ڈیجیٹل و سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور پاکستان، چند جہتیں

309

موجودہ اور جدید ڈیجیٹل دور کی بنیادوں کا آغاز اگرچہ دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہوچکا تھا لیکن بیسویں صدی کی ستر اور اَسّی کی دہائی میں اس کے خط و خال ابھرے اور نوے کی دہائی سے دنیا تیز رفتار انٹرنیٹ کی طرف جانا شروع ہوئی، جس کے بعد نت نئے تجربات سے نئی نئی ویب سائٹس اور پھر سمارٹ موبائل فون کے آپریٹنگ سسٹم میں مصنوعی ذہانتوں کا استعمال دیکھنے میں آتا ہے۔ سمارٹ فون میں تو آئے روز حیران کن تبدیلیاں آنے سے سمارٹ فون ایپلی کیشنز ڈویلپمنٹ کے شعبے بھی بڑی ترقی کررہے ہیں۔ ذاتی صفحہ ہو یا کسی مشغلے کا پیج، سرکاری،سیاسی و سماجی اور ثقافتی پروگراموں کی تشہیر اور پراپیگنڈا یا پھر بڑے سے بڑا اور چھوٹے سے چھوٹا کاروباری ادارہ ہو یا پھر بینکاری و آنلائن کلاسز و دیگر زندگی کے معاملات، سبھی اب سمٹ کر چند انچ کی اسکرین پر آچکے ہیں۔ ورچوئل رئیلیٹی اب بذات خود ایک متوازی حقیقت بن رہی ہے۔ کلاؤڈ اور فائیو جی کا سیلاب اسی صدی میں ہمارے بہت سے تصورات و نظریات کو بہا کر لے جائے گا اور دنیا کی قدامتی اور رجعتی سوچ اور مباحث کے تمام بند اور پشتوں کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے گا۔ عین حال میں کرونائی وباءکے باعث تعلیم، کاروبار اور بہت سے سماجی اور سیاسی اکٹھ متاثرہوچکے ہیں اور ان عوامل کے بعد جن جن شعبوں نے انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کابروقت اور درست استعمال کیا ہے انہی شعبوں کو فی الحال سہولت مل رہی ہے۔ دیکھنے میں آیاہے کہ انتہائی اہم امور جیسے ادارتی میٹنگز، سیمینارز (وے بی نارز)، کانفرنسز اور حتیٰ کہ مشاعرے اور مذاکرے تک ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم پر ہونا ناگزیر ہوچکے ہیں۔جرائم کی دنیا میں جرم شناسی اور مجرم کو پکڑنے تک ان کا استعمال کامیابی سے ہورہا ہے۔ اس کی تازہ مثال مینارِ پاکستان میں ہراسمنٹ کے سب سے بڑے واقعہ میں جیو فینسنگ نامی ٹیکنالوجی کے ذریعے بہت سے ملزمان کی شناخت کی گئی یعنی وہاں موجود لوگوں کی جیب میں ان کا بظاہر خاموش موبائل ان کا پہلا گواہ ثابت ہوا۔

ففتھ جنریشن وار ہو یا بڑی اور اہم سرکاری اور غیر سرکاری ویب سائٹس پر حملے سے اَن چاہے اور انجانے چیلنجوں سے نبرد آزما یہ دنیاایک نئے دور میں داخل ہورہی ہے۔ جہاں انسان ڈیجیٹل دور کے فوائد سے بہرہ مند ہو رہا ہے وہاں جرم وسزا کی تعریف و تشریح بھی بدلتی جارہی ہے جس کے لیے قوانین وضع کیے جارہے ہیں۔ ہر خطہ کی اخلاقیات اور ان کے مفادات چونکہ روز اول سے تفاوت و افتراق کے ساتھ چلتے ہیں اسی وجہ سے بعضی اوقات ڈیجیٹل سرحدات کے تعین پر بین الاقوامی سطح پر تضادات اور تصادم فطری ہوتا ہے۔ایمازون، ای بے اور علی بابا ڈاٹ کام سے لے کر علی ایکسپریس جیسے کاروباری پلیٹ فارم سے آپ سوئی سے لے کر جہاز تک خرید سکتے ہیں۔ دوائی سے لے کر ڈاکٹر کی خدمات ہوں یا پھر جاندار اور بے جان اشیاءکا حصول،الغرض انفارمیشن اور علوم کی ترسیل سمیت دنیا کا کون سا ایسا کام ہے جس کا نعم البدل اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل نہ ہو رہا ہو؟ دنیا میں سرد جنگ کے دنوں میں شروع ہونے والی یہ سرگرمی اب عالمی طور پر ہر انسان کے لیے ناگزیر اور از حد ضروری ہے جس کے بغیر آئندہ کی دنیا کی ترقی و پیش رفت کا تصور ممکن نہیں رہا ہے۔

پاکستان میں ڈیجیٹل دور کی ترقی کے لیے فی الوقت ٹیلی کمیونیکشن کارپویٹ کمپنیوں، براڈ بینڈ اور فورجی انٹرنیٹ مہیا کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ کچھ مقامی اور درآمد شدہ الیکٹرانک و سمارٹ اشیاء و اجناس کو معیار سمجھا جاتا ہے۔ میرے خیال میں آنلائن سہولیات، فراہم کرنے والی ویب سائٹس، ایپلی کیشنز اور پورٹلز سمیت ای کامرس سے متعلق تمام چھوٹے بڑے اداروں، بھلے سے وہ ابھی تک شخصی سطح پر ہی کیوں نہ ہوں پر تحقیق ہو اور کاپی رائٹس سمیت دیگر تمام ذیلی امور پر ان کی رہنمائی اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ چونکہ اب یہ پلیٹ فارمز ہم سب کی عمومی زندگی کے لیے لازم ہوچکے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ اسے اسکول سے لے کر جامعاتی سطح تک کورسز کا حصہ بنا یا جائے۔ ملک میں جہاں جہاں انٹرنیٹ کی سہولیات کا فقدان ہے وہاں وہاں اسے دسترس میں لایا جانا چاہیے اور اس نیٹ ورک میں زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا ہوں تاکہ دنیا کے ہم گام و ہم قدم ہونے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

دنیا میں جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی متعارف ہوتی ہے تب اس کے فوائد اور نقصانات کی بابت کم علمی ہونے کی وجہ سے ہر دو صورت صارف کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومتی سطح کے علاوہ معاشرے کے ذمہ دار افراد بھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے وہ لازمی شعور پیدا کریں جس سے استفادہ زیادہ سے زیادہ ہو اور نقصان کم سے کم۔

پاکستان میں فی الوقت بہت سے شعبوں پر بالواسطہ اور بلاواسطہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے اثرات فرد اور اداروں پر دیکھنے میں آرہے ہیں۔ جن سے ہر کوئی اپنی سطح پر نبرد آزما ہے اور اپنی اپنی کوشش سے اس کا حل بھی نکال رہا ہے۔یہاں روایتی ڈاک، صحافتی میدان میں ہونے والی تبدیلیوں اور تعلیم کے شعبے میں کیا کچھ ہوا ہے اس پر کچھ سوالات رکھے گئے تھے جو قارئین کے لیے یقیناً مفید ہوں گے۔

ڈاکٹر فائزہ زہرا میرزا کراچی یونیورسٹی میں دو دہائیوں سے شعبہء فارسی کی استاد کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی تعلیمی خدمات کئی برسوں پر محیط ہیں۔ موجودہ دور میں کرونا جیسی وباکے علاوہ بھی طلباء و طالبات کی سہولت کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کے مختلف ذرائع کا استعمال کیا جارہا ہے۔ یونیورسٹی کی استاد کی حیثیت سے پاکستان میں درس و تدریس میں اس سہولت سے استفادہ میں اچھائیوں اور خامیوں پر آپ کی ماہرانہ رائے کیا ہے؟ اور اس حوالے سے معیارِ تعلیم کی بہتری کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں؟

ڈاکٹر فائزہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”سیدھی سی بات ہے کہ اگر پڑھائی ڈیجیٹل طریقے سے ہی کروانا مقصود ہے تو ایسے بہت سے مضامین ہیں جن میں عملی تدریس بھی شامل ہے اور یہ ڈیجیٹل ذریعے سے ممکن نہیں۔ ”شنیدن کی بود مانند دیدن”۔ پاکستان میں والدین جو چند ہزار تنخواہ لیتے ہیں کیا ان کے لیے ممکن ہے کہ ہر بچے کے لیے الگ لیپ ٹاپ اور اینڈرائیڈ موبائل خریدیں تاکہ بہ یک وقت ہر بچہ اپنی کلاس لے سکے جبکہ دوسری طرف چھوٹی جماعت والے بچے جو کمپیوٹر سے مانوس نہیں ہیں ان کے والدین گھر کے کام چھوڑ کے سارا وقت بچوں کے ساتھ بیٹھے ہیں تاکہ انھیں کلاس لینے میں معاونت کریں۔غیر تعلیم یافتہ والدین کس طرح بچوں کی معاونت کر سکیں گے؟ انٹرنیٹ کا نظام اس ملک میں بیحد ناقص ہے۔ہر وقت لو سگنلز کا پرابلم رہتا ہے۔ پہلے حکومت اس مسئلے کو تو حل کر لے۔ناردرن ایریا کے بچوں کے پاس تو سگنلز آتے ہی نہیں ہیں۔ بڑے مسائل ہیں ڈجیٹل کلاسز کے اور یہ نظام درست نہیں۔ بچے اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ رہ کر بھی بہت سیکھتے ہیں۔ڈیجیٹل کلاسز نے مسائل بڑھا دیے ہیں۔”

معروف ناول نگار اور فکشن رائٹر آغا گل، پاکستان پوسٹ کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کام کرچکے ہیں۔ ان سے جب استفسار کیا گیا کہ آپ سب سے بڑے قومی ادارے پاکستان پوسٹ کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز رہے۔ پاکستان پوسٹ خط کتابت، رابطوں، پوسٹ بکسز وغیرہ کے علاوہ بینکاری، پنشن جیسے امور بھی چلاتی رہی ہے۔ موجودہ ڈیجیٹل اور انٹرنیٹ کے دور میں انسانی زندگی میں نت نئی سہولیات متعارف کرائی گئی ہے جس سے دنیا میں بہت سے معاملات میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔ موجودہ دور میں ان تبدیلیوں کو آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں اور ڈاکخانوں کی فعالیت اور مستقبل میں اس کے فنکشن پر کیا رائے رکھتے ہیں؟

آغا گل صاحب نے کہا کہ دنیا کے قدیم ترین اداروں میں ”پوسٹ ” ایک قدیم ادارہ ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں پوسٹل ادارے خسارے میں جار ہے ہیں۔ پاکستان کا ڈاک برٹش سسٹم کے تحت تھا جس کا معیار اور اعتبار اس حد تک تھا کہ اگر کبھی کسی کا سونا یا زیور کہیں پہنچایا جاتا تو کوئی بھی اس کے وزن میں شک نہیں کرتا تھا کہ جب ڈاکخانے کا وزن لکھا ہے شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ ادارہ لازمی سروسز ایکٹ کے مطابق چلتا تھا لیکن بھٹو دور میں اس میں یونین سازی کی اجازت دی گئی تو آگے جاکر اس سے معاملات خراب ہونا شروع ہوئے تو اس کے بعد ہر وقت افسران اور ملازمین کام سے زیادہ آپسی معاملات میں الجھے نظر آئے۔ پاکستان میں پوسٹ کے اخراجات ہیومن ریسورس کی وجہ سے بہت زیادہ ہیں اور جہاں ہیومن ریسورس ہوں تو اخراجات بڑھ ہی جاتے ہیں۔ پے اینڈ الاؤنسز کی مد میں 80فی صد پیسے چلے جاتے تو باقی 20فی صد دفتری اور دیگر معاملات چلائے جاتے تھے۔ رہی سہی کسر ایک با اثر فرد نے پرائیویٹ کوریئر سروس کا آغاز کیا تو پاکستان پوسٹ کی سروس کو ارادتاً خراب کروایا گیا جہاں سے سروسز میں تعطل آیا اور وہی تعطل اب بھی چل رہا ہے۔پوسٹ کی اہمیت سے اگرچہ انکار ممکن نہیں لیکن اسے بجٹ سمیت کئی امور میں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ فارن ایکسچینج ٹرانزیکشن میں افغانستان سے ڈاک پہلے کراچی جاتی تو وہاں سے متعلقہ علاقوں بالخصوص چمن میں جاتی جس کے لیے دفتر بنوانے کی تجویز دی گئی تھی۔ ایسے ہی آر سی ڈی میل روٹ بے ضابطگیوں کی ایک طویل فہرست ہے، بالخصوص ایک وفاقی ادارے کے اہلکاروں نے ایران، ترکی اور اسی طرح پورے یورپ کے اس روٹ کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ڈاک میں چوریاں اور قیمتی اشیاءکو تبدیل کرنے کی شکایتوں پر یہ روٹ ہم سے چھن گیا جس کا نقصان آج تک بھگت رہے ہیں اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے۔ ایک زمانے میں اس کا ریونیو6 بلین روپے تھا حالانکہ یہ کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کا حصہ تھا لیکن اسے الگ وزارت میں لاکر اسے کئی مسائل سے دوچار کرایا گیا۔ ایک وزیر نے اس کی62گاڑیاں اور ایک موٹر سائیکل واپس نہیں کی۔ میں نے جب بطور ایک ذمہ دار افسر آڈٹ والوں سے کہا تو اس پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ پاکستان پوسٹ کو سیاسی اور وزارتی مداخلتوں سے آزاد کرانا چاہیے تاکہ اس کی ساکھ اور کارکردگی کو بحال کیا جاسکے۔ہم نے پوسٹ میں کئی اقدا مات اٹھائے جن میں تیز رفتار سروس ائیر ایکس، ارجنٹ میل سروس، فیکس منی آرڈر شامل تھے بعد میں آنے والوں نے مزید بہتری پیدا کی جو الیکٹرانک اور ڈیجیٹل دور کے حوالے سے تھے جس میں کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا اور ٹریکنگ سسٹم لانا شامل ہے۔ پوسٹ کو ا یک کمائی دینے والا ڈیپارٹمنٹ اب بھی بنایا جاسکتا ہے یہ ایک ایسا جن ہے جس کے ہاتھ پیر کو باندھ دیا گیا ہے۔ پاکستان میں اب بھی اس کے ریٹس مناسب ترین ہیں اس کا سلوگن خدمت، دیانت اور امانت ہے جس کے پہلے حروف کو ملانے سے خدا بنتا ہے۔چونکہ یہ پبلک سروس اور یوٹیلیٹی ڈیپارٹمنٹ ہے تو حکومت کو چاہیے کہ اس کے نظام کو انہی خطوط پر استوار کرائے۔ اب بھی فی یونٹ پوسٹ کے ڈویلپمنٹ فنڈز کی مد میں بجٹ کا تناسب بہت کم ہے۔ ڈیجیٹل دور کے آنے اور باوجود تمام مسائل کے یہ ڈیپارٹمنٹ اپنی اہمیت کی وجہ سے رہے گا۔

سبوخ سید، جانے مانے صحافی ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اب تک پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور اب ڈیجیٹل و سوشل میڈیا کے مختلف ادوار اور ارتقاءکے تمام مراحل دیکھے ہیں، آپ کے خیال میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا مستقبل انٹرنیٹ کی تیز رفتار ترقی کے آگے کیسا ہوگا؟

سبوخ سید نے کہا کہ ”میں نے ریڈیو پاکستان پشاور اور پشاور یونیورسٹی کیمپس ریڈیو سے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا، پھر ایکسپریس اخبار سمیت جیو نیوز، بول ٹی وی، نیو نیوز اور آجکل پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک اسلام آباد میں باقاعدگی کے ساتھ پروگرام کررہا ہوں۔ یہ بات اعزاز سے کم نہیں کہ میں نے پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا تک کا سفر بھی دیکھا اور اب ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مختلف ادوار اور ارتقا کو بھی دیکھ رہا ہوں۔ مختلف میڈیا ہاؤسز کے ساتھ اب میں 2015ء سے ایک نیوز ویب سائٹ IBCURDU کے نام سے اردو، انگریزی، عربی اور پشتو میں چلا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور خبروں کے حوالے سے لوگوں کے پاس اب اتنا وقت نہیں کہ وہ ایک گھنٹہ ٹی وی کے پاس بیٹھ کر انتظار کریں۔ ٹی وی اور اخبارات کا جہاں وقت محدود ہوتا ہے وہیں ناظرین اور قارئین کا اختیار بھی کم ہے جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر وہ اپنی مرضی کی خبریں، ویڈیوز وغیرہ دیکھ سکتے ہیں۔ وہ ویب سائٹس اور یوٹیوب ایسے ذرائع ہیں جن سے باآسانی جب چاہے اور جیسی چاہے خبریں اور معلومات لے سکتے ہیں۔وٹس ایپ بھی ایک ذریعہ ہے لیکن وہ بہت حد تک محدود ہے۔ آجکل ان پلیٹ فارمز کی مقبولیت اور اہمیت کو دیکھ کر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اپنے ماڈآف کمیونیکیشن کو خود ہی چینج کررہے ہیں۔ اب تقریباً تمام ہی پاکستانی میڈیا ہاؤسز یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارم پر آچکے ہیں حتیٰ کہ وہاں سے کما بھی رہے ہیں۔ آئندہ اخبارات کے صفحات اور ٹی وی اسکرین کی جگہ موبائل فون اسکرین لے رہی ہے۔ روایتی اور غیر روایتی میڈیا کے بارے میں عموماً یہ تاثر ہے کہ یہ بوجوہ کنٹرولڈ ہے کیونکہ مالکوں، کارپوریٹ اور دیگر اداروں کی وجہ سے اس پر ہمیشہ خوف موجود رہتا ہے۔دوسری طرف سوشل میڈیا کے آنے سے SPACE اور تیزرفتاری بڑھی ہے جبکہ بعض حلقوں کا یہ خیال ہے کہ روایتی میڈیا میں ہر خبر مختلف پراسیس سے گزر کر سامنے آتی ہے۔”

سبوخ سید سے جب پوچھا گیا کہ پرنٹ میڈیا میں اخبارات کے دفاتر، چھاپہ خانوں، مدیر صاحبان اور ہاکروں سمیت ہر وابستہ شخص معلوم ہوتا ہے، ایسا ہی ٹی وی ریڈیو چینلز کے لیے لائسنس و دیگر لوازمات کا پتہ ہوتا ہے جبکہ ڈیجیٹلی آپریٹیڈ ویب سائٹس بالخصوص اکثر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر فیک نیوز، لیکس اور اسکینڈل کو بغیر کسی کی ذمہ داری پر دیکھا جاسکتا ہے تو اس پر آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ایسی خبروں یا حقائق کی جانچ پڑتال وغیرہ کے لیے لوگوں کی تربیت اور تعلیم کیسے کی جائے؟

انہوں نے کہا کہ”کچھ عرصہ قبل پاکستان میں DGMAP کے نام سے ڈیجیٹل میڈیا الائنس فار پاکستان بنا جس میں ایک درجن سے زائد ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم سے تعلق رکھنے والی ویب سائٹس و فیس بک پیجز شامل ہیں، ان فعال ویب سائٹس کے علاوہ اب درجنوں اور اس میں شامل ہونے کے خواہاں ہیں۔ اس سے یقینا آگے چل کر ایک ذمہ دار پلیٹ فارم میسر آسکے گا۔ گیلپ نے ڈیجیٹل میڈیا کے بارے میں ایک سروے کیا کہ اخبارات، ٹی وی چینلز کے علاوہ ڈیجیٹل میڈیا پر لوگوں نے بتایا کہ وہ ان سب کا استعمال تو کررہے ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ تر چیزوں پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ سوشل میڈیا پر دلچسپ بات یہ ہے کہ وہاں آپ کو اپنی مرضی کی خبراور انفارمیشن مل سکتی ہے جہاں آپ ایک کلک سے ہزاروں رزلٹ دیکھ سکتے ہیں اور وہاں آپ اپنی رائے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ”

سبوخ سید نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کی اہمیت مسلمہ ہے اور اس کا مستقبل مضبوط ہے۔ جہاں تک عام صارفین کی تربیت کی بات ہے تو انہوں نے کہا کہ اب یونیورسٹیوں کی سطح پر اسے بطور کورس پڑھایا جارہا ہے۔ گزشتہ دنوں سرگودھا یونیورسٹی میں اس حوالے سے کورس ترتیب دیا گیا تھا جس میں انہوں نے بھی شرکت کی تھی جہاں طلباءو طالبات کو اس کی باقاعدہ تربیت کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ فیک نیوز کو کنٹرول کرنے پر انہوں نے کہا کہ اب ہر پلیٹ فارم یوٹیوب اور فیس بک وغیرہ پر اس کا ایک باقاعد ہ میکینزم موجود ہے۔ جہاں صارفین اور مختلف ذرائع سے اسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے لیکن بعض اوقات اس کا غلط استعمال بھی دیکھنے میں آرہا ہے۔دوسری طرف تصدیق شدہ اکاؤنٹس بھی موجود ہوتے ہیں جہاں سے خبر اور انفارمیشن کی تسلی ہوجاتی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ دی گئی معلومات تصدیق اور ذمہ داری سے دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور سوشل میڈیا پر عام صارفین کی تربیت کا ہمہ وقت امکان موجود ہوتا ہے۔ سب سے اہم پہلو سیٹیزن جرنلسٹ کا سامنے آیا ہے تو دوسری طرف ریگولر صحافی کے کردار اور صحافتی ذمہ داریاں بھی بڑھ چکی ہیں۔ سیٹیزن اور ریگولر صحافی دونوں کو ٹریننگ کی ضرورت ہے۔ جس کے لیے مختلف کورسز آن لائن بھی موجود ہیں۔ سنسنی پھیلانے والے شام کے اخبارات کی طرح بعض چینلز اور پیجز  چٹپٹی ہیڈ لائنز لگانے والے اکاؤنٹس بھی موجود ہوتے ہیں جو کچھ عرصہ تو پاپولر ہوجاتے ہیں لیکن جلد ہی وہ اپنے فالوورز سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...