غسان کنفانی ؛ شعر، نثر اور ادھورا کینوس

222

” نوع انسانی کی تاریخ میں، کمزور ہمیشہ، طاقتور سے بر سرِ پیکار رہا ہے۔ کمزور اس لڑائی میں حق پر رہا ہے اور طاقت کے نشے میں چور طاقت ور ہمیشہ اُس کا استحصال کرتا رہا ہے “, غسان کنفانی نے یہ الفاظ اردن میں شاہ حسین کے خلاف مظاہروں کی پریس کانفرنس کے دوران ادا کئے۔

آج سے ۵۰ سال قبل صیہونی کار بمب نے ۱۷ سالہ نوخیز لمیس کو مسلنے کے ساتھ ہی ۳۶ سالہ تناور درخت غسان کے بھی پرخچے اڑا دئیے تھے۔ اگلے روز لبنانی اخبار ڈیلی سٹار کی سرخی کچھ یوں تھی ” وہ ایک ایسے کماندار تھے جنہوں نے کبھی بندوق نہیں چلائی جن کا ہتھیار ان کا قلم تھا اور میدان جنگ اخبارات کے صفحات”.

فلسطینی شاعر محمود درویش ایک نوحہ لکھتے ہوئے نظم، نثر اور بے رنگ کینوس کا دکھ انسانوں، گھروندوں اور زیتون کے درختوں کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ ۸ جولائی ۱۹۷۴ میں اسے طرز پر کچھ اور صفحات کی روشنائی مٹا دی گئی، کچھ اور کینوسوں کے رنگ چھین لئے گئے، زیتون کے کچھ اور درختوں کی شناخت رد کر دی گئی۔

قارئین شاید اب تک یہ اندازہ تو لگا چکے ہوں کہ ذکر کسی غاصب کے ظلم کے شکار کا ہو رہا ہے۔ اور شخصیت کا نام غالباً غسان ہے۔ فلسطین میں جب بھی صیہونی جارحیت بڑھی ہے، روشن آنکھوں والے ایک خوبصورت نوجوان کی ویڈیو سامنے آتی ہے، جہاں وہ عربی لہجے مگر شستہ انگریزی میں مغربی صحافیوں کے تعصب زدہ سوالوں کے برجستہ جواب دے رہے ہوتے ہیں٫ یہ غسان کنفانی ہیں۔

غسان فلسطینی شہر اکّہ میں پیدا ہوئے اور ۱۲ سال کی عمر میں اسرائیلی قبضے سے چند روز قبل ہی یافا سے لبنان ہجرت کی۔ تعلیمی سلسلہ لبنان میں جاری رکھا اور ایک مہاجر کیمپ میں فنون لطیفہ کے استاد کی نوکری کی، کہانیاں لکھنے کا سلسلہ بھی وہیں سے شروع ہوا۔ کچھ عرصہ اردن اور کویت میں گزارا جہاں مختلف اخبارات سے منسلک رہے۔ اسی دورانیے میں فلسطین واپسی پر PFPL یعنی پاپولر فرنٹ فار پالیسٹنیان لبریشن جیسی تحریک آزادی سے منسلک ہوئے اور انکے سیاسی ترجمان کا کردار ادا کرتے رہے( موساد کے نشانے پر بھی غسان اسی تعلق کی بنا پر آئے، ورنہ جارحانہ سرگرمیوں سے اُنکا دور دور تک کوئی واسطہ نہ تھا )۔ ساتھ ہی غسان کے ناول بھی یکے بعد دیگرے سامنے آتے رہے۔

غسان غالباً وہ پہلے فلسطینی لکھاری تھے جن کے قلم میں اول بار وہ مزاحمتی رنگ جھلکا جو بعد میں فلسطینی ادب کا پھر مستقل جز بن گیا۔

اُن کے پانچ ناول اور کہانیوں کے پانچ مجموعے شائع ہو چکے ہیں، جن پر نہ صرف بعد الوفات ان کو ایوارڈز سے نوازا گیا، بلکہ ان کتابوں پر فلمیں بھی بن چکی ہیں۔ اُنکی چند مشہور ترین تصانیف کا ذکر پڑھنے والوں کے لیے کرتے چلیں ‘ رجال فی الشمس۔۔تپتی دھوپ میں آدمی ‘ جو فلسطین سے تلخ حالات میں کام کی تلاش میں کویت جانے والے ایک گروہ کی داستان بیان کرتا ہے ‘, تمہاری باقیات ‘ جو غزہ کے ایک مہاجر کیمپ میں بستے خاندان کی داستان ہے جہاں مریم اور حامد کے والد مرتے وقت یہ وصیت کرتے ہیں کہ جب تک ہمارا وطن آزاد نہ ہو، تم میں سے کوئی بھی رشتہ ازدواج سے منسلک نہیں ہوگا۔ يوں ‘ ام سعد’ ایک ایسی ماں کی کہانی ہے جو اپنے بیٹے کو وطن کی آزادی کے لئے فدائین کا حصّہ بنانا چاہتی ہے, اور ‘ حیفہ سے واپسی’ داستان ہے سعید اور صفیہ کی جو اردن کے رہائشی ہیں مگر اسرائیل و عرب کی ۶ روزہ جنگ کے بعد وہ مقبوضہ فلسطین کے شہری بن جاتے ہیں۔

شروع شروع میں کنفانی کی کہانیاں فلسطین کے بارے میں تھیں، مگر آہستہ آہستہ فلسطین کہانی کے بجائے ایک علامت بن کر ابھرا، اب کی بار فلسطینی ادب مزاحمتی تناظر لئے ابھرا۔ کنفانی سے جب پوچھا گیا کہ کجا ادب اور کجا سیاسی جہدوجہد، تو انکا جواب یہ تھا ، ‘ ناول نگاری اور سیاسی تحریک ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں۔ میں شاید سیاسی کارکن ہی اسی واسطے ہوں کہ میں ایک ناول نگار ہوں۔

اسی سلسلے میں حادثے سے ایک روز قبل کا یہ واقعہ دلچسپ ہے۔ لمیس نے چچا سے اپنی مزاحمتی سرگرمیاں ترک کر کے صرف لکھنے لکھانے پر غور کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ لمیس کا کہنا تھا، ‘ آپ کی کہانیاں نے انتہا خوبصورت ہیں، خدارا اپنا وقت کہانیاں لکھنے میں صرف کیجئے’. غسان نے جواباً کہا، جس روز میں نے اپنے اصولوں سے منہ موڑ لیا، میری کہانیاں محض بے سروپا الفاظ بن کر رہ جائینگی، جس روز میں اپنے سیاسی نظریات اور جدوجہد کو چھوڑ دونگا ، کوئی اور تو کیا تم خود میری ویسی عزت نہیں کر پاؤ گی ‘, اس روز غسان نے اپنے دلائل سے لمیس کو قائل کر لیا تھا۔
کنفانی کو رنگوں سے محبت تھی، کہ وہ ایک مصور تھے، الفاظ سے اپنی کہانیوں کے ذریعے کھیلتے تھے اور پہلی اور آخری محبت اُنکی فلسطین، بلکہ آزادی رہی۔ انکا لکھا ادب فلسطین کے دکھ سے جدا تو نہ ہوا مگر آہستہ آہستہ وہ ہر ظالم، قابض اور غاصب ریاست و شخص کے خلاف صدا بن کر ابھرا۔ کنفانی کے آخری دنوں کے یہ الفاظ ہر آزادی پسند اور مستبد رژیم کے مخالف کے لئے لوح روشن ہیں, ‘ ہماری جنگ محض فلسطینیوں کی آزادی کے لئے نہیں بلکہ ہمارے دور کے ہر استحصال زدہ اور مظلوم طبقے کے لیے ہے.

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...