مہا بیانیہ اور اعصاب کا امتحان

531

اقتدار سے ہونے والی جبری بے دخلی عمران خان کے لیے تکلیف کا باعث بنی ہوئی ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کو پائیدار رکھ سکنے میں ناکامی کے بعد وہ مذہبی اور امریکا مخالف نعروں کے زور پہ عوام میں واپس آئے ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے جس طرح اپنی حکومت کے خلاف امریکی سازش کا بیانیہ کھڑا کیا ہے اس سے ان کی خودپسندی اور چالاکی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ وہ عوامیت پسند (پاپولسٹ) سیاست کو بھی ایک الگ سطح پر لے گئے ہیں، زمینی حقائق اور امکانات کی دنیا سے بالکل دور۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے اس دعوے کی تردید کیے جانے کے باوجود عمران خان اس بیانیے پر قائم رہیں گے، کیونکہ ان کے پاس لوگوں کو دکھانے کے لیے کچھ اور نہیں ہے۔ اس پُرکشش بیانیے کو ان کے حمایتی حلقے میں قبول عام حاصل ہوا ہے، جو نسبتاً نوجوان، شہری تنخواہ دار طبقے کے بڑے حصے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر مشتمل ہے۔ یہ تمام طبقات ایسے ہیں جو ریاستی پلڑے کی طرف جھکاؤ کے سبب اس نوع کے بیانیوں کو بہ آسانی اور بہ خوشی جذب کرلیتے ہیں۔ پاپولسٹ سیاست سادہ لوح نعروں کے ساتھ پروان چڑھتی ہے اور پاپولسٹ رہنما یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ پہلے لوگوں کو ایک ریوڑ میں تبدیل کرنا ہے اور پھر ان کو اپنی مرضی سے ہانکتے چلے جاناہے۔

پاکستان میں طاقت کا ڈھانچہ کچھ مخصوص بیانیوں کے اوپر استوار کیا گیا ہے، مقتدر اشرافیہ ان بیانیوں پر ملنے والے ردعمل کی نوعیت کو دیکھ کر اپنے ہم خیال لوگوں کی پہچان کرتی اور انہیں اپنا قرب عطا کرتی ہے۔ عمران خان اس مہا بیانیے کے ساتھ کھیل رہے ہیں جو اصل میں مقتدر اشرافیہ کی رضا و آشیرباد سے پھلا پھولا ہے، لیکن وہ اس بیانیے کو اب اُس نہج پہ لیے جا رہے ہیں کہ مقتدرہ کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ وہ اس پہ اپنی گرفت کھو سکتی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس مہا بیانیہ کے خدوخال متوسط طبقے نے بیوروکریسی اور سکیورٹی اداروں کے تعاون کے ساتھ تشکیل دیے ہیں، جن کا سیاسی نقطہ نظر ایک جیسا ہے۔ ڈاکٹر محمد وسیم نے اپنی کتاب Political Conflict in Pakistan میں وضاحت کی ہے کہ پاکستان کے اندر مہا بیانیہ بہرحال مڈل کلاس کا بیانیہ ہے، جس کی بنیاد اسلامی آئیڈیالوجی، ہمہ گیر پاکستانیت، بھارتی جارحیت کے تصور اور دنیا کو اسلامی تناظر سے دیکھنے، جیسے عناصر پر قائم ہے۔

پاپولسٹ سیاست سادہ لوح نعروں کے ساتھ پروان چڑھتی ہے اور پاپولسٹ رہنما یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ پہلے لوگوں کو ایک ریوڑ میں تبدیل کرنا ہے اور پھر ان کو اپنی مرضی سے ہانکتے چلے جاناہے

عمران خان کا پورا سیاسی نقطہ نظر اسی وژن کے گرد گھومتا ہے (حتی کہ ان کے مقبول اقدامات کا محور بھی ریاستی اداروں کی اسلامائزیشن کرنا تھا) جو متوسط طبقے کے ثنائیت پر مبنی اس نظریاتی عقدے پر استوار ہے کہ: مذہب بمقابلہ دوسرے (Other)۔ دنیا کو دیکھنے کے اس منہج کے مطابق اگر کوئی حکمران اسلامائزیشن کے عمل کی جانب قدم اٹھاتا ہے، تو یقینی طور پہ دوسری طرف کے حلقے یا غیر،ضرور اس میں مداخلت کریں گے اور روڑے اٹکانے کی کوشش کریں گے۔ اس کہانی کے حساب سے عمران خان کی بیان بازی مقتدر اشرافیہ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچائے گی۔ مقتدرہ اس مقام پہ آکر مجبور ہوئی ہے کہ وہ اب روایتی سیاسی طبقے کی طرف رجوع کرے جو فوری طور پہ معاشی اور سفارتی چیلنجز کو حل کرنے میں، اور اس کے ساتھ بلوچستان کی شورش اور خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں محسوس کی جانے والی سیاسی ناراضی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے مدد کرسکتا ہے۔ عمران خان کے بیانیے کے مطابق مقتدرہ کا روایتی سیاسی طبقے کی جانب یہ جھکاؤ اسے بھی مقابل گروہ اور غیر کا حصہ بناتا ہے۔

ڈاکٹر وسیم کے مطابق ’’سیاسی اسلامائزیشن کے معاملے میں پاکستان کا سیاسی طبقہ کم نظریاتی ہے، وہ شناخت، ثقافت، زبان اور معاشی مساوات پر مبنی تقاضوں کے لیے زیادہ میلان اور جوابدہی محسوس کرتا ہے۔‘‘ سیاسی حلقے کا تعلق بنیادی طور پہ چھوٹے صوبوں سے ہے۔ لیکن حال ہی میں پنجاب کے اندر بھی ایک سیاسی طبقہ اُبھرا ہے جو عوامی مفادات کی بات کرتا ہے اور اس کا بڑا انتخابی حلقہ ہے۔ پنجابی سیاسی طبقے کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ ’مہا بیانیے‘ کے مقابل نہیں کھڑا ہوسکتا، وہ نظریاتی تشخص اور عوامی مفادات میں سے کسی ایک کو چننے کی بجائے ان دونوں کے مابین موافقت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

سماجی متوسط طبقے اور سیاسی حلقے نے پاکستان میں طاقت کے دو مراکز کی پرورش کی ہے۔ جیساکہ ڈاکٹر وسیم کا مشاہدہ ہے، طاقت کے یہ مراکز ریاست کے سول اور عسکری اداروں کے مابین موجود کشمکش کی وضاحت کرتے ہیں۔ عمران خان کا پاپولسٹ بیانیہ اقتدار میں اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کو زک پہنچائے گا، کیونکہ اس کی وجہ سے اقتدار کی تقسیم کے حوالے سے سیاسی طبقے کی سودے بازی اور جوڑ توڑ کی طاقت میں اضافہ ہوگا۔ دوسری طرف عمران خان کو مقتدرہ کے غیرسیاسی عناصر میں بھی پذیرائی ملی ہے جو اسٹیبلٹمنٹ کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

اگر اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے تو اسے عمران خان کو خود ’مہا بیانیے‘ کی عملداری سے نکال باہر کرنا ہوگا۔ سیاسی حلقہ اس بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک حد سے آگے نہیں جاسکتا، بالخصوص جب عمران خان اپنے نعروں میں اسلامائزیشن کا تڑکہ لگاتے ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ روایتی سیاسی طبقے کے حمایتی عوام میں بھی مذہبیت کا عنصر بخوبی راسخ ہے۔

یہ چیز بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ پاکستانی سیاسی طبقے کو جو معاونت و طاقت ملتی ہے اور جو اس کی support base ہے وہ بنیادی طور پہ زرعی، صنعتی پیداوار اور تجارت کے شعبوں ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ان شعبوں میں بھی فرقہ وارانہ عناصر کا اثرورسوخ پایا جاتا ہے، جیساکہ تحریک لبیک وغیرہ، جو سخت گیر مذہبیت کی ترویج کرتے ہیں۔ تاہم یہ تنظیمیں اب ’مہابیانیے‘ کی نگہبان نہیں ہیں، کیونکہ ماضی میں کالعدم بنیادپرست گرہوں کے حدود سے تجاوز کرنے کے سبب ریاست کے لیے بہت زیادہ امن وامان کے مسائل پیدا ہوگئے تھے۔ اگرچہ مذہبیت سیاسی طبقے کے معاون حلقوں کو متأثر کرتی ہے لیکن یہ اس سطح پر نہیں ہے کہ وہ بالکل ہی غیرمتعلق ہوجائیں۔ سیاسی طبقے کی اہمیت اس لیے برقرار رہتی ہے کہ وہ عوامی مفادات کا وژن رکھتا ہے جوکہ ان کے معاشی مفادات کا بھی احاطہ کرتا ہے۔

سیاسی طبقے کے معاون حلقے (support base) نے جیسے تیسے اپنے مذہبی اور سیاسی نظریات کے درمیان ثنائیت کی لکیر کھینچ دی ہے۔ عمران خان کا پاپولسٹ ایجنڈا اس لکیر کو ختم کرنے کی کوشش کرسکتا ہے لیکن  پھریہ اقدام انہیں نظریاتی طور پہ تحریک لبیک کے قریب لے آئے گا۔ یہ یقینی نہیں ہے کہ یہ دونوں انتخابات میں اتحاد بنائیں گے یا نہیں، البتہ یہ واضح ہے کہ اگلے انتخابات کے دوران ان کا ہدف ایک ہی ہوگا۔ تاہم اس بات کے امکانات روشن ہیں کہ یہ ثنائیت برقرار رہے گی کیونکہ معیشت ابتری کا شکار ہے اور عمران خان تقریباً چار سالہ حکمرانی کے دوران معیاری گورننس اور اقتصادی نمو یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ پیداواری طبقے کو بھی اپنے کاروبار سرحدپار پھیلانے کی ضرورت ہے: اگرچہ وسطی پنجاب کے اندر بعض چھوٹی صنعتوں میں پیداواری صلاحیت میں کمی بے روزگاری کا باعث نہیں بن رہی، یہ صنعتیں فی یونٹ پیداوار کو کم کر رہی ہیں کیونکہ مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے مارکیٹ بہت چھوٹی ہے۔

اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے لیے سب سے بڑی پریشانی معیشت، سفارتی تعلقات اور افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقوں میں بدامنی جیسے مسائل ہیں۔ عوام بھی اقتصادی صورتحال بارے پریشان ہیں۔ نیا ابھرتا ہوا سیاسی منظرنامہ ملک کے مہا بیانیے کا امتحان لے گا، اور ساتھ ہی اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے اعصاب کو بھی آزمائے گا۔

بشکریہ روزنامہ ڈان، مترجم: شفیق منصور

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...