قوم اور قومیت کے تصورات اور سرسید احمد خان

206

ہندوستان کے نوآبادیاتی دور میں ہمارے اکابرین نے سماجی اور سیاسی حوالے سے جو مؤقف اختیار کیے ان کے درست و موزوں ہونے کے بارے میں آراء وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہی ہیں اور آنے والا ہر زمانہ نئے حالات میں نئی تعبیر پیش کرتا ہے۔ سرسید احمد خان کو دو قومی نظریے کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے ان کے ہاں لفظ ’قوم‘ کے تصور کی ارتقائی صورتوں کا مطالعہ ایک دلچسپ اور انکشافی پہلو رکھتا ہے۔ ڈاکٹر سید جعفر احمد نے اسی زاویے سے سرسید کے بیانات کی روشنی میں ان کے ہاں اس لفظ کی تعبیرات کے ارتقا کا مطالعہ کیا ہے جو فکرانگیز بھی ہے اور معلومات افزا بھی۔(مدیر)

تاریخ کے ارتقائی عمل میں قرار کسی شے کو نہیں، ہر چیز تغیر اور تبدیلی کے پیہم عمل سے گزر رہی ہوتی ہے۔ الفاظ اور زبانیں بھی، الفاظ کے معنی بھی۔ قوم کا لفظ بھی ایسا ہی ایک لفظ ہے۔ یہ لفظ اتنے متفرق مفاہیم کا حامل رہا ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ انسان کو اس لفظ میں کتنی کشادگی نظر آئی کہ مختلف مواقع پر مختلف گروہوں اور جمعیتوں کی تعریف متعین کرتے وقت اسی لفظ کو اظہارِ مدعا کے لیے موزوں سمجھا گیا۔ جب تک قوم کا لفظ محض ایک سماجی گروہ کے لیے استعمال ہوتا رہا، تب بھی اس سے مختلف قسم کی جمعیتیں مراد لی جاتی رہیں __اساطیر میں، مذہبی متون میں، پرانے قصوں کہانیوں میں، تخلیقی ادب میں اور عام روزمرہ میں،قوم کا لفظ بے دریغ استعمال ہوتا رہا لیکن سماجی گروہوں اور جمعیتوں سے بڑھ کر جب یہ سیاسی جمعیتوں کے لیے استعمال ہونا شروع ہوا تو پھر تو اس کی تعبیرات اور تشریحات کے باب در باب کھلتے چلے گئے۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں قومی ریاستوں کے وجود میں آنے کے ساتھ یہ لفظ سیاسی دنیا کی معروف ترین اصطلاحوں میں سے ایک قرار پایا۔ قومی ریاستیں، کس طرح قومی قرار پائیں، ان ریاستوں کی تعمیر کن قومی گروہوں نے کی، یہ ریاستیں خود کس قسم کی ملک گیر قومی ریاستیں بنیں، قومی ریاستوں کے کردار کن کن شکلوں میں ظہور پذیر ہوئے __یعنی لبرل، سوشلسٹ، فاشسٹ، مرکزیت پسند، مرکزیت گریز، وفاقی، وحدانی، کنفیڈرل، شخصی حکومتی، نسل پرست، فوجی، پریٹورین__ قوم اور قومیت کا لفظ وسیع و عریض دنیا کے معانی میں سرگرداں رہا۔ بیسویں صدی میں قوموں کے حق خود ارادی کا نظریہ مقبول ہوا اور پھر قومی حق خود ارادی کے اصول کو اُس وقت ایک بین الاقوامی قبولیت حاصل ہوئی جب عالمی سطح کے اداروں، لیگ آف نیشنز اور اقوام متحدہ نے اس اصول کو اپنے اساسی تصور کے طور پر اختیار کیا۔اٹھارویں صدی سے بیسویں صدی کے اواخر تک بہت سی پرانی مملکتیں قومی ریاست بنیں، کئی پرانی سلطنتوں کے ٹوٹنے سے بہت سی نئی قومی ریاستیں وجود میں آئیں۔

بیسویں صدی میں سلطنت عثمانیہ اور برطانوی سلطنت کے خاتمے نے بیسیوں نئے ملکوں کو نقشۂ عالم پر جگہ دی۔ یہ سب ملک قومی ریاست ہونے کے مدعی تھے۔ بیسویں صدی کے اختتامی عشروں میں سوویت یونین اور یوگوسلاویہ کی تحلیل نے کوئی بیس مزید قومی ریاستوں کو جنم دے دیا۔سو، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اٹھارویں صدی کے وسط سے بیسویں صدی کے اواخر تک تقریباً ڈھائی تین سو سال قومی ریاستوں کے وجود میں آنے کے سال میں جب سیاسی منظر نامہ ایسا بن رہا تھا کہ قومی ریاستیں اس میں مرکزی کردار کی حامل قرار پاگئی تھیں، تو لازم تھا کہ مختلف ثقافتی اور نسلی گروہ سیاسی شناخت اور سیاسی تجسیم کے حصول کے لیے قومیت کے دعوے دار بنتے کہ یہی سکہ رائج الوقت بن چکا تھا۔

سرسید کے ہندوستان کو، انیسویں صدی کے ہندوستان کو اسی عمومی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایسا  کرنے پر ہی سرسید کے قوم اور قومیت سے متعلق تصورات کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور کئی وہ غلط فہمیاں دور ہوسکیں گی جو اُن کے ان تصورات اور ان میں آنے والی تبدیلیوں کے حوالے سے پیدا ہوگئی تھیں۔

انیسویں صدی کا ہندوستان کیا تھا؟ یہاں کم از کم چھ ایسے حقائق کی نشاندہی کی جاسکتی ہے جو انیسویں صدی کے ہندوستان میں قوم اور قومیت کی اصطلاحوں کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ قوم اور قومیت کی اصطلاحیں بہت پہلے سے ہندوستان میں موجود تھیں اور ان کو مختلف النوع جمعیتوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ کہیں مذہبی گروہ قوم کہلاتے تھے، کہیں نسلی گروہوں کے لیے قوم کی اصطلاح مستعمل تھی، کہیں برادریوں کے لیے بھی قوم کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ بعض صورتوں میں ایک پیشے سے وابستہ لوگوں کو بھی قوم کہا جارہا ہوتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں قوم کا لفظ زیادہ تر معاشرے کے مختلف گروہوں کے لیے مستعمل تھا لیکن یہ تھا تمام و کمال معاشرتی تناظر ہی میں۔

دوسری اہم حقیقت یہ تھی کہ سیاسی معنوں میں قوم اور قومیت کا لفظ ہندوستان میں مغرب کے تجربات اور وہاں قومی ریاستوں کے وجود میں آنے اور قوموں کے سیاسی طور پر متشکل ہونے کے حوالے سے پہنچا۔چنانچہ جس طرح فرانس میں رہنے والے فرانسیسی قوم قرار پائے اور ہمارے یہاں تسلیم کیے گئے، برطانیہ میں رہنے والی ساری آبادی برطانوی یا انگریز قوم کہلائی اور ہندوستان میں بھی ان کو انہی معنوں میں قوم سمجھا گیا لہٰذا خود ہندوستان کے اندر اس امر کی گنجائش موجود تھی کہ اس ملک میں رہنے والے شہریوں کو بھی ایک ہندوستانی قوم کے طور پر تصور کرلیا جائے۔

قوم اور قومیت کے حوالے سے سرسید کے خیالات ایک خاص سیاسی و سماجی تناظر کے حامل رہے ہیں۔ اس تناظر ہی نے ایک وقت میں ان کو متحدہ قومیت کا، دوسرے وقت میں متحدہ اور مسلم دونوں قومیت کا اور ایک تیسرے تناظر میں جداگانہ مسلم قومیت کا علمبردار بنایا

تیسری اہم حقیقت یہ تھی کہ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ہندوستان میں اس نو آبادی میں بسنے والے سب لوگوں کو ایک قوم قرار دیا جانے لگا۔ہر چند کہ یہ ایک قومی ریاست نہیں بنی تھی، لیکن قوم کے لفظ کا جو معاشرتی اور سماجی مفہوم میں استعمال صدیوں سے چلا آرہا تھا وہ بھی جاری رہا اور ہندوستانیوں کے لیے ایک قوم ہونے کا تصور بھی متعارف ہوگیا۔خود مسلمانوں کے لیے ایک قوم کا لفظ استعمال ہوتا آرہا تھا لیکن اب ہندوستان گیر وحدت کے لیے جب ایک قوم کی اصطلاح اختیار کی گئی تو اس میں مسلمانوں کو شامل سمجھا گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ قوم کی اصطلاح کا یہ دونوں جمعیتوں کے لیے استعمال بیک وقت ہورہا تھا۔

چوتھی اہم بات یہ کہ سرسید کے حوالے سے عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ متحدہ ہندوستانی قومیت سے مسلم قومیت کے تصور کی طرف آئے۔سرسید کی اپنی تحریروں اور تقریروں کا بغور جائز ہ لیں تو یہ دلچسپ بات سامنے آتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو ایک قوم کہنے کے بعد بھی بعض مواقع پر ہندوستان کے سب شہریوں بشمول مسلمانوں کے، ایک قوم کے طور پر زیر بحث لارہے تھے۔اس کی چند ایک مثالیں ہم آگے چل کر پیش کریں گے۔

ایک پانچویں حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں قوم اور قومیت کے مباحث جن مختلف اہلِ دانش کی تحریروں میں جگہ پانے لگے تھے ان میں راجہ رام موہن رائے اور سرسید احمد خان دونوں ہی پیش پیش تھے۔یہ مباحث ایک ایسے وقت میں شروع ہوئے تھے جبکہ ہندوستان میں قوم سازی کا وہ عمل اپنے تشکیلی دور سے گزر رہا تھا، جس نے یورپ میں قوم سازی کی تھی یعنی یورپ میں جس طرح جاگیرداری کے خاتمے اور تجارتی سرمایہ داری کے فروغ کے ساتھ قومی ریاستیں بننا شروع ہوئی تھیں اور جس طرح اس عمل کو صنعتی انقلاب نے غیر معمولی طور پر مہمیز کیا تھا وہ سماجی انقلاب ابھی ہندوستان میں وجود میں نہیں آیا تھا۔یہ ضرور تھا کہ ہندوستان کے اندر داخلی طور پر اورہندوستان اوربیرونی دنیا کے درمیان خارجی طور پر تجارتی سرگرمیاں سولہویں اور سترہویں صدیوں میں قابلِ لحاظ حد تک وجود میں آچکی تھیں لیکن صنعتی انقلاب کی منزل فی الحال دور تھی۔سب سے بڑھ کر یہ کہ جاگیرداری یہاں موجود تھی جس کو ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد ازاں برطانوی استعمار نے نہ صرف استحکام فراہم کیا بلکہ استعماری معیشت کے تقاضوں کے پیش نظر جس حد تک ضروری تھا اور جن شعبوں میں ضروری تھا وہاں ہندوستان کی زرعی معیشتوں کو عالمی سرمائے کے ساتھ مربوط کیا اور یوں وہ طرزِ پیداوار جس کو معروف مفکر حمزہ علوی نے استعماری طریقۂ پیداوار (Colonial Mode of Production)قرار دیا تھا،وجود میں آئی۔۱ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان میں جب قوم اور قومیت کی مہم شروع ہوئی تو اس کے علمبرداروں میں زرعی اشرافیہ، تجارتی اور مالیاتی سرمایے سے بننے والی اشرافیہ اور متوسط طبقہ، سب پیش پیش تھے۔ان طبقوں کے اقتصادی مفادات مختلف اور بعض اوقات متصادم بھی ہوسکتے تھے لیکن ان کی مشترک قدر یہ تھی کہ اپنے سیاسی اہداف کے حصول کی خاطر قوم کی اصطلاح ان سب کے لیے مفیدِ مطلب تھی۔

ایک چھٹی اہم حقیقت جس نے ہمارے یہاں قومی تشکیل اور قومی شناختوں کی تدوین میں اہم کردار ادا کیا وہ یورپ کی طرح برصغیر میں پرنٹنگ پریس کا متعارف ہونا تھا۔یورپ میں پرنٹنگ پریس نے ایک بہت بڑا تہذیبی انقلاب برپا کیا تھا۔ وہ لوگ اور گروہ جو پہلے زبانی طور پر ایک دوسرے سے مربوط ہوتے تھے اب اُن کے درمیان ایک مطبوعہ چیز بھی آن موجود ہوئی تھی جس نے اُن کے لیے اتحاد و اتفاق کی ایک کہیں ٹھوس بنیاد فراہم کردی تھی۔ معروف سماجی سائنسدان اور مفکر بینیڈکٹ اینڈرسن (Bennedict Anderson)کا خیال تھا کہ پرنٹنگ پریس کے نتیجے میں وجود میں آنے والی یا مستحکم ہونے والی جمعیتیں اب بہت آرام سے خود کو ایک قوم کہہ سکتی تھیں کیونکہ پرنٹنگ مشین نے اُن کی زبانی کلامی وحدت کو ایک متن کے گرد استوار ہونے والی وحدت بنادیا تھا۔اُس کے اپنے لفظوں میں Commmunity of faithاب Community of textبن گئی۔۲   سو خوب سمجھ میں آتا ہے کہ قومی ریاستوں کا وجود میں آنا اور پرنٹنگ پریس کا ایجاد ہونا دونوں کی شروعات کا زمانہ بہت قریب کا ہے اور پرنٹنگ پریس نے قومی تشکیل میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ہمارے دوست اکبر زیدی نے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں اس تاریخی رشتے کا ہندوستان پر انطباق کرکے دکھایا ہے اور یہ بحث کی ہے کہ کس طرح مولانا محمد قاسم نانوتوی کے مسیحی پادریوں اور آریا سماجی رہنماؤں کے ساتھ مناظرے جب مطبوعہ شکل میں سامنے آئے تو ان کی حیثیت مقامی سے بڑھ کر ہندوستان گیر ہوگئی۔۳  جو کچھ پہلے چند افراد کے درمیان بحث و مباحثے میں ہوتا تھا وہ ہندوستان گیر مباحثوں کی شکل اختیار کرتا چلا گیا۔یہی کچھ مغربی افکار کا بھی ہوا۔ جب راجہ رام موہن رائے اور سرسید کے طفیل مغربی افکار کی ہندوستان میں ترویج شروع ہوئی تو چھاپہ خانے نے ان کے فروغ کو کہیں تیز کردیا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی ہندوستان میں اخبارات و جرائد کے تیز تر اجراء کی صدیاں ہیں۔سو ان صدیوں میں قوم اور قومی تشکیل کے موضوعات صحافت کے ذریعے ہندوستان کے طول و عرض میں اور اوپر سے نیچے تک پورے معاشرے میں پھیلتے چلے گئے۔

اس مجموعی پس منظر میں سرسید کے قوم اور قومیت کے حوالے سے خیالات کا جائزہ لیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ سرسید اپنے زمانے کی رفتار کے ساتھ چل رہے تھے، وہ اپنے دور کے ترجمان تھے۔اس دور میں جو کچھ ان کے گردو پیش میں ہورہا تھا وہ ان کی تحریروں میں موجود ہے۔ جو تضادات ان کے عہد کے تھے اُن کا عکس بھی ان کے ہاں نظر آتا ہے لیکن سرسید ان کے ساتھ ساتھ ایک مدبر بھی تھے۔ وہ آنے والے کل کو دیکھنے کی استطاعت بھی رکھتے تھے اور اس حوالے سے انہوں نے مسلمانوں کی رہنمائی کا فریضہ بھی سرانجام دیا۔

سر سید احمد خان نے اپنی ابتدائی تحریروں میں مسلمانوں اور ہندوؤں کو ایک ہی قوم کا حصہ تصور کیا تھا اوریہ قوم ان کے خیال میں ہندوستان کی سرحدوں میں رہنے والے تمام باشندوں پر مشتمل تھی۔ان باشندوں کی اپنی جداگانہ خصوصیات ہوسکتی تھیں لیکن یہ ہندوستان کی حدود میں رہنے کی مناسبت سے سرسید کے خیال میں ایک قوم کہلانے کی مستحق تھی۔۴ بعد ازاں سرسید نے ہندوستان کی اسی آبادی کے ایک حصے یعنی مسلمانوں کے لیے قوم کا لفظ استعمال کرنا شروع کیا مثلاً ۱۸۷۲ء میں نواب محمد عبداللطیف کی کلکتہ میں قائم کردہ محمڈن لٹریری سوسائٹی سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مسلمان قوم کی محبت ہے جس نے ان کو مسلمانوں کے لیے ایک جامع پروگرام بنانے پر آمادہ کیا ہے جس کا مقصد مسلمانوں کی تعلیمی، ثقافتی، سماجی اور سیاسی ترقی ہے۔۵   اُن کا خیال تھا کہ اسلام، ثقافت اور قوم کی تعمیر کے لیے اہم قوت کی حیثیت رکھتا ہے اور مذہب، قومیت کے تصورکا بنیادی جزو ہے۔

یہ ۱۸۷۲ء کی تقریر ہے۔اس کے آس پاس کے زمانے میں بھی وہ مسلمانوں کو ایک قوم قرار دیتے رہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ۱۸۷۲ء کی مذکورہ بالا تقریر کے بارہ سال بعد یعنی ۱۸۸۴ء میں اپنے دورہ ٔ پنجاب کے موقع پر انہوں نے ایک مرتبہ پھر ہندوؤں اور مسلمانوں کے ایک قوم ہونے کا ذکر ایک سے زائد بار کیا۔ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ قوم کے لفظ سے میری مراد ہندو اور مسلمان دونوں ہیں۔میرے خیال میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اُن کا مذہب کیا ہے۔ہم اُن کے عقائد کو نہیں دیکھ رہے ہوتے بلکہ جو چیز ہم دیکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں ایک ہی زمین پر رہتے ہیں۔ دونوں ایک ہی حکمران کے تحت رہتے ہیں۔ ان کے مفادات کے ذرائع ایک ہی ہیں۔وہ مشکلات اور قحط سالی کو یکساں طور پر بھگتتے ہیں۔ یہی وہ مختلف اسباب ہیں جن کی بنا پر میں دونوں قومیتوں کو، ہندو یعنی ایک ایسی قوم سے تعبیر کرتا ہوں جو ہندوستان میں رہتی ہے۔ ۶

سرسید کے لیے یکساں سرزمین پر رہنا اہمیت کا حامل تھا۔ایک موقع پر انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ دونوں ہندوستان سے باہر کہیں رہ رہے ہیں؟کیا آپ ایک ہی مٹی پر جلائے یااس میں دفن نہیں کیے جاتے؟اور اگر ایسا ہے تو یاد رکھیں کہ ہندو اور مسلمان صرف مذہبی اصطلاحیں ہیں۔ ہندو، مسلمان یہاں تک کہ مسیحی بھی ایک قوم کا حصہ ہیں کیونکہ یہ ایک ہی ملک میں رہتے ہیں۔ اسی موقع پر سرسید نے اپنا وہ مشہورِ زمانہ جملہ کہا تھا کہ ہندوستان ایک خوبصورت دلہن کی حیثیت رکھتا ہے جس کی دو دلکش آنکھیں ہیں یعنی ہندو اور مسلمان۔اگر وہ دشمنی اور نفاق کا رشتہ اپنے درمیان قائم کریں گے تو یہ دلہن ایک آنکھ سے محروم ہوجائے گی۔انہوں نے اپنے سامعین سے پوچھا کہ ہندوستان کے رہنے والو، یہ آپ پر ہے کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔آپ اس دلہن کو بھینگا بنانا چاہتے ہیں یا کانا یا آپ اس کی دونوں آنکھوں کو باقی رکھنا چاہتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ۱۸۸۴ء تک مسلمانوں کو ایک قوم کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی سطح پر ایک ہندوستانی قوم کا حصہ قرار دینے والے سرسید نے بعد کے برسوں میں مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم کہنے پر اصرار کیوں شروع کیا۔’مسلمانوں کا روشن مستقبل‘ میں سید طفیل احمد منگلوری نے یہ رائے قائم کی ہے کہ سرسید کے خیالات میں تبدیلی کا موجب ان کے قائم کردہ ایم اے او کالج کے پرنسپل مسٹرتھیوڈور بیک (Theodore Beck) بنے جنہوں نے سرسید کو متحدہ قومیت کے تصور سے ہٹانے میں اہم کردار ادا کیا۔۷ تاریخ کے ایک طالبعلم کی حیثیت سے ہم مجبور ہیں کہ اُس زمانے میں وقوع پذیر ہونے والے زیادہ اہم اور دور رس اثرات کے حامل حقائق پر اپنی رائے کی بنیاد رکھیں۔ہمارے خیال میں ۱۸۸۰ء کے عشرے میں کچھ چیزیں نمایاں ہوکر سامنے آچکی تھیں جن کے نتیجے میں سرسید کے خیالات میں تبدیلی واقع ہوئی۔فارسی کی جگہ انگریزی کے سرکاری زبان بننے کے نتیجے میں اردو نچلی سطح کے انتظامی اداروں میں سرکاری زبان کے طور پر مستعمل ہونے لگی تھی۔خاص طور سے پنجاب،شمال مغربی صوبوں اور بہار میں اردو انتظامیہ اور عدالتوں کی زبان کے طور پر استعمال ہورہی تھی۔ہندو مسلم اتحاد کا ایک ذریعہ اردو بھی تھی اور ہندوستان میں کبھی متحدہ قومیت کو تقویت حاصل ہوتی تو اس میں اردو کا کردار لازماً موجود ہوتا۔اس امر کی گواہی اس حقیقت سے ملتی ہے کہ ۱۸۵۰ء کے عشرے سے اردو کو ہندوستانی اشرافیہ میں مقبولیت حاصل ہورہی تھی اور ۱۸۳۷ء میں لیتھوگراف پریس کے متعارف ہونے کے بعد اردو اخبارات اگلے دو عشروں میں بڑی تعداد میں شایع ہونا شروع ہوگئے تھے۔محمد عتیق صدیقی اپنی تصنیف ’ہندوستانی اخبار نویسی کمپنی کے عہد میں‘ میں انکشاف کرتے ہیں کہ ۱۸۵۷ء سے قبل ہندوستان کے ایک تہائی اردو اخبارات ہندوؤں کی ملکیت تھے یا ہندوؤں کی ادارت میں شایع ہورہے تھے۔اردو کا یہ ہندوستان گیر کردار اُس وقت متاثر ہونا شروع ہوا جب ۱۸۶۰ء کے عشرے کے وسط میں بنارس میں بعض ہندو عمائدین نے اردو کے مقابلے میں ہندی کو فوقیت دینے کی پالیسی بنائی اور اس پر عمل پیرا ہوئے۔یہ اردو اور ہندی کا تضاد خود سرسید کی سائنٹفک سوسائٹی کے اندر بھی جاپہنچا اور بابو شیو پرشاد جو خود اردو کے ایک اچھے ادیب تھے، نے سرسید کی سائنٹفک سوسائٹی میں یہ مہم شروع کروادی کہ سوسائٹی کی کاروائی اردو کے بجائے ہندی میں مرتب کی جائے۔اس صورت حال نے سرسید کو سخت پریشان کیا اور انہوں نے ۲۹؍اپریل ۱۸۷۹ء کو لندن سے ایک خط میں محسن الملک کو لکھا کہ اگر ایسا ہوا تو یہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی تقسیم اور کشمکش کا آغاز ثابت ہوگی۔ اس ناچاقی کا کبھی تدارک نہیں ہوسکے گا۔

جو دوسرا اہم سبب سرسید کے خیالات میں تبدیلی کا بنا وہ ایسٹ انڈیا کمپنی سے سلطنت برطانیہ کو ہندوستان کے اقتدار کی منتقلی کے بعد ہندوستان کی نوآبادی میں قائم کیے جانے والے نمائندہ ادارے تھے جن کے ارکان آغاز میں نامزدگی کے ذریعے مقرر ہونے تھے لیکن صاف نظر آرہا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نامزدگی کی جگہ انتخاب کا اصول رائج ہوتا چلا جائے گا اور یوں مسلمانوں کی اقلیتی حیثیت ان کو ایک مستقل سیاسی اقلیت بنانے کا سبب بن جائے گی۔

ایک تیسری چیز جس نے یقیناً سرسید کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی ہوگی وہ ہندوستان کی نوآبادی بن جانے کے بعد یہاں ایک خاص وقفے کے ساتھ مردم شماری کے انعقاد کا سلسلہ تھا۔جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو صاف ظاہر ہوگیا کہ مسلمان نہ صرف یہ کہ ایک اقلیت ہیں بلکہ اکثریت اور اقلیت کے درمیان ایک بہت بڑا عددی فاصلہ موجود ہے۔ سو مستقبل کے سیاسی اداروں میں مسلمانوں کا ایک ثانوی حیثیت کا حامل بن جانا عین ممکن تھا۔

اس سلسلے میں چوتھا اہم سبب ۱۸۸۵ء میں آل انڈیا نیشنل کانگریس کا قیام تھا جو متحدہ ہندوستانی قومیت کے پلیٹ فارم کے طور پر ابھری تھی لیکن سر سید کے حساب سے یہ پلیٹ فارم مسلمانوں کے مفادات کی تکمیل کا ذریعہ نہیں بن سکتا تھا۔

یہ وہ اسباب تھے جن کی بناپر سرسید اپنی زندگی کے آخری حصے میں مسلم قومیت کے علمبردار بنے اور انہوں نے مسلمان قوم کی فلاح کا جو نقشہ اپنے ذہن میں تیار کیا اُس کی تفصیلات وہ اپنی تحریروں اور تقریروں میں بیان کرتے رہے۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو مستقبل میں جس سیاسی طاقت کی ضرورت ہوگی اور اپنے لیے سماجی و معاشرتی ترقی کا جو انتظام کرنا ہوگا اس کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ تعلیم بلکہ جدید تعلیم کو اپنا مقصدِ اولین بنالیں۔ان کا خیال تھا کہ یہ مقصد ہر چیز پر فائق ہونا چاہیے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کو کچھ عرصے کے لیے سیاست سے بھی دور رہنا چاہیے تاکہ وہ اپنی پوری توجہ تعلیم پر مرکوز کرسکیں اور ساتھ ہی ان کی حکومت وقت کے ساتھ مبارز آرائی کی کوئی صورت بھی پیدا نہ ہو۔ان کا خیال تھا کہ انگریز کے ساتھ لڑنا تو دور کی بات ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ سلطنت برطانیہ کے وفادار شہری بن کر اور حکومت وقت کے لیے کوئی مشکل پیدا کیے بغیر صرف اور صرف تعلیم پر زور دیں تاکہ مستقبل میں وہ اس لائق ہوسکیں کہ اپنے سیاسی حقوق کے لیے بھی کھڑے ہوسکیں۔

قوم اور قومیت کے حوالے سے سرسید کے خیالات ایک خاص سیاسی و سماجی تناظر کے حامل رہے ہیں۔اس تناظر ہی نے ایک وقت میں ان کو متحدہ قومیت کا، دوسرے وقت میں متحدہ اور مسلم دونوں قومیت کا اور ایک تیسرے تناظر میں جداگانہ مسلم قومیت کا علمبردار بنایا۔

حوالہ جات

۱۔ دیکھیں: حمزہ علوی، ‘The Structure of Colonial Social Formations’، Economic of Political Weekly, Vol. XVI, 10-12, Annual Number 1981، مزید دیکھیے: ‘India: Transition from Federation to Colonial Capatalism’, Journal of Contemporary Asia, Vol.10, No.4, Dec 1980

(London: Verso, 1983) 2. Imagined Communities

S.A.Zaidi, ‘Writing Partial Truths: Orality, Print, Myths and Identities’ in Usha Sanyal, David Gilmartin et.al(eds.) Muslim Voices: Community and the Self in South Asia (New Delhi, Yoda Press,2013), p.74

۴۔ سرسید احمد خان، ’تعلیم اور اتفاق‘، مقالاتِ سرسید: تقریری مقالات(لاہور : مجلس ترقی ادب، ۱۹۶۳ء)، ص۔ ۱۶

۵۔ مقالاتِ سرسید: مضامین متعلق تہذیب الاخلاق (لاہور: مجلس ترقی ٔادب، ۱۹۶۲ء) ص ص ۴۲ تا ۵۳

۶۔ سید اقبال علی، سید احمد خان کا سفرنامۂ پنجاب ( علی گڑھ انسٹی ٹیو ٹ گزٹ پریس، ۱۸۸۴ء )، ص ص ۶۱۔۱۶۰

۷۔ سید طفیل احمد منگلوری، ’ مسلمانوں کا روشن مستقبل‘ (دہلی : مکتبہ ٔ علمی، ۱۹۴۵ء)،ص۔۶۷۹، بحوالہ،’Sir Syed Ahmed Khan and the Theory of Muslim Nationalism’, M.Ikram Chaghtai (ed.), Herald of Nineteenth Century Muslim Thought: Sir Syed Ahmed Khan (Lahore: Sang.e.meel Publications, 2005), p.74

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...