نئے نقاد کے نام وارث علوی کا پانچواں خط

616
عزیزی و محبی!
میں جانتا ہوں کہ تمھیں شدت سے میرے خط کا انتظار ہے۔ مجھے تمھاری بےچینی کی وجہ بھی معلوم ہے۔ نقادِ تفنگ انداز اب تک تمھارے قلعہء نقد پر سات مکتوبات کے گولے داغ چکا ہے اور میں نے ہنوز اس کے پانچ عدد خطوط ہی پر بات کی ہے اور وہ بھی قدرے تاخیر سے، لیکن :
               ‘ ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا’
میں نے گزشتہ خط میں تمھیں مطلع کیا تھا کہ مجھے بہ یک وقت نقادِ زود نویس کے تین عدد خطوط کی نقول ملی ہیں۔ ارادہ تو یہی تھا کہ ان تینوں مکتوبات کی بابت تم سے بات کرلوں۔ تاہم  نقادِ محشر خیز کا دوسرا خط پڑھ کر مجھ غریب کی حالت بھی ویسی ہی دگرگوں ہوئی جیسی اس دشمنِ جاں کا پہلا رقعہ پڑھنے والی حورِ بے قصور کی ہوئی تھی۔ اس کا احوال تو تم میرے سابقہ مراسلہ میں پڑھ چکے۔ اب میری بپتا بھی سنو۔
خطِ مذکور کے مندرجات پڑھتے ہی مجھ پر غشی طاری ہو گئی۔ دماغ کُھوکھل اور حواس ہرن ہوئے، ضَرْبَۂ قلب بے قابو، سانس کھٹکنے لگی اور بدن عرقِ بحرانی سے تر بہ تر ہو گیا۔ ترت مجھ خط گزیدہ کو دارالشفا پہنچایا گیا۔ مکمل طبی معائنہ کے بعد اطبا نے انکشاف کیا کہ مجھ پر خطو وِڈ (Khatovid-21) کا شدید حملہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیماری ایک انتہائی مہلک وائرس کے زریعے پھیلتی ہے جو تنقیدی وعظ و نصائح پر مبنی خطوط کے ذریعہ قاری کے دماغ میں داخل ہوتا ہے اور یک دم اس کی تنقیدی بصیرت کا قلع قمع کر دیتا ہے، ادبی فہم کی جڑیں اکھیڑ دیتا ہے اور زبان و بیان کا بیج مار دیتا ہے۔ اختلاجِ قلب، مختل الحواسی، ادلاع السان یعنی زبان باہر آ جانا ، داءُ الرَّقْص یعنی رعشہ اور فسادِ ہضم اس کی خاص علامات ہیں۔ معلوم ہوا کہ ادبی دنیا میں یہ وبا آج کل زوروں پر ہے۔ ویسے تو یہ مرض ہر سخن ور کے لیے مہلک ہے تاہم نئے نقاد سب سے زیادہ اس وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں۔
چوں کہ مجھ میں مندرجہ بالا تمام علامات موجود تھیں سو فورا مجھے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا جہاں سہ مرتبہ مجھے مندرجہ زیل ادویات دی جاتی تھیں۔
دوونج عقربی 3 ماشہ، زربناد 3 ماشہ، دانہ الائچی خُورد 4 ماشہ، چاندی کے ورق میں لپٹا آملہ کا مربہ، تخم خرد سیاہ 3 ماشہ، زرشک کشنیز 3 ماشہ، خشک آلو بُخارا 4 دانے، عرق بید 4 تولہ اور خمیرہ گاؤ زباں عنبری جواہر دار دو تولہ۔ تنقیدی و ادبی بصیرت کی بحالی اور زبان و بیان کی ہریالی کے لیے بلا ناغہ مقدمہء شعر و شاعری، مضامینِ حسن عسکری، طلسمِ ہوش ربا، مکاتیبِ غالب، کلاسیکی اردو شاعری، رچرڈز، دریدا, بارتھیز اور ایلیٹ وغیرہ کی تصانیف پڑھنا تجویز ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ نقادِ ستم کوش کے نقد کُش خطوط، ادیب نما مسخروں کے ادھ کچرے ناولوں اور سوداگر پیشہ مبصرین کے ستائشِ باہمی کے نفع طلب قلم سے لکھے گیے پھٹیچر مضامین پڑھنے سے زبردست پرہیز کرایاگیا۔ دو ماہ کے مسلسل علاج اور سخت پرہیز کے بعد صحت یاب ہوا ہوں اور کل ہی حورانِ بہشتی کے جلو میں قصرِ گوہر نگار میں واپسی ہوئی ہے۔
عزیز از جان! عرض کرتا ہوں کہ ردی، ناکارہ اور نکمی تحریروں سے مسلسل پرہیز کے بعد ہی محولہ بالا مرض سلب ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اطبا نے آئیندہ بھی ناقص تحریریں نہ پڑھنے کی سخت تاکید کی ہے مبادا بیماری عود کرے۔ نا صرف یہ بل کہ دو عدد مسلح حورانِ چیرہ دست میری نگرانی کے لیے مقرر ہوئی ہیں جو اپنے خدو خال، طرزِ گفتار اور رویہ سے حوریں کم اور  سرکاری ہسپتال کی کھڑوس نرسیں زیادہ لگتی ہیں۔ لیکن کیا کروں؛ تمھاری محبت کے ہاتھوں مجبور ہوں۔ سو چھپ چھپا کر نقادِ زود نگار کا خط مکرر پڑھا ہے، تا کہ تم سے اس بابت بات ہو سکے۔
مدرس نقادِ کے پانچویں خط کا آغاز، سچائی کی گردان اور مابعد سچ کے وکی پیڈیائی بیان سے ہوتا ہے۔ موصوف بیانی ہیں:
” یوں تو لکھنے والوں کی مشکلات کئی ہیں۔ ایک بڑی مشکل کا سامنا انھیں اس وقت ہوتا ہے، جب وہ سچائی سے دوچار ہوتے ہیں۔ ایک مصنف سچائی سے دو چار کیسے ہوتا ہے، اسے اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ عام حالت میں اور لکھنے کے دوران میں سچائی سے دو چار ہونے کے معاملات یکسر مختلف ہیں۔ عام حالت میں ہم سچائی کو سرسری لیتے ہیں؛ غفلت، کاہلی، بے توجہی اور کئی بار غیر زمہ داری کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔ چیزوں اور لوگوں کا مضحکہ اڑاتے ہیں۔ عام حالت غالب کے لفظوں میں غفلت کی آسائش کی حامل ہے۔ مگر لکھتے ہوئے ہم اپنی اس عام حالت کا اعادہ نہیں کرسکتے۔”
نقادِ شبد خواں! نے حسبِ سابق، مکتبی ہدایت نامہ تو جاری کر دیا ہے لیکن پورے مراسلہ میں کہیں بھی یہ بتانا مناسب نہیں سمجھا کہ مصنف کے سچائی سے دوچار ہونے سے آخر اس کی مراد کیا ہے؟ اور لکھاری، سچائی سے کیسے دوچار ہوتا ہے؟ اور ایسی صورتِ حال میں اسے کرنا کیا چاہیے؟
موصوف مزید بیانی ہے:
” لکھنا، مکمل زمہ داری کا عمل تو ہے ہی ہے، کچھ ان سربستہ رازوں اور سچائیوںکے سیل کی صورت ابل پڑنے کا زریعہ بھی ہے، جن کی طرف پہلے کبھی نگاہ نہیں گئی ہوتی؛ یا ایک اندھے غار میں ان انوکھی آوازوں کی سمفنی سننے کا واقعہ ہے، جنہیں عام زندگی کے شور میں کبھی سنا نہیں گیا ہوتا، جس سے دل دہل سکتا لیکن روح توانا ہو سکتی ہے؛ یا ایک ایسی پیاس ہے جو ایک گھونٹ میں سمندر کو پی جائے مگر پھر بھی نہ بجھے۔”
محولہ بالا عبارت میں نقادِ ستم ایجاد نے ایک مرتبہ پھرسرِ عام، علمِ انشا کے نازک بدن پر تعقید و تنافر کے کوڑے برسائے ہیں۔ اور صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بل کہ سمفنی جیسی دل فریب موسیقی سے دل دہل جانے کا امکان ظاہر کرکے؛ سُر سنگیت کی حرمت کا بھی سروناش کر دیا ہے۔ سوچتا ہوں، اگر بیتھوون اور موزارٹ نے نقادِ غلط آہنگ کی یہ بات سن لی تو نہ جانے برصغیر کی موسیقی دانی کی بابت کیا سوچیں۔
میں نے نقادِ عجب گو کے شدید حیرت افزا جملے:  “جس سے دل دہل سکتا لیکن روح توانا ہو سکتی ہے” کی طبی و روحانی وجوہات جاننے کے لیے، بہشتی ماہرینِ قلب و روح سے بھی رابطہ کیا۔ یہ قولِ عجیب النوع سنتے ہی بے چاروں نے اپنے دل تھام لیے اور چُچ چُچ کرتے سر ہلانے لگے۔ اور پھر اچانک، انتہائی غصے سے اپنی انگشتِ شہادت کو دمِ دروازہ کی طرف متواتر جھٹکے دیتے ہوئے؛ مجھے وہاں سے کھسک جانے کو کہا۔ میں نے قدرے لجاجت سے سوال دہرایا تو رونے لگے اور ہاتھ جوڑ کر بولے: بھائی! ہم نے تمھارا کیا بگاڑا ہے، ایسی اٹکل پچو باتوں سے کیوں ہمارے دماغ کا کچومر بنا رہے؟ ان کی حالت دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ نقادِ غلط نویس نے یقیناً کوئی ایسی بات کی ہے جس نے علمِ قلب و روح کی جڑیں اکھیڑ دی ہیں۔
مزید برآں ” ایک ایسی پیاس ہے جو ایک گھونٹ میں سمندر کو پی جائے” کا بھی جواب نہیں۔ سچ کہوں تو، قتلِ انشا اور فکرِ بے جا کا ایسا مہلک اقتران کم تحریروں کے حصہ ہی میں آیا ہے۔ نقادِ آشفتہ بیاں لکھتے وقت، جب کہ اسے غفلت کی آسائش میسر نہیں، اگر ایسی بے پر کی اڑاتا ہے تو عام حالت میں کیا کیا شوشے چھوڑتا ہوگا۔
نقادِ کوتاہ کن! مزید بیانی ہے:
غالب انسان کی ان دونوں حالتوں کے عارف تھے۔ایک جگہ کہا ہے: “چار سو دہر میں بازار غفلت گرم ہے”۔ ایک اور جگہ کہتے ہیں:
وہم غفلت مگر احرام فسردن باندھے
ورنہ ہر سنگ کے باطن میں شررپنہاں ہے
اس سے تم یہ بھی اندازہ لگاسکتے ہو کہ لوگ کتابوں پر کتابیں شایع کرکے بھی ، ایک سطر نہیں لکھتے۔”
میرے عزیز! یہ کم ہنری صرف کتابوں پر کتابیں لکھنے والوں کے مقدر ہی میں نہیں ہے۔ خطوط پر خطوط لکھنے والے بھی اس فکری بنجر پن اور بے ہنری میں کسی سے کم نہیں۔ یقین نہ آئے تو مکرر نقادِ کم نگاہ کے مکتوبات پڑھ کر دیکھ لو۔
مکتبی نقاد! اپنے خط میں مابعد سچ سے متعلق فرماتا ہے:
” کوئی بات سچ ہے تو سچ ہے۔ پھر دنیا کے ذہین ،چالاک اور جاہ پسند لوگوں(ان تینوں کا اجتماع خاصا انسانیت کے لیے اکثر مہلک ثابت ہوا ہے) نے یہ سمجھ لیا کہ لوگ سچائی کا ادراک کیسے کرتے ہیں۔ انھوں نے سچ بات،سچ بات کہنے والے اور اس کو سچ تسلیم کرنے کے عمل کےمابین تعلق دریافت کیا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ “اکیلا سچ” کہیں نہیں؛یہ ایک پیچیدہ مرکب ہے۔اب یہ تم پر منحصر ہے کہ تم اس کے کس جز کو زیادہ اہمیت دیتے ہو۔ان جاہ پسندوں نے یہ خیال کیا کہ” سچ تسلیم کرنے “کے جز کو زیادہ اہمیت دینے کے نتائج ان کے حق میں غیر معمولی ہوسکتے ہیں۔ یہ دھماکہ خیز سچ تھا۔انھوں نے سچ باتوں یا حقائق کو ایک طرف کیا اور سچ تسلیم کرنے کے طریقوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔یہی چالاک اور جاہ پسند لوگ ، ان سب اعلیٰ ترین انکشافات کو بھی اپنے حق میں پھیرنے میں ملکہ رکھتے ہیں،جن کے لیے نیک طبع، مخلص لوگ عمریں صرف کرتے ہیں۔ تو میرے بھائی مابعد سچائی میں سچائی مسئلہ نہیں، کوئی چیز کیسے سچ کے طوپر پیش کی جاتی ہے اور کیسے سچ سمجھی جاتی ہے اور اس سے مادی ،سیاسی ،معاشی مفاد کی کون کون سی فصل کاٹی جاسکتی ہے، وہ مسئلہ ہے۔ اب یہی ذہین، چالاک اور جاہ پسند لوگ، جو ہم سب کی دنیا(سماجی وذہنی) پر اختیار کی سعی میں رہتے ہیں، وہ غیر حقیقی چیزوں کو سچ بنا کر پیش کرتے ہیں، بلکہ یوں سمجھو کہ سچ گھڑتے ہیں۔ وہ انسانی ذہن کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں ،جو بالکل روزمرہ تجربات میں اپنا اظہار کرتی ہے۔”
اس عبارت میں، نقادِ مکرر گو! نے بے دریغ استعمال سے سچ کا مچ مار دیا ہے۔ علاوہ ازیں، مابعد سچ کی درسی خصوصیات کے مکتبی بیان کے بعد، بہ طور نقاد اپنی بنیادی زمہ داری سے بزعمِ خود عہدہ برآں بھی ہو گیا ہے۔ اے مشتاقِ علم و دانش! وکی پیڈیا اور گوگل تمھیں، مکتبی نقاد سے کہیں بہتر طریقے سے مابعد سچ کی بابت آگاہ کر سکتا ہے۔ نقادِ تجاہل کیش! کی اصل زمہ داری انگریزی متن کا اردو ترجمہ کرکے اپنی دھاک بٹھانا نہیں بل کہ مابعد سچ کے حوالے سے، ادبی تنقید میں نئے زاویوں کی نشان دہی کرتے ہوئے تمھاری ناقدانہ بصیرت میں اضافہ کرنا ہے۔ جس کی روشنی میں اس نے ان بنیادی سوالات کا جواب دینا ہے کہ متن یا اس کے معنی میں سچائی تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے ؟ مابعد سچ کے دور میں؛ ادب میں معنی کی تحصیل کیسے ممکن ہوگی؟ اور کسی بھی ادبی متن پر تنقید کے لیے، مابعد سچ سے جنمے، ادبی تنقید کے نئے قاعدے کیسے لاگو کیے جا سکتے ہیں؟۔ لیکن ان سوالات کا جواب دینے کے لیے مدرس نقاد کو کلاس روم سے باہر  آنا پڑے گا جہاں سے نکلنے کے لیے وہ تیار ہی نہیں۔ یاد رکھنا، رٹے رٹائے اسباق کی یہ معجون تمھارے فہم و ادراک کا خون کر دے گی۔ خبردار اسے ہاتھ مت لگانا۔
نقادِ ژولیدہ بیاں! کا باقی ماندہ خط بھی سچ اور سچائی کی درسی جگالی کے سوا کچھ نہیں۔ موصوف فرماتے ہیں:
” ایک زمانہ تھا، سچائی کی الوہی زبان پر کوئی شک نہیں کرتا تھا ۔ پھر سچائی کی غالب زبان مادی اور سماجی ہوگئی ۔ اب سچائی الگوردم کے ذریعے اپنا اظہار کررہی ہے۔”
  بھئی، یہ کون سا زمانہ تھا جب سچائی کی الوہی زبان پر کوئی شک نہیں کرتا تھا؟ میرا خیال ہے یہ آدم و حوا کی تشریف آوری سے کافی عرصہ پہلے کا واقعہ ہے۔ خدا کی پناہ، یہ نقاد تمھیں کیسی الٹی الٹی شِکشا دے رہا ہے۔ نقادِ تضاد العمل! کو یہ بھی یاد نہیں کہ اس سے قبل وہ اپنے اسی خط میں، سچائی کی بابت کیا فرما چکا ہے:
” سچائی کیا ہے؟ تم اس سوال پر دنیا کے بے غرض عالموں کو بھی منقسم پاؤ گے۔ اگر تم ان مسائل کی فہرست بناؤجو انسانی ذہن کو ابتدا سے اب تک الجھاتے آئے ہیں تو سچائی کے مسئلے کوسرفہرست پاؤ گے۔”
سچائی کے سبجیکٹو ہونے کی بابت ایسے قطعی جملے لکھنے کے بعد ایک ایسے دور کا تذکرہ کرنا جس میں سچائی کی الوہی زبان پر کوئی شک نہ کرتا ہوں، کم ازکم کسی دانا آدمی کا کام نہیں۔ اے گلِ عافیت کوش! نقادِ ضرر ناک سے بچ کر رہنا۔ دیکھو کیسی الٹی بات کرتا ہے۔ سارا خط ایسی ہی بے اٹکل باتوں سے اٹا ہوا ہے۔ میری دانست میں، نقادِ غلط انگیز ایک ایسی شریعت لے کر آیا ہے جس کا واحد امتی بھی یہ خود ہے۔
معاف کرنا، اس مکتوب پر مزید بات کی تو میری طبیعت بگڑنے کا خدشہ ہے۔ ذہنی اختلال سے بچنے کے لیے  نقادِ زود نویس کے خطوط کو پڑھنے میں مناسب وقفہ رکھنا از حد ضروری ہے۔ بہ ہر حال ہوشیار، مدرس نقاد نے اپنے مکتوب کے اخیر میں سرِ عام دھمکی دی ہے کہ اپنے اگلے خط میں وہ ادب کی سچائی پر بات کرے گا۔ خدا خیر کرے۔
چلتے چلتے تمھیں بتاتا چلوں کہ دارالشفا میں ایک روز؛ فاروقی، حنفی اور وزیر آغا میری عیادت کے لیے آئے تھے۔ جتنی دیر بیٹھے رہے، میرا فروٹ کھاتے رہے۔ اس دوران تینوں، میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے، بڑے معنی خیز انداز سے اپنے ابرو پھڑکا رہے تھے۔ جیسے کہہ رہے ہوں کہ میاں! ہم سے سوء ظن رکھو گے تو ایسا ہی ہوگا۔ جب میرا سارا فروٹ کھا چکے تو رخصت چاہی۔ مجھے لگا جیسے موصوفین میری عیادت کو نہیں بل کہ اس خدشہ کو رفع کرنے آئے تھے کہ خدا نخواستہ کہیں میں صحت یاب نہ ہو جاؤں۔ میں بھی کہاں باز رہنے والا تھا؛ فورا تکیہ کے نیچے سے موصوفین کی بابت اپنے مضامین کی نقول نکال کر انھیں دکھائیں۔ اور پھر دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ آج کل انھیں بارِ دگر دیکھ رہا ہوں۔ گھبرا کر ایسا بھاگے کہ مڑ کر نہ دیکھا۔ خدا کی قسم طبیعت باغ باغ ہوگئی۔
مکتبی نقاد کے چھٹے خط پر آئیندہ بات ہوگی۔ اب مجھ پر تھکاوٹ طاری ہو رہی ہے۔ بہتر ہے آرام کرلوں۔ اپنا اور اپنے قلم کا خیال رکھنا۔
                                                                    خیر اندیش
                                                                     وارث علوی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...