تحریک لبیک: متوازن تفہیم کی ضرورت

179

تحریک لبیک سے متعلق ایک جامع تجزیہ اس کا متقاضی ہے کہ درج ذیل سوالات کو غور وفکر کا موضوع بنایا جائے:

1۔        کیا یہ ایک وقتی اور ہنگامی مظہر ہے یا اس کی جڑیں ہماری گذشتہ تاریخ میں ہیں؟

2۔  برصغیر کی گذشتہ دو صدیوں کی مذہبی، سماجی اور سیاسی تاریخ کے تناظر میں تحریک لبیک کے ظہور کو کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟

3۔  گہرے تاریخی پس منظر کے علاوہ تحریک کے ظہور کے پیچھے قریبی زمانے سے تعلق رکھنے والے فوری عوامل کون سے ہیں؟

4۔  عمومی تاریخی صورت حال کے علاوہ سنی (بمعنی بریلوی) اسلام کی کون سی داخلی حرکیات اس کی تفہیم میں مدد دیتی ہیں؟

ان اہم سوالات پر سنجیدہ تجزیوں کا فقدان ہمارے ہاں سماجی علوم کے دائرے میں ایک عمومی رجحان کا عکاس ہے جس میں بعض اسباب سے برصغیر کی مذہبی نفسیات اور سماجی مذہبی حرکیات کو ایسا قابل توجہ موضوع نہیں سمجھا جاتا جس پر زیادہ غور وفکر صرف کرنے کی ضرورت ہو۔ چنانچہ مذہبی سیاست کے آئندہ رخ سے متعلق کوئی پیش گوئی کرنا تو دور کی بات ہے، ارباب دانش کے پاس کوئی ایسا جامع تاریخی ونظری فریم ورک بھی موجود نہیں جو اس کی تفہیم کے ضروری فکری وسائل مہیا کرتا ہو۔ چنانچہ کوئی بھی نیا مظہر سامنے آنے پر واویلا، اظہارِ تاسّف، ناامیدی اور جھنجھلاہٹ وغیرہ کے علاوہ تجزیے کی سطح پر عموماً‌ ماضی کے کچھ واقعات اور کرداروں یا حال کے کچھ “استادوں” تک بات پہنچا کر ختم کر دی جاتی ہے۔

مذہبی قوتوں کے سیاسی طاقت کے میدان میں متحرک ہونے اور اس پر اثرانداز ہونے کے مظہر کو مقتدر قوتوں کے ایما اور پشت پناہی سے جوڑنے کا بیانیہ ہمارے ہاں کے سیاسی تجزیوں میں بہت مقبول ہے۔ تاہم جزوی پہلو سے درست ہونے کے باوجود یہ تھیوری ناکافی ہے اور اس کی قوت توجیہ (explanatory power) اس مظہر کی گہرائی اور وسعت کی توجیہ سے قطعی طور پر قاصر ہے۔ اسی محدودیت کی وجہ سے ہمارے تجزیہ کاروں کو مذہب سے جڑے ہوئے سماجی وسیاسی مظاہر کی توجیہ میں حد درجہ مشکل پیش آتی ہے اور تحیر اور مایوسی کے اظہار کے بعد آخری نتیجہ جو وہ ایسے ہر معاملے میں بیک زبان اخذ کرتے ہیں، یہ ہوتا ہے کہ مقتدر طبقے، سیاست کے لیے مذہب کا استعمال ترک کر دیں تو تبھی یہ مسئلہ حل ہوگا۔

اس تجزیے کا بنیادی خلا یہ ہے کہ یہ مذہبی قوتوں کے صرف سیاسی طور پر منظم ہونے کو، جو ایک نتیجہ ہے، موضوع بناتا ہے جبکہ اس نتیجے کی بنیاد کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ سماج میں موجود کسی بھی شناخت کا سیاسی اظہار ایک معمول کا عمل ہے۔ مذہب ایک سماجی قوت کے طور پر پہلے سے موجود ہے، اسی لیے اس کا سیاسی اظہار ہوتا ہے۔ یہ سمجھنا کہ باقی شناختیں تو فطری طور پر اپنا سیاسی اظہار کرتی ہیں، لیکن مذہبی شناخت نہیں کرتی یا اس کو نہیں کرنا چاہیے، ایک ایسا مفروضہ ہے جس کی تائید سماجی علوم سے نہیں ہوتی۔ یوں یہ تجزیہ کسی معروضی علمی بنیاد پر مبنی ہونے کے بجائے ایک ’’خواہش ” کا اور اس خواہش کے پورا نہ ہونے پر اضطراب کا غماز بن جاتا ہے۔

ہماری سیاسی وسماجی تھیوریاں عموما مغربی علوم سے مستعار ہوتی ہیں، لیکن وہاں آنے والی فکری تبدیلیوں کی عکاسی کے حوالے سے زیادہ تازہ نہیں ہوتیں۔ مغربی سماجی علوم میں یہ مفروضہ ترک کیا جا چکا ہے کہ سیکولرائزیشن کے بڑھنے سے سماج میں مذہب سے وابستگی اور خاص طور پر دائرہ عامہ (Public Sphere)میں اس وابستگی کا اظہار رفتہ رفتہ ختم ہو جائے گا۔ مغربی معاشروں میں مذہبی شناختوں کو دوبارہ ظہور کو اب ’’پوسٹ سیکولرزم” کے عنوان سے سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہمارے سیاسی وسماجی تجزیوں کو بھی اس اعتبار سے خود کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے اور اسی تناظر میں تحریک لبیک جیسے مظہر کی تفہیم کے لیے ایک زیادہ وسیع اور جامع فریم ورک درکار ہے جس میں اس کے ظہور کے پس منظر اور آئندہ متوقع امکانات پر غور کیا جا سکے۔

————–

تحریک لبیک کے ظہور کا ایک فوری اور قریبی عامل بریلوی مکتبہ فکر میں اس شدید تحت الشعوری احساس کو قرار دیا جا سکتا ہے کہ اکثریت ہونے کے باوجود وہ سیاسی میدان میں اپنے مذہبی تشخص کے ساتھ نمایاں نہیں، بلکہ پچھلی سیٹ پر ہیں۔ اس احساس میں خاص طور پر قومی سطح پر مولانا شاہ احمد نورانی جیسے قائدین کے منظر پر موجود نہ رہنے کے بعد نمایاں اضافہ ہوا۔ اس پس منظر میں ممتاز قادری کے معاملے نے ٹھیٹھ بریلوی عصبیت کو مجتمع ہونے کا ایک موقع مہیا کیا جسے بہت کامیابی سے استعمال کرتے ہوئے تحریک لبیک کی تنظیم عمل میں لائی گئی۔ اس کے بعد ممتاز قادری کی پھانسی، مسلم لیگ کے آخری دور حکومت میں حلف نامے میں ترمیم کی حکومتی کوشش اور گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے فرانسیسی حکومت کے اقدامات جیسے واقعات کی ایک قطار ہے جس نے اس عصبیت کو مزید مضبوطی اور استحکام فراہم کیا ہے۔ حلف نامے میں ترمیم کے ایشو پر مقتدر قوتوں نے بھی اشتراک مفاد کی بنیاد پر تحریک لبیک کی پوری سرپرستی کی۔ سیاسی مفاد کے علاوہ اس پالیسی کا مطمح نظر یہ ہونا بھی قرین قیاس ہے کہ ایک بہت بڑی مذہبی اکثریت میں ریاست سے ناراضی اور اجنبیت کے احساس میں کمی واقع ہو اور بریلوی احساس محرومی کو فرقہ واریت کے احیاء کی طرف جانے سے روکنے کے لیے اسے سیاسی میدان میں انگیج کیا جائے۔

تاہم معاشرے کے بہت سے طبقوں کی خواہش، مقتدر طبقوں کی مذکورہ پالیسی کے برعکس، قابل فہم اسباب سے یہ رہی ہے کہ تحریک طالبان اور اس طرح کے دیگر انتہاپسند عناصر کی طرح تحریک لبیک سے بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق تحریک لبیک کے مطالبات کے سامنے حکومت کا مسلسل مدافعانہ پالیسی اختیار کرنا اور خصوصاً‌ اسے سیاسی عمل میں شریک ہونے کی اجازت دینا معاشرے کو مذہبی شدت پسندوں کے سپرد کر دینے اور ریاست کی رٹ پر سمجھوتہ کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ سوچ موجودہ حکومتی حلقوں میں بھی موجود ہے، چنانچہ حالیہ مارچ کے دوران میں ایک مرحلےپر اہم حکومتی نمائندوں کی طرف سے اس طرح کے بیانات سامنے آئے کہ تحریک لبیک سے دہشت گرد تنظیم کے طور پر نمٹا جائے گا۔

اس نقطہ نظر کا استدلال بعض پہلوؤں سے قابل توجہ ہونے کے باوجود معروضی حالات میں دو وجوہ سے حکومت کے لیے یہ راستہ اختیار کرنا ممکن نہیں تھا اور ان دونوں وجوہ کا تعلق خود حکومت کی کمزور اخلاقی وسیاسی پوزیشن سے تھا۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ تحریک لبیک کی طرف سے ہجوم کی طاقت کے بل بوتے پر غیر آئینی طرز عمل اختیار کرنا کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا، اور جو فریق، یعنی موجودہ حکومت، اس سے سختی سے نمٹنے کی بات کر رہا تھا، ماضی قریب میں یا تو خود اس طرح کی صورت حال کا متحرک کردار رہا ہے اور یا اس کا موقف یہ رہا ہے کہ حکومت ہر حال میں صبر اور سمجھ داری سے کام لے۔ چنانچہ تحریک لبیک اور اس کے حامیوں نے یہی استدلال پیش کیا کہ مارچ اور دھرنا ان کا قانونی حق ہے اور ساری سیاسی جماعتیں پچھلے سات آٹھ سال میں بار بار یہ حق استعمال کر چکی ہیں، اس لیے مارچ کا راستہ روکنا غیر جمہوری ہے۔ اس میں جو منطقی مغالطہ ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں، کیونکہ مارچ اور دھرنا تب تک قانونی اور جمہوری ہے جب تک اس سے معمولات زندگی متاثر ہونے اور امن وامان کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔ اگر اس کے لیے فیض آباد کا انتخاب کیا جائے اور عام لوگوں کے معمولات زندگی کو معطل کر کے اور حکومت کے لیے انتظامی مشکلات پیدا کر کے اپنا موقف منوانے کے لیے دباؤ پیدا کیا جائے تو یہ قطعا غیر جمہوری اور غیر قانونی ہے۔ لیکن اس کے جواب میں ریاست کی رٹ کی بات کرتے ہوئے حکومت کو اس مشکل سوال کا سامنا تھا کہ کیا تحریک انصاف کی حکومت آج جس رٹ کی بات کر رہی ہے، کیا اس نے خود اس کو پامال نہیں کیا تھا؟

اس کا درست جواب تو یہ بنتا تھا کہ تحریک انصاف اس کو اپنی غلطی تسلیم کر کے آئندہ اس سے دور رہنے کا عزم ظاہر کرتی، لیکن حکومتی حلقے میں اس پر شرمندگی کا احساس یا غلطی کا اعتراف ہمیں دکھائی نہیں دیا۔ ایک ٹی وی ٹاک شو میں وزیر اطلاعات نے یوں اپنا دفاع کرنے کی کوشش کی کہ سیاسی جماعتوں اور متشدد مذہبی تحریکوں کو ایک نظر سے دیکھنا زیادتی ہے، کیونکہ دونوں کا ہدف اور طریق کار مختلف ہوتا ہے۔ ظاہر ہے، اس وضاحت سے اس سوال کا جواب نہیں ملتا کہ تحریک انصاف نے اپنے دھرنے میں جو طریقہ اختیار کیا، کیا وہ جمہوری اور آئینی تھا؟ اسی طرح کی متعدد پیچیدگیاں ہیں جن سے صرف نظر کر کے ریاست کی رٹ کے مسئلے میں پیش رفت نہیں کی جا سکتی۔ ریاست کی رٹ قائم کرنا ایک قومی فیصلہ ہوتا ہے جو اجتماعی یکسوئی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ دو ذہنی، طبقاتی تقسیم اور سیاسی منافقت کے ساتھ یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

حکومت کی کمزور سیاسی پوزیشن کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ وہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے معاملے میں تحریک لبیک کے ساتھ ایک معاہدہ کرنے کے بعد اسے مناسب طریقے سے کسی نتیجے تک نہیں پہنچا سکی۔ حکومت کے ساتھ تحریک لبیک کی مفاہمت یہ تھی کہ فرانسیسی سفیر کے اخراج کا مسئلہ اگر پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے اور بحث کے بعد یہ فیصلہ ہو کہ ایسا کرنا مناسب نہیں تو تحریک لبیک اس پر اصرار نہیں کرے گی۔ تحریک لبیک کے مجموعی مزاج اور انداز سے قطع نظر، اس نکتے کی حد تک ان کا موقف غیر جمہوری نہیں تھا۔ تاہم اپوزیشن کے ساتھ اپنے غیر جمہوری تعامل کے تناظر میں حکومت کو یہ خطرہ تھا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن اس ایشو کو حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا ذریعہ بنائے گی۔ یوں قومی پالیسی کے معاملات میں اجتماعی سیاسی دانش کو ساتھ لے کر چلنے کی اہلیت نہ ہونے کے باعث یہ معاملہ لمبا ہوتا چلا گیا اور تحریک لبیک کے مارچ کے نتیجے میں حکومت کو مزید پچھلے قدم پر جا کر ایک نیا معاہدہ کرنا پڑا۔

————–

تحریک لبیک کو معمول کے سیاسی عمل کا حصہ بنانے اور شدت پسندانہ بیانیے سے تدریجاً‌ الگ ہونے پر آمادہ کرنے کی کوششیں مقتدر طبقوں کے علاوہ بریلوی مسلک کی اعلیٰ سطحی قیادت بھی کر رہی ہے جس کی نمائندگی حالیہ مارچ کے موقع پر مولانا مفتی منیب الرحمن نے کی۔ انھوں نےنہ صرف مقتدر طبقوں کے ساتھ رابطہ کر کے مارچ کے پرامن خاتمے کی راہ ہموار کی، بلکہ وزیر آباد میں تحریک لبیک کے اجتماع میں تصادم میں جان کھونے والے پولیس اہلکاروں اور ٹی ایل پی، دونوں کے کارکنان کو شہادت کی خوشخبری دے کر توازن پیدا کرنے کی کوشش کی، یہ جانتے ہوئے کہ یہ بات ٹی ایل پی کے بیانیے سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ چنانچہ مفتی صاحب کی طرف سے پولیس اہلکاروں کے لیے دعائے مغفرت پر اسٹیج پر بیٹھے کسی بھی شخص نے ان کی تائید نہیں کی، بلکہ اسپاٹ چہروں سے بتایا کہ وہ عاشقان رسول کو روکنے کی جسارت کرنے والے ریاستی اہل کاروں کو سلمان تاثیر کی صف میں شمار کرتے ہیں۔

اس پس منظر میں یہ بات البتہ اہم ہے کہ سیالکوٹ کے اندوہناک واقعے کی تحریک لبیک نے بھی واضح طور پر مذمت کی اور اس متفقہ قومی موقف کی تائید کی کہ ہجوم کا کسی ملزم کو براہ راست سزا دینا کسی بھی حال میں جائز نہیں اور یہ کہ گستاخی کی سزا ملزم کو عدالتی عمل کے ذریعے سے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی دی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں تحریک لبیک کو اس مشکل کا سامنا ہے کہ اس کی ساری اٹھان سلمان تاثیر کے قتل پر ممتاز قادری کو ہیرو بنانے اور اس کی پھانسی کو شہادت قرار دینے کے نکتے پر ہوئی ہے۔ گویا اسے بیک وقت قانون کو ہاتھ میں لینے کے طرز عمل کی نفی بھی کرنی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خاص سلمان تاثیر کے قتل کے جواز کے موقف بھی قائم رہنا ہے۔ اس موقف کے حامیوں کی طرف سے اس فرق کے مختلف فقہی وقانونی جواز پیش کیے جاتے ہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ یہ بنیادی طور پر کوئی فقہی یا دینی نہیں، بلکہ سیاسی پوزیشن ہے۔

مقتول گورنر نے اس قانون کو ٹارگٹ کیا تھا جسے مذہبی طبقے اپنی شناخت کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ممتاز قادری کے اقدام کی تائید اسی پہلو سے کی گئی کہ وہ یہ پیغام دیتا ہے کہ اس قانون کو چھیڑنے پر مذہبی شناخت کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ یہ تضاد ممتاز قادری کو ہیرو بنانے والے سبھی طبقوں کو مشکل میں ڈالے رکھے گا اور ایک درست موقف اختیار کرنے کے باوجود ان کی اخلاقی پوزیشن کے حوالے سے انھیں پریشان کرتا رہے گا۔ بہرحال، تازہ واقعے کے سیاق میں اس طرز عمل کو عمومی جواز نہ دینے کے موقف سے واضح ہوتا ہے کہ تحریک لبیک کے ہاں معاملے کی سنگینی کا ادراک پایا جاتا ہے جو بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کے ماحول میں کسی قدر اطمینان کا موجب ہے۔

ادراک کے اس عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے مقتدر حلقوں اور ان تمام سنجیدہ اور ذمہ دار حضرات کو جن کی بات تحریک لبیک کی قیادت سن سکتی ہے، چاہیے کہ وہ انھیں معاشرے میں ذمہ دارانہ مذہبی رویوں کے فروغ کے لیے آمادہ کریں اور عوام کے مذہبی جذبات میں اشتعال پیدا کرنے کے بجائے انھیں یہ سمجھانے میں اپنی قوت صرف کریں کہ اسلام اور پیغمبر اسلام کا ناموس جہاں کسی گستاخ کو کیفر کردار تک پہنچانے سے بلند ہوتا ہے، وہاں قانون کی پاسداری سے اس سے بھی زیادہ بلند ہوتا ہے۔ اسلام اور اہل اسلام کے لیے یہ بات کم باعث اعزاز نہیں ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کی توہین جیسے حساس ترین معاملے میں بھی قانون اور انصاف کے حدود کی پابندی کرتے ہیں۔ تحریک لبیک کی قیادت کو اس طرف بھی متوجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ توہین مذہب پر سزا کے قانون کا جواز اور معنویت اسی وقت تک ہے جب اس کی تنفیذ کے لیے عدالتی اختیار کو عملاً قبول کیا جائے، چاہے نظری طور پر کسی فیصلے سے اختلاف ہی کیا جائے۔ اگر قانون کے اطلاق اور تنفیذ کا اختیار بھی مذہبی راہ نماؤں کے پاس ہے تو ظاہر ہے، قانون سازی ایک فضول کام ہے۔ اس نوعیت کے مقدمات میں مسلسل یہ پوزیشن لے کر تحریک لبیک سمیت عام مذہبی قیادت نے معاشرے کو دراصل یہی پیغام دیا ہے۔ وقتی طور پر ممکن ہے، خوف اور دہشت کی فضا مذہبی مواقف کو چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک کارآمد وسیلہ بن رہی ہو، لیکن لمبے دورانیے میں یہ طرزعمل معاشرے میں مذہبی بیانیوں کے، اخلاقی جواز سے تہی دامن ہو جانے کے مرحلے کی طرف پیش رفت کا ذریعہ بنتا چلا جائے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...