رحمن عباس کا ناول “زندیق”: اردو ادب کا نالہء پریشاں

1,660
رحمن عباس صاحب نے اپنے ناول ” زندیق” کا اتنا ڈھول پیٹا، اتنی منادی کی اور اس قدر دھوم مچائی کہ واقعی ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ اگر اس عدیم النظیر ناول کو نہ پڑھا تو ہمارا کیا بنے گا؟ لیکن یہ اتنا ردی ثابت ہوا ہے کہ ناول پڑھ کر یہ فکر لاحق ہو گئی ہے کہ خاکم بدہن اگر رحمن عباس کو کچھ ہو گیا تو ” زندیق” کا کیا بنے گا؟
“زندیق” پڑھے ایک ہفتہ سے زائد ہو چکا لیکن ہنوز سمجھ میں نہیں آ رہا کہ آخر پڑھا کیا ہے۔ اکتا دینے والے طولانی خواب، غیر متعلق روزنامچے، بے محل نظمیں، بے جہت تقریریں، تحقیقاتی کمیشن کی نا واجب رپورٹیں، مختلف کتابوں سے من و عن نقل کی گئی نا متعلقہ عبارتیں، تابڑ توڑ سیکس سینز، بے موقع تقریریں، بے صرفہ لیکچر، غیر ضروری معلومات، اسطور، سفری تفصیلات، عمارتوں، شہروں اور سیاحتی مقامات کے متعلق جبری معلومات، ناولوں اور فلموں کے بے جا تذکرے اور وہ سب کچھ جو ناول نگار کے پاس موجود تھا یا جس کا وہ فوری طور پر دائیں بائیں سے انتظام کر سکتا تھا؛ ” زندیق” میں ڈال کر نہ وہ خود کہیں کا رہا اور نہ قاری کو کہیں کا چھوڑا۔ ناول کا متن کسی تخلیق کار کے قلم کا عرفان نہیں کسی دیوانے کا ہذیان معلوم ہوتا ہے۔
ناول میں پیٹری آرکی، جنسی آزادی، کوئیر فلسفہء جنس، جنگ اور دہشت گردی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ میں اس ناول کی کہانی بیان کرنے سے معذور ہوں کہ معروف معنوں میں اس کی کوئی کہانی ہے ہی نہیں۔ اسے ” کچھ بھی ڈال دو” سکیم کے تحت لکھا گیا ہے۔ اس سے پیشتر اردو قارئین سید کاشف رضا کی کم و بیش اسی سکیم پر لکھی گئی ناول نما تحریر ” چار درویش اور ایک کچھوا” کا کاری وار سہہ چکے ہیں۔ لیکن “زندیق” میں “کچھ بھی ڈال دو” کا تناسب اس قدر زیادہ ہے کہ یہ کاشف صاحب کے ناول سے کہیں زیادہ مہلک ثابت ہوا ہے۔
صفحہ نمبر 32, 36, 43, 44، 63, 64, 74, 84, 106, 107, 108, 109, 150, 173, 175، 257, 295, 307, 308, 309, 310 پر بے موقع و بے محل نظمیں سنائی گئی ہیں جن میں سے بیشتر میرا جی کی ہیں۔ اگر ان غیر ضروری نظموں کا مقصد و مناط محض ناول کی ضخامت بڑھانا تھا ( اس کے علاوہ کوئی اور مقصد نظر نہیں آتا) تو اس میں میرا جی کے کلیات بھی شامل کیے جا سکتے تھے۔ حیرت ہے، مصنف کو اس بات کا خیال کیوں نہیں آیا۔ اس سے  مصنف اور قاری دونوں کا فائدہ ہوتا۔ ایک کا ناول فربہ ہو جاتا تو دوسرے کے پاس اسی بہانے میرا جی کے کلیات آ جاتے۔  افسوس کہ مصنف نے اس ناول میں قاری کے واحد فائدے کو بھی نظر انداز کر دیا ہے۔
ناول میں کئی اور مقامات پر بھی نظمیں جلوہ گر ہیں لیکن میں نے صرف ان صفحات کا حوالہ دیا ہے جہاں تک میں نے  یہ ضخیم ناول اس بے سود آس کے سہارے پوری توجہ اور انہماک سے پڑھا کہ شاید اگلے صفحات میں دل چسپی کا کوئی سامان ہو۔ لیکن مکمل نراش ہونے کے بعد میں نے باقی ماندہ ناول اسی طرح پڑھا جس طرح ایسی کتابوں کو پڑھنا چاہیئے۔
نظموں کے رنگا رنگ کاری کرم کے سماپت ہونے کے بعد آئیے اب ثناء اللہ اور دیگر کرداروں کے ان طولانی خوابوں کی طرف چلتے ہیں جن کا ناول کے مرکزی مضمون سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا مستنصر حسین تارڑ کے سفرناموں کا سچائی سے۔ صفحہ نمبر 35 تا 39، صفحہ نمبر 46 تا 49، صفحہ نمبر 239 تا 244, صفحہ نمبر 339 تا 342, صفحہ نمبر 405 تا 408, صفحہ نمبر 430 تا 431, صفحہ نمبر 441 تا 442 ( خواب کی تفصیلات کا بیان)، صفحہ نمبر 472 تا 476, صفحہ نمبر 477 تا 479 ( خواب کو یاد کرنے کا بیان), صفحہ نمبر 492 تا 494, صفحہ نمبر 675 تا 678، صفحہ نمبر 683 تا 684 اور صفحہ نمبر 766 تا 768  ثناءاللہ کے خوابوں کے لیے مختص ہیں۔ صفحہ نمبر 81 تا 87 ثناءاللہ کی والدہ ایلا کے خواب کی نذر ہوئے ہیں۔ صفحہ نمبر 220 اور 221  الفانوسی کے خواب پر قربان کر دیے گئے ہیں۔ صفحہ نمبر 718 تا 724 کو انجلی کا خواب ہڑپ کر گیا ہے۔ صفحہ نمبر 726، 727 اور  728  راجا نبوکدنضر  ( ناول میں اس کا یہی املا ہے) کے خواب کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں اور صفحہ نمبر 728 کو فرعون کا خواب چاٹ گیا ہے۔
” کچھ بھی ڈال دو” سکیم کے زریں اصولوں پر عمل کرتے ہوئے صفحہ نمبر 44 پر مراٹھی زبان کے ناول ” ساوتری” کے مرکزی خیال کا نچوڑ پیش کیا گیا ہے۔ صفحہ نمبر 45 اور 46 میں وٹھل کا تذکرہ ہے، ان صفحات کو پڑھتے ہوئے باقاعدہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ ناول نہیں وٹھل’ کی تعارفی کتاب ہے:
” تکا رام کی فکر اور شاعری کا محور ‘وٹھل’ ہے، لیکن تکارام کی فکر صوفیوں کی روایت کی طرف مائل دکھائی دیتی ہے۔ وٹھل’ کو وٹھوبا وٹھلا، پانڈورنگا، پنڈری ناتھ کے علاؤہ کئی ناموں سے پکارا جاتا ہے، کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ وٹھل، وشنو یا اس کے اوتار کرشنا کا ایک مظہر ہے۔ اس کی شبیہ ایک سیاہ رنگ لڑکے کے طور پر ہے جو اینٹ پر کھڑا درشایا/دکھایا جاتا ہے۔ اکثر اس کی مورتی رکمنی کے ساتھ ہوتی ہے۔ رکمنی کو بھی لکشمی کا اوتار مانا جاتا ہے اور یہ کہانی مشہور ہے کہ رکمنی، کرشنا کی منظورِ نظر ہے۔ کرشنا نے اسے اغوا کیا تھا کیوں کہ وہ شسوپدا سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ ریاست مہاراشٹر میں وٹھل کے معتقد ‘ ورکری’ کہلاتے ہیں جن کا عقیدہ ‘ توحید’ ہے جہاں کسی دوسرے مظہر کی عبادت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پنڈ پور میں وٹھل کا مندر ان کی زیارت گاہ ہے۔ مراٹھی کلینڈر کے مطابق اساڑھ رت ( جو جون/جولائی میں ہوتا ہے) وٹھل کی خصوصی تقریب کا وقت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” ( صفحہ نمبر 45)
یہ معلومات افزا “وٹھل نامہ” صفحہ نمبر 46 تک چلتا ہے۔ اس دوران قاری ناول نگار کے صدقے واری جاتا ہے جس نے ناول کی آڑ میں اس کے جنرل نالج میں مفت اضافہ کرنے کا پربندھ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی مصنف نے پورے ناول میں جگہ جگہ گوگل کی مدد سے قاری کی معلومات میں اتنا جبری اضافہ کیا ہے کہ وہ بے چارا گوگلایا گوگلایا پھرتا ہے۔ ناول نگار نے قارئین کی علمی، سماجی، سیاسی اور تاریخی ضروریات کا مکمل دھیان رکھا ہے اور اس انتہائی ضروری مصروفیت کے دوران غالباً ان کے ادبی اور جمالیاتی تقاضوں کو غیر اہم جان کر شعوری طور پر نظر انداز کر گیا ہے۔ آپ خود ہی سوچیے ناول میں اتنی چیزیں کھپا دینے کے بعد ادب، آرٹ اور کرافٹ کے لیے جگہ ہی کہاں بچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ “زندیق”  ادبی اور جمالیاتی سطح پر یکسر ناکارہ اور معلوماتی اعتبار سے کلہم شرارہ ہے۔
اب باری آتی ہے ان کتب وغیرہ کی جن کا صفحہ نمبر 782 تا 784 پر  مصنف نے حوالہ بھی دیا  ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ مذکورہ اقتباسات و حوالہ جات  ناول کے کتنے صفحات ہڑپ کر گئے ہیں. تو سنیے حضور: صفحہ نمبر 216, 217 اور 218 میں مولانا امین اصلاحی کی تحریر “حروف مقطعات” سے اقتباسات دیے گئے ہیں۔ صفحہ نمبر 225 تا 228 پر سید قاسم محمود کی تحریر معہ ان کے تعارف کے من و عن رقم کی گئی ہے۔ صفحہ نمبر 253 پر روزنامہ ” جسارت” سے چنی گئی تحریر پیش کی گئی ہے۔ صفحہ نمبر 352، 353، 354 اور 355 کو پنجاب کے فسادات سے متعلقہ رپورٹ چاٹ گئی ہے۔
اسی طرح صفحہ نمبر 250، 251 اور 252،  مولانا عبد الحمید ترابی کی تقریر کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ صفحہ نمبر 280 پر ایک بنگالی ڈائریکٹر کی بنائی گئی فلم کی سٹوری سنائی گئی ہے۔ صفحہ نمبر 255 پر بوسنیا کے ادیب کریم زائمویچ کی کتاب اور حالاتِ زندگی سے مختصر آگاہی بخشی گئی ہے ( قاری کو ہرگز نہیں بخشا گیا) صفحہ نمبر 293 پر زبیر علی قریشی اور ان کے ناول کا غیر ضروری تذکرہ ہے اور صفحہ نمبر 294 تا 296 قارئین کو قریشی صاحب کے ناول کی کہانی سنا کر معتوب معاف کیجئے گا محظوظ کیا گیا ہے۔ صفحہ نمبر 301 اور 302 پر سورج مندروں، راجاؤں اور ان سے منسوب روایات کا تذکرہ ہے۔ صفحہ نمبر 303 پنڈت کلہن کی کتاب ” راج ترنگنی” اور کشمیر کی تاریخ کھا گئی ہے۔ صفحہ نمبر 385, 386 ,387, 388, 389 اور 390 محمد عامر رانا کی کتاب “جہاد کشمیر و افغانستان” کو بلیدان کیے گئے ہیں۔صفحہ نمبر 395 تا 398 تاریخ، رزمیہ اور اساطیر کی مدد سے ہندوتوا تنظیموں کے مفروضاتی عقائد ہڑپ کر گئے ہیں۔ صفحہ نمبر 412 اور 413 ملٹری انٹیلیجنس کانفرنس میں پیش کیا گیا ثناءاللہ کا مقالہ ڈکار جاتا ہے۔ صفحہ نمبر 414 تا 421 ریسرچ کمیٹی کی رپورٹ, جس میں قرآن، احادیث کی کتب اور دیگر اسلامی تحریروں سے 18 سے زائد حوالے دئیے گئے ہیں, ہضم کر گئی ہے۔ صفحہ نمبر 425 اور 428 رسالہ سب رنگ ممبئی سے لیے گئے اقتباسات نے اچک لیے ہیں۔ صفحہ نمبر 426 برنارڈ شلنک کا ناول اور اس پر بننے والی فلموں کے تذکرے نے لوٹ لیا ہے۔ صفحہ نمبر 447، 448 اور 449  خواب میں بیان کردہ مہا بھارت اڑا لے گئی ہے۔
اور صرف یہی نہیں، صفحہ نمبر 479 تا 589 یعنی 110 صفحات میں یورپ کا سفرنامہ پیش کیا گیا ہے جس میں جرمنی، آسٹریا، چیک ریپبلک، فرانس، پولینڈ وغیرہ کے مختلف شہروں، وہاں کی سیاسی، عسکری اور سماجی تاریخ، کتابوں کے حوالوں، مشہور سیاحتی مقامات کی مفصل معلومات معہ تاریخ، ٹرین سٹیشنوں کے نام اور اس کے علاوہ اور بہت کچھ موجود ہے جو قارئین کی تفریح کو تباہ معاف کرنے معاف کیجیے گا تفریحِ طبع کے لیے بیان کیا گیا ہے۔ محولہ بالا صفحات پڑھتے ہوئے قاری کو گمان تک نہیں ہوتا کہ وہ ناول پڑھ رہا ہے۔ یہاں مصنف ناول نگاری میں سفرنامے کے ہاتھ دکھا گیا ہے۔ چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں:
” وہاں سے وہ فریڈرش اسٹراسے Friedrichsrabe گئے جو مشرقی اور مغربی جرمنی کے درمیان بارڈر کراسنگ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اب یہ سڑک اور اطراف کا علاقہ جرمنی اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ دیوارِ برلن پر استادہ بارڈر کراسنگ بھی ایسٹ جرمنی کے ظالمانہ اقدام میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے، یہ جگہ امریکہ اور سوویت یونین کے مابین محاز آرائی کا اہم مرکز تھا۔ بلاشبہ سرد جنگ کے دنوں میں یہ مقام، یہاں پر واقع چیک پوائنٹ خاصی اہمیت کا حامل رہا ہوگا۔ اسے ‘ چیک پوائنٹ چارلی’ بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں سڑک کنارے بڑی بڑی تصویریں لگائی گئی ہیں جنھیں بہ غور دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے سرد جنگ اور منقسم برلن کے وقت کروسنگ بارڈر کس بلا کا نام تھا۔” ( صفحہ نمبر 486)
یہ بھی دیکھیے:
” چیک پوسٹ چارلی میں ایک نمائش گاہ بھی ہے جس میں بیک پوسٹ کے متعلق تاریخی باتوں کو ریکارڈ کیا گیا ہے، لوگ ٹی وی اسکرین پر دیکھ سکتے ہیں، اطراف میں نمائشی چیزوں کی متعدد دکانیں ہیں، جہاں لوگ چیک پوائنٹ چارلی سے متعلق تحائف خرید سکتے ہیں، مثلاً  تصاویر، کپ، گلاس، چمچے، ٹی شرٹ وغیرہ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں برلن دیوار کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بھی مختلف رنگوں میں فروخت ہوتے ہیں۔” ( صفحہ نمبر 486)
” یہاں سے وہ مقتول یہودیوں کی یاد میں تعمیر میموریل یا The Memorial of the murdered Jews of Europe  گئے جو برلن میں پولو کاسٹ کے مظلومین کی اہم یادگار ہے۔ یہاں انیس ہزار اسکوائر میٹر علاقے پر دو ہزار سات سو گیارہ کنکریٹ کے قطعے مختلف سائز میں بنے ہوئے ہیں۔ ان کیوبک کانکٹریٹ کے چبوتروں کے درمیان چلنے کے لیے جگہ ہے۔ ( صفحہ نمبر 491)
” چالیس منٹ کے بعد وہ کنسنٹریشن کیمپ پہنچ گئے، کیمپ کے بیرونی گیٹ کے پاس ایک پیڑ کے نیچے رکے، جہاں لپرٹ نے انھیں بتایا کہ اس کیمپ کی تعمیر 1936 میں ہوئی تھی، یہ برلن سے پینتیس کلومیٹر جنوب شمال میں ہے۔ اس علاقے کو ادرانین برگ Oranienburg کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔” ( صفحہ نمبر 536)
” سنڑل میونخ جسے مونچن ہوپٹ بان ہوف Munchen Hauptbahnhof  بھی کہا جاتا ہے، میں شٹزن اسٹراسے Schutzenstrabe  پر کاراسٹاڈ Karstadt شاپنگ مال کے پاس ایک ہوٹل میں ان کا قیام تھا۔ تین بجے وہ میونخ پہنچے، ایک گھنٹے بعد وہ اطراف و اکناف کی عمارتوں کا طواف کرنے نکلے، وہ میوزیم ہوتے ہوئے ماری ین پلٹز Marienplatz پہنچ گئے، اس مقام کا زکر کسی نے چاولہ سے کیا تھا۔ میونخ کی تاریخ کا یہ ایک اہم باب ہے، رومن عہد کے خاتمے اور نشاۃ ثانیہ کے ابتدائی عہد میں اس جگہ بازار لگتا تھا، مقابلے منعقد کیے جاتے تھے۔ آج کارپلٹز Parlsplatz اور ماری ین پلٹز کے علاقے میں جدید عمارتیں تعمیر ہیں جن میں ریستوراں، زیورات، کپڑوں، عطریات اور دوسری آسائشی چیزوں کی دکانیں زیادہ ہیں۔ ماری ین پلٹز کی شاندار تاریخی عمارت 1638 میں سویڈن کے قبضے کے خاتمے کی یادگار کے طور پر تعمیر کی گئی تھی۔” ( صفحہ نمبر 557)
یہ ادب نہیں ادب کے ساتھ کیاگیا گھناؤنا مذاق ہے۔ ادب انسانی فطرت کی بوالعجبیوں کے انکشاف کا نام ہے، انسانی طرز عمل کی جبلی تھاہ پانے کی سبیل ہے، انسانی تماشہ کے سرچشموں کا سراغ لگانے کی سعی ہے؛ معلوماتی،تاریخی اور صحافتی دستاویز نہیں۔
لیکن ابھی قاری کی سزا ختم نہیں ہوئی: صفحہ نمبر 619 تا 621 ٹیریزن کے میوزیم اور ایک نمائش کے تذکرے پر خرچ ہو گئے ہیں ۔ صفحہ نمبر 653 تا 654 ہٹلر کی ایک ریلی پر حملہ کرنے والے جارج ایلز نامی شخص، مذکورہ حملہ، اس میں ہونے والے جانی نقصان، جارج کے انجام وغیرہ کے تذکرے میں لُٹ گئے ہیں۔ صفحہ نمبر 657 تا 660 میں حضرت داؤد اور یتشبع کی کہانی اسلامی اور بنی اسرائیل کی روایتوں کی روشنی میں الگ الگ بیان کر کے مصنف نے قارئین کو اپنے علم و فضل سے حیران کر دیا ہے۔ صفحہ نمبر 660 پر ناول نگار نے فقط قارئین کی سہولت کے لیے ان ناولوں کے نام بھی دے دئیے ہیں جو داؤد اور یتشبع کی زندگیوں پر لکھے گئے ہیں تا کہ ” زندیق” پڑھنے کے بعد اگر ان میں ناول پڑھنے کا شوق باقی بچے تو ان کتب کا مطالعہ بھی کر سکیں۔ صفحہ نمبر 667 تا 668 پر “دنیا کی مختصر تاریخ” کتاب سے انتخاب پیش کیا گیا ہے۔ صفحہ نمبر 669 تا 671 پر طوفانِ نوح اور ان کی کشتی  کی بابت بائبل، دیگر علما، قدیم مصریوں اور دیگر تہذیبوں کی روایات اور صفحہ نمبر 673 پر بعد از طوفان، خدا اور نوح کے معاہدہ کے متعلق بائبل کی روایت کے تذکرے سے قاری کی معلومات میں نیک نیتی سے جبراً اضافہ کیا گیا ہے۔ اور صفحہ نمبر 673 تا 674 گلگمیش کی کہانی میں بعد از سیلاب آدمیوں کا دوبارہ گیلی مٹی سے رجوع کرنا، ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر، بنو کدنضر دوم کے ہاتھوں اس کی مسماری، یافث کے بیٹوں اور ان کی نسلوں کا زکر کر کے مصنف نے اردو قارئین کا دیرینہ مطالبہ پورا کر کے ان کے دل جیت لیے ہیں۔  صفحہ نمبر 734 تا 744 پر ثناءاللہ کی الفانوسی کی کتاب پر مفصل رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں ڈاکٹر اسرار احمد کی تحریروں، بائبل اور احادیث کے حوالے دے کر مصنف نے اردو قارئین کو مفت معلومات فراہم کرکے انھیں قیامت تک اپنا احسان مند کر لیا ہے۔
مندرجہ بالا طریقوں سے ناول کو زبردستی فربہ کرنے کے ساتھ ساتھ مصنف نے اس کی ضخامت بڑھانے کے کئی اور نادر طریقے بھی ایجاد کیے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے:
” ثناءاللہ خاموشی سے دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا
گھر میں سناٹا تھا۔
صوفے کے نیچے پالتو کتا دبک کر بیٹھا تھا۔
وہ سناٹے سے شاید ڈر گیا تھا۔
وہ اٹھا اور رمیش کمار کی گود میں آ کر بیٹھ گیا۔”۔ ( صفحہ نمبر 29)
آپ نے دیکھا، دو سطور کا مواد پانچ سطور میں کس جسارت معاف کیجیے گا مہارت سے کھپایا گیا ہے ( اس حرکت کا ارتکاب جا بہ جا کیا گیا ہے)۔
صفحہ نمبر 356 کے اخیر میں یہ یک سطری باب دیکھیئے:
” آئندہ ماہ وہ ممبئی جانے والا تھا لیکن پھر اس نے سوچا پہلے دہلی جا کر انیتا اورعارفہ سے ملاقات کرے “
لیجیے صاحب باب ختم، مندرجہ بالا سطر کے نیچے ایک دائرے کا ڈیزائن ہے جس کے عین درمیان میں سیاہ ٹیکا لگا ہوا ہے۔ اگلا باب بھی یک سطری ہے:
انیتا نے دلی آنے سے دو دن پہلے کال کیا اور مکان کا پتا دیا۔     ( صفحہ نمبر 357)
چلیے اس یک سطری باب کا بھی خاتمہ ہوا۔  محولہ بالا سطر کے نیچے بھی ایک عجیب سا ڈیزائن لیے ایک نصف دائرے کا نشان ہے۔ اس باب کے خاتمہ اور نئے باب کے آغاز میں بھی تقریباً دو انچ کا فاصلہ ہے۔ یہ حرکت بار بار دہرائی گئی ہے۔
نہ جانے اردو ناول نگار کب تک ضخیم اور عظیم کو لازم و ملزوم سمجھتے رہیں گے۔ کامیو، سارتر، کنڈیرا، جارج آرویل اور دیگر مغربی مصنفین نے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ ضخیم ناول ہی عظیم نہیں ہوتا۔ کوئی بھی ناول صفحات کی تعداد زیادہ ہونے سے بڑا ناول نہیں بنتا بل کہ اپنے گاڑھے مواد، منفرد موضوع، عمدہ کہانی، منفرد ہئیت، عمدہ کردار نگاری،جان دار مکالموں اور اعلا کرافٹ سے عظمت کے راج سنگھاسن پر بیٹھتا ہے۔ ناول کو اپنی عظمت ثابت کرنے کے لیے فی زمانہ کوئی میراتھون ریس جیتنے کی ضرورت نہیں ہوتی؛ سو میٹر کی ریس جیت کر بھی وہ عظمت کا گولڈ میڈل جیت سکتا ہے۔ لیکن اردو کے بیشتر ادیب جب تک اپنی معلومات کی زنبیل جھاڑ نہ لیں؛ ان کی تسلی ہی نہیں ہوتی۔ یہی وہ مزاج ہے جو مصنف کو تخلیق کار سے منشی بنا دیتا ہے۔
” سات سو اسی صفحات پر مشتمل “زندیق” اپنے موضوع، مواد اور “کہانی” کے  تناظر میں اسی یا نوے صفحات میں اپنی موجودہ صورت سے کہیں بہتر نظم اور قرینے سے لکھا جا سکتا تھا۔
پورے ناول میں ایک بھی کردار ایسا نہیں جو ثمر آور مطالعے کا امکان تک پیدا کرے۔ ثناءاللہ سمیت سبھی کردار پیچیدگی، گہرائی اور تہ داری سے یکسر محروم ہیں اور کسی اخلاقی یا نفسیاتی مطالعہ کی دعوت نہیں دیتے۔ شہناز، شاہین، عارفہ اور بادوشا  چھوٹے سے چھوٹے پیمانے پر بھی انفرادیت تو کیا ایک دوسرے سے الگ شناخت بھی قائم نہیں کر پاتے۔ سبھی جنسی عمل کے لیے ہر گھڑی تیار کامران ہیں۔ سبھی کی زبان، سوچ، طور طریقے اور دل چسپیاں تک اتنی یکساں ہیں کہ یہ ایک دوسرے کی فوٹو سٹیٹ کاپیاں محسوس ہوتے ہیں۔
ناول نگار بار بار ثناءاللہ میں حلول کرتا اور سرِ عام لمبی لمبی تقریریں کرتا پایا گیا ہے۔ ناول کے کردار جو اپنے مکالموں میں روزمرہ زبان بولتے ہیں۔ ناول نگار کی روح حلول ہوتے ہی جناتی زبان میں بھاشن دینے لگتے ہیں۔ کسی ایک کردار کی تصویر کشی ایسی نہیں کی گئی کہ وہ اپنی تہذیب میں ڈوبا نظر آئے۔ کرداروں کو ان کے تہذیبی پس منظر سے ہم آمیز کرنے میں ناکامی اصل میں ناول نگار کے مشاہدہ کے سطحی پن کی چغلی کھاتی ہے۔
ناول کے تقریباً سبھی کردار جنسی عمل کے لیے ایسے ہی تیار رہتے ہیں جیسےدوڑ شروع ہونے سے پہلے، پستول چلنے کے انتظار میں اتھلیٹ۔ جنس اور اس کا اظہار کسی طور پر بھی قابلِ اعتراض عمل نہیں کہ یہ انسانی زندگی کا انتہائی اہم پہلو ہے۔ لیکن کسی بھی تحریر میں اس کامتوازن  تناسب اور بیان بڑا اہم ہوتا ہے۔ ” زندیق” اس معاملے میں امتیازی نمبروں میں فیل ہوا ہے۔ ابھی ایک جنسی عمل کے بعد کرداروں کی سانسیں درست نہیں ہوتیں اور انھیں ایک نئے جنسی معرکے میں جھونک دیا جاتا ہے۔ ہر چھبیلی نار ثناءاللہ کے ساتھ مجامعت کے لیے تیار بیٹھی ہے۔ فقط ازنِ مصنف کی دیر ہے۔  اور مصنف: اسے تو نئے نئے ریفری کی طرح بار بار وسل بجانے کا لپکا ہے۔ لیجیے صاحب, کھیل مکرر شروع۔
ناول میں ایک شدید بل کہ اعصاب زدہ فحش فضا کا راج ہے۔ لیکن نہ تو یہ کردار نگاری میں مددگار ثابت ہوتی  ہے اور نہ ہی کسی کردار کی نفسیات نگاری میں معاون۔ مطلقاً: فحش برائے فحش۔ حیرت ہوتی ہے کہ ایک تخلیق کار اتنا بے ہودہ ناول کیسے لکھ سکتا ہے۔ ادب تو کیا اس پر تفریح کی سطح پر بھی کوئی معنی خیز بات نہیں ہو سکتی۔
ادبی تقاضے نبھانے اور آرٹ کے ڈسپلن کے اندر رہتے ہوئے ہارڈ کور پورنو گرافی بھی قطعاً قابلِ اعتراض عمل نہیں ہے۔ بہ قول حسن عسکری:
” فن کا تناسب بذات خود ایسی چیز ہے جو گندی سے گندی بات کو بے ضرر بنا دیتا ہے اور فنون میں یہ تناسب لکیروں، رنگوں وغیرہ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور ادب میں بیانیہ انداز کے لوازمات بھی اس کی ایک قسم ہے”
لیکن خاطر نشان رہے کہ فحش برائے فحش کو ہرگز آرٹ کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ “زندیق” میں زندگی کے تلخ حقائق سے گریز پا ہو کر ایک ایسے خیالی عالم میں پناہ لی گئی ہے جس میں بہ قول علی عباس جلال پوری سوائے جنسی مواصلت کے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جنسی مناظر کی تفصیل نگاری میں اکتا دینے والی یکسانیت ہے جس نے جنس جیسے لطیف عمل کو بھی سراسر میکانکی بنا دیا ہے۔ ثناءاللہ، پرسنا، شہناز، شاہین، عارفہ، انیتا اور بادوشا وغیرہ جنسی ہیجان کا شکار نظر آتے ہیں اور میکانکی انداز میں جنسی مواصلت کیے جاتے ہیں۔ میکانکی انداز میں بار بار دہرایا جانے والا جنسی عمل انسانی نفسیات کے متعلق کسی ایسی بصیرت کا انکشاف نہیں کرتا جو زندگی کی تفہیم کا کوئی نیا در کھولے۔ لہذا جنس کا تجربہ، آرٹ کا تجربہ نہیں بن سکا۔ آرٹ کی دل چسپی جسمانی اختلاط سے زیادہ ان نفسیاتی محرکات میں ہوتی ہے جن سے جنسی طرزِ عمل نمو پاتا ہے۔ ادب جنس کو بازاری آدمی کا پھکڑ پن نہیں، انسانی فطرت کی بوالعجبیوں کا افسانہ بنا کر پیش کرتا ہے۔
ناول نگار نے کہانی کی ایجاد، کرداروں کی پیش کش، موضوع اور مواد کی مطابقت، واقعات کے حسنِ ترتیب اور ڈرامائیت، مکالمہ نگاری، فارم، تکنیک اور زبان و بیان: کم و بیش ہر محاز پر شکست کھائی ہے۔
تاریخ، اسطور، جنس اور نظریہ کے مسالوں کے باوجود ناول کی ہنڈیا بد ذائقہ ہی اتری ہے۔ مصنف کے کہانی سے زیادہ اپنے گیان ہر دھیان نے ناول  کا بلیدان دے دیا ہے۔ ناول نگار کی پریشاں خیالی کا سفر قاری کی زبوں حالی پر منتج ہوا ہے۔
مصنف نے ناول کو خوابوں،یادداشتوں، نظموں، سفر ناموں، معلوماتوں، تقریروں، لیکچروں اور اسطور کے مضرِ صحت کھابے کھلا کھلا کر انتہائی فربہ کر دیا۔ خدشہ ہے کہ کہیں یہ اپنے ہی نیچے آ کر نہ مر جائے۔ اس جبری فربہی نے ناول کی ادبی صحت کو ایسے ہی برباد کیا ہے جیسے شدید موٹاپا انسانی صحت کو برباد کرتا ہے۔  شدید ترین ڈائٹنگ بھی شاید اب اسے نہ بچا سکے۔ ادبی قبرستان میں ایک اور ناول کی قبر کا اضافہ ہونے کا خطرہ ہے۔ جس کے کتبے کی تحریر شاید یہ ہو:
‘ یہ تو تھا معلوم مر جائیں گے آپ
                لیکن اس پھرتی کے کیا کہنے جناب ‘
زندیق” کا ایک اور نمایاں عیب اس کی کم زور زبان ہے۔ الفاظ کی نشست و برخاست کے مسائل، تذکیر و تانیث کی فاش اغلاط، شاعرانہ اسلوب کے مضحکہ خیز مظاہر اور تقریباً ہر دوسرے تیسرے صفحہ پر اعصاب شکن لفظی تکرار نے حسنِ عبارت کو غارت اور قرات کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ اسی طرح بیانیہ میں غیر ضروری طور پر استعمال کئے گئے انگریزی الفاظ نے، فی زمانہ فہمیدہ ہونے کے باوجود، تحریر کی جمالیاتی قدر کو بری طرح متاثر کیا ہے اور بیانیہ کو مزید کھردرا بنا دیا ہے۔ مختصر یہ کہ  ” زندیق” ایک ایسا شمشان گھاٹ  ہے جہاں تا حدِ نگاہ زبان و بیان کی چتائیں جل رہی ہیں۔ ملاحظہ کیجئے:
” وہ اپنی ارتکازیت اور ظفر کی سادگی میں زندگی سے شاداں اور زندگی پر نازاں تھی۔” ( صفحہ نمبر 46)
” آناً فاناً انھیں اسپتال پہنچایا گیا لیکن تب تک دل کی ٹوٹی شریانوں سے کافی خون بہہ چکا تھا۔” ( صفحہ نمبر 29)
” انھیں ایسے موضوعات پر باتیں کرتے ہوئے دیکھ کر کتا بھی خوش لگ رہا تھا۔” ( صفحہ نمبر 30)
” اس دوران ثناءاللہ نے سگریٹ سلگائی، کش لیے، گیارہ بج رہے تھے، ہوائیں معتدل تھیں۔” ( صفحہ نمبر 132)
” یکایک پہاڑوں پر لٹکتے ہوئے بادل پھیل کر آسمان بھر میں بکھرے۔” ( صفحہ نمبر 182)
تذکیر و تانیث کے مسائل بھی دیکھیے:
” چنانچہ حکومت نے کورٹ کے فیصلے کے خلاف بل نہیں لایا۔” ( صفحہ نمبر 53)
” جس طرح ان کے آنکھ کی بے حرمتی کی گئی تھی یہ جان کر وہ ایک اذیت میں مبتلا تھا۔” ( صفحہ نمبر 55)
” یہاں اس پر یہ بھی کھل گیا کہ شہناز کا حسِ مزاح نکھرا ہوا ہے۔” ( صفحہ نمبر 149)
” وہ آسمان یہ آسمان نہیں ہے جو ہمارے سروں پر ہے بلکہ ایک بے حد خوبصورت اور ہزارہا رنگوں کی جھرمٹ ہوتا ہے۔” ( صفحہ نمبر 141)
” اتنا روشن کہکشاں اور ایسا منور تاروں بھرا آسمان انھوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔” ( صفحہ نمبر 197)
ایک ہی جملہ میں صیغہء حال اور ماضی کی قلابازیاں ملاحظہ فرمائیں:
” وہاں سے مارکیٹ چار پانچ منٹ کے فاصلے پر تھی لیکن درمیان مں جو دکانیں ہیں وہ ہمیشہ اس کی توجہ مبذول کرتی رہی تھیں۔” ( صفحہ نمبر 59)
لفظی تکرار کے شاہ کار بھی دیکھیے:
” وہ جن گھروں میں کام کرتی تھی اسے ان گھروں کے راز تو پتا ہی تھے لیکن وہ جن گھروں میں کام نہیں کرتی تھی ان گھروں کے راز بھی وہ جانتی تھی۔” ( صفحہ نمبر 68)
اتنی مختصر عبارت میں اتنی بار گھروں پڑھ کر قاری پر گھڑوں پانی پڑتا ہے۔
” تب اس نے اپنے پستانوں کو ایک الگ انداز سے چھوا تھا، اس نے آج تک اپنے پستانوں کو اس نظر سے نہیں دیکھا تھا، آج اس کے پستان ایک آں کے پستان تھے جس میں نئی زندگی کے لیے سفید خون کی نہریں تھیں۔ اسے آج خود پر، اپنے جسم پر، اپنے پستانوں پر اور اپنی ساخت پر رشک تھا۔”  ( صفحہ نمبر 82)
چند سطور پر اس عبارت میں پانچ مرتبہ پستان کا استعمال، قاری کے پستان معاف کیجئے گا اوسان خطا کرنے کے لیے کافی ہے۔ علاوہ ازیں، سفید خون کی نہروں کا بھی جواب نہیں۔
اب خواب کا عذاب بھی جھیلیے:
” خواب کے اس حصے میں ایلا اپنے شبستان میں سو رہی تھی اور خواب دیکھ رہی تھی، اسے یہ احساس تھا کہ وہ بستر پر لیٹی ہوئی ہے اور خواب دیکھ رہی ہے، خواب میں اسے یقین تھا کہ وہ جاگ  نہیں رہی ہے بلکہ خواب دیکھ رہی ہے،” ( صفحہ نمبر 85)
لیجیے حضور، اب  تنہائی کی شہنائی بھی سنیے:
” اس وقت صرف  تنہائی ہوگی اور یہ تنہائی شہناز کی تنہائی سے اسی طرح الگ ہے جس طرح اس کی تنہائی کشمیر کی سرحد پر لگائی گئی باڑھ کی تنہائی سے مختلف ہے۔” ( صفحہ نمبر 149)
کئی مقامات پر مصنف نے زبان کو شاعرانہ رنگ دینے کے چکر میں مضحکہ خیز بنا دیتا ہے۔
” وہ خموشی اور رضا مندی سے اس ابدی رقصِ جنس میں شریک ہو کر اپنے جسم کی بھٹی میں خواہش کی کونپلوں سے ٹپکنے والی گرم بوندوں کو محسوس کر رہا تھا” ( صفحہ نمبر 127)
ببھئی، بھٹی میں کونپل کا جواب نہیں۔
” وہ اپنی روح کا ایسا نغمہ بن جاتی تھی جو اپنی ذات کے کنویں کی آخری پرتوں سے شعور کی آئینہ نگری میں مراجعت کر رہا ہوتا۔” ( صفحہ نمبر 80)
” ماحول میں تحلیل نغمگی اور پہاڑی گھاس کی خوشبو کو وہ اسی طرح سونگھ سکتے تھے جس طرح کوئی جانور سونگھنے کی فطری صلاحیت رکھتا ہے۔” ( صفحہ نمبر 196)
نغمگی سونگھنے کا جواب نہیں۔
زبان و بیان کے دیگر شعبوں کی طرح مصنف نے تمثیل نگاری کی میدان میں بھی جھنڈے گاڑنے میں تساہل سے کام نہیں لیا:
” اتنا کہنا تھا کہ اس کی آنکھوں کے کنویں کا پانی چھلک پڑا۔” ( صفحہ نمبر 138)
” ہمالیائی پہاڑوں پر مغموم دھندلاہٹ کچھ اس طرح چھائی جس طرح یومِ عاشورہ کے دن اہلِ تشیع کے دلوں پر غم کا بادل چھاتا ہے۔” ( صفحہ نمبر 41)
تمثیل نگاری تو شان دار ہے ہی لیکن ” یومِ عاشورہ کے دن” کی داد الگ سے دینی بنتی ہے۔
ناول نگار کی اردو اور اس کے کرداروں کی انگریزی دونوں درست نہیں ہیں۔ مثلاً صفحہ نمبر 136 میں ثناءاللہ کہتا ہے :
Right, she was an unique and intelligent soul”
اب دیکھیے کہ کس طرح انگریزی الفاظ کے غیر ضروری استعمال نے بیانیہ کو پامال کیا ہے:
” اسی بنا پر اسے لگا کہ انٹرویو لینے والی ٹیم اس سے امپرس ہوئی ہے۔ ( صفحہ نمبر 34)
” یہ اور دوسری باتیں سن کر ثناءاللہ ڈسٹرب تھا لیکن چپ رہا۔” ( صفحہ نمبر 54)
” اس نے دوبارہ ثناءاللہ کو ہگ کیا اور کہا؛” ( صفحہ نمبر 88)
” اب جب انیتا نے اسے کس کیا تو اس نے پوچھا؛” ( صفحہ نمبر 88)
زبان و بیان کے حوالے سے محولہ بالا مثالوں ہی پر اکتفا کروں گا۔ اگر ساری اغلاط درج کرنے لگوں تو کئی دفتر درکار ہوں گے۔ یہ ضخیم ناول 780 صفحات پر مشتمل ہے۔ پبلشر کو قارئین کی سہولت کے لیے اتنے ہی خالی اوراق بھی اس کتاب کے ساتھ لف کرنے چاہئیے تھے۔ تاکہ قارئین کو ناول کی مکمل اغلاط درج کرنے میں آسانی رہتی۔” زندیق” میں اغلاط کی تعداد، پانی پت میں ظہیر الدین بابر کی فوج کی تعداد سے شاید ہی کم ہو۔
صفحہ نمبر 781 پر ناول نگار نے پنتالیس سے زائد خواتین و حضرات کا، ناول کی تکمیل میں اہم رول ادا کرنے پر، نام لے لے کر شکریہ ادا کیا ہے۔ ناول میں جس قدر اغلاط اور ادبی اسقام ہیں اسے دیکھ کر قاری تو  پہلے ہی سوچ رہا تھا کہ یہ ہرگز اکیلے آدمی کا کام نہیں ہو سکتا۔
زندیق” کی ایک منفرد خوبی یہ بھی ہے کہ آپ اسے جہاں سے مرضی پڑھنا شروع کردیں آپ بوریت سے محروم نہیں ہوں گے۔ اکتا دینے کی ایسی مسلسل صلاحیت بہت کم کتابوں میں ہوتی ہے۔

میں نے اپنے بچوں کو دھمکا رکھا ہے کہ اگر امتحانات میں اچھے مارکس نہ آئے تو زبردستی” زندیق” پڑھواوں گا. اس متوقع ناقابلِ برداشت سزا سے بچنے کے لیے؛ آج کل وہ دوگنی محنت کر رہے ہیں۔
“زندیق” کی تشہیر سے متاثر ہو کر ( ایمان داری کی بات ہے اپنے ناول کی تشہیر میں مصنف “حدود ناطق” بھی عبور کر گیا ہے) میں نے اس کی دو عدد کاپیاں خریدی تھیں۔ ایک اپنے لیے اور دوسری یورپ میں مقیم اپنے ایک ادیب دوست کے لیے جو بڑے اہتمام اور باریک بینی سے فکشن پڑھتا ہے۔ لیکن اتنی دیدہ ریزی کے باوجود اگر کتاب اسے اچھی نہ لگے تو وہ خصوصی طور پر اپنے کی بلند ترین عمارت کی چھت پر جاتا ہے اور وہاں سے اس کتاب کو نیچے پھینک کر غمِ زیاں دور کرتا ہے۔ موصوف نے ” زندیق” پڑھ کر مجھے فون کیا اور بتایا کہ کل وہ اس ناول کو بھی اسی عمارت کی چھت سے نیچے پھینکنے گیا تھا۔ لیکن پھر یہ سوچ کر واپس آ گیا کہ اگلے ہفتے وہ دبئی تو جا ہی رہا ہے۔ اس ناول نے اسے جس قدر اذیت دی ہے کم ازکم اسے برج الخلیفہ سے نیچے پھینکے تو اس کی تسلی ہوگی۔
“زندیق” میں تحریر کی سطحیت، اکتا دینے والی یکسانیت، بے کیف تواتر، کم زور کردار نگاری، کرافٹ سے محرومی، ناقابلِ برداشت دہرائی، تخیل کا افلاس، موضوع اور مواد کی بےرنگی، مضحکہ خیز غنائیت, واقعات میں ربط و ضبط کی کمی اور جمالیاتی تفریح کا فقدان اسے کسی سنجیدہ مطالعے کا موضوع نہیں بننے دیتا۔  پورے ناول میں کوئی ہنگامہ نہیں، گہما گہمی نہیں، کہانی میں اشتیاق کو مہمیز کرتا زیر و بم نہیں، بڑا فن کار ایک نقشِ موہوم کو بھی اپنے فن کے اعجاز سے ایک جیتا جاگتا کردار بنا دیتا ہے۔ لیکن “زندیق” کے مصنف نے اپنے فنی پھوہڑ پن سے جیتے جاگتے کرداروں کو نقشِ موہوم بنا دیا ہے۔ وہ کردار کی شخصیت میں گم ہونے کی بجائے کرداروں کو اپنی شخصیت میں گم کرنے کے چکر میں انھیں گما بیٹھا ہے۔ ناول نگار کی ہمہ وقت موجودگی نے ناول کی فطری نشو ونما اور نفسیاتی ساکھ کو بری طرح مجروع کیا ہے۔ مصنف نے نہ حسنِ صورت کا خیال رکھا ہے اور نہ ہی حسنِ تناسب کا۔ موصوف نے نفسِ مضمون سے ہٹ کر غیر متعلقہ موضوعات پر بے محابا طول بیانی کا مظاہرہ کر کے اپنے ناول کو بدسلیقگی کا شاہ کار بنا دیا ہے۔
“زندیق” کی مدح میں لکھے گئے مضامین میں ذہنی پختگی اور ناقدانہ فکر کی کمی واضح طور پر نظر آتی ہے۔  تاثراتی تنقید کے طاقت کے ٹیکے لگانے سے ناول میں فقط اتنی قوت پیدا ہوئی ہے کہ وہ مرنے سے پہلے وصیت کر سکے۔
ادبی موت بری تحریر کا حتمی مقدر ہوتا ہے۔ مصنف کی پبلشر تک کو شرم سار کر دینے والی ناول کی تشہیر،  مستقبل میں سود سمیت ستائش کی وصولی کا یقینِ کامل رکھ کر لکھے گئے تعریفی مضامین اور ناول کو بغیر  مکمل پڑھے فقط مصنف کو مقروض کرنے کی” نیتِ حسنہ” سے کیے گئے بروقت تبصرے؛ بری تحریر کی ادبی موت کو نہیں روکتے۔ کتاب کو بک شاپ کی شیلف سے قاری کی گود تک پہنچا کر صرف اس کی جائے وفات تبدیل کرتے ہیں۔ لہذا کتاب بک شاپ کی شیلف میں نہیں، قاری کی گود میں دم توڑتی ہے۔ تاہم اس اہتمام سے یہ فرق ضرور پڑتا ہے کہ جنازہ خواہوں کی تعداد خاصی بڑھ جاتی ہے۔ جو مستقبل میں بھی مرحومہ کو ” کلام ” پڑھ پڑھ کر بخشتے ہیں اور کتاب کے “درجات کو مسلسل “بلند” کرتے رہتے ہیں۔
زندیق” حیرت، انکشاف اور تجسسس سے یک سر محروم ایک بے رنگ، بے کیف اور خشک ناول ثابت ہوا ہے۔ یہ کسی معنی خیز حقیقت یا انوکھی سچائی کا انکشاف کر کے قاری کو دھچکا نہیں پہنچاتا۔ انسانی نفسیات کے ایسے سربستہ رازوں کو آشکار نہیں کرتا جس کی مدد سے قاری کا شعور؛ آگہی کی کسی نئی منزل کی طرف سفر آمادہ ہو۔ بہ قول کامیو:
” ادب کا کام دھچکا پہنچانا ہے تا کہ شعور خود اطمینانی کی کائی تلے منجمد نہ ہو جائے۔”
“زندیق” صرف اور صرف قاری کے اعتماد کو دھچکا پہنچاتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...