا الٹنا یاد آجاتا تھا تو میں پسینہ پسینہ ہوجاتی، آنکھوں سے بے اختیار آنسوؤں کی جھڑیاں لگ جاتیں اور منہ خشک ہوجاتا۔ میرا تو سکول جانے کا ارمان تھا۔ ایسا ارمان جسے حقیقت کے روپ میں دیکھنے کی امید لیے ہر دم اس کا تذکرہ کیا جائے۔

آج صبح جب میری آنکھ کھلی تو مجھے لگا کہ میری طبیعت بھی کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ میں اٹھی اور واش روم جانے لگی تاکہ دانت برش کر لوں اور بال کنگھی کر لوں۔ میرے آس پاس گھر کی ساری خواتین ایک چھوٹے سے کمرے میں زمین پر ہی ایک لائن میں سوئی ہوئی تھیں۔ قریبی صحن سےمکھیوں کی بھنبھناہٹ کی آواز آرہی تھی۔ لمبی سبز قمیص اور سفید چادر پر مشتمل اپنے نئے یونیفارم کو پہننے سے پہلے میں نے ٹھنڈے پانی سے اپنا چہر ہ دھویا۔

“حیفا، جاگو،ہمیں دیر ہوجائے گی!”

حیفا جو بکھرے بال لیے آدھا چہر ہ تکیے میں گھسائے ہوئی تھی بہت مشکل سے جاگی۔ امی نے اس کو کپڑے اور جوتے پہنائے، میں ٹیکسی کو دیکھنے دروازے پر گئی۔ حیفا کی چادر گم ہوگئی تھی۔ اس نے دوسری چادر لے لی تھی جو تھوڑی بہت میلی تھی، میں نے کہا واپس آکر ہم اس کو دھو لیں گے اور دوسری گم شدہ چادر کو بھی ڈھونڈلیں گے۔ ڈرائیور آ گیا تھا اور ہمارا انتظار کررہاتھا۔ اسے ایک بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم نے بھیجا تھا جو ہماری فیس اور آنے جانے کا خرچہ بھی اٹھا رہی تھی۔

“کیا تم دونوں تیا ر ہو؟”

“جی”

“تو پھر چلتےہیں”

میرا دل شدت سے دھڑکنے لگا۔ میں نے جلدی سے اپنے بیگ کو تھاما جسے میں نے بڑے اہتمام سے اپنے کندھے سے لٹکایا ہوا تھا۔ گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے امی نے ہمیں گلے لگایا اور چھوٹی روضہ جو اُن کا دامن پکڑے ساتھ کھڑی تھی ہماری طرف الوداعی انداز میں ہاتھ ہلارہی تھی اور پھر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ میں نےاُسی وقت دور بھیڑوں کا ایک ریوڑ دیکھا۔ ہمارا نیا گھر ایک پکی بند گلی کے آخری سرے پر کوکا کولا کی فیکٹری کے پیچھے واقع تھا۔ چرواہے وہاں سویرے ہی اپنے جانور لے کر چرانے آجاتے تھے۔

میں اور حیفا پچھلی سیٹ پر پاس پاس بیٹھی تھیں اور انجن کےسٹارٹ ہونے کی آواز سن کر ہم دونوں نے مسکرا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ہم دونوں خاموش بیٹھی رہیں حالانکہ دونوں ہی یہ جانتی تھیں کہ اندر سے بیک وقت کتنی خوش اور پریشان ہیں۔ کتنا انتظار کیا تھا میں نے اس دن کا کہ میں پھر سے نئی ڈرائینگ سیکھوں، عربی زبان، قرآن اور حساب سیکھوں! فروری میں مجھ سے زبردستی سکول چھڑوایا گیا تھا تو اس وقت تک میں سو تک گنتی سیکھ چکی تھی، اب میں لاکھوں تک کی گنتی سیکھنا چاہتی تھی!

شیشے سے چہرہ ٹکائے میں نے نیلے آسماں پر ایک نظر ڈالی۔ صبح سے ہی بادل چھائے ہوئے تھے اور ہوا چل رہی تھی۔ سڑکیں بالکل سنسان تھیں۔ ابھی تک دکانیں نہیں کھلی تھیں۔ ہماری پڑوسن بڑھیا جو روز روز صحافیوں کو ہمارے ہاں آتا دیکھ کراپنی سیڑھیوں پر بیٹھ کر بڑبڑا رہی ہوتیں تھیں ابھی تک وہ بھی نہیں نکلی تھیں۔ ہمارے محلےکے نانبائی کی دکان کے سامنے لوگوں کی قطار بھی نہیں تھی اور دکان کو تالا لگا ہوا تھا۔ اس سال سکول کا آغاز خلاف معمول رمضان میں ہوا تھا تو آدھا شہر نیند کی وادیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔

یہ پہلا موقع ہوگا کہ میں بھی بڑوں کی طرح فجر سے لے کر مغرب تک روزہ رکھوں گی۔ شروع شروع میں تو بہت مشکل ہوتی چونکہ گرمی بہت تھی تو شدید پیاس سے حلق میں کا نٹے چبھتے محسوس ہوتے اور مجھے یوں لگتا کہ میں بے ہوش کر گر پڑوں گی لیکن جلد ہی میں نے یہ سیکھ لیا کہ صبر کے اس مہینے میں ہم پورے سال سے بالکل الگ طرح رہتے ہیں۔ مغرب کو جوں ہی سورج گھروں کے پیچھے سے غروب ہوجاتا ہم لوگ کھانے پر ٹوٹ پڑتے۔ کھجور، دلیہ، آلو اور قیمے کے پکوڑے، یہ رمضان کے خصوصی پکوان ہواکرتے تھے۔ ہم لوگ راتوں کو بہت دیر تک جاگا کرتے یہاں تک کہ کبھی کبھی تو صبح کے تین بھی بج جاتے۔ ہوٹل کھچا کھچ بھرے ہوتے اور کپڑوں اور کھلونوں کی دکانوں کی نیون لائٹس رات گئے روشن رہتیں۔ باب الیمن کے قریب تو شہر کے وسط سے گزرنا ہی محال ہوجایا کرتا تھا۔

آج صبح جب پہلی بارپانچ بجے کے قریب نماز کے لیے آنکھ کھلی تو خدا کا شکر ادا کیا کہ پچھلے کچھ ماہ سے مجھ پر جو سخت حالات گزرے ہیں، ان میں اس نے مجھے بے یار ومددگار نہیں چھوڑا۔ میں نے اپنے نئے تعلیمی سال کی کامیابی اور اپنی صحت کے لیے خصوصی دعا مانگی۔ میں نے اپنے والدین کے بہتر روزگار کے لیے بھی بہت دعائیں مانگیں تاکہ میرے بہن بھائی سڑکوں پر بھیک مانگتے نہ پھریں، اور فارس کی پہلی جیسی مسکراہٹ لوٹ آئے۔ اگر سارے بچوں کے لیے سکول جانا لازمی قرار دیا جائے تو اِس جیسے لڑکوں کو ٹریفک اشاروں کے پاس چیزیں بیچنے سے روکا جاسکتا ہے۔ مجھے اپنے داداجی کا بھی خیال آیا، ان کی یاد مجھے ستانے لگی تھی۔ وہ یقیناً عالم بالا میں مجھ پر فخر کر رہےہوں گے۔

ٹیکسی اب سینٹرل ایونیو میں ائیرپورٹ روڈ پر جارہی تھی، ہم آرمی چیک پوسٹ سے گزر کردائیں طرف مڑ گئے۔ راستے میں بہت سی پختہ عمارتیں نظر آرہی تھیں جن کی چھتوں پر ڈش انٹینا لگے ہوئے تھے۔ ایک دن ہوگا کہ ہمارے گھر بھی ٹی وی ہوگا۔ ڈرائیور نے بٹن دبایا تو پچھلا شیشہ نیچے ہوگیا اور میں نے دور سے کچھ بچیوں کے کوئی گیت گانے کی آواز سنی۔ جوں جوں ہم آگے بڑھتے گئے آواز نزدیک سے نزدیک تر ہوتی گئی۔

“یہ لیجیے ہم پہنچ گئے” ڈرائیور نے ایک سیاہ دیوہیکل گیٹ کے سامنے گاڑی روکتے ہوئے کہا۔

مشکل سے پانچ منٹ کا سفر تھا۔ مجھے اپنے پورے جسم میں ایک سرسراہٹ سی محسوس ہوئی۔ لڑکیوں کی آواز اب اتنی صاف آرہی تھی کہ مجھے الفاظ سمجھ آنے لگے تھے، یہ ایک قدیم گیت تھا جو میں نے پچھلے سال سیکھا ہوا تھا۔ یہ آوازیں ہمارے نئے سکول سے آرہی تھیں۔

“صبح بخیر نجود!”

شدا! آپ یہاں! میں گرم جوشی سے ان سے لپٹ پڑی۔ اس نے پرزور طریقے سے اس یادگار دن کوآنے اور خوشیوں میں شریک ہونے پر اصرار کیا تھا۔ کاش کہ وہ جان لیتیں کہ ایک جانے پہچانے چہرے کو دیکھ کر مجھے کتنا اطمینان ہوا تھا۔

دروازہ کھلا تو سامنے ایک وسیع عرض ریتلا صحن نظر آیا۔ چاروں طرف کلاسیں تھیں جن کی دیواروں پرخاکی ٹائلیں لگی ہوئی تھیں۔ عمارت دومنزلہ تھی۔ سکول کی تمام طالبات نے میری طرح سبز وسفید یونیفارم پہنا ہوا تھا۔ میں کسی کو نہیں پہچانتی تھی اور یہ چیز مجھے بہت کھٹک رہی تھی۔ شدا نے نجلا مطری سے میرا تعارف کروایا جو وہاں کی پرنسپل تھیں، وہ سرتا پا حجاب میں ملبوس تھیں جس میں صرف ان کی آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔

“کیسی ہو نجود؟” ان کی پتلی مگر اعتماد سے بھر پور آواز سنائی دی۔ وہ ہمیں صحن کے آخر میں واقع اپنے دفتر لے گئیں۔ ان کے ڈیسک پر مصنوعی پھولوں کا گلدان رکھا ہوا تھا جبکہ دیوار پر صدر علی عبد اللہ صالح کا بڑا سا پورٹریٹ لگا ہوا تھا۔ ایک کرسی پر بیٹھی ایک معلمہ کمپیوٹر پر کچھ ٹائپ کر رہی تھیں۔ دروازے سے اندر آتے ہی نجلا مطری نے اپنا نقاب اٹھا لیا۔ کتنی خوبصورت ہیں یہ تو! اُن کی آنکھوں کی رنگت نیلی اور سرمئی اور جلد دودھیا تھی۔

“میں تمہیں یہاں خوش آمدید کہتی ہوں، نجود! اس سکول کو بالکل اپنے گھر جیسا سمجھو۔”

میری طبیعت تھوڑی تھوڑی کھلنی شروع ہوگئی تھی۔ پرنسپل صاحبہ نے ہمیں بتایا کہ مخیر حضرات کے تعاون سے یہ ٹرسٹ ہر سال تقریباً بارہ سو نئی طالبات کو داخلہ دیتا ہے اور ایک ایک کلاس میں چالیس چالیس اور پچاس پچاس طالبات بھی ہوتی ہیں۔ انہوں نے اس بات کا خصوصی تذکرہ کیا کہ یہاں معلمات چھوٹی بچیوں کے ساتھ گھل مل جاتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر سبق ختم ہونے کے بعد بھی ان سے ملنے آتی ہیں تاکہ وہ اپنے کوئی ذاتی مسائل کے متعلق مشورہ کرنا چاہیں تو کرسکیں۔

ان کی یہ گفتگو سن کر مجھے دلی سکون کا احساس ہوا۔ مجھے تو لگا تھا کہ میرا داخلہ ہوہی نہیں پائے گا کیونکہ ایک معلمہ نے میرے یہاں داخلے کی مخالفت کی تھی۔ جب ہم ٹرسٹ کے دفتر آرہے تھے تو وہ چپکے سے شدا سے کہہ رہی تھی” یہ باقی لڑکیوں جیسی نہیں ہے، اس کا تو باقاعدہ ایک مرد سےتعلق رہا ہے یہ چیز کلاس کی باقی لڑکیوں پر برا اثر ڈال سکتی ہے”۔

شدا نے دوسری جگہوں کے بارے میں بھی غور کرنے کا سوچا تھا جیسے کسی عالمی تنظیم کے خرچے پر بیرون ملک پڑھنا یا صنعاء میں کسی خصوصی سکول میں داخلہ جو اگر چہ بہت بہترین اور مناسب تھیں لیکن ان کا خیال یہ تھا کہ اس میں بڑی مشکل ہوگی اور پھر یہ بھی کہ کیا میں اس طرح کی صورتحال میں چل پاؤں گی کہ اپنے گھر والوں خاص کر حیفا کو یوں چھوڑ کر جا پاؤں گی؟ ہر گز نہیں، نہ ابھی نہ ہی بعد میں۔ اسی وجہ سے میں نے حیی الروضۃ کے سکول کو چنا۔ ان لوگوں کو میرے ساتھ ایسا برتاؤ ترک کرنا ہوگا اور مجھے بھی دوسری لڑکیوں کی طرح سمجھنا ہوگا۔

لگتا ہے کہ میری قسمت ہی خراب ہے! کیونکہ ایک بڑے بڑے ہاتھوں اور نیلی آنکھوں والی خاتون سامنے سے آتی دکھائی دے رہی تھیں، اس نے اپنے چھوٹے چھوٹے بالوں والے سر کو ایک ماوی رنگ کے دوپٹے سے ڈھکا ہوا تھا جس کے کنارے لٹک رہے تھے۔ اُن کے آس پاس طالبات کا جمگھٹا لگا ہوا تھا اور وہ ہر طرف اشارے کیے جارہی تھی۔ ان کا بولنے کا انداز تو مضبوط تھا مگر لہجہ فصیح نہیں تھا، بڑا اجنبی سا لہجہ تھا۔ یہ کسی چڑیا گھر میں تو نہیں کھڑی جو ایسے بات کر رہی تھی۔ شدا نے مجھے بتایا کہ یہ امریکہ سے چھپنے والے خواتین کے ایک معروف شمارے”گلیمر” میں کام کرتی ہیں۔ یہ میری خاطر یمن آئی ہوئی ہیں اور مجھے ان کو بھی اپنی کہانی سنانا ہوگی، پھر سے مجھے ان سخت قسم کے ذاتی سوالات کا سامنا کرنا ہوگا جن کا جواب دیتے ہوئے ہمیشہ دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے، پھر سے وہ درد اٹھے گا جسے میں اپنے دل کی گہرائیوں میں دفن کرنے کی کوشش کرتی رہی ہوں۔

اچانک گھنٹی بجی تو میری جان چھوٹی۔ ہاتھ میں ڈنڈا لیے ایک معلمہ نے ہمیں دیوار کے ساتھ ایک لائن بنا کر کھڑے ہونے کو کہا تو میں جلدی سے کھڑی ہوگئی۔ پھر انہوں نے ہمیں ہال میں دو لائنوں میں ترتیب وار رکھے ہوئے لکڑی کے بنچوں پر بیٹھنے کا کہا۔ میں نے کھڑکی کے قریب کی ایک جگہ منتخب کر لی تھی جو نہ بالکل آگے تھی اور نہ بالکل پیچھے بلکہ تقریباً تیسری لائن میں تھی۔ میرے قریب دو اور لڑکیا ں بھی تھیں جن کے نام اب مجھے یاد نہیں آرہے۔ بلیک بورڈ پر اپنی آنکھیں گاڑے میں دماغ پر زور دے کر ان الفاظ کو پڑھنے کی کوشش کررہی تھی جو معلمہ نے چاک سے لکھے تھے۔”ر-م-ضان ک-ریم””رمضان کریم!” آخر میرے ذہن میں آہی گیا گویا میں نے کوئی پہیلی حل کر لی ہو اور میرے دل کی دھڑکنیں بھی معمول پر آ گئیں۔

جب معلمہ ہمیں قومی ترانہ سنانے کا کہہ رہی تھیں تو میرا دھیان کاپیوں کے اوراق پلٹنے کی آوازوں کی طرف چلا گیا۔ سکول کی مخصوص آوازیں، آخر کار میں نے سکول کی رونقیں دوبارہ پا ہی لیں۔

میرا دھیان تھوڑا بٹ گیا تھا مگر میں نے دوبارہ سے توجہ معلمہ کی باتوں کی طرف لگا لی، وہ کہہ رہی تھیں: “پچھلے سال بلاجواز ہی ہماری ایک طالبہ نے سکول چھوڑدیا، مجھے شروع شروع میں لگا کہ شاید یہ واپس آجائے گی مگرہفتوں گزر گئے اور اُس کا اتا پتا نہ چلا، کچھ مہینے پہلے ہی اچانک ہمیں معلوم ہوا کہ اُس کی تو شادی بھی ہوچکی ہے اور ایک بچہ بھی ہے، حالانکہ وہ صرف تیرہ سال کی تھی! ” نجلا مطری نے یہ الفاظ سرگوشیانہ انداز میں شدا کے کان میں کہنے کی کوشش کی تاکہ میں نہ سن پاؤں، شاید وہ مجھے دکھی نہیں کرنا چاہتی تھیں، لیکن پچھلے چند ہفتوں سے میرے دماغ میں جو سوچ پل رہی تھی اس کا انہیں علم نہیں تھا، میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ میں شدا کی طرح ایک بڑی وکیل بنوں گی تاکہ اپنے جیسی ان تمام کم سن بچیوں کا استحصال ہونے سے روک سکوں۔ اگر میرے بس میں ہوا تو میں شادی کی عمر کم از کم اٹھارہ، بیس، بلکہ بائیس کروا دوں گی۔ مجھے مضبوط اور پرعزم بننا ہوگا۔ مجھے اپنے اندر مردوں کا سامنا کرنے کی جرات پیدا کرنی ہوگی۔ پھر شاید کوئی ایسا دن بھی ہوگا کہ میں اپنے والد کے سامنے کھڑے ہوکر اس بات میں ان سے اختلاف کروں کہ ہمارے نبیﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان کی عمر صرف نو سال تھی۔ پھر میں بھی شدا کی طرح ہیل والے جوتے پہنا کروں گی اور کبھی بھی چہرے کا نقاب نہیں کروں گی۔ نقاب سے تو دم گھٹنے لگتا ہے! لیکن اس مقام تک پہنچنے کے لیے مجھے اپنے کام کو اچھی طرح سے پورا کرنا ہوگا اور خود کو ایک ہونہار طالبہ ثابت کرنا ہوگا تاکہ میں کسی یونیورسٹی جا سکوں اور قانون کی پڑھائی کرسکوں۔ میں اس مقام تک پہنچنے کے لیے دن رات ایک کر دوں گی۔

جب سے میں نے بھاگ کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا تب سے سب کچھ بہت تیزی ہو گیا تھا اور میں شاید اس سب کا احاطہ نہیں کرسکی ہوں جو میرے ساتھ ہوا۔ اس میں بہت وقت لگے گا اور ساتھ ساتھ صبر سے بھی کام لینا ہوگا۔ شدا نے کئی دفعہ مجھے کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا تاکہ وہ میری کچھ مدد کرسکے، لیکن ہر دفعہ آخری لمحات میں اپائٹمنٹ کینسل کردیتی تھی۔ میرے لیے ایک انجان ڈاکٹرکے پاس جانا بے حد دشوار تھا۔ تنگ آکر شدا نے بھی اس بات پر زور دینا چھوڑ دیا تھا۔ یہ بات تو تھی کہ پہلے پہلے مجھے شرم اور خوف آتا تھا کہ میں دوسروں سے کتنی الگ ہوں اور ایک قسم کا احساس کمتری ہر وقت مجھے گھیرے رہتا۔ یہ ایک عجیب سا احساس ہر وقت ہوتا کہ ایک میں ہی ہوں جو ان سارے مصائب میں گھری ہوں اور میری یہ کہانی ایسی ہے کہ کوئی دوسرا اسے سمجھ نہیں پائے گا۔ الگ تھلگ اور بے چارگی کی تصویر۔

بہر حال مجھے آخر کار اِس بات کا ادراک ہوگیا تھا کہ میں اکیلی ہی اِس قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے والی نہیں ہوں۔اگر چہ میرے ساتھ جو ہوا اِس جیسے اور بھی تھوڑے واقعات ریکارڈ پر ہیں جیسے اِس تیرہ سالہ طالبہ کا، لیکن اِن واقعات کی اصل تعداد ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہے۔ شدانے چند ہفتے پہلے مجھے عروی اور ریم سے بھی ملوایا تھا جو میری ہی طرح طلاق لینے آئیں تھیں۔ جب پہلی دفعہ میں اُن سے ملی تو میں نے بہت اپنائیت سے اُن کو گلے لگایا جیسے وہ میری سگی بہنیں ہوں۔ اُن کی کہانیوں نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ نو سالہ عروی کے والد نے اس کی شادی زبردستی اس سے پچیس سال بڑے آدمی کے ساتھ کردی تھی۔ اس نے جب ٹی وی پر میرے بارے میں سنا تو جنوبی صنعاء میں جبلہ کے علاقے میں واقع اپنے گھر کے ایک قریبی ہسپتال میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ بارہ سالہ ریم کے والدین کے درمیان طلاق ہوئی تو اس کے والد نے غصے میں آکر انتقاماً اس کی شادی پڑوس کے ایک اکتیس سالہ آدمی سے کردی تھی۔ کئی دفعہ خودکشی کی ناکام کوششوں کے بعد ایک دن وہ عدالت تک رسائی میں کامیاب ہوہی گئی تھی۔

مجھے یہ سن کر بڑا فخر ہوا کہ میری کہانی نے اپنے لیے نجات کے راستے ڈھونڈنے میں ان کی مدد کی، ان پر ٹوٹنے والے مصائب نے مجھے دکھی کردیا تھا اور مجھے لگا کہ اُن کا اپنے شوہروں کے خلاف بغاوت پر اترآنے میں میرا بھی کچھ نہ کچھ کردار ہے اور مجھ سے ہی سیکھ کر تو انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔ مجھے ان پر بہت ترس آیا اور ان کی مشکلات کو سن کر یوں لگ رہا تھا کہ جیسے میری ہی کہانی مجھے سنائی جارہی ہو۔ میں دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ یہ شادی تو لڑکیوں کےلیے بربادی کا سامان ہے، میری توبہ جو میں نے کبھی شادی کی تو۔

میں بار بار مونا کےساتھ جو ہوا اس کا سوچتی۔ اس نے بھی کڑا وقت دیکھا تھا۔ ایک ہفتے پہلے میری بہن جمیلہ بھی جیل سے چھوٹ کر آئی تھی اور گھر پہنچنے پر میں نے اسے بہت ہی پیار سے گلے لگایا۔ مجھے تو اسے دوبارہ سے دیکھ کر خوشگوارحیرت ہورہی تھی۔

اسے جیل میں عادی مجرموں کےساتھ رکھا گیا تھا، جن میں کچھ تو ایسی بھی تھیں جن پر ان کے شوہروں کے قتل کا بھی الزام تھا۔ ہم لوگوں نے گھر میں اس موضوع پر بات نہ ہی کرنا مناسب سمجھا تھا تاکہ ملاقات کے یہ خوشگوار لمحات خراب نہ ہوں۔ یہ بات تو تھی کہ ہم سب گھر والے عرصے بعد پھر سے ایک جگہ جمع ہوگئے تھے لیکن خوشی کے ساتھ ساتھ جھگڑے بھی سر اٹھانے لگے تھے۔ اس دن میری دو بہنیں آپس میں لڑ پڑی تھیں، مونا نے جمیلہ کی رہائی کے لیے معافی کے فارم پر دستخط تو کر دیے لیکن وہ اب بھی اس سے بَھری بیٹھی تھی۔ وہ اسے اپنا گھر ٹوٹنے کا ذمہ دار سمجھتی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اب وہ ان کے ساتھ پہلے جیسے کبھی نہیں رہ سکتی حالانکہ ساری غلطی تو اس کے شوہر کی تھی۔ میں تو کبھی کبھی سوچتی تھی کہ فارس سے بات کروں اور اس سے یہ عہد لوں کہ جب کبھی اس کی شادی ہوگی تو وہ اپنی بیوی کوخوش رکھے گا۔

ہمارے اوپر سے ایک جہاز اپنے پیچھے دھوئیں کی لمبی لکیر چھوڑتا ہوا گزر گیا۔ یہ یقیناً قریبی ائیرپورٹ پر اترے گا۔ شاید یہ فرانس سے آرہا ہو یا پھر بحرین سے۔ مجھے شدا سے پوچھنا چاہیے کہ ان میں کون سا ملک ہمارے قریب واقع ہے؟ میں بھی کسی دن ایسے ہی کسی جہاز میں بیٹھ کر دنیا کے کونے کونے کا سفر کروں گی۔ ان جہازوں میں کم از کم تین سو مسافر تو ہوں گے ہی۔ ہمارے ایک پڑوسی جو سعودی عرب سے آئے تھے انہوں نے ایک دن کہا تھا کہ جہاز اندر سے کسی بڑے ہال کی مانند ہوتے ہیں۔ اس میں آپ ایک ہی وقت میں رسالے بھی پڑھ سکتے ہیں اور ساتھ ساتھ کھانا بھی منگوا سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جہاز میں کھانے کے برتن ہمارے برتنوں جیسے ہی ہوتے ہیں جیسے کسی پیزا ہٹ میں ہوتے ہیں۔

معلمہ کی تیز آواز مجھے خیالات کی دنیا سے واپس کھینچ لائی، “کون قرآن کریم کی پہلی سورت کی تلاوت کرے گا؟” انہوں نے ساری کلاس کو مخاطب کرکے کہا۔

ایک کمال کے حوصلہ کے ساتھ جو میں ایک عرصے سے کھوچکی تھی میں نے اپنا ہاتھ اونچا کرکے اٹھایا تاکہ سب دیکھ لیں۔ یہ بہت ہی عجیب کیفیت تھی کیونکہ پہلی دفعہ ایسا ہو رہا تھا کہ میں سوچنے کی زحمت کیے بنا کوئی قدم اٹھا رہی تھی۔ آج مجھےجیسے پرواہ ہی نہیں تھی کہ میرے والد کیا سوچیں گے یا لوگ اُن کو میرے بارے میں کیا بتائیں گے۔ بس اتنی بات میرے سامنے تھی کہ میں ایک دس سال کی لڑکی نجود ہوں اورمیں نے ایک سوال کا جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے اور میرے اس فیصلے کا تعلق میری ذات کے علاوہ کسی سے نہیں۔

“نجود!” معلمہ نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ میرا جذبہ ان کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکا۔

میں نے ایک لمبا سانس لیا اور اپنی سیٹ پر سیدھی کھڑی ہوگئی۔ پچھلے سال جو میں نے آیات یاد کی تھیں میں انہیں اپنے حافظے کے گوشوں سے ڈھونڈ کر جمع کرنےلگی۔

“بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (1) الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (2) الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (3) مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ (4) إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (5) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (6) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (7) ”

پوری کلاس میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ “کیا بات ہے نجود! اللہ تعالیٰ آپ کوسلامت رکھے” معلمہ نے تالی بجاتے ہوئے میری حوصلہ افزائی کی اور دوسری طالبات کو میرے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دی۔ پھر انہوں نے کلاس میں کسی دوسری طالبہ کو ڈھونڈنا شروع کیا تاکہ ان سے سبق سن سکیں۔ میں چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ لیےاپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔

میں ادھر ادھر نظر دوڑاتے ہوئے بڑا اطمینان محسوس کررہی تھی کہ میں سبز وسفید یونیفارم پہنے میں اپنی کلاس میں موجود ان پچاس بچیوں جیسی ہی ہوں۔ میں کلاس دوم کی طالبہ ہوں اور دوسری ہزاروں یمنی بچیوں کی طرح میں بھی سکول میں داخل ہوئی ہوں۔آج جب میں دوپہر کو گھر جاؤں گی تو مجھے گھر پہ بہت سار اسکول کا کام کرنا ہوگا اور بہت سارے نقشوں میں رنگ بھرنے ہوں گے۔

آج مجھے لگ رہا تھا کہ میرا بچپن لوٹ آیا ہے، میں پہلے کی طرح اطمینان کے ساتھ ایک معمول کی زندگی گزار سکتی ہوں۔

اختتامیہ

بنفشی رنگ کا خوبصورت جوڑا زیب تن کیے نجود ہر طرف مسکراہٹیں بکھیرتی ہوئی چل رہی تھی۔ اس نے شدا کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما ہوا تھا۔ وہ کچھ شرمیلی سی لگ رہی تھی مگر اس کی نگاہوں سے ایک عزم چھلک رہا تھا۔

“ایک تصویر اور!” میڈیا والے چیخ رہے تھے۔

دس نومبر دوہزار آٹھ کو دنیا کی اس کم عمر ترین طلاق یافتہ لڑکی کو امریکہ کےخواتین کے گلیمر نامی رسالے کی طرف سے نیویارک میں “ویمن آف دی ائیر” کا ایوارڈ دیا گیا۔ اس وقت اس کی عمر دس سال تھی۔ اسی مجلے نے غیر متوقع طور پر اس کو ہالی وڈ ایکٹریس نیکول کڈ مین، امریکی وزیر خارجہ کونڈلیزرائز اور امریکی سینٹ کی رکن ہیلری کلنٹن کے ساتھ جگہ دی تھی۔ ایک چھوٹی سی یمنی بچی کے لیے یہ بھی بہت بڑا اعزاز ہے کہ جو اچانک سے گمنامیوں کے سمندر سے نکلی اور شہرت وناموری کے اوج ثریا کوجا پہنچی اور وہ اس کی مستحق بھی تھی۔ آج نارمل زندگی طرف لوٹ رہی تھی۔

نجود کامیاب ہوگئی تھی اور اُسے اِس پر فخر بھی تھا۔ میری ان سے پہلی ملاقات جون دو ہزار آٹھ میں ہوئی تھی جب اس کی طلاق کو دو ماہ گزر چکے تھے اور پہلی ہی ملاقات میں جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ اُس کی خود اعتمادی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے ایک تھکا دینے والے معرکے نے اسے یک دم سے بڑا کر دیا ہو اور اُ س کا حسین بچپن اُس سے چھین لیا ہو۔

مجھے وہ بہت ہی ہوشیار لگی جب میں اُس سے فون پر اُس کے گھر کا راستہ پوچھ رہی تھی تو اُس نے بہت ہی تفصیل سے راستہ سمجھا دیا تھا کہ کیسے میں دارس کی بھول بھلیوں سے ہوکر صنعاء میں واقع اس کے گھر تک پہنچ سکتی ہوں۔

وہ ایک کالی چادر اوڑھے گاڑیوں سے بھرے ایک سروس سٹیشن پر میرا انتظار کررہی تھی، اس کے ساتھ ہی اس کی چھوٹی بہن حیفا کھڑی تھی۔ “میں بیکری کی دکان کے پاس ہوں گی” وہ مجھے بتا رہی تھی۔ وہ ہوشیاری میں اپنی ہم جولیوں کو مات دےرہی تھی۔ا س کی آنکھیں بادامی شکل کی تھیں اور چہرے پر ایک بچپنا تھا۔ اس کی مسکراہٹ بہت معصوم سی تھی۔ بظاہر تو وہ بھی ایک عام سی چھوٹی بچی تھی جو مٹھائی کھانا پسند کرتی تھی اور اپنا ایک ٹی وی چاہتی تھی اور اپنی بہن بھائیوں کے ساتھ لکا چھپی کھیلنا چاہتی تھی، مگر درحقیقت وہ بہت بڑی تھی، مصائب نے اسے وقت سے پہلے بڑا کردیا تھا۔ آج اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور وہ ہر طرف سے داد تحسین وصول کر رہی تھی۔

“نجود کےطلاق کے واقعے نے کچھ بند راستوں کو بہ زور کھول دیا ہے” صنعاء یونیورسٹی کی خواتین کے معاملات کےشعبے کی نگران حسنیۃ القادری سرگوشیانہ انداز میں مجھ سے بولیں۔ ان کے ادارے کی حالیہ تحقیق کے مطابق یمن کی نصف سے زائد لڑکیاں اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی بیاہ دی جاتی ہیں۔

جی ہاں! یہ بات بالکل درست ہے۔ اب نجود کی یہ کہانی امید کا ایک پیغام ہے۔ جزیرہ عرب کے اس ملک میں کم عمری میں لڑکیوں کی شادی کوئی انوکھی بات نہیں سمجھی جاتی اور اب بھی یہ رسم جاری ہے وہاں نجود کے اس جرات مندانہ اقدام نے اپنے شوہروں کے خلاف آواز اٹھانے والیوں میں ایک نئی روح پھونکی ہے۔ ان کے عدالت سے رجوع کے بعد دو اور لڑکیاں نو سالہ عرویٰ اور تیرہ سالہ ریم نے بھی اپنے ظالم شوہروں کے چنگل سے آزاد ی کے لیے جدوجہد شروع کردی تھی، بلکہ سعودی عرب کے ایک مقامی اخبار نے ایک آٹھ سالہ لڑکی کے طلاق مانگنے کے واقعے کی خبر شائع کی تھی جس کے والدنے جبرا اس کی شادی ایک پچاس سالہ شخص سے کرادی تھی اور ایک عدالت نے اس کیس کو سماعت کے لیے منظور بھی کردیا تھا۔ پڑوسی ملک جس میں ایسی رسموں کی جڑیں نہایت پختہ ہیں وہاں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ نجود کی کامیابی سے یمن کی حقوق نسواں کی تنظیموں کو یہ حوصلہ ملا۔ اب وہ پارلیمنٹ میں شادی کی قانونی عمر کے بڑھانےکے بارے میں دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ نجود کو شاید یہ علم نہ ہو مگر اس نے اس رسم کی بیخ کنی کردی تھی۔ عالمی میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کے کونے کونے تک پھیلنے والی اس کی طلاق کی خبر نے اس رسم کے اوپر چھائی خاموشی اور جمود کو توڑ دیا تھا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ کئی ایک ممالک جن افغانستان، مصر، ہندوستان، ایران، مالی اور پاکستان جیسے کئی ممالک کا نام بھی شامل ہے جہاں اب تک یہ رسم جاری ہے۔ اُس نے ہمارے احساسات کو اِس حد تک تقویت دی تھی کہ ہم خود اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ ہمیں تو مغربی ممالک کی مسلم خواتین کی فکر ہونی چاہیے تاہم کم عمری میں شادی اور گھریلو تشدد مسلمانوں میں ہی نہیں بلکہ ہمیں اپنے یہاں مغرب میں بھی قریب کے زمانے تک ایسے واقعات سننے کو ملے ہیں کہ فرانس، اسپین بلکہ اٹلی تک میں کم عمری میں شادیاں ہوئی ہیں اور کئی ایک خواتین کواپنے شوہروں کی جانب سے تشدد کا سامنا کرناپڑا تھا۔ یہ بھی یاد پڑتا ہے کہ امریکی ریاست ٹکساس میں مورمون عیسائیوں کے ایک لیڈر وارن جیفس تو چودہ سالہ لڑکیوں کی شادی کی تقریبات کی باقاعدہ سرپرستی کرتے تھے یہاں تک کہ بالآخر دوہزار آٹھ میں اس کی یہ تنظیم ختم کردی گئی۔

یمن میں ایسے کئی عوامل ہیں جو والدین کے لیے اس بات کا سبب بنتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی شادی بلوغت سے پہلے ہی کرادیں۔ “غربت، تعلیم کی کمی، مقامی رسم ورواج کا بہت بڑا دخل ہے اس میں” حسنیہ القادری کہہ رہی تھیں۔ مختلف خاندان والے مختلف اسباب کو مدنظر رکھتے ہیں جیسے خاندان کی ناموس، یا بدکاری کا خوف یا مدمقابل کے ساتھ حساب برابر کرنا وغیرہ، بلکہ دیہات میں ایک قبائلی مثل مشہور ہے کہ “نو سالہ لڑکی سے شادی کامیاب ازدواجی زندگی کی ضامن ہے۔”

مسئلہ تو یہ تھا کہ اکثر کم عمرکی شادیاں غربت یا مخصوص حالات کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ “تھوڑا ہی عرصہ پہلے ایک نوسالہ لڑکی جس کی شادی ایک سعودی آدمی سے ہوئی تھی وہ رخصتی کے تین دن بعد فوت ہوگئی۔ اس کے گھر والوں کے سامنے کوئی جھوٹ گھڑ لیا گیا تاکہ اصل کہانی سامنے نہ آئے اور گھر والے بھی ایسے نکلے کہ انہوں نے شوہر سے معذرت بھی کی گویا کسی کوکوئی ناقص چیزبیچ دی ہو اور بدلے میں اس کی چھوٹی بہن جو صرف سات سال کی تھی وہ پیش کردی” یہ واقعہ مجھے نادیہ سقاف نے سنایا تھا جو یمن ٹائمز کی ایڈیٹر ہیں۔ اکثر روایتی لوگ نجود کے اس فعل کو غلط سمجھتے تھے اور خاندانی ناموس کو پامال کرنے کی پاداش میں اس کو سزا دینے کے حامی تھے۔

نئی زندگی کی چمک دمک اپنی جگہ مگر ہماری اس چھوٹی یمنی بہادر لڑکی کی معمول کی زندگی کسی مجرم کی زندگی سے مختلف ہرگز نہیں تھی۔

نجود اپنی خوشی سے اپنے گھروالوں کے پاس چلی گئی۔ مگر ان سطور کو لکھنے تک اس کا مستقبل اب بھی واضح نہیں ہے۔ گھر میں اس کے دونوں بڑے بھائی اس سارے واقعے سے بالکل بھی خوش نہیں ہیں جو اس کی طلاق پر منتج ہوا۔ پڑوس کے لوگوں کو میڈیا والوں کے آنے جانے کی شکایت ہے، خود شدا کو دھمکیاں دی گئیں اوراس بات پر اس کی پرزور مذمت کی گئی کہ اس نے یمن کی بدترین شکل پیش کی ہے۔ کچھ این جی اوز دیہات میں اس سلسلے میں کام کررہی ہیں کہ وہاں کے لوگوں میں کم عمری میں شادی سے پیدا ہونے والے مسائل کے بارے میں شعور بیدار کیا جا سکے۔

بس اتنی بات تھی کہ بہت سی رکاوٹوں کے باوجود نجود کا سکول جانا دوبارہ شروع ہوگیا تھا۔ اس کتاب کی اشاعت کے حقوق سے حاصل ہونے والی آمدنی اس کی پڑھائی پر آنے والے اخراجات میں معاون ثابت ہوگی تاکہ وہ اپنی وکیل بننے کے خواب کو پورا ہوتا دیکھ سکے اور اپنے لیے ایک مضبوط حفاظتی حصار بھی قائم کر لے۔ جب بھی میرا صنعاء جانا ہوتا ہے تو وہ مجھ سے رنگوں کا ڈبہ ضرور مانگتی ہے۔ اپنے گھرکے صحن میں اکڑوں بیٹھ جاتی ہے اور بہت ساری کھڑکیوں والا اور رنگوں سے سجا ایک گھر بناتی ہے۔ میں نے ایک دن اس سے پوچھا کہ یہ کیا چیز ہے کوئی گھر یا پھر کوئی سکول تو ایک مسکراہٹ کے ساتھ اس نے کہا کہ یہ خوش بختی کا گھر ہے،چھوٹی چھوٹی خوش بخت لڑکیو ں کا گھر۔

ڈیلفین مینوئے (جنوری 2009 )

اظہار تشکر

ہم ان تمام لوگوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہماری مدد کی اور ہمیں یہ موقع فراہم کیا کہ ہم نجود کی کہانی کو ایک نئی ترتیب دیں تاکہ یہ دوسروں کے لیے قابل تقلید مثال بن سکے اور دوسری لڑکیوں کو اس بات کی ہمت دے کہ وہ بھی اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکیں۔

ہم نجود کی وکیل شدا ناصر کے ساتھ ساتھ صنعاء کی عدالت کے ججز، محمد غازی، عبدو اور عبد الواحد کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔

ان کےعلاوہ یمن ٹائمز کے تمام ارکان خصوصاً ایڈیٹر نادیہ عبد العزیز سقاف اور وہاں کے پرانے صحافی حامد ثابت جو اس وقت جرمن سفارت خانے میں سیاسی مشیر کے منصب پر فائز ہیں،ان کے بھی بے حد ممنون ہیں۔

ہم ریسرچ آفیسر حسنیۃ القادری کے بھی مشکور ہیں جو صنعاء یونیورسٹی میں خواتین کے مسائل سے متعلقہ شعبے کی نگران ہیں، جنہوں نے کم عمری میں شادیوں کے مسئلے کو اجاگر کرنے میں اپنی وسعت کے مطابق ہمارا ساتھ دیا۔

ان کے علاوہ ہماری کئی میٹنگز ومیض شاکر اور سہیٰ باشرین کے ساتھ بھی ہوئیں اور انہوں نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا۔

ہم حیی الروضۃ سکول کی پرنسپل نجلا مطری کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے نجود کو اپنے سکول میں داخلہ دیا۔

ہم ایمان ماشور کے لیے بھی اپنی دلی محبت کا اظہار کرتے ہیں جن کی کوشش سے یہ کتاب منصہ شہود پر آئی۔ ان کی یمنی خواتین کے مسائل کی طرف توجہ، ثابت قدمی سے ڈٹے رہنا اور ترجمے میں ان کی باکمال صلاحیتوں نے ہمیں بہت فائدہ دیا۔

اس موقع پر الین نیکمایر کا تذکرہ نہ کرنا نا انصافی ہوگی جن کی بدولت ہم ایک دوسرے سے ملے۔

دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ہم بورزو دراغی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیں گے جنہوں نے اس کتاب کو شائع کرنے میں ہمارا ساتھ دیا۔ آخر میں ھیام یارد، ماٹن مینوی اور کلوی رادیغی کا بھی شکریہ ادا کریں گے جنہوں نے ہم پر شفقت کی اور سب سے پہلے اس کتاب کے پڑھنے کی یقین دہانی کرائی۔

ہم کتاب عرویٰ، ریم اور ان تمام یمنی لڑکیوں کے نام کرتی ہیں جوآج بھی آزادی کے خواب دیکھ رہی ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...