پاکستان میں کورونا ویکسین سے ہچکچاہٹ

120

ملخص

مبینہ طور پر پولیو سے متاثرہ پاکستان میں کورونا وائرس ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ بڑھ رہی ہے۔ ابتدائی تحقیق بتاتی ہے کہ اس میں متعدد عوامل معاون ہیں جن میں خبررساں ذرائع بھی شامل ہیں، خاص طور پر اخبارات کے قارئین عام طور پر ویکسین کے متعارف کرائے جانے کی پیش رفت سے آگاہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ زیرنظر مضمون کا مؤقف یہ ہے کہ رائج صحافتی معمولات میں سے تین ایسے ہیں جو پاکستان میں اردو اخبارات کے قارئین میں کورونا ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ کو فروغ دے رہے ہیں۔ان میں سے پہلا ایک مخصوص طور پر خبریں جمع کرنے کا طریقہ ہے جس میں دنیا بھر سےکورونا ویکسین مہم کی اطلاع پر مشتمل خبروں کے اقتباسات کو ایک خبر میں مدغم کر دیا جاتا ہے، جو قارئین تک فوری آگاہی پہنچانے کے لیے تو مفید ہے لیکن اس صحافتی اصول سے روگردانی کرتا ہے جس میں خبر کا مکمل ہونا لازم ہے۔ دوسرا، خبروں کی تعینِ قدرکا معمول ہے جس میں یہ ممکن ہے کہ کورونا ویکسین سے متعلق کسی خاص واقعے یا تقریب کو کم اہم دکھایا جائے جس سے عوام میں ویکسین کی مہم پر کم اعتمادی پیدا ہو۔ تیسرا، خبروں کی پیشکش کا جدید انداز ہے جو توجہ کھینچنے والی سرخیوں کے ساتھ اخبار کو بصری طور پر دلکش بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہ کورونا ویکسین لگوانے سے منسلک منفی اثرات سے متعلق عمومی تاثرات کو تقویت بھی دے سکتا ہے۔

 تعارف

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے امیونائزیشن کے ماہرین کے سٹریٹجک ایڈوائزری گروپ (SAGE) نے ویکسین میں ہچکچاہٹ کی تعریف یوں کی ہے کہ یہ ویکسین لگوانے کی خدمات کی دستیابی کے باوجود اسے لگوانے کو قبول کرنے یا انکار کرنے میں تاخیر کا نام ہے جس کی شکل اور شدت اس بنیاد پر مختلف ہو سکتی ہے کہ یہ ہچکچاہٹ کب، کہاں اور کون سی ویکسین کے بارے میں دکھائی گئی ہے۔

کورونا وائرس کے وبائی مرض سے بری طرح متاثر ہونے کے باوجود، دنیا کے جنوبی حصے میں کورونا ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ بڑھ رہی ہے۔ اس میں پاکستان بھی شامل ہے جہاں عالمی سطح پر ویکسین متعارف کرائے جانے کے ابتدائی مہینوں میں ویکسین لگوانے کی خواہش کم ہوتی جا رہی تھی۔ مثال کے طور پر، گیلپ پاکستان کے دو سابقہ ​​مطالعات کے نتائج اس کی عکاسی کرتے ہیں۔ پہلا، جو نومبر 2020 میں کیا گیا، اس میں 37 فیصد ہچکچاہٹ کا مظاہرہ سامنے آیا، (جس میں 60 فیصد پاکستانی ہیں)، جب کہ دوسرا، جنوری 2021 میں کیا گیا، جس میں پتہ چلا کہ 49 فیصد لوگ (جس میں زیادہ تر پاکستانی تھے) کورونا ویکسین لگوانے پر تیار نہیں تھے۔

ابھی حال ہی میں، پاکستانی حکومت کی جانب سے ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ کو کم کرنے کی کوششوں کے باوجود، ویکسین لگوائے جانے کی شرح میں زیادہ بہتری نہیں آئی۔ مثال کے طور پر گیلپ کے مطابق 65 فیصد جواب دہندگان مارچ 2021 میں ویکسین لگوانے کے لیے تیار تھے، جب کہ 66 فیصد جولائی 2021 میں تیار تھے۔ غلط معلومات، سازشی نظریات، مضر اثرات کا خوف اور مذہبی عقائد ان رجحانات کے پیچھے موجود کچھ عام وجوہات ہیں، جن کی خبریں میڈیا اور تجرباتی تحقیقی مطالعات کے ذریعے سامنے آ رہی ہیں۔ اس عام تاثر کے برعکس کہ پاکستان میں کورونا ویکسین سے متعلق معلومات کاایک غالب ذریعہ سوشل میڈیا ہے، ایک حالیہ تحقیق میں زیادہ تر شرکاء نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ایسی معلومات پرنٹ میڈیا اور براہِ راست خبروں سے (52.3فیصد) سے حاصل کیں جس کے بعد سوشل میڈیا (23.7فیصد) آتا ہے۔

زیرِنظر مضمون کا یہ مؤقف ہے مرکزی دھارے کے اردو اخبارات عالمی سطح پر کورونا ویکسین پر پیش رفت سے متعلق آگاہی کو جس طرح رپورٹ کرتے ہیں، ویکسین میں ہچکچاہٹ کی حوصلہ افزائی کرنے والے متعدد عوامل میں سے ایک مقبول معلوماتی ذریعے کے طور پر ایک اہم وجہ یہ بھی ہے۔

خاص طور پر اس کا تعلق تین معروف صحافتی معمولات، یعنی خبروں کے ذرائع، خبروں کی تعینِ قدر اور خبر دینے کے انداز سے ہے جو خبر کی تشکیل کے مختلف مراحل پر رُوبہ عمل لائے جاتے ہیں۔ ان معمولات کو پہلے شومیکر اور ریز نامی محققین نے (1996 میں) معمول اور تواتر کے ساتھ کیے جانے والے طرزِعمل کے طور پر بیان کیا تھا جو میڈیا کے کارکنان اپنے کام کے دوران استعمال کرتے ہیں، بعدازاں ویٹلے نے (2020 میں) اس بات کا خاکہ پیش کیا کہ کس طرح صحافتی معمولات اعمال اور نظریات کے درمیان عملی توازن کو آسان بناتے ہیں کیونکہ وہ پیشے کی عملی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ حال ہی میں،ٹینڈک اور ڈفی نے(2019 میں) خبروں کی تشکیل کے مختلف مراحل پر رو بہ عمل لائے جانے والے خبروں کے معمولات کی پانچ جامع اقسام کا مناسب طور پر خلاصہ کیا ہے، یعنی:  (1) بیٹ سسٹم اور صحافیوں کے خبرکے حصول کے ذرائع، (2) خبروں کی قدر، (3) خبروں کی پیش کش کے انداز، (4) براہِ راست نشریات اور خبروں کی اشاعت کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال اور (5) سامعین کے تاثرات اور ردِعمل کی نگرانی۔ پاکستانی میڈیا کے قارئین و ناظرین کورونا وائرس سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے جو ذریعہ تواتر کے ساتھ استعمال کرتے ہیں وہ اخبارات کا ہے۔ اس لیے زیرِنظر تحقیق نے پہلے تین صحافتی معمولات ہی کو تجزیے کا حصہ بنایا کیونکہ یہ خاص طور پر اخباری صحافت سے تعلق رکھتے ہیں۔

زیرِنظر مضمون میں بنیادی طور پر اس امر کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہےکہ کس طرح یہ صحافتی معمولات پاکستان میں کورونا ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ کو فروغ دے رہے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے، ہم نے پاکستان میں اردو زبان کے چھے اخبارات میں شائع شدہ ایسی خبروں کا متنی تجزیہ کیا جس میں کورونا ویکسین سے متعلق مواد ہو۔ چونکہ اردو ملک کی قومی اور مجوزہ سرکاری زبان بھی ہے، اس لیے اردو زبان کے اخبارات کے قارئین ان کے مقامی انگریزی زبان کے قارئین سے کہیں زیادہ ہیں۔ اردو زبان کے روزنامے عام لوگوں میں مقبول ہیں جبکہ انگریزی اخبارات زیادہ تر پالیسی ساز پڑھتے ہیں۔ متعلقہ مواد،دسمبر 2020 اور اگست 2021 کے درمیان شائع ہونے والے منتخب اخبارات کے ای پیپر ورژن سے لیا گیا جس کا بعد میں انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔ متنی تجزیے کے ذریعے حاصل ہونے والے شواہد نے بہت سے سوالات کو جنم دیا، جن کی بنیاد پر ہم نے اخبار کے تین ایگزیکٹو ایڈیٹر کی سطح کے اور اردو پریس کے دو ہیلتھ رپورٹر کی سطح کے صحافیوں کے ساتھ ٹیلی فون پر انٹرویو کیے۔ انٹرویو کے بعد، تمام آڈیو ریکارڈنگ کو ٹرانسکرائب کیا گیا اور اس کو انگریزی میں ترجمہ کر کے آخر کار اس مضمون کا حصہ بنایا گیا تاکہ قارئین کو پاکستان میں کورونا ویکسین سے متعلق خبروں کے انتخاب اور تیاری کے معیار کو سمجھنے میں مدد ملے۔

خبر کا حصول

سب سے پہلے، رسائی اور مشاہدے کے مرحلے میں، خبر کے حصول کے طریقے ویکسین سے ہچکچاہٹ میں اضافے کا موجب ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کورونا وبائی امراض سے متعلق متعدد خبروں کو ایک ہی شذرے میں شائع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ متعدد خبروں کو بین الاقوامی میڈیا سے اٹھایا جاتا ہے اور بالآخر پاکستانی اردو روزناموں کے ذریعہ ایک ہی خبر میں یکجا کیا جاتا ہے۔ خبر کے حصول کے اس معمول کو جواز فراہم کرتے ہوئے، ایک انٹرویو دینے والے صاحب نے دلیل دی:

اردو زبان کے اخبارات اپنے قارئین کو وبائی امراض سے متعلق زیادہ سے زیادہ تازہ ترین عالمی خبروں سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی خبروں کے ذرائع سے ایسی خبریں جمع کرتے ہیں۔ تاہم، دستیاب جگہ کے محدود ہونے کی وجہ سے، ہر ایک کیس سے صرف اہم حقائق چنے جاتے ہیں اور انہیں ایک خبر میں شامل کر دیا جاتا ہے۔

محققین کے ایک بڑی تعداد نے رپورٹ کیا ہ                                          ے کہ سائنسی صحافت کے کمزور کلچر کی وجہ سے، زیادہ تر جنوب ایشیائی اور افریقی اخبارات اپنا صحافتی مواد مقامی طور پر تیار نہیں کرتے اور صرف شمالی عالمی ذرائع ابلاغ سے سائنس کی خبروں کا ترجمہ کرتے ہیں۔دیگر چند محققین مزید بتاتے ہیں کہ ایشیا اور افریقہ میں ہونے والے تحقیقی مطالعات سے سامنے آیا ہے کہ سائنس سے متعلق موضوعات کے لیے خبروں میں نسبتاً کم جگہ مختص کی جاتی ہے اور اکثر اوقات انھیں وقت یا جگہ پُر کرنے کی خبر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ شاذ و نادر ہی اہم خبروں کے طور پر جگہ بنا پاتے ہیں اور کبھی کبھی تو انھیں آخری وقت میں موصول ہونے والے منافع بخش اشتہارات کو جگہ دینے کے لیے خبروں سے نکال دیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں حیرت کی بات نہیں اگر سائنس کے لیے مختص ٹیمیں اور نیوز سیکشن رکھنا ‘تعیّش’ کے زمرے میں آئیں۔ پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور وسطی امریکہ میں میڈیا کے سائنس سیکشن اور سائنس شو مسلسل جاری کیے جاتے اور بند ہوتے رہتے ہیں جس کی وجہ پیشہ ورانہ ارادے اور مالی وسائل کی کمی ہے۔

پاکستان میں ویکسین کے موجودہ قومی پروگرام پر مقامی مواد مثال کے طور پر مختلف ویکسین کی حفاظت، افادیت اور مضر اثرات کے بارے میں یا پاکستان اور بیرون ملک اس کے مضر اثرات کے واقعات پر ویکسین کے مقامی ماہرین کی بصیرت سے استفادہ کر کے تحقیقاتی خبریں تیار کرن کے بجائے اردو زبان کے اخبارات غیر ملکی ذرائع سے اس نوع کا مواد جمع کر کے اس کا ترجمہ کرتے اور خبر دیتے ہیں۔ ایک ہی خبر میں قارئین کو عالمی سطح کی آگاہی پر متعدد معلومات فراہم کرنے کا یہ رجحان ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ کو فروغ دینے کے لحاظ سے خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب ان کا ترجمہ کوئی ایسا شخص کرے جو سائنسی زبان اور کورونا ویکسین کے جارگن سے واقفیت نہیں رکھتا۔ غیر ملکی نیوز میڈیا میں رپورٹ ہونے والی اصل مفصل خبروں کے برعکس، اس طرح کی مقامی طور پر مرتب کی گئی رپورٹس میں عام طور پر ہر ایک کیس کے مکمل سیاق و سباق کی کمی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک تفصیلی خبر سے ایک ناقص ترجمہ شدہ اقتباس  دیکھیے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ “موڈرنا کورونا وائرس ویکسین میں دل کی بیماری، جسے مایوکارڈائٹس کہا جاتا ہے، پیدا کرنے کا خطرہ Pfizer ویکسین کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔” یہ بیان اس خاص ویکسین پر عوام کے اعتماد کو ختم کر سکتا ہے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ امریکہ نے حال ہی میں پاکستان کو 5.5 ملین موڈرنا ویکسین عطیہ کی ہیں۔ اسی طرح، دو یک سطری خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ “کیلیفورنیا میں ایک آدمی کورونا ویکسین لگوانے کے چند گھنٹوں بعد مر گیا” اور “AstraZeneca ویکسین لگوانے کے بعد جارجیا میں ایک خاتون نرس کی موت ہو گئی”، مزید تفصیلات اور سیاق و سباق سے مبرا، اس خبر نے قاری کو یہ تاثر دیا ہوگا کہ کورونا ویکسین خطرناک اور مہلک ہیں۔

یہ مؤخرالذکر مثال خاص طور پر زیربحث معاملے سے متعلق ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں کورونا ویکسین COVAX پروگرام کے تحت موصول ہونے والی AstraZeneca ویکسین پر بہت زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ اسی طرح، ایک اصل خبر کی رپورٹ جس میں کہا گیا ہے کہ “وسکونسن میں ہسپتال کے عملے کے ایک رکن نے جان بوجھ کر کورونا ویکسین کی 500 خوراکیں خراب کر دیں’، اصل واقعے کے پس منظر کی معلومات کے بغیر، ویکسین کی حفاظت کے بارے میں قارئین میں عمومی تشویش پیدا کرنے کا باعث ہو سکتی ہے۔

مزید برآں، اگرچہ ویکسین سے متعلق خبروں کے اس مجموعے کو اکثر معروضی سمجھا جاتا ہے، لیکن اس بارے میں بہت سے سوالات ہیں کہ اس طرح کی خبریں کیسے بنائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک ایسی خبر جس میں ویکسین کے منفی اثرات کے معاملات غالب ہوں، ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ کو بڑھاوا دے سکتی ہے۔ اسے ایک ایسی خبر سے، جس میں ویکسین شدہ کورونا مریضوں میں اموات کی شرح میں کمی کو ظاہر کیا گیا ہو، متوازن کیا جا سکتا ہے۔ آخری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ مقامی اردو اخبارات بین الاقوامی میڈیا سے ایسی خبریں اٹھاتے ہیں لیکن ویکسینیشن کے منفی کیسز کی صحیح تفہیم کے لیے حقائق کی جانچ نہیں کرتے جیسی بین الاقوامی میڈیا کرتا ہے۔ اس عدم توجہی کی دو ممکنہ وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ایڈیٹرز کے لیے طویل خبروں کے حقائق کی جانچ کرنا ناخوشگوار عمل ہے جس کی وجہ انہوں نے محدود جگہ کے طور پر بیان کی ہے۔ دوسری وجہ اس حقیقت سے لاعلمی کہ سائنس پر مبنی خبروں پر جعلی خبروں یا غلط معلومات کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے حقائق کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ کسی بھی طرح کے حقائق کی جانچ پڑتال یا ہر کیس کے مکمل سیاق و سباق کی عدم موجودگی میں خبروں کا ایک ہجوم شائع کرنا ’تکمیلیت‘ (completeness)  کے صحافتی اصول پر پورا نہیں اترتا۔ درحقیقت، مغربی صحافیوں کے برعکس، دنیا کے جنوبی ممالک میں رپورٹر شاید یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ سائنس سے متعلقہ واقعات کی جامع رپورٹنگ کیسے کی جاتی ہے۔ شاناہن کے الفاظ میں:

ترقی پذیر دنیا میں رپورٹرز کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، مغرب میں ان کے بہت سے ہم منصبوں کو درپیش ہوں تو وہ خبر کی حصول کی کوشش تک نہ کریں۔ وہ اکثر سائنس اور صحافت دونوں میں غیر تربیت یافتہ ہوتے ہیں، ان کے پاس معاونت اور وسائل کی کمی ہوتی ہے، اور ان کے سائنس دانوں اور حکام کے ساتھ ناخوشگوار تعلقات ہوتے ہیں جن پر وہ خبروں اور تبصروں کے لیے انحصار کرتے ہیں۔

اس خیال کی گواہی ایک مقامی صحافی کے اس بیان سے بھی ملتی ہےجو کورونا ویکسین سے متعلق خبروں کی رپورٹنگ کرتے ہیں، انھوں نے  کہا:

اپنے قارئین کی اکثریت کو خوش کرنے کے لیے، جن کا تعلق زیادہ تر عام لوگوں سے ہے، مرکزی دھارے کے اردو میڈیا گروپ قومی اور بین الاقوامی دونوں ذرائع سے کورونا ویکسین کے بارے میں سنسنی خیز اور منفی خبریں جمع کرنے کے زیادہ شائق ہیں۔ مزید برآں، صحافیوں کی سائنسی زبان کی ناقص سمجھ، ویکسین سے متعلق تحقیقاتی کہانیوں میں ایڈیٹرز کی عدم دلچسپی (کیونکہ اس میں ادارے کے وسائل خرچ ہوتے ہیں) اور مختلف ویکسین سے متعلق واقعات کے بارے میں سرکاری ذرائع سے ناقص معلومات کی فراہمی ایسی وجوہات ہیں جن کے باعث ویکسین سے متعلق مقامی طور پر خبریہ مواد کی تخلیق مشکل ہے۔

شاذونادر جو مواد مقامی طور پر دستیاب ہوتا ہے، وہ زیادہ تر سرکاری ذرائع سے، عام طور پر پاکستان نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (NCOC) کے حکام کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز اور ٹویٹس کی شکل میں آتا ہے۔ اس طرح کی پریس ریلیز صرف یہ بتاتی ہیں کہ ایک دن کے دوران کتنے لوگوں کو ویکسین لگائی گئی ہے یا غیر ملکی ذرائع سے ملک میں ویکسین کی کتنی خوراکیں پہنچائی گئی ہیں۔ خان اور عزیز کے مطابق، کم خرچ ہونے کے باعث ‘پریس ریلیز اب بھی اردو اخبارات میں اپنی جگہ بنا لیتی ہیں جہاں ایڈیٹرز عموماً انہیں تحقیقاتی رپورٹنگ پر ترجیح دیتے ہیں’۔ اس پریس ریلیز پر مبنی انفارمیشن کلچر میں ایسے تخلیقی مواد کے لیے جگہ بہت کم رہ جاتی ہے جو ملک میں ویکسین کی قبولیت کی شرح کو بڑھا سکتا ہے۔

مزید برآں، مقامی اردو اخبارات سوشل میڈیا پر ویکسین مخالف مواد پر ردِعمل دینے پر مناسب توجہ نہیں دیتے، حالانکہ یہ صحافیوں اور صارفین دونوں کے لیے خبر کا ایک مضبوط ذریعہ ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’مغربی ممالک انسانی جسم میں ویکسین کے ٹیکے کے ذریعے سرویلنس مائیکرو چِپ ڈالنا چاہتے ہیں‘ جیسا ویکسین مخالف پروپیگنڈہ بہت تیزی سے جاری ہے۔ ایسی غلط معلومات کا مقابلہ اخبارات جیسے نسبتاً زیادہ معتبر ذرائع ابلاغ سے کرنے کی ضرورت ہے۔

 خبروں کی قدر

انتخاب کے مرحلے کے دوران خبر کی قدر کا کردار کلیدی ہو سکتا ہے۔ Galtung اور Ruge نے خبروں کی قدروں کا تعین کرنے والے 12 عوامل پیش کیے، جن میں خبر کا غیرمتوقع ہونا، اشرافیہ ممالک یا افراد کا حوالہ، منفیت، تاثر، حالیہ ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی نشاندہی انہوں نے اس سوال کا جواب لینے میں کی کہ “واقعات خبر کیسے بنتے ہیں؟”۔ ان عوامل کو آج بھی خبروں کے انتخاب کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ عوامل کسی واقعہ کی خبر کی اہمیت کا تعین کرنے کے لیے اہم ہوتے ہیں، لیکن خاص طور پر ویکسین کی مہم جیسے انتہائی حساس معاملے کی اطلاع دینے کے معاملے میں احتیاط کے ساتھ ان پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ویکسین سے متعلق واقعہ کی خبر کی قدر کو جانچنے کا معیار بالآخر عام لوگوں میں ویکسین سے ہچکچاہٹ کا سبب بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک اشرافیہ طبقے سے متعلق ہونے کے ناطے، ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کا امریکہ یا برطانیہ کی بنی ہوئی کورونا ویکسین پر عدم اعتماد کافی اہم خبر لگتا ہے۔ تاہم، اس طرح کا نمایاں طور پر شائع ہونے والا بیان بڑے پیمانے پر، خاص طور پر پاکستان میں ان کے لاکھوں شیعہ مسلم پیروکاروں میں،ویکسین سے انکار کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح، اگر ویکسینیشن کے غیر متوقع یا منفی نتائج کے معاملات ،خبروں کی قدر یا اہمیت کے اعتبار سے ،اشاعت کے لائق ہیں، تو ایسی رپورٹیں قارئین کے درمیان کورونا ویکسین کے بارے میں عدم اعتماد میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں، جو شاید اسی طرح کے ناپسندیدہ اثرات کا سامنا کرنے سے بچنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح، کسی ویکسین کے منفی اثرات کی خبریں، جنہیں اس لیے قابل خبر سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ اشرافیہ ممالک میں ہو رہی ہیں، جنوب کے ممالک کے قارئین میں کورونا ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ پیدا کر سکتی ہیں، جو یہ سوچ سکتے ہیں کہ اگر اس طرح کے اثرات پر تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں قابو نہیں پایا جا سکا تو جنوبی ممالک میں کوئی ملک ان کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیسے کر سکتا ہے؟

نیز، ایک خبر جس میں یہ معلومات موجود ہوں کہ ’بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم کے باوجود، ہزاروں افراد ہلاک ہوئے‘، تاثر کے اعتبار سے خبر کو اہم بنا سکتا ہے لیکن عوام میں خوف و ہراس اور ویکسین کے بارے میں عدم اعتماد کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اسی طرح، حالیہ مہینوں میں، مختلف ممالک سے Astra Zenecaویکسین کے منفی اثرات کے کچھ واقعات رپورٹ ہوئے، جس نے بالآخر اس ویکسین کی افادیت کے بارے میں عالمی سطح پر عوام میں تشویش پیدا کی۔ خبر کے حالیہ ہونے کے معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس عوامی تشویش کو پاکستانی اخبارات نے انتہائی قابلِ خبر قرار دیا، جنہوں نے اس مسئلے پر بہت سی خبریں نمایاں طور پر شائع کیں۔ تاہم، اس طرح کی زیادہ تر کہانیاں Astra Zeneca کے منفی اثرات اور مختلف ممالک میں اس پر عائد پابندی کو ظاہر کرنے تک محدود تھیں۔ Astra Zeneca ویکسین سے وابستہ سوالات پاکستان میں عوامی گفتگو کا حصہ ہیں اس لیے ایسی خبریں جو صرف منفی اثرات کی عکاسی کرتی ہیں اور اس کی کامیابی کی شرح کو ظاہر نہیں کرتیں، قارئین کے ویکسین سے انکار کرنے کے امکان کو بڑھا سکتی ہیں۔ اسی طرح پاکستانی شوبز سٹار کے فالوورز کو ان کی صحت کے بارے میں خبروں سے، ان کی ‘قربت’ کی وجہ سے آگاہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ پاکستانی اخبارات کے ذریعہ مشہور پاکستانی اداکارہ اشنا شاہ کے ویکسین کی دو خوراکیں لینے کے بعد بھی کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی خبر جس طرح سے دی گئی، اس سے ان کے مداحوں اور عام لوگوں دونوں میں ویکسین سے متعلق بے حسی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس، ویکسین سے متعلق خبروں اور ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ پر ان کے ممکنہ اثرات کے بارے میں خدشات کے باوجود، مختلف پاکستانی اردو زبان کے روزناموں کے مدیران مختلف سوچتے ہیں:

قارئین دنیا بھر سے ویکسین کی مختلف خبروں سے باخبر رہنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا، کسی بھی متعلقہ واقعے کو ہم خبر کی قدر  اور اہمیت کے مطابق قابلِ خبر قرار دیتے ہیں، ہم انہیں قارئین کی نمایاں ہوتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے شائع کرتے ہیں۔ ایک وبائی بیماری کے دوران، نیوز میڈیا پر انحصار ڈرامائی طور پر بڑھ گیا ہے کیونکہ لوگوں کو اپنی پریشانی کی سطح کو کم کرنے اور اپنے ماحول کا احساس دلانے کے لیے مزید معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔ قارئین توقع کرتے ہیں کہ میڈیا انہیں وبائی امراض سے وابستہ مختلف خطرات کے بارے میں آگاہ  اور خبردار کرے گا۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنا فرض ادا نہیں کر رہے۔

 خبروں کا انداز

خبروں کے انداز کے مرحلے میں کورونا ویکسین سے متعلق خبروں کی حیران کن سرخیاں ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں۔ اس سلسلے میں، پاریکھ اور عطرے کا خیال ہے کہ بہت کم قارئین سرخی سے آگے گزر کر مرکزی خبر تک آتے ہیں۔ یہ رجحان خاص طور پر کورونا وبائی امراض کے دوران خطرناک ہے، کیونکہ جو لوگ صرف سرخیاں پڑھتے ہیں وہ کورونا ویکسینیشن سے وابستہ منفی اثرات کے عمومی تاثر کا شکار ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک شہ سرخی جس میں لکھا ہے کہ ‘اپنے خطرے پر ویکسین لگائیں’ کیونکہ اس کی وجہ سے کچھ ممالک میں اموات ہوئیں’، اس خبر کے مقابلے میں ایک ذمہ دار سرکاری اہلکار کی پریس کانفرنس کی خبر جو تمام سرکردہ اخبارات کے صفحہ اول پر شائع ہوئی ہو، اردو اخبارات کے قارئین میں کورونا ویکسین کے بارے میں عدم اعتماد پیدا کر سکتی ہے۔ اس طرح کی سرخیوں کا اثر اہم ہو سکتا ہے، لوگوں نے کورونا ویکسین سے متعلق معلومات پر زیادہ اعتماد کا اظہار کیا ہے اگر یہ سرکاری ذرائع سے آتی ہیں۔ اسی طرح کے معاملے میں، صفحہ اول کی ایک سرخی، جو ایک بااثر مذہبی رہنما کی تقریر پر مبنی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ‘ویکسین شدہ ہونے کے باوجود کورونا میں مبتلا ہونے کا مطلب ہے کہ یا تو کورونا وائرس کی بیماری فریب ہے یا اس کی ویکسین فریب ہے’۔ یہ خبر معاشرے کے قدامت پسند طبقے میں ویکسین مخالف جذبات ابھار سکتی ہے۔ اسی طرح اگر سرخی یہ ہو کہ ‘زیادہ تر پاکستانیوں نے کورونا ویکسین نہ لگوانے کا فیصلہ کیا’ تو اس سےایسے قارئین ویکسین لگوانے سے انکار کر سکتے ہیں جو اکثریت کے فیصلے کو درست سمجھتے ہوں۔

نیز، دو شہ سرخیوں میں بتایا گیا ہے کہ ‘امریکی کانگریس کے رکن ویکسین لگوانے کے باوجود کورونا کا شکار ہو گئے ‘ اور ‘برطانیہ کے وزیر صحت کا مکمل طور پر ویکسین شدہ ہونے کے باوجود کورونا کا ٹیسٹ مثبت آیا’۔ ان خبروں نے ممکن ہے کہ قارئین  میں ویکسین کی قبولیت کی شرح کو کم کیا ہو، جس کی وجہ ویکسین کی افادیت میں اس بنا پر شک ہے کہ یہ مراعات یافتہ طبقے میں بظاہر مؤثر نہیں ہے۔

یہ معاملہ یہاں تک ہے کہ  اگر کبھی کبھار ویکسین سے متعلق مقامی خبریں آتی ہیں، تو بھی ان سے اردو اخبارات وہی سلوک کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ‘گکھڑ منڈی میں کورونا ویکسین لگوانے کے بعد ایک 60 سالہ شخص کی موت’ کی سرخی کے ساتھ نمایاں طور پر دی گئی۔ خبر نے ‘قربت’ کے عنصر کی وجہ سے مقامی لوگوں میں ویکسین کے منفی اثرات کے بارے میں مزید خوف و ہراس پیدا کیا ہو گا۔ اپنے انٹرویو کو ختم کرتے ہوئے، ایک صحافی نے مزید کہا:

میڈیا، ویکسین کی ہچکچاہٹ اور اس کے منفی اثرات کی خبروں کو زیادہ نمایاں کرتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کورونا ویکسین سے متعلق خبروں کو رپورٹ کرنے والے صحافیوں کی تربیت کا فقدان ہے، اس لیے یہ کمی ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنے والا عنصر بن گئی ہے۔

ماحصل

اس مضمون کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کورونا ویکسین سے متعلق واقعات کی رپورٹنگ کے حوالے سے بعض خبروں کے صحافتی معمولات کا عمل پاکستان میں ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ کو فروغ دے رہا ہے۔ سب سے پہلے، غیر ملکی خبروں کے ذرائع سے کورونا ویکسین سے متعلق معلومات کے اقتباسات اٹھاتے ہوئے، زیادہ سیاق و سباق کے ساتھ اصل تفصیلی خبر کے برعکس، اردو اخبار کے ماہرین ایسی رپورٹیں مرتب کرتے ہیں جن میں عام طور پر ہر کیس کے مکمل سیاق و سباق کی کمی ہوتی ہے۔ دوم، مقامی صحافتی عملے کی طرف سے ویکسین سے متعلق واقعات کی خبر کی قدر کو جانچنے کا معیار عام لوگوں میں ویکسین پر اعتماد کو کم کرنے کی وجہ ہو سکتا ہے۔ آخر میں، کورونا ویکسین سے متعلق منفی اثرات کے بارے میں حیرت انگیز سرخیوں کے ساتھ ایک خبر کا انداز قارئین میں کورونا ویکسین پر عدم اعتماد پیدا کر سکتا ہے، جو متعلقہ منفی اثرات سے عمومی تاثر لے سکتے ہیں۔

یہ مضمون جنوب کی دنیا کے نقطہ نظر سے صحافتی معمولات کے عملی مضمرات پر دعوتِ فکر دیتا ہے۔ علمی تحقیق کے لحاظ سے، سماجی سائنسدانوں کو جنوب کی دنیا میں ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ کو فروغ دینے میں میڈیا کے کردار پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مستقبل کے مطالعے کو یہ جانچنے کے لیے تجرباتی ڈیزائن کا اطلاق کرنا چاہیے کہ مختلف خبروں کے معمولات کس طرح لوگوں کے ویکسین لگوانے کے ارادے کو متاثر کر سکتے ہیں۔  کم از کم، جنوب کی دنیا کے دوسرے ممالک میں اسی طرح کے مطالعے سے کورونا ویکسین کی مہم اور پیش رفت کی رپورٹنگ پر صحافتی معمولات کے اثرات کے بارے میں مزید آگاہی سامنے آئے گی۔

(تفصیلی حوالہ جات کے لیے اصل مضمون ملاحظہ ہو:

https://www.tandfonline.com/doi/full/10.1080/01436597.2021.1995713)

(ترجمہ: عابد سیال)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...