بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں نوجوانوں کا کردار

76

پاکستان میں غیرمسلم اقلیتوں کے مسائل و حقوق کے حوالے سے ہمیشہ ایک مخدوش  صورتحال رہی ہے۔یہ مسائل آئینی و قانونی سے زیادہ عملی قسم کے ہیں جن کے پس منظر میں بنیادی طور پہ سماجی اور مذہبی تعامل کی غیراطمینان بخش کیفیت کے اثرات ہیں جبکہ اس کے ساتھ ریاست کا رویہ بھی ایسا گومگو کا رہا ہے جس نے مسئلے کی سنجیدگی میں ہمیشہ اضافہ کیا ہے۔اقلیتوں کو درپیش چیلنجز کسی ایک جہت سے نہیں ہیں اس لیے وہ ہمیشہ غیریقینی صورتحال کا شکار رہتی ہیں۔ان کا مسئلہ صرف تعلیم، صحت اور ملازمت کے شعبوں میں امتیازی سلوک برتے جانے کا نہیں ہے بلکہ انہیں اپنی شناخت کے اظہار کی ہی کھلی آزادی کا احساس حاصل نہیں ہے۔ پاکستان میں رہنے والے غیرمسلم طبقات دو طرح متأثر ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ مذہبی لحاظ سے کمتر سمجھے جاتے ہیں اس لیے انہیں مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا جاتا ہے، اور دوسرا یوں کہ وہ اقتصادی اور مالی لحاظ سے بھی پسماندہ ہیں، اورزیادہ تعلیم یافتہ بھی نہیں ، اس لیے وہ  آسان ہدف بنتے ہیں کہ نہ انہیں عموماََ نہ تو قانونی چارہ جوئی کی طاقت ہوتی ہے اور نہ اپنی ذات و مفادات کو تحفظ دینے کا کوئی مؤثر وسیلہ رکھتے ہیں۔یہ درست ہے کہ پاکستان میں امن و امان ، ہم آہنگی، قانون کی حکمرانی اور گورننس کی صورتحال مجموعی طور پہ ابتر ہے، ایسے میں حقوق کے مسائل صرف مذہبی اقلیتوں کو ہی درپیش نہیں ہیں بلکہ ہر کمزور طبقہ ناانصافی کا شکار ہوتا ہے، تاہم اقلیتیں زیادہ آسان ہدف ہیں۔مذہبی جذبات کی انگیختگی کے ساتھ ان کا استحصال ہر وقت ممکن ہوتا ہے۔تشویشناک امر یہ ہے کہ وقت کے ساتھ مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنائے جانے کا عمل پھیلتا جا رہا ہے اور سماجی سطح پر متحرک مذہبی جماعتیں غیرمسلموں کے خلاف پہلے سے زیادہ ہیجان کا ماحول پیدا کر رہی ہیں جس کے نتائج آئے روز کے ناپسندیدہ اور تشدد کے واقعات کی صورت سامنے آرہے ہیں۔

اسلام آباد میں قائم ادارے ’’پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز‘‘ کی جانب سے پاکستان میں بین المذاہب کشیدگی کی بڑھتی حساسیت کے پیش نظر نوجوانوں کے ساتھ اس مسئلے پر بات چیت کی غرض سے مختلف شہروں میں ورکشاپس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اب تک تین شہروں اسلام آباد، پشاور اور ایبٹ آباد میں ان نشستوں کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔ہر ورکشاپ دو دنوں پر مشتمل ہے۔ان میں بالخصوص یونیورسٹیز کے طلبہ کو مدعو کیا جاتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ملک کے اندر بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے نوجوانوں میں فکری آگاہی پیدا کی جائےکیونکہ ان کا  کردار اس حوالے سے مؤثر ہوسکتا ہے۔اعلی تعلیمی اداروں سے وابستہ نوجوان اگر مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان پرامن میل جول  اور رہن سہن کے خیال پر یقین رکھتے ہوں تو اس بات کے امکانات ہیں کہ سماج کے مختلف شعبوں میں غیرمسلموں کے حوالے سے موجودہ کشیدگی کا احساس وقت کے ساتھ کم ہونے کی امید رکھی جاسکتی ہے۔

ان تربیتی نشستوں میں نوجوان طلبہ کے ساتھ بات چیت اور مکالمے کے لیے ملک کی اہم علمی، صحافتی اور دانشور شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا، جن میں سے چند نام یہ ہیں: سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر خالد مسعود، ،  چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز ، سینیٹر کرشناکماری،ماہر آئینی امور ظراللہ خان، کالم نگار ودانشور خورشید ندیم،ڈائریکٹر پاکستان نیشنل کونسل فار آرٹس ڈاکٹر فوزیہ سعید،پروفیسر شعبہ اسلامیات پشاور یونیورسٹی ڈاکٹر رشید احمد،معروف صحافی واینکرپرسن عنبر رحیم شمسی، سیاستدان و رکن صوبائی اسمبلی شگفتہ ملک، صحافی وکالم نگار اعزاز سید،معروف صحافی سبوخ سید،چیئرمین آل پاکستان ہندو رائٹس موومنٹ ہارون سراب دانیال، ،  صحافی انمول شیراز ۔

ان نشستوں میں ڈاکٹر خالد مسعود نے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے مابین نظر آنے والے ناہموار تعلق کی عالمی اور مقامی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے چند سالوں کے دوران ساری دنیا میں مذاہب کے درمیان کشیدگی کے عنصر میں اضافہ دیکھنے کو آیا ہے ۔ مغرب میں اس کی وجوہات میں مہاجرت اور دہشت گردی کےاثرات کارفرما تھے ، وہاں لوگوں میں بالخصوص اسلام کے خلاف غلط فہمیاں پیدا ہوئیں جس نے مغربی سماج کی ہم آہنگ اقدار کو متأثر کیا۔پاکستان میں غیرمسلموں کے خلاف پائے جانے والے جذبات البتہ دیگر اسباب پر بنیاد رکھتے ہیں اور یہ مغربی تناظر سے بالکل مختلف اور تاریخی لحاظ سے بہت پہلے کے ہیں۔ڈاکٹر خالد مسعود کے مطابق پاکستان میں قومی وحدت کے حصول کے لیے ریاست کی جانب سے مذہبی ، نسلی اور ثقافتی شناختوں کا غلط استعمال کیا گیا جس کا یہ نتیجہ  نکلا کہ ہم ایک پرتشدد اور غیرروادار سماج بن گئے ہیں۔انہوں نے سیاسی نظم کے حوالے سے نوجوانوں میں پائے جانے ابہام پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے خیال میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس بارے مخمصے کا شکار ہے کہ کونسا سیاسی نظم ان کے لیے بہتر ہوسکتا ہے۔یہ فکری ابہام متشدد حلقوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا ہے اور وہ اس کا استعمال کرتے ہیں۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تنوع اور رواداری تاریخی طور پہ اس خطے کی خصوصیت رہی ہے، یہاں ایک طویل عرصے سے مختلف مذہبی و ثقافتی شناختوں کے لوگ ساتھ ساتھ رہتے رہے ہیں اور ان کا باہمی تعلق احترام و قبولیت کے جذبات پر مبنی تھا۔ لیکن افغان جہاد کے بعد سے صورتحال مختلف ہوگئی اور مذہبی جماعتیں طاقت کی حرکیات کے کھیل کا حصہ بنیں تو دینی اساسات پر لوگوں کے درمیان افتراق کی خلیج میں اضافہ ہونے لگا۔

ماہر آئینی امورظفراللہ خان نے غیرمسلموں کی آئینی حیثیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ دستور کے مطابق برابر کے شہری ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے شانہ بشانہ آزادی کی تحریک میں حصہ لیا تھا اور تب اس بات میں کسی کو کوئی شک نہیں تھا کہ اس نئی ریاست میں ہر طرح کی شناخت کے حامل طبقات برابر کے حقوق کے روادار ہوں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ادوارِ رفتہ کی بادشاہت نہیں ہے اور نہ غیرمسلم مفتوحہ غلام ہیں، ہم ایک جدید عہد میں زندہ ہیں اور اس سرزمین پر سب کا تاریخی حق ہے۔ لہذا مذہبی بنیادوں پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جاسکتا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حساسیت کے سدباب کے لیے آئینی بنیادوں سے مدد لینی چاہیے اور نوجوانوں کو بتایا جائے کہ ملک کا آئین سب کو مساوی حقوق کی یقین دہانی کراتا ہے۔

سینیٹر کرشنا کماری نے اپنے سفر کی روشنی میں بتایا کہ ایک اقلیتی مذہب سے تعلق رکھنے اور خاتون  ہونے کی بنا پر ان کا سفر کافی مشکل رہا لیکن وہ اس میں کامیاب رہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تنوع کی حوصلہ افزائی اور اس کے حق میں بھی ایک طاقت موجود ہے جس کی سبب ان جیسے لوگ سماج میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

ڈائریکٹر پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیزمحمد عامر رانا نے نوجوانوں سے بات چیت کے دوران اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ نوجوانوں کو آئین کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ ہماراروزمرہ کا سماجی تعامل اس سےمختلف ہے جس کی آئین رہنمائی کرتا ہے۔ اگر دستو رکا علم ہوگا تو یہ سمجھے میں مدد ملے گی کہ غلطی کہاں پر ہے اور اسے کس طور درست کیا جاسکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تجسس اور سوال کرنے کا رویہ مسائل وامور میں شفافیت کو لاتا ہے۔ اس لیے چیزوں پر فوری ردعمل دینے کی بجائے حقائق کو جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔

کالم نگار ودانشورخورشید ندیم نے پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کی فضا کے نہ پنپ سکنے  کی وجوہات پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھاکہ مذہبی ہم آہنگی کا مسئلہ دو بڑ ے اسباب کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ ایک سبب تو یہ ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے ۔اس کی بنیاد اور تشخص مذہب اسلام ہے۔شہریوں اور ریاست کے مابین معاہدےمیں اگر ریاست ایک مخصوص نظریاتی پیرہن کو اختیار کرتی ہے تو اس کا رویہ اس تشخص کو ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے ساتھ ایک نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے دوسری مشکل مذہبی تعبیر کی ہے۔عوام کی اکثریت جس مذہبی تعبیر پر یقین رکھتی ہے اس کے ہوتے ہوئے غیرمسلموں کے ساتھ اعتماد کا وہ رشتہ قائم کرنا ممکن نہیں  جومسلمانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ مذہب کی اس غالب وروایتی تعبیر پر نظرثانی کی جائے۔

پروفیسر رشید احمد نے سماج میں دم توڑتی مکالمہ کی روایت پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ہمارے سماج میں مکالمہ کی روایت موجود تھی اور لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ ومباحثہ کیا کرتے تھے ،لیکن نظر یہ آتا ہے کہ یہ روایت آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے۔اب تو مکالمہ کے دوران اختلاف کو نفرت اور دشمنی پرمحمول کردیا جاتاہے، حالانکہ ہر انسان آزاد ہے، سوچنے میں بھی اور عمل میں بھی ، مگر یہ آزادی ختم ہوتی جارہی ہے۔گویا انسان کی فطری آزادی پر قدغن لگائی جا رہی ہے۔سماج کے اختلاف کو روکنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی، ایسی علامات بنائی گئیں جن کے ذریعےپیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ اختلاف بری شے ہے۔ ایک قوم، ایک سڑک اور ایک سوچ جیسے نعرے تخلیق کیے گئے تاکہ اختلاف کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

صحافی اعزاز سید نے نوجوان طلبہ سے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا نوجوان پرامید اور متحرک ہے۔ باوجود کڑے حالات اور وسائل کی عدم دستیابی کے وہ اپنے لیے خود راہیں بنا رہا ہے۔ تاہم معاشرے میں نوجوانوں کو اپنی رویہ جاتی تربیت کی بھی ضرورت ہے۔ اس میں دو چیزوں پر توجہ اہم ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ تنقیدی شعور کو اپنائیں۔ معاملات میں تحقیق کریں اور جذباتی انداز سے گریز کریں۔ جذباتی غلبہ انتشار اور بے چینی کو پیدا کرتا ہے اور حقائق کو مسخ کرتا ہے۔ دوسری اہم چیز مخالف نقطہ نظر کے لیے برداشت کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ مخالف نقطہ نظر چاہے کتنا بھی سنگین یا عجیب نظر آئے اسے برداشت کرنا سیکھنا چاہیے۔اعزاز سید کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو چاہیے کو وہ اپنے تعصبات سے باہر نکلیں۔ اس کے پہلے حاجت ہے کہ وہ ان مذہبی و ثقافتی تعصبات کو پہچاننے کی کوشش کریں۔کتب کا مطالعہ اس میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے تحقیق و جستجو کے میلانات کی ورزش ہوتی ہے اور انسان جذباتی ردعمل دینے کی بجائے پہلے اس مسئلے میں غور کرتاہے۔

معروف صحافی سبوخ سیدنے اپنی گفتگو میں یہ مقدمہ قائم کیا  کہ ہمیں اپنے تعلیمی نظم کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ مذہبی آزادی کا ایک تصور یہ ہے کہ ہر شخص اپنے عبادت خانے جا کر عبادت کرے،اس آزادی بارے مسلمان فخر بھی کرتے ہیں۔ آزادی کا حقیقی مفہوم فکری وسماجی آزادی ہے کہ انہیں ملک میں،محلے میں اعتماد کا ماحول ملے ،انہیں خوف نہ ہو،وہ خود کو پاکستان میں برابر کا شہری محسوس کریں۔اس کے لیے بنیادی کردار تعلیم اور نصاب میں اصلاحات کا ہے۔

نشستوں میں خواتین کے حقوق اور ان کو درپیش مسائل پر بھی گفتگو کی گئی جس میں سیاست وصحافت سے وابستہ خواتین نے اپنے تجربات بھی سامنے رکھے۔ سیاستدان شگفتہ ملک نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کے لیے مشکلات تو ہیں اور بالخصوص ان شعبوں میں جہاں مردوں کا غلبہ ہے، وہاں خواتین کو آگے آنے میں مسائل کا سامنا ہوتا ہے تاہم یہ حقیقیت ہے کہ ملک میں ان کے لیے جگہ بالکل ختم بھی نہیں ہوئی ہے، بلکہ اپنے بل بوتے پر خواتین پہلے سے زیادہ سماج میں ترقی کررہی ہیں اور کامیاب ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا جیسے صوبے میں انہیں تعاون حاصل ہوا، ووٹ ملے اور اب وہ رکن اسمبلی ہیں۔ شروع میں ان کو کچھ مشکلات کا سامنا ہوا لیکن اگر وہ آج اس حیثیت پر ہیں تو اس میں مردوں کی طرف سے ان کے سیاسی کردار کو قبولیت ملنے کا سبب بنیادی ہے۔اسی طرح عنبر رحیم شمسی نے نوجوان خواتین طالبات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تبدیلی اپنے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کا درجہ مردوں کے مقابلے میں ثانوی ہے مگر لگن اور جدوجہد کی بنیاد پر وہ آگے بڑھ سکتی ہیں۔خواتین کو چاہیے کہ وہ خود کو بہتر طریقے سے علم وہنر سے آراستہ کریں اور اپنی قابلیت کو تسلیم کرائیں۔تقریباََ تمام ترقی پذیر معاشروں میں خواتین کو مسائل کا سامنا ہوتا ہے ،اگر وہ تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں تو اس سے سماج میں آہستہ آہستہ ان کے کردار کو اہمیت ملنا شروع ہوجاتی ہے۔ خواتین پاکستانی معاشرے آبادی کا نصف حصہ ہیں اور انہیں وہ حقوق حاصل نہیں جو ملنے چاہئیں، اس کا حل یہ ہے کہ وہ خود کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنائیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...