زبانوں کے خاندان اور نام : توروالی زبان و لوگ

355

جس طرح حیاتیات (biology) میں حیوانات اور نباتات کو چند مشترک خصوصیات میں یکسانیت کی بنا پر مختلف خاندانوں مثلاً فقاریہ، غیر فقاریہ، پھلدار، غیر پھلدار وغیرہ میں تقسیم کیا گیا ہے اسی طرح اب تک دنیا کی 7139 معلوم زبانوں کو 13 یا 14 بڑے خاندانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تاہم حیاتیات کے برعکس زبانوں کی تقسیم متنازعہ رہی ہے۔ اسی طرح کئی زبانیں ایسی ہیں جن کو کسی خاندان میں شامل نہیں کیا جا سکا۔ ایسی بالکل منفرد زبانوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے۔ پاکستان میں ایسی منفرد و یکتا واحدزبان ہنزہ میں بولی جانے والی زبان ”بروشسکی“ ہے۔ اس تقسیم کے بعد ان بڑے خاندانوں کو ذیلی شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن کی تعداد سینکڑوں میں بنتی ہے۔

زبانوں کی اس طرح تقسیم زبانوں کی جینیاتی، ساختی، لغوی اور عمومی خصوصیات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ ماہرین لسانیات زبانوں کی اس گروہ بندی میں ہمیشہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے رہے ہیں۔کسی نے ایک زبان کو ایک گروہ میں ڈالا ہے تو کسی اور نے اس کو کسی دوسرے گروہ میں ڈالا ہے۔ جنوبی ایشیا کی زبانوں میں اس کی بڑی مثال سابق” کافری“ زبانیں ہیں جن کو متحدہ ہندوستان/انڈیا کی زبانوں پر کام کرنے والے پہلے عالم جارج گرئیرسن (George Grierson) نے ہند آریائی زبانوں کے ذیلی شاخ ”داردی“ میں ڈالا۔ تاہم دوسرے عالموں جیسے مورگن سٹئیرن اور رچرڈ سٹرینڈ نے ان کافری زبانوں کو الگ گروہ میں
شمار کیا اور ان کو نوردستانی نام دیا جسے ہندآریائی اور ایرانی زبانوں کے بیچ دوسرا گروہ خیال کیا گیا۔           زبانوں کے ان بڑے خاندانوں میں ایک اہم خاندان ہندیورپی(Indo-European) زبانوں کا ہے جس کی کئی ذیلی شاخیں بنی ہیں۔ اس کی ایک اہم شاخ ہندایرانی زبانیں ہیں،جس کا ایک ذیلی گروہ ہندآریائی زبانوں پر مشتمل ہے۔ یہی وہ گروہ ہے جس سے برصغیر کی زیادہ تر زبانیں تعلق رکھتی ہیں۔ اسی گروہ کی ایک ذیلی شاخ “داردی“ زبانیں ہے۔ کئی ماہرین اگرچہ ”داردی“ کو زبانوں کی شاخ ماننے میں ہچکچاتے ہیں اور اس کی جگہ ”ہندوکش قراقرم کی زبانیں“ جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں، تاہم اس خطے کی زبانوں کے ماہرین داردی کا لفظ ان زبانوں کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔ داردی اصل میں لسانی کے ساتھ نسلی و ثقافتی نسبت بھی ہے اس لیے ان ماہرین کو اسے لسانی گروہ کہنے میں تردّد ہوتا ہے۔ زبانوں کے حساب سے پھر ان ماہرین نے داردی گروہ کو ذیلی گروہوں میں تقسیم کیا ہے۔ ان گروہوں کے نام انہوں نے پشائی، کشمیری، شینا، چترال، کونڑ اور کوہستانی رکھ دیے۔ ان داردی زبانوں میں بڑے گروہوں میں کشمیری، شینا اور پشائی ہےجبکہ چترال گروہ میں کھوار اور کلاشہ زبانیں شامل ہیں۔ کونڑ گروہ میں دمیلی، گوارباتی وغیرہ شامل ہیں جبکہ کوہستانی گروہ میں گاؤری، توروالی، مایو (انڈس کوہستانی) اور بٹیڑی رہ جاتی ہیں۔ کوہستانی گروہ کی دوسری زبانیں تقریباً معدوم ہوچکی ہیں۔

اسی سال ایک نئی لسانی موازناتی تحقیق کے مطابق یہ گروہ بندی کافی حد تک تہس نہس ہوچکی ہے کیوں کہ اس تحقیق کی رو سے توروالی اور گاؤری لغوی لحاظ سے شینا زبان سے زیادہ قربت رکھتی ہیں۔ البتہ یہاں لسانیات کے کچھ کارکن اس پر مصر ہیں کہ ان سب زبانوں کو ”کوہستانی“ کہا جائے۔ ایک آدھ بار تو اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ بھی کہا گیا کہ خطہ ہندوکش میں بولی جانی والی ان زبانوں کے بولنے والے سب اپنے لیے ”ہندکوان“ کا نام استعمال کریں۔ اس طرح کی کوششیں شاید اس صوبے میں دو زبانوں کے بیچ سیاسی مسابقت کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔

 

توروال، توروالی کیوں؟

ہمارے ہاں چند لوگوں کا اصرار ہے کہ ہماری زبان ”توروالی“ کو توروالی کوہستانی لکھا جائے۔ اس دلیل کی بنیاد دو باتوں پر رکھی جاتی ہے۔ ایک لسانی اور دوسرا علاقائی۔ لسانی گروہ بندی کی بدولت وہ چاہتے ہیں کہ زبان کا نام اس کے ذیلی لسانی خاندان ”کوہستانی“ کے ساتھ ہو۔ یعنی توروالی کوہستانی۔ اگر اس دلیل کو مان لیا جائے تو یہاں کیوں رُکا جائے کیوں نا اپنی زبان کا نام ”توروالی-کوہستانی-داردی-ہندآریائی-ہند ایرانی-ہندیورپی“ لکھا اور کہا جائے! کیا اس طرح مناسب لگے گا؟ یا پھر یوں لکھا جائے: “توروالی بنت کوہستانی بنت داردی بنت ہندآریائی بنت ہند ایرانی بنت ہند یورپی”۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ چونکہ یہ لوگ خود کو بھی، اور ان کے بڑے پڑوسی پشتون ان کو ”کوہستانی“ کہتے ہیں اس لیے اس زبان کا نام ”توروالی کوہستانی“ ہونا چاہے۔ اگر صرف لوگوں کو خود کو کوہستانی کہنے کی وجہ سے ایسا ہونا چاہے تو پھر صرف ”کوہستانی“ ہی کیوں نہ ہو؟ پہلی دلیل کو اگر مان لیا جائے تو پھر اردو کا نام ”اردو ہندآریائی“ ہونا چاہے، سندھی کا نام ”سندھی آریائی“ ہونا چاہے، پشتو کا نام ”پشتو ایرانی“ ہونا چاہے۔

دوسری دلیل کہ یہ لوگ اب خود کو کوہستانی کہتے ہیں لہذا یہ لفظ کوہستانی بھی لازمی ہے۔ پہلے تو یہ سوچنا ہے کہ لوگ خود کو کوہستانی کیوں کہتے ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ لوگ کسی زبان کو اپنے نام کے ساتھ نہ لکھیں۔ پھر دوسری سانس میں کہا جاتا ہے کہ لوگ کوہستانی لکھیں جو کہ زبان کا نام بھی ہے اور علاقے کا نام بھی۔ زبردست ! مگر کبھی سوچنا چاہیے کہ ”توروال“ بھی ایک پورے علاقے کا نام تھا اور ہےاور توروالی لوگوں کا نام تھا ! لفظ ”توروالی“ توروال سے ایسا ہی بنتا ہے جیسے کہ پنجاب سے پنجابی اور پاکستان سے پاکستانی۔ ایک جانب یہ لوگوں کوظاہر کرتا ہے تو دوسری جانب زبان کونام دیتا ہے۔ توروالی لفظ ”تُوآلوش“ اور ”تُوالی“ دونوں الفاظ کا دیگر زبانوں میں ترجمہ ہے۔ تُوآلوش مطلب تُوآل کا رہنے والا (توروالی) اور تُوآلی کا مطلب ہے توروالی۔ یوں توروالی لوگوں کی اجتماعی شناخت بھی ہے اور ان کی زبان کا نام بھی۔ توروال جو تیرات اور پیا سے اوپر کا پورا علاقہ ہوتا تھا اب سکڑ کر ایک گاؤں کا نام رہ چکا ہے۔ شکر ہے کہ اس گاؤں کا نام اب بھی ”تُوال/توروال“ موجود ہے جبکہ دوسری جانب ”کوہستان“ نام کی کوئی ایسی مقامی نشانی نہیں ملتی۔ توروالی زبان میں کوہ/پہاڑ کو ”کھان“ کہتے ہیں اور لفظ ”کوہستان“ سرے سے توروالی کا ہے ہی نہیں۔ تُوال کے نام سے ایک گاؤں اب بھی موجود تو ہے۔ ان تاریخی شواہد اور موجودہ آثار کے باوجود یہ اصرار کہ توروالی لفظ غیر لوگوں نے دیا ہے جبکہ کوہستانی اپنا لفظ ہے حیران کن لگتا ہے۔ غیر سے اگر ان کی مراد ”گؤ/گاؤری“ بھائی ہیں تو یہ حیرت اور زیادہ ہوجاتی ہے کہ گاؤری اور توروالی دارادی اقوام میں ایک دوسرے سے زیادہ قربت رکھتے ہیں اور لگتا ہے کہ سوات اور دیر میں ماضی قریب میں ایک جد امجد سے ان کا تعلق ہے۔ جبکہ انڈس کوہستان میں سیؤ وادی میں جن ”توروالیوں“ کی نشاندہی فریڈیریک بارتھ (Fredrik Barth) نے کی ہے وہ توروالی وہاں دہقان ہوا کرتے تھے اور ان کا جنگلات میں یا شاملات میں کوئی حصّہ نہیں ہوتا تھا۔ مطلب ان کو مقامی نہیں مانا جاتا! فریڈریک بارتھ نے بھی اور افغانستان کے پشائی اور نورستانی لوگوں کی ثقافتوں اور زبانوں پر کام کرنے والے عالم جان اویسن (Jan Ovesen) نے بھی اپنے 1984ء کے مقالے ”The construction of ethnic identities: The Nuristani and Pashai of Eastern Afghanistan” میں ان آبائی لوگوں کو ”کوہستانی“ و “نورستانی“ شناخت پشتونوں کی دین کہا ہے۔

پشتو زبان اور پشتونوں پر تحقیق کرنے والے بڑے عالم میجر ریورٹی (Major Raverty) نے اپنی ایک کتاب “Notes on Afghanistan and Baluchistan”  میں لکھا ہے کہ توروال ان سیاہ پوش کافروں کا پشتو نام ہے یعنی ”سیاہ لوگوں کی اولاد“۔ پورا داردستان (ہندوکش، قراقرم اور مغربی ہمالیہ کی ساری وادیاں) سولہویں صدی سے پہلے غیر مسلم تھا اور یہاں کے لوگ دنیا کے کسی بڑے مذہب سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ ان کے اپنے مذہبی عقائد تھے جن کے اثرات موجودہ کالاش لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان عقائد میں پریوں، دیوتاؤں، بد پریوں، چڑیلوں، دیویوں،(بعد میں یہی دیویاں چڑیل (ڙُوئیں اوربیلأ بن گئیں)  پہاڑی جانوروں، وادیوں، جھیلوں، پہاڑی چوٹیوں اور چراگاہوں کو مرکزی حثیت حاصل ہوتی تھی۔ ہر وادی، پہاڑ، جھیل اور چراگاہ کی اپنی دیوی یا دیوتا ہوتا تھا۔ اب بھی ہماری کوئی لوک کہانی ان چڑیلوں اور پریوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ چونکہ یہ عقائد بڑے الہامی مذاہب سے مختلف تھے اسی وجہ سے داردستان کے لوگوں کو وسطی ایشیائی مسلمان محققین اور حملہ آوروں نے ”کافر“ کہا اور اس خطے کو ”کافرستان“ کا نام بھی دیا۔ یہاں کے رہنے والے جہاں سفید لباس پہنتے تو ان کو ”سفید پوش کافر“ کہا اور جہاں سیاہ لباس پہنا تو ان کو” سیاہ پوش کافر“ کہا۔ میجر ریورٹی کی دلیل درست نہیں کہ لفظ توروالی سیاہ پوش کا پشتو ترجمہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو دریائے پنجکوڑہ (موجودہ دیر کوہستان) کے لوگوں کو بھی توروال کہنا چاہے تھا کیوں کہ وہ بھی سیاہ پوش کافر ہی تھے۔ دوسری بات یہ کہ میجر ریورٹی اپنی کتاب میں سفید پوش اور سیاہ پوش دونوں کا ذکر کرتا ہے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر سیاہ پوش توروال ہوگئے تو ان سفیدپوش کافروں کا کیا ہوا؟

دوسری اہم بات یہ ہے کہ تُوآل /توروال کے طرز پر اس علاقے میں کئی نام اب بھی موجود ہیں۔ جیسے اُولال، ساتال، ترال، درال، گُورنال، شینال، مینکھال، بڈال، ڙال، زارینال، پُشمال، گبرال یا پھر دیریل، کمل، ݜنیل وغیرہ۔ اگر تُوآل پشتو کے ”توروال“ (یعنی سیاہ لوگوں کی اولاد) سے ہے تو یہ دوسرے نام اس طرح کیوں پڑے ! اریل سٹئین (Aurel Stein) اور ڈاکٹر ذوئیسپی توچی (Giuseppe Tucci) بدھ مت ”پیشوا پدماسمباوا“ کی جائے پیدائش کے حوالے سے جھیلوں میں ایک جھیل ”ڈھاناکوݜا“ کا ذکر کرتے ہیں اور سے درال دریا کے آخر میں (درال ڈھان/ڈنڈ) بتاتے ہیں۔ اسی طرح ایک داردی دیوی ”دارا“ کا ذکر کیا جاتا ہے اور جس کو بحرین میں مغرب کی جانب سے اترتے ہوئے ”درال“ دریا کی دیوی کہا گیا ہے۔ سوات میں چھٹی صدی میں آنے والے چینی زائرین ایک عام کہانی کا ذکرتے ہیں۔ اس کہانی کی رو سے کہا جاتا ہے کہ سواستُو/دریائے سوات کے آخر گبرال میں کوئی دیوی ہوتی ہے۔ جب وہ لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے ناراض ہوجاتی ہے تو الٹی کردیتی ہے جس سے دریائے سوات میں سیلاب آ جاتا ہے جو سب کچھ برباد کرجاتا ہے۔ ان شواہد اور اس داردی ”چراگاہی عقیدے“ (pastoral ideology) کی بنا پر قیاس کیا جاسکتا ہے کہ یہاں ہر وادی کی کوئی دیوی یا دیوتا ہوتا تھا اور ان کے اوپر بڑی دیوی یا دیوتا ”تُوال“ ہواکرتا تھا جبکہ ساتھ قہاری دیوی گبرال ہوتی تھی!

ہمارے ماضی کے اجتماعی حافظے کے خاتمے کی وجہ سے ہمیں صرف وہ یاد رہتا ہے جو حالیہ ہو اور جسے بالادست لوگوں نے دیا ہو۔ ورنہ تُوآل/توروال تو ہماری روایات میں اب بھی زندہ ہے۔ مثلاً 80 سال سے زیادہ پرانے ان توروالی لوک اشعار میں ملاحظہ کیجئے:

دُو زر تُوال ہُوئی شیِد ایگی سیدُو سی باچا

تھامُو جأن چھی دھیرِینا وا نی ہی ئی پناہ

ایک دوسرے شعر میں توروال کا ذکر اس طرح کیا گیا:

تُوال بُوڑ ہُو شید، ماشو آ کھأ بُوئی انگولا

مھیرے ݜا ئے تھیلی، ہے مھی شیرین لوپٹا

ان دونوں اشعار میں تُوال سے مراد موجودہ تُوال (توروال) گاؤں نہیں ہے۔ ان سے مراد یہ پورا علاقہ اور اس کے لوگ ہے۔ واضح رہے کہ ان اشعار کے شعراء کا تعلق موجودہ توروال گاؤں سے نہیں تھا۔

 

نوآبادیت اور آبائی لوگ

ہمیں تھوڑا سا تفکر کرکے یہ سوچنا ہے کہ دنیا میں آبائی لوگوں کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ اس تاریخی نوآبادیت کو سمجھے بغیر مقامی/آبائی لوگوں کو نوآبادیت کے چنگل سے آزاد کرانا اور ان کی حقوق کی بات کرنا بہت سطحی کام ہوگا جو اکثر اُلٹا اِس نوآبادیت کو ہی مضبوط کرتا ہے۔ یہ دیکھنا ہے کس طرح ان آبائی لوگوں سے ان کی زمینوں کو چھین لیا گیا، ان کو مارا گیا یا بھگایا گیا اور کس طرح ان کی پہلی نسلوں کے بعد اگلی نسلوں نے اپنا ماضی، اپنی تاریخ، اپنی روایات اور اپنی زبانیں چھوڑ دیں۔ تسلط کوئی معمولی شے نہیں اور نہ ہی یہ صرف ایک رخی اور سطحی ہوتا ہے۔ جس پر کسی اور کا تسلط ہوتا ہے وہ نفسیاتی، معاشی، فکری، سیاسی،ثقافتی، سماجی اور سماجی ہر لحاظ سے بالادست کا محتاج بن جاتا ہے۔ اس کی شخصیت بھی اپنی نہیں رہتی۔ یہ نفسیاتی عمل ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کسی پر جنّات اور بھوتوں کا سایہ پڑجاتا ہے اور نتیجے میں وہ اپنی شخصیت اور شناخت کھو دیتا ہے۔اسے شناختی بحران کا سامنا ہوجاتا ہے اور اس کی شخصیت منقسم رہتی ہے۔ کسی برادری یا قوم کی مجموعی شخصیت بھی تسلط کی وجہ سے اسی طرح مسخ ہوجاتی ہے اور تسلط شدّہ فرد وہی چیزیں اپناتا ہے جسے بالادست اس کو دانستہ یا غیر دانستہ دیتا ہے۔ اسی شناختی بحران کی وجہ سے داردستان کے کئی لوگ خود کو کسی اور غیرآریائی قوم سے بھی منسوب کرتے رہے ہیں۔ کئی لوگ پھر اس بحران کا شکار ہوکر اپنے معلوم نسلی شجروں یعنی قبیلوں میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ شناخت کا بنیادی سوال اس وقت اٹھتا ہے جب کسی کو غیرسلامتی کا سامنا ہو۔ یہی وجہ ہوتی ہے کہ مقامی طور پر اگر کسی کو کمترسمجھا جائے تو وہ اپنے لیے کہیں دیگر لوگوں کے ساتھ شناخت کرتا ہے۔ انسانی زندگی میں سب سے عزیز شے یہی انفرادیت اور تشخص ہے جس کے لیے سقراط نے زہرپینا پسند کیا لیکن اسے کھونے نہ دیا۔ اسی کی وجہ سے دنیا میں قومیں ابھرتی ہیں۔ خودارادیت کا بنیادی تصّور ہی اس تشخص کی آزادی ہے۔

 

کوہستان اور کوہستانی

جس طرح باہر کے لوگوں نے پشتونوں کو ”پٹھان“ کہا اسی طرح پشتونوں اور وسطی ایشیا و ایران کے لوگوں نے ان جنوبی داردی علاقوں کو زیر کرکے ان کو اپنے مغل دربار کی سرکاری زبان فارسی میں ”کوہستان“ کہا۔ یہ لوگ چونکہ خود بھی ایک سرکاری زبان کے زیر اثر تھے اور ان کی تعلیم و تدریس اپنی زبان کی بجائے فارسی میں ہوتی تھی اس لیے کوہستان نام دیا گیا۔ کوہ مطلب پہاڑ اور ستان مطلب سرزمین یا علاقہ۔ کوہستان کا مطلب ہوا پہاڑی علاقہ۔ مانا کہ سوات کا، آباسین کا، دیر کا اور افغانستان کا کوہستان پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ مگر سوال یہی بنتا ہے کہ ان علاقوں سے زیادہ اونچے اور کثیر تعداد میں پہاڑوں پر مشتمل علاقوں چترال اور گلگت بلتستان کو کوہستان نہیں کہا گیا! کیوں؟

سوات کے داردی لوگوں پر پہلا حملہ گیارہویں صدی میں محمود غزنوی کی افواج نے کیا۔ وہ حملہ کرکے واپس چل دیے۔ حملوں کا دوسرا مرحلہ سولہویں صدی میں شروع ہوا اور یہ بتدریج جاری رہا۔ اسی سلسلے کی وجہ سے یہاں کے داردی لوگوں (توروالی اور گاؤری) کو زیر کیا گیا اور ان کی آخری نسل سوات کے بالائی علاقے توروال (پیا /تیرات سے اوپر کا کل علاقہ) اور پنجکوڑہ (بالائی دیر میں شرینگل سے اوپر کی وادی جسے دیر کوہستان بھی کہا جاتا ہے) تک محدود ہوگئی۔ سوات اور دیر کے ان بالائی علاقوں پر قبضہ دو وجوہ کی بنا پر نہیں کیا جاسکا: پہلی بڑی وجہ ان علاقہ کی دشواری تھی کہ یہاں راستے نہیں تھے اور مقامی لوگ اوپر رہتے تھے اس لیے ان سے جنگ کرنا ممکن نہیں تھا۔ آخری جنگیں تیرات کے علاقے میں ہوئیں اور اس کے بعد تبلیغ کے ذریعے اس وقت کی مقامی کافر آبادی کو مسلمان کیا گیا۔ دوسری وجہ یہی تھی کہ ان علاقوں میں کسی حد تک مزاحمت موجود تھی جس کی وجہ سے براہ راست جنگ کرنا مشکل تھا۔ تاہم یہ علاقے کسی مرکزی سیاسی انتظامی طاقت سے محروم تھے، یاغستانی تھے، اس لیے متحد ہوکر حملہ آوروں کا مقابلہ نہیں کرسکے۔ اس کے برعکس چترال اور گلگت میں مقامی طور پر دسویں صدی اور اس سے بھی پہلے کی چھوٹی مگر منظم ریاستیں موجود تھیں، لہٰذا انہوں نے مزاحمت کی اور حملہ آوروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ دوسری جانب بعد میں جب انگریز برصغیر میں حکمران تھے تو انہوں نے گلگت اور چترال کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر یہاں جنوب کی جانب سے حملوں کو آگے بڑھنے نہ دیا کیوں کہ یہ علاقے برطانیہ اور روس کے بیچ طویل جنگی و سیاسی کشمکش جسے ”گریٹ گیم“ (great game) کہا جاتا ہے، کی وجہ سے بہت اہم تھے۔ اس لیے برطانیہ نے ان علاقوں میں جنوب کی جانب سے حملوں کو پسپا کردیا۔ اس کے برعکس سوات، دیر اور کوہستان میں ان حملہ آوروں کی پہلے پشت پناہی مغل دربار نے کی اور بعد میں انگریز نے بھی ان حملوں پر خاموشی اختیار کی۔ اس کی بڑی مثال درہ نورہے جہاں کی آبائی اقوام پر افغانستان کے امیر عبدالرحمان نے جب 1895 کے آس پاس حملہ کیا تو برطانوی حکومت نے اس پر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا بلکہ اس کی پشت پناہی کی، کیونکہ ان کو شک تھا کہ یہ علاقہ وسطی ایشیا کے قریب ہونے کی وجہ سے روس میں شامل ہوجائے گا اور یوں برصغیر میں روس کو راستہ مل جائے گا۔ جب یہ امیر چترال کی طرف بڑھنے لگا تو انگریزوں نے ان کو روکا۔ اس لیے ہمیں آج بھی کالاش لوگوں کی صورت میں اس قدیم ثقافت کی باقیات چترال میں بمبوریت، رمبور اور بریر میں ملتی ہیں۔ روس سے خوف کی بنا پر انگریز نے گلگت کو کشمیر کی جانب سے راستے بنائے کیوں کہ یہ راستے پنجاب میں گرتے تھے اور پنجاب پر انگریز مکمل طور پر قابض تھے۔ اس لیے ان راستوں سے روس برصغیر میں نہیں آ سکتا تھا۔ ان کو سب سے بڑا خوف بدخشان سے چترال اور گلگت کی طرف راستے سے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ گلگت اور چترال کی اس گریٹ گیم میں بہت اہمیت رہی ہے۔ یہی وجوہ ہیں کہ گلگت اور چترال کے داردی قوموں نے بڑی حد تک اپنی شناخت برقرار رکھی جبکہ جنوبی ہندوکش میں دوسری داردی اقوام ایسا نہ کرسکیں۔ داردی اقوام کشمیری، شین، کھو اور پشائی بڑی اقوام ہیں۔ ان کےبغیر دیگر داردی اقوام جن کو مسلسل ایک ”کوہستانی“ شناخت کے تحت ہانکنے کی کوشش کی جارہی ہے کوئی خاص عددی، معاشی، سماجی، علمی اور سیاسی مقام نہیں رکھ سکتیں۔

ان داردی اقوام کی زبانیں ایک دوسرے سے الگ الگ بن چکی ہیں۔ ان کو اب کسی ایک زبان میں نہیں ڈالا جاسکتا اور نہ ڈالنے کی کوشش کرنی چاہے۔ جہاں یہ لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کرنے کے لیے کسی تیسری زبان کا سہارا لیتے ہیں تو سمجھ لینا چاہے کہ ان کی زبانیں الگ اور مکمل زبانیں ہیں۔ ان زبانوں کے آپس کے اشتراک پر کام لازمی ہے تاکہ باہمی تفہیم بڑھ جائے۔ اسی طرح ان کی مشترک ثقافت اور تاریخ پر کام کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی آپس میں ہم آہنگی اپنے لسانی و کلتوری اختلاف کے ساتھ مضبوط ہوجائے۔

اس لیےہمیں اگر کسی اجتماعی شناخت یا اتحاد کی طرف جانا ہے تو ”کوہستان“ کی بجائے وسیع اور زیادہ تاریخی خطے ”داردستان“ کی طرف جانا چاہے۔ بعض لوگوں کو شاید کچھ مسلکی تعصبات کی وجہ سے چترال اور گلگت کے لوگوں سے اپنی شناخت جوڑنے میں تردّود ہو، تاہم یہ سارے لوگ ثقافتی، لسانی اور تاریخی لحاظ سے ایک ہی قوم داردی اور علاقے داردستان سے تعلق رکھتے ہیں۔

 

خوشی کی جستجو

رچرڈ لیئرڈ

ترجمہ: عابد سیال

 

خوشی انسانی زندگی کا محور ہے اور ایک اعتبار سے انسان کی ہر سرگرمی کا بنیادی مقصد خوشی کا حصول ہی ہے۔ ایسی عمومی اور روزمرہ شے ہونے کے باوجود یہ بتانا ہمیشہ سے دشوار رہا ہے کہ خوشی دراصل ہے کیا؟ ایک عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ خوشی کو محسوس تو کیا جا سکتا ہے، اس کو ماپنا ممکن نہیں، لیکن جدید دنیا میں یہ بھی ناممکن نہیں رہا۔  خوشی کے موضوع پر رچرڈ لیئرڈ کی تصنیف عالمی شہرت یافتہ کتاب ہے جس میں ان بنیادی عوامل کا ذکر کیا گیا ہے جو انسان کو خوشی کی منزل سے ہمکنار کرتے ہیں۔ اس میں بعض ایسے نکات ہیں جو اس تناظر میں حیرت افزا ہیں کہ ہم عموماً خوشی کو جن چیزوں سے وابستہ کرتے ہیں، وہ اس کی بنیادی وجوہات نہیں ہیں۔ اس کتاب کی تلخیص کا اردو ترجمہ “تجزیات” کے قارئین پر خوشی کے اسرار کھولنے کی غرض سے پیش ہے۔ (مدیر)

 

خوشی کی جستجو اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ انسان خود ہے، تاہم سائنسدانوں اور محققین نے اس بات کا جائزہ لینا اب شروع کیا ہے کہ وہ کیا شے ہے جو ہمیں خوشی فراہم کرتی ہے۔

یہاں رچرڈ لیئرڈ کا خوشی کا تصور سامنے آتا ہے۔ اس مشہور برطانوی ماہر معاشیات نے اپنی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب میں اس تحقیق کا زیادہ تر حصہ پیش کیا اور یہ بتایا  کہ اگرچہ پیسہ اور مادی دولت غریب ممالک میں لوگوں کے لیے بڑی خوشی کا باعث بن سکتی ہے، لیکن دولت میں ایسی کوئی طاقت نہیں ہے جو پہلے سے ترقی یافتہ مغربی دنیا کو ایسی کوئی خوشی فراہم کر سکے۔

اگرچہ معروف خیال اس کے برعکس ہے، تاہم خوشی کی پیمائش کرنا ممکن ہے۔

ہم میں سے زیادہ تر لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خوشی ایک پراسرار مظہر ہے،ایک ایسا احساس یا کیفیت جو پیمائش اور وضاحت کی گرفت میں نہیں آتی۔ پھر بھی، درحقیقت خوشی کی پیمائش کرنے کے کئی سائنسی طریقے ہیں۔

زیادہ تر تحقیقی مطالعات میں، شرکاء سے صرف یہ اندازہ لگانے کو کہا جاتا ہے کہ وہ عمومی طور پر اپنی زندگی کی صورتِ حال سے کتنے خوش ہیں۔ مثال کے طور پر’جنرل سوشل سروے ‘ جو ریاست ہائے متحدہ امریکا میں عمل میں لایا گیا ایک طویل مُدتی تحقیقی مطالعہ ہے، شرکاء سے یہ باتیں پوچھتا ہے:      سب حالات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، آپ کیا کہیں گے کہ آج کل آپ کے حالات کیسے ہیں، کیا آپ کہیں گے کہ آپ بہت خوش ہیں، کافی خوش ہیں یا زیادہ خوش نہیں ہیں؟  اس طرح کے تحقیقی مطالعات کے نتیجے میں سامنے آنے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ 1945 کے بعد سے امریکی شہریوں کی خوشی کی اوسط درجہ بندی میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا ہے۔

خوشی آپ کی صحت کے لیے اچھی ہے۔  خوش رہنا صرف آپ کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں لاتا بلکہ یہ آپ کی جسمانی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔  جب بھی ہم مثبت جذبات کے تجربے سے گزرتے ہیں، ہمارا دماغ کچھ نیورو ٹرانسمیٹر خارج کرتا ہے جنھیں “خوشی کے ہارمونز” بھی کہا جاتا ہے جو ہمارے بہت سے جسمانی افعال پر مثبت اثر دکھاتے ہیں۔   خوش رہنے کے نتیجے میں ان ہارمونز کی سطح زیادہ ہوتی ہے جس کا ایک نتیجہ تناؤ کے ہارمون ‘کورٹی سول’ کی سطح کم کرنے کی صورت میں بھی نکلتا ہے۔ کورٹی سول ہمارے مدافعتی نظام پر منفی اثر ڈالتا ہے، بڑھتی عمر کے اثرات کو تیز کرتا ہے، اور اصل میں ہماری جلد کو پتلا کرتا اور ہماری ہڈیوں کو کمزور کرتا ہے۔ اس لیے کسی شخص کی خوشی میں اضافے کا مطلب کم تناؤ ہے، اور کم تناؤ کا مطلب بہتر صحت ہے۔ نتیجتاً خوش رہنے والے لوگوں کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے، جو انہیں عمومی نزلہ زکام اور دیگر بیماریوں سے بچاتا ہے۔ مزید یہاں تک کہ اگر خوش رہنے والے لوگ بیمار ہوجاتے ہیں، تو وہ تیزی سے صحت یاب ہوتے ہیں اور ناخوش رہنے والے لوگوں کے مقابلے میں ان میں بیماری کی علامات کم ہوتی ہیں۔

زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خوشی سنگین بیماری میں مبتلا ہونے کے خطرے کو بھی کم کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک طویل مُدتی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ خوش رہنے والے لوگوں کو دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کی شریانوں میں خون کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوکا خطرہ بھی کم ہوتا ہےجو دل کے دورے کی ایک اہم ترین وجہ ہے۔

عام طور پر، خوشی کے تجربے سے گزرنا ہماری مجموعی صحت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے اور ہماری عمومی صحت کو بہتر ہے۔ مثال کے طور پر، آسکر کے لیے نامزد کیے گئے 750 اداکاروں کے ایک سروے سے پتہ چلتا ہے کہ نامزد افراد میں سے جنھوں نے واقعی یہ انتہائی مطلوب ایوارڈ جیتا تھا، وہ ہارنے والوں کے مقابلے اوسطاً چار سال زیادہ زندہ رہے۔ اس بات کو ثابت کرنے والی اور بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ خوشی کا تجربہ کرنا صرف اچھا ہی نہیں لگتا بلکہ یہ آپ کی صحت کے لیے بھی اچھا ہے۔

خوشی کی جستجو انسانی رویے کا ایک اہم محرک ہے۔

پلٹ کر سوچیں کہ آخری بار جب کبھی آپ نے کوئی فیصلہ لیا تھا۔ اب خود سے پوچھیں: کس چیز نے مجھے اس وقت موجود راستوں میں سے ایک خاص راستا منتخب کرنے پر مجبور کیا؟

زیادہ تر لوگوں کی طرح، جب بھی آپ کو کوئی فیصلہ کرنا ہوتا ہے، آپ اس شے کا انتخاب کرتے ہیں جو آپ کی سب سے بڑی خوشی اور اچھائی کا باعث بنتی ہے، چاہے یہ فیصلہ اس بات کا ہو کہ رات کے کھانے میں کیا کھانا ہے، کون سی نوکری کرنی ہے یا اس بار چھٹیاں کہاں گزارنی ہیں۔

ایسا کیوں ہے؟

اوّلاً خوشی کی جستجو، محفوظ اور اچھا رہنے کی خواہش، ہمارے رویے کے بنیادی فطری محرکات میں سے ایک ہے۔ درحقیقت، یہ جستجو انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ پروان چڑھی ہے: خوش ہونے کی صلاحیت ہم سے پہلی نسلوں میں نموپذیر ہوئی جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس میں فرق کر سکیں کہ کونسا طرزِعمل ان کی بقا کے لیے اور ان کی نسل کو آگے بڑھانے میں اچھا ہے اور کونسا بُرا۔  مثال کے طور پر، غذائیت سے بھرپور غذا ان کے لیے ویسے ہی خوشی فراہم کرنے کا باعث تھی جیسے جنسی عمل۔ یہی وجہ ہے کہ آج جو چیزیں زیادہ تر ہمیں خوشی فراہم کرتی ہیں، جیسے اچھا کھانا، جنسی تعلقات یا اچھی دوستی، کسی وقت انسانی بقا اور نسل در نسل جینز کی منتقلی کے لیے یہ اعمال بہت اہم تھے۔    اسی طرح، وہ چیزیں جو ہم میں ناخوشی کا احساس پیدا کرتی ہیں، جیسے بھوک، پیاس، تنہائی یا زہرخورانی، ہماری بقا کے لیے نقصان دہ تھیں۔ نتیجتاً، ہم نے خبردار رہنے کے لیے ایسے جذبات پیدا کیے کہ ہمیں ایسے حالات سے بچنا چاہیے جو ناخوشی کا باعث بنیں۔  مثال کے طور پر خوف کو لیں۔ خوف نے ہمارے آباؤ اجداد کو خطرناک حالات سے بچنے میں مدد کی، جیسے کہ قاتل شکاری کا سامنا کرنا اور اس کے نتیجے میں مارے جانے کے خطرے سے بچنا۔ ایک ناسازگار ماحول میں رہتے ہوئے، خوف سے گزرنے کی صلاحیت ہمارے آباؤ اجداد کا ایک لازمی وصف تھی۔ مثال کے طور پر دیکھ لیجیے کہ وہ لوگ جو نوکیلے دانتوں والے بھوکے شیروں سے بھاگے تھے،ان کی عمریں ان لوگوں سے زیادہ لمبی تھیں جنھوں نے ان شیروں کو پالتو بنانے کی کوشش کی۔

اس لیے خوشی کی جستجو اور ناخوشی سے بچاؤ دونوں ہی ہمارے آباؤ اجداد کی بقا کی حکمت عملی کا حصہ تھے۔ اور خوشی کی جستجو ہمارے رویے کا تعین کرنے والا ایک مضبوط عامل ہے، چاہے آج ہم میں سے بہت کم لوگوں کو شیروں سے کھائے جانے کا خطرہ ہو۔

کئی دہائیوں سے، ہم امیر تر تو ہو رہے ہیں لیکن زیادہ خوش نہیں۔

ہم مانتے ہیں کہ جیسے جیسے مغربی معاشروں نے متعدد طریقوں سے ترقی کی ہے، ہمارے لیے بھی خوشی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود، 1950 کی دہائی کے بعد سے، مغربی دنیا میں زیادہ تر لوگ زیادہ خوشی حاصل نہیں کر پائے ہیں۔          حقیقت یہ ہے کہ امریکا میں اوسط آمدنی 1950 کی دہائی کی نسبت اب دُگنی ہو گئی ہے اور اس کے ساتھ اوسط معیارِ زندگی بھی۔ تاہم کیے جانے والے مختلف سروے ایسے جوابات سے خالی ہیں جن میں زیادہ لوگ خود کو خوش بیان کرتے ہوں۔ یہ واضح ہے کہ دولت میں اضافہ ازخود خوشی میں اضافے کا باعث نہیں بنتا۔  یہ زیادہ تر یورپی ممالک میں بھی یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ اوسط آمدنی مسلسل بڑھ رہی ہے، پھر بھی یہ امر لوگوں کو زیادہ خوش کرتا دکھائی نہیں دیتا۔

مزید برآں، کافی حد تک بہتر معاشی حالات کے باوجود، لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ذہنی دباؤ کے مرض اور شراب نوشی کا شکار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک میں ذہنی دباؤ کا مرض اسی دور میں سب سے زیادہ پھیلا ہوا تھا جب 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں اقتصادی ترقی کی رفتار تیز تھی۔ شراب نوشی کا بھی یہی حال ہے۔ فرانس کو چھوڑ کر، زیادہ تر ممالک میں شراب کی کھپت کی مقدار میں ڈرامائی اضافے کی اطلاعات ہیں۔ مثال کے طور پر جرمنی میں 1950 کی دہائی کی نسبت شراب کی کھپت چار گنا بڑھ گئی ہے۔

بالآخر بیسویں صدی کے نصف آخر میں، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جرائم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1950 اور 1980 کے درمیان اقتصادی ترقی مستحکم اور بے روزگاری کی شرح غیرمعمولی طور پر تاریخ کی کم ترین سطح پر تھی، اس کے باوجود زیادہ تر ممالک میں جرائم میں 300 فیصد کا زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اس میں تمام قسم کے جرائم جیسے دھوکہ دہی، تشدد، چوری، کار چوری وغیرہ شامل ہیں۔

پیسہ آپ کو خوش نہیں کرتا،جب تک آپ اپنے پڑوسی سے کم کماتے ہیں۔

کیا اس کے بجائے آپ ایک ایسی دنیا میں رہنا پسند کریں گے جہاں آپ کی کمائی آج کے مقابلے میں زیادہ ہو لیکن دوسروں کے مقابلے میں کم ہو، یا ایسی دنیا میں جہاں آپ آج کی نسبت کم کماتے ہیں لیکن وہ دوسروں سے زیادہ ہو؟  اگر انتخاب کا موقع دیا جائے تو زیادہ تر لوگ مؤخرالذکر دنیا میں رہنے کو ترجیح دیں گے۔

ایسا کیوں ہے؟

انسان ایک مسابقت پسند مخلوق ہے جو اپنے آپ کو اپنے پڑوسیوں، بہن بھائیوں اور رفقائے کار کے ساتھ موازنہ کرنے کے لیے پہلے سے تیار رہتا ہے۔  لہٰذا، جہاں یہ ضروری نہیں کہ آپ کی تنخواہ کے چیک پر لکھی زیادہ رقم آپ کی خوشی میں اضافے کا باعث ہو سکے، وہاں ایسی آمدنی کا ہونا جو دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ ہو، اس سے فرق پڑ تا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ اپنے ساتھیوں سے زیادہ کماتے ہیں ان کا احترام اور قدر زیادہ ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، وہ لوگ جو دوسروں یعنی اپنے ساتھیوں سے کم کماتے ہیں، خود کو بے کار اور ناخوش محسوس کرنے لگتے ہیں۔

ایسے معاشروں میں جہاں افراد کو ایک دوسرے کے ساتھ سخت مقابلے کے لیے اُکسایا اور مجبور کیا جاتا ہے، بہت سے لوگ ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے وہ چوہے دوڑ میں شامل ہوں۔ اس فضول، بظاہر نہ ختم ہونے والے تعاقب میں افراد دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، جو بدلے میں ان سے بھی آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔   نتیجہ کیا ہے؟ کوئی کہیں نہیں پہنچ پاتا۔

ایک ٹھوس مثال کے طور پر، جرمنی کے دوبارہ اتحاد پر غور کریں۔ سابقہ ​​مشرقی جرمنی کے لوگوں پر دوبارہ اتحاد کے اثرات یہ ہوئے کہ اگرچہ ان کی دولت اور معیار زندگی میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا، لیکن ان کے اعتماد میں کمی آئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنا موازنہ مشرقی یورپ کے دیگر سوشلسٹ ممالک کے لوگوں سے کرنے کے عادی ہو چکے تھے جو ان سے بھی زیادہ غریب تھے، اس لیے وہ اپنے آپ کو نسبتاً امیر اور خوشحال محسوس کرتے تھے۔ لیکن جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے باعث، انہوں نے اپنا مواز نہ مغربی جرمنی کے امیر لوگوں سے کرنا شروع کر دیا، اور خود کو نسبتاً غریب محسوس کرنے لگے۔

ہم ہر چیز کے عادی ہو جاتے ہیں، اس لیے مادی فائدہ ہمیں طویل عرصے تک خوش نہیں کر سکتا۔

ہر دوسرے جانور کی طرح انسان بھی جلد ہی تحریک دینے والی نئی چیزوں، ماحول اور حالات کا عادی ہو جاتا ہے۔ ہم اپنی زندگی میں نئے لوگوں کے عادی ہو جاتے ہیں، جیسے کہ نیا شریک حیات۔ ہم والدین ہونے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اور، یقیناً، ہم ایک بڑے گھر میں رہنے اور زیادہ آمدنی رکھنے کے بھی عادی ہو جاتے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ لاٹری نکل آنا، کام پر کافی بونس حاصل کرنا یا کوئی ایسی نئی نوکری تلاش کرلینا جو آپ کو زیادہ رقم فراہم کرسکتی ہو، صرف عارضی خوشی کا باعث ہوتا ہے۔ اگر آپ نے اپنی زندگی میں کوئی اچھی چیز حاصل کر بھی لی ہو تو اس سے وابستہ خوشی کے وہ جذبات معدوم ہوتے چلے جاتے ہیں جیسے جیسے آپ اس نئے پن کے عادی ہوتے چلے جاتے ہیں۔

حقیقت میں آپ آخرکار خود کو صرف اتنا ہی خوش محسوس کریں گے جتنا آپ اپنی اس خوش قسمتی کے حصول سے پہلے تھے۔ اپنی زندگی میں کسی بھی فائدے،مثال کے طور پر اعلیٰ معیارِ زندگی،کا عادی بن جانا آپ کو اُکساتا ہے کہ آپ ہر شے میں زیادہ سے زیادہ کے حصول کی خواہش کریں تاکہ آپ ایک اور چھوٹی لیکن عارضی خوشی کے تجربے سے گزر سکیں جو آپ کو مزید کسی اگلے تجربے کی خواہش کے ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔

نتیجہ کیا ہے؟ آپ زیادہ سے زیادہ کی ضرورت پر جا کر دم لیں گے تاکہ خوشی کی اسی سطح کو برقرار کھ سکیں۔اس لیے، ہم خود کو زیادہ کام کرنے پر مائل کرتے ہیں تاکہ ہم زیادہ کما سکیں، اور زیادہ کمانے پر اس لیے تاکہ ہم زیادہ خرید سکیں اور اسے استعمال کر سکیں اور اس سب کچھ کا مقصد زیادہ خوشی کا حصول ہے۔ اس کے باوجود، چونکہ ہم اپنی حاصل کردہ ہر چیز کے عادی ہو جاتے ہیں، اس لیے یہ نقطہ نظر کارآمد نہیں رہتا۔  کسی بھی نشہ آور شے کی طرح، اس سے ایک قلیل مدت کی ‘اُٹھان’ تو ملتی ہے لیکن یہ حظ ہمیشہ کے لیے نہیں رہ سکتا، اور اس طرح مستقل خوشی کی کیفیت کا باعث نہیں بن سکتا۔

استعارے کی زبان میں بات کی جائے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ تیز دوڑ کر مقابلہ جیتنے کی کوشش کر رہے ہوں اور پھر آپ کو پتا چلے کہ آپ دراصل ‘ہیمسٹر وِیل’ میں دوڑ رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے Alice Through the Looking-Glass نامی فلم میں ایلس، ریڈ کوئین سے سیکھتی ہے کہ دوڑنا ہمیں کہیں نہیں پہنچا سکتا۔ ” اپنی آخری حد تک دوڑ کر بھی آپ زیادہ سے زیادہ اپنی جگہ پر قائم رہ سکتے ہیں۔ اگر آپ اس سے آگے جانا چاہتے ہیں تو آپ کو اس رفتار سے دُگنی رفتار سے دوڑنا ہو گا۔”

اگرچہ زیادہ پیسہ آپ کو خوش نہیں کر سکتا، لیکن اس کا بہت کم ہونا آپ کو ناخوش کر سکتا ہے۔

اوسطاً دیکھا جائے تو مغربی دنیا کے امیر ممالک میں رہنے والے لوگ غریب، ترقی پذیر ممالک میں رہنے والوں کی نسبت زیادہ خوش ہیں۔ یہ ان ممالک میں بھی واضح ہے جو پہلے بہت زیادہ غریب تھے، لیکن انہوں نے حالیہ دہائیوں میں کچھ دولت حاصل کر لی ہے، جیسے بھارت، میکسیکو، برازیل اور جنوبی کوریا۔ ان ممالک میں جب اوسط دولت مندی میں اضافہ ہواتو ساتھ ہی لوگوں کی خوشی کا پیمانہ بھی بلند ہوا۔

ایسا کیوں ہے؟

وجہ سادہ ہے: غریب ہو نا، زندگی بچانے کے خوف میں مبتلا رہنا اوراپنے خاندان کی ضروریاتِ زندگی کے لیے درکار مادی ضروریات کی کمی کا احساس، خوشی کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ انتہائی غربت کی ایسی صورتوں میں لوگوں کی آمدنی میں اضافہ خوشی کا باعث بنتا ہے کیونکہ ضروریاتِ زندگی کے بنیادی ذرائع کی کمی دور ہونے سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے بہت بڑے درد سے نجات مل گئی ہو۔ مثال کے طور پر، اگر دولت میں اضافے کا مطلب یہ ہو کہ آپ کو اپنے بچوں کے روزانہ بھوک سے مرنے کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، تو اس سے آپ کو بہت زیادہ بوجھ سے نجات مل جائے گی، اور اس طرح آپ کی خوشی میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوگا۔

تاہم، جیسا کہ ہم پہلے دیکھ چکے، دولت اور خوشی ضروری نہیں کہ ساتھ ساتھ چلیں۔ ایک خاص مقام کے بعد، خوشی پر پیسے کا مثبت اثر رک جاتا ہے۔ جیسا کہ مختلف تحقیقی مطالعات بتاتے ہیں،اگر کسی کی سالانہ آمدنی بیس ہزار ڈالر تک پہنچ جائے تو اس کے بعد آمدنی میں اضافے کے ساتھ خوشی میں اضافے کا عمل رُک جاتا ہے۔

سبق واضح ہے: جہاں غریب ترین ممالک میں پیسہ خوشی کو بڑھانے کی طاقت رکھتا ہے، وہاں مغربی دنیا میں، جہاں زیادہ تر آبادی کے پاس تسلی بخش حد تک دولت موجود ہے، ظاہر ہے پیسہ بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے سب سے بڑی خوشی کے حصول کی کلید نہیں ہے۔

پھر، کلید کیا ہے؟ مغربی ممالک کے لوگ ایسی خوشی کیسے حاصل کر سکتے ہیں جو طویل عرصے تک برقرار رہے؟

خوشی کا انحصار زیادہ تر ان چیزوں پر ہوتا ہے جنہیں آپ خرید نہیں سکتے۔

1981 سے ‘ورلڈ ویلیوز سروے’ نے پچاس ممالک میں 350,000 سے زیادہ لوگوں سے ان کی عمومی خوشی کے بارے میں پوچھا ہے۔ نتائج کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ درج ذیل پانچ عوامل، نزولی ترتیب میں، ہماری مجموعی خوش حالی پر سب سے زیادہ اثر ڈالتے ہیں:

1۔   خاندانی تعلقات اور ہماری بہت ذاتی زندگی

2۔   ہماری مالی صورتحال، خاص طور پر ان کے لیے جو غربت کے اندیشوں میں گھرے ہیں

3۔   ہمارا روزگار، ہماری زندگی کو بامقصد بنانے والی شے کے طور پر

4۔   ہماری برادری اور دوست، اعتماد اور تعلق کے ذریعے کے طور پر

5۔   ہماری صحت، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو شدید بیماریوں میں مبتلا ہیں، اور سب سے زیادہ ان کے لیے جو ذہنی عارضوں میں مبتلا ہیں

جیسا کہ بہت سے مطالعات سے پتہ چلتا ہے، خاندان ہماری خوشی کا سب سے اہم عنصر ہے، ہماری مالی صورتحال سے بھی کہیں زیادہ۔ مثال کے طور پر، طلاق کے تجربے سے گزرنا کسی شخص کی خوشی کی سطح کو دُگنا متاثر کرتا ہے کیونکہ اس کے ساتھ اس شخص کی آمدنی کا 30 فیصد بھی جاتا رہتا ہے۔ مزید برآں، مشاہدے میں آیا ہے کہ شادی شدہ افراد زیادہ دیر تک زندہ رہتے اور زیادہ صحت مند زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ہمارے روزگار اور سماجی ماحول کا بھی ہماری خوشحالی پر گہرا اثر دکھایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، نوکری کھو بیٹھنا اکثر ایک تباہ کن تجربہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اپنے اعتماد اور اپنی قدر میں کمی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ ان نقصانات کے اثرات کسی شخص کی خوش حالی پر محض آمدنی کے نقصان سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ مزید برآں، ہمارا روزگار، اور وہ کمیونٹی جس سے ہم تعلق رکھتے ہیں، ہماری زندگی کو بامقصد بناتے ہیں: حقیقی ساتھ اور تعلق کا احساس دو انتہائی مثبت چیزیں ہیں جن کا تجربہ لوگ اپنی زندگی میں کر سکتے ہیں۔  اس کے بعد، صحت کے علاوہ، دو دیگر عوامل بھی نمایاں اثر ڈالتے ہیں: ذاتی آزادی اور ذاتی اقدار۔

وہ لوگ جو مستحکم اور پرامن ممالک میں رہتے ہیں جہاں وہ اپنے مفادات کی جستجو کرنے کے لیے آزاد ہیں، پابند معاشروں میں رہنے والوں کے مقابلے میں زیادہ خوش ہیں۔ جن لوگوں کی اپنی ذاتی اقدار ہیں وہ بھی زیادہ خوش دکھائی دیتے ہیں، مثال کے طور پر، زندگی کے مثبت فلسفے کے حامل افراد (جیسے مذہبی لوگ) جو اپنی زندگیوں کی قدر کرتے ہیں اور جو کچھ ان کے پاس ہے،اس کی قدر کرتے ہیں۔

کسی ملک کا مقصد معاشی ترقی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ خوشی۔

جیسا کہ ہمیں معلوم ہو چکا ہے، اگرچہ مادی دولت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، لوگ پچھلے پچاس برسوں میں زیادہ خوش نہیں ہوئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہماری حکومتیں محض غلط مقصد پر چل رہی ہیں۔ پچھلی دہائیوں میں تمام مغربی معاشروں کا مرکزی ہدف اقتصادی ترقی رہی ہے، جبکہ ہماری خوشی کے لیے اہم ہونے والے عوامل جیسے کہ خاندان، دوست اور صحت کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ تصور کافی عرصے سے متروک ہو چکا ہے، لیکن مغربی حکومتیں اب بھی اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ اگر معیشت ترقی کرے گی تو لوگوں کی حالت بہتر ہو گی۔

ایسا کیوں ہے؟

دوسری جنگ عظیم کے بعد، جب بہت سے لوگ غریب تھے اور مادی دولت کے خواہش مند تھے، کسی ملک کی جی ڈی پی کو اس کی آبادی کی خوش حالی کے اہم اشاریے کے طور پر استعمال کرنا کافی مناسب معلوم ہوا۔ تاہم آج کی دنیا میں،جو دولت مندی کی کثرت کی دنیا ہے، ایک مغربی ملک کی جی ڈی پی کا لوگوں کی خوشی، ضروریات اور خواہشات کے ساتھ منطبق ہونا ضروری نہیں ہے۔

لہٰذا، سیاست دانوں کو یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ آج کے لوگوں کے اصل ضرورت کیا ہے بجائے اس کے کہ وہ گزر چکی نسلوں کی ضرورتیں پوری کرنے کی کوششوں میں لگے رہیں۔ اس مقصد کے لیے، مادی دولت میں اضافے پر مرتکز ہو جانے کو ترک کر دیا جانا چاہیے۔ جیسا کہ ہمیں معلوم ہو چکا ہے، ہمارے پاس پہلے سے ہی وہ سب کچھ موجود ہے جو ہمیں خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے درکار ہے: مثال کے طور پر خاندان، سماجی رشتے اور بامقصد کام۔

اگر یہ آپ کو غلط یا غیر حقیقی لگتا ہے، تو ذرا ہمالیائی ریاست بھوٹان پر ایک نظر ڈالیں۔ 1970 کی دہائی سے، بھوٹان کا بنیادی مقصد مجموعی قومی پیداوار نہیں ہے، بلکہ مجموعی قومی خوشی ہے۔ اس مقصد کے لیے، بھوٹان کی دولت کو دوبارہ تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ آبادی کے درمیان انتہائی غربت اور حیثیت کی مسابقت کو کم کیا جا سکے۔ مصنف کے مطابق بھوٹان کے لوگ کہیں اور رہنے والے لوگوں سے کہیں زیادہ خوش نظر آتے ہیں۔

کسی معاشرے میں زیادہ خوشی حاصل کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ٹیکس میں اضافہ ہے۔

کیا آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ٹیکس میں اضافہ کرکے زیادہ خوشی حاصل کی جاسکتی ہے؟ اگر آپ کا جواب نہیں ہے، تو آپ اس رائے میں اکیلے نہیں ہیں۔

تاہم، غور کریں کہ کیا ہوگا اگر ٹیکس زیادہ ہوں اور اتنے زیادہ ہوتے جائیں جتنا زیادہ لوگ کمائیں۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ زیادہ دولت کمانے کی حوصلہ شکنی ہو گی اور لوگ وہاں خوشی تلاش ہی نہیں کریں گے، جہاں انھیں یہ مل نہیں سکتی!

انکم ٹیکس کی بلند اور آمدنی کے ساتھ بڑھنے والی شرح لوگوں کو کم کام کرنے اور اپنے خاندانوں اور خوشی کے دیگر ثابت شدہ ذرائع کے لیے زیادہ وقت دینے کا باعث بنے گی۔ یہ پیسے پر توجہ مرکوز کرنے سے بھی ان کی حوصلہ شکنی کرے گی، جو ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ خوشی میں اضافے کا راستہ نہیں ہے۔ نیز، ٹیکس کی بلند اور آمدنی کے ساتھ بڑھنے والی شرح لاگو کرنے سے لوگوں کی مسابقتی مہم کو کم کرنے اور دوسروں سے اپنا موازنہ کرنے کے ان کے رجحان کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ کام کرنے کے اوقات میں کمی اور پیسے پر کم توجہ مرکوز کرنے سے زیادہ خوشی ملتی ہے۔ ہم پہلے سے ہی اپنے لیے درکار سے زیادہ کام کرتے ہیں اور ان چیزوں پر بہت کم وقت صرف کرتے ہیں جو واقعی ہماری خوش حالی کے لیے اہم ہیں جیسے کہ دوستوں اور کنبے کے ساتھ وقت گزارنا۔ لہٰذا زیادہ ٹیکس لگانے سے بہت سے لوگوں کو کام اور زندگی کا زیادہ صحت مند توازن حاصل ہو گا۔

نیز، ٹیکس کی بلند اور آمدنی کے ساتھ بڑھنے والی شرح لاگو کرنے سے دولت کے حصول کی اگلی اعلیٰ منزل کو لپکنے کی لایعنیت واضح ہو جاتی ہے۔ اور اس لیے ہم اس ناخوشی سے بچتے ہیں جو لمحاتی خوشی اور اس کے بعد اس کا عادی ہونے کی صورت میں حاصل ہو گی۔ مختصر یہ کہ ٹیکس کی بلند شرح آمدنی میں اضافے کے لیے اضافی کام کو ضروری بنا دیتی ہے، آمدنی میں چھوٹا سا اضافہ بے معنی لگتا ہے، اور یوں وہ وقت زیادہ بہتر لگتا ہے جو کام سے باہر گزرتا ہے۔

بالآخر دیکھیں تو آمدنی کے لحاظ سے دوسروں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی مہم جوئی ایک عجب کھیل ہے: جب کوئی ایک فائدہ حاصل کر کے خوش ہوتا ہے، دوسرا ہار کر ناخوشی کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے خوشی کا مجموعی اثر صفر پر برابر ہو جاتا ہے۔ لہذا، ٹیکس جو دوسروں کی نسبت زیادہ کمانے کے عمل کو مشکل بناتے ہیں، مؤثر طریقے سے اس چوہا دوڑ کو روکتے ہیں، جس سے سب کے لیے زیادہ خوشی کے حصول کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

سیاست دانوں کو اس بات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے کہ ہمیں حقیقی خوشی کس شے سے حاصل ہوتی ہے۔

جیسا کہ ہم نے دیکھا، خوشی کا بنیادی ذریعہ اپنا خاندان ہے۔ لیکن حکومتیں اس سلسلے میں کیا کر سکتی ہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ بہت کچھ کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، روزگار کے اوقات کار کو لچک دار بنا کر، والدین کی چھٹی کو نافذ کر کے، دفاتر میں بچوں کی لازمی دیکھ بھال کے انتظامات وغیرہ کے ذریعے وہ ہمارے کام کے ماحول کو ایسا بنا سکتے ہیں جو ہماری خانگی زندگی سے زیادہ  موافقت رکھنے والا ہو۔

لوگوں کو انھیں خوشی فراہم کرنے والوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کی ترغیب دینے کا ایک ثابت شدہ طریقہ کام کے سلسلے میں سفر کے اوقات کو کم کرنا اور کام کی جگہوں کو مسلسل تبدیل کرنے سے گریز کرنا ہے۔ مسلسل سفر میں رہنا لوگوں کے لیے مشکل بنا دیتا ہے کہ وہ مستحکم تعلقات اور دوستیاں قائم کریں اور حقیقی معنوں میں کام کرنے والی برادری کا حصہ بن کر رہ سکیں۔ اس طرح حکومتیں ایسی مراعات پیش کر سکتی ہیں جو کام کرنے والے لوگوں کو خاندان اور دوستوں کے قریب رہنے کی ترغیب دیتی ہوں۔

حکومتوں کو بھی بے روزگاری کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ بے روزگار ہونا بہت زیادہ ناخوشی کا باعث بنتا ہے اور خود اعتمادی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر لوگ بے روزگاری کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں اور اس سے بچنے کے لیے انھیں سخت محنت کرنا پڑتی ہے،تو مجموعی طور پر معاشروں کو نقصان پہنچتا ہے۔ لہٰذا، کوئی حکومت جو اپنے شہریوں کو خوش رکھنا چاہتی ہے، اسے چاہیے کہ بے روزگاروں کو نوکریوں کی فراہمی یقینی بنائے۔

اس کے علاوہ، حکومتوں کو ذہنی امراض کی روک تھام اور علاج کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ یہ ناخوشی کے سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں جن پر ابھی تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔ مثال کے طور پر، امریکہ میں صحت کی دیکھ بھال کے فنڈز کا محض 7 فیصد دماغی صحت کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ یورپ میں صورت حال زیادہ بہتر نہیں ہے، جرمنی میں دماغی صحت کی دیکھ بھال پر صرف 11 فیصد اور برطانیہ میں 13 فیصد خرچ کیا جا رہا ہے۔

اور آخری بات، معاشرے کو بچوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ سب سے اہم یہ ہے کہ سکولوں کے اسباق میں اخلاقی اقدار اور جذباتی ذہانت جیسے مضامین کو، خوشی کو بڑھانے میں جن کی افادیت تسلیم شدہ ہے، تعلیم کے لازمی حصے کے طور پر متعارف کرایا جانا چاہیے۔

اس کتاب کا کلیدی پیغام یہ ہے:

اگرچہ مغربی دنیا میں کئی دہائیوں سے دولت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، لیکن لوگوں کی مجموعی خوشی میں اضافہ نہیں ہوا۔ اس لیے، اگر ہم واقعی خوش رہنا چاہتے ہیں، تو ہمیں دولت کے حصول پر توجہ مرکوز کرنا چھوڑ دینا چاہیے اور ان چیزوں پر توجہ دینا شروع کر دینا چاہیے جو حقیقت میں ہمیں زیادہ خوش کرتی ہیں: دوست، خاندان، بامعنی کام اور صحت مندی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...