آن لائن ادبی مذاکرہ اور مناظمہ

176

ہمارے ہا ں ادب پر مذہبی، رزمیہ اور بزمیہ سمیت مدح و قصیدہ جیسی شاعری کا اثر رہا ہے اسی طرح ہیئت اور قالب کی دوڑ تو اس حد تک رہی ہے جو آج تک جاری و ساری ہے۔برصغیر کی رامائن جیسی رزمیہ تخلیقات سے لے کر فارسی کے نظامی و جامی، عطار و فردوسی، خسروورومی شعراء نے  ہند و پاک کے علم و ادب کے میدان میں بڑے گہرے نقوش چھوڑے ہیں اسی طرح  مثنویوں، ترکیب بندوں، ترجیع بندوں اور رباعیوں وغیرہ کی شکل میں حکایتوں، نکات فلسفی اور مذہبی کے علاوہ فطرت اور حسن فطرت کی صناعی کے علاوہ واردات قلبی کی ترسیل خیال کا خوب خوب اہتمام ملتا ہے۔ با ایں ہمہ جب ہندوستانی۔ ہندوی، ریختہ اور حال اردو نے اپنی جون بدلی اور اس کے ساتھ اپنے دامن میں لسان و بیان سمیت فکر و فن کو بھی سموتی گئی تو دیکھا گیا کہ صرف چند سو سال میں اس کے خزانے میں کسی بھی زبان سے زیادہ تیزی کے ساتھ تخلیق، تالیف، تصنیف سمیت تاریخ اور دیگر علوم کی فراوانی ہوئی۔ ایسا ہی ایک اہم موڑ اٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی اردو شاعری میں دیکھنے میں آتی ہے کہ جب مولانا محمد حسین آزاد 1874ء میں کہیں جاکر ایک محفل مناظمہ کا اہتمام کرتے ہیں تو تب سے اب تک نظم  اور موضوعاتی شاعری خود اپنے وجود کا اظہار کرتی آئی ہے اور اب تک ہم دیکھتے ہیں کہ نظم گوئی کا چلن، نفوذ اور اثرات براہ راست نظر آتے ہیں۔ خصوصا برصغیر میں جو بنیاد ترقی پسند تحریک نے رکھی وہاں سے برصغیر پاک و ہند میں دیگر تحریکوں نے بھی اپنے قدم جمانے شروع کئے اور ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی جیسے موضوعات بھی ادبی، شعری اور تنقیدی محافل کے زینت بنتے رہے، لیکن کو جو بھی ہوتا آیا ہے اس سے موضوعاتی شاعری  اور جدید نظم کے لیے میدان وسیع ہوتا گیا ہے۔ شہر آشوب سے مزاحمتی اور مزاحمتی شاعری سے انقلابی شاعری کا چلن بھی دیکھنے کو ملتا ہے، رفتہ رفتہ زندگی اور زندگی سے جڑے دیگر معاملات بھی شعر و ادب کے زینت بنتے گئے۔

کرونا کی عالمی وباء کے دنوں میں یقینا اپنے ساتھ وقت بتانے کا نادر موقع ملا ہے کہ انسان اپنے افکار و خیالات وغیرہ پر نظر ثانی کرے یا پھر تزئین خیال میں اپنے آپ کو مشغول رکھے۔ وقت کا اس سے بہترین مصرف بھلا اور کیا ہوسکتا ہے؟ اسی وبائی عہد میں حل و فصل اور نقد و بحث کے میدان کو ہم نے سائبر نیٹ پر وسعت پاتے دیکھا۔ بڑے بڑے فیصلے، مذاکرے، اسکول سے لے کر جامعات تک اور یہاں تک کہ لگ بھگ سارے کاروبارزندگی آنلائن سافٹ وئیرز پر چلے گئے وہیں یہاں تک کہ ادبی سرگرمیاں بھی ورچوئل دنیا میں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔

نظم اور نظم گوئی سے متعلق موضوع ہمیشہ سے اردو کے علمی و ادبی محافل میں  باعث نزاع اور افتراقبنتا  ہے، دیکھنے میں آیا ہے کہ اردو میں خصوصی طور پر دہائیوں پہلے زیر گردش سوالات پلٹ پلٹ کر لائے جاتے ہیں اوروہیں پھر سے نئے اور پرانے سوالیہ نشانات چھوڑ کر چلے جاتے ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہوتی ہے کہ نظم پہلے سے زیادہ بھرپور انداز میں لکھی جاتی ہے اور بہت زیادہ لکھی جاتی ہے۔                 بلوچستان میں اردو سمیت دیگر تمام زبانوں میں سنجیدہ ادب لکھا جا رہا ہے اور پورے شعوری قوت کے ساتھ انفراد ی و اجتماعی دکھ، سکھ اور احساسات کی  ترجمانی بھی ملتی ہے۔گذشتہ دنوں آن لائن نظم مذاکرے میں بلوچستان کے چند نوجوان فعال اور سنجیدہ شاعروں سے نظم سے متعلق چند سوالات پوچھے گئے ہیں اور ایک آن لائن مناظمہ بھی تشکیل پا گئی جہاں بلوچستان کے نوجوان اور توانا شاعروں کی نظمیں بھی احباب کی خدمت میں پیش کی جارہی ہیں۔ نظم بارے کیا سوچا جارہا ہے اور کیا نظم لکھی جارہی ہے یہی ہمارے آج کے آن لائن مذاکرے پر گفتگو کا ہدف و مقصود ہے۔

قندیل بدر بلوچستان کے ایک علمی و ادبی گھرانے کی چشم و چراغ ہیں اردو ادب پڑھاتی ہیں اور شاعری پر پی ایچ ڈی بھی کرچکی ہیں،غزل اور نظم لکھتی ہیں اور بلوچستان کے ادبی منظر نامے پر اکثر و بیشتر نمایاں نظر آتی ہیں۔ ان سے نظمسے متعلق پوچھا گیا کہ کیا جامعاتی سطح پر نظم گوئی کے لیے فضا سازگار ہے؟ اردو تنقید میں نظم گوئی کی مختلف ہئیت پر ہمیشہ سے تنازعات چلے آرہے ہیں، ان کی بنیادی وجوہات کیا ہوسکتی ہیں؟ نئی نظم کلاسیکی پیمانے کی تنقید کے نشانے سے کب باہر آسکتی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ” ہماری جامعات میں صرف نظم نہیں بلکہ مکمل ادب کے فروغ کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ کام ہوتا دکھائی نہیں دیتا البتہ جامعاتی سطح کے تحقیقی کاموں کا انبار لگانے میں ہماری جامعات کافی حد تک کامیاب نظر آتی ہیں.. معاصر ادب، معاصر اصناف بالخصوص نظم سے جامعات کے اساتذہ کی کثیر تعداد معمولی واقفیت بھی نہیں رکھتی.. ایک دو کورسز ایم اے اور بی ایس کے پروگرامز میں ایسے ضرور ہیں جن میں نظم نگاروں کو شامل کیا گیا ہے اور ساٹھ کی دہائی تک کی نظم کو زیر بحث لایا جاتا ہے مگر ان مضامین کو پڑھانے کے لیے ان اساتذہ کا انتخاب نہیں کیا جاتا جو شعر کی سوجھ بوجھ رکھتے ہوں، نظم کی مختلف ہیئتوں سے واقف ہوں، نظم کی تفہیم کا ملکہ رکھتے ہوں،ان کی بجائے خاصے قدیم دماغ  یہ مضامین پڑھانے پر مامور ہیں جو نظم کی تحقیر ابتدا ہی میں شاگردوں کے ذہنوں میں راسخ کر دیتے ہیں لہذا آپ کے اس سوال اور اپنے مشاہدے کے لحاظ سے کم از کم میں تو بالکل بھی اطمینان نہیں رکھتی۔۔۔ ”  اردو تنقید میں نظم گوئی کی مختلف ہئیت پر ہمیشہ سے تنازعات چلے آرہے  پر انہوں نے کہا کہ ”   اس سوال پر میں ہماری مجموعی ذہنی فضا کے حوالے روشنی ڈالوں گی صرف تنقید کے حوالے سے نہیں.. کئی وجوہات ہیں اور ہو سکتی ہیں ایک تو یہ کہ نظم خالصتا مغربی شاعری کی صنف ہے چنانچہ وہاں نہ صرف رائج بلکہ بے حد مقبول رہی اور وقتاً فوقتاً اس میں آنے والی سانچوں اور ہیئتوں کی تبدیلی کا بھی خیر مقدم کیاجاتا رہا. جب اردو دان طبقے نے نظم کو آڈپٹ کیا تو یہاں اس کے لیے فضا بالکل بھی سازگار نہیں تھی کلاسیکی شاعری کا مزاج بالخصوص غزل واحد شعری ہیئت کے طور پر ذہنوں میں راسخ ہو چکی تھی بدقسمتی سے آج بھی ایسے اذہان کثرت سے موجود ہیں جو غزل کو کل شاعری کے مترادف سمجھتے ہیں.. یہاں نظم کے قدم جمانے کے لیے شعرا اور نقادوں کی ایک بڑی کھیپ نے جی توڑ کوششیں کیں، نظم  کے لیے راہ ہموار کرنے میں بڑی توانائیاں خرچ ہوئیں تب جا کر اس صنف میں اتنا وقیع سرمایہ ہاتھ آ سکا.. ہماری نصابی تنقید (جس کے حوالے سے آپ نے یہ سوال کیا ہے) کے لیے پہلے پابند نظم اچھنبے کی شے تھی پھر آزاد اور مابعد نثری.. لیکن اب صورتحال مختلف ہے اب میرا خیال ہے کہ نظم کی یہ تمام صورتیں کسی حد تک قبولیت حاصل کر چکی ہیں اور کھلے دل کے ساتھ سراہی بھی جا رہی ہیں البتہ آج بھی نظم کی سوجھ بوجھ اور تنقید جس طرح لکھی جانی چاہیے، وہ سنجیدگی تا حال موجود نہیں۔۔۔۔”:نئی نظم کلاسیکی پیمانے کی تنقید کے نشانے سے کب باہر آسکتی ہے؟پر انہوں نے کہا کہ  ” میرے خیال میں نظم پر ابھی سنجیدہ نوعیت کے کام، مباحث، کانفرنسز کے انعقاد اور کئی کتابوں کی اشاعت کی اشد ضرورت ہے.. نظم نگاروں کو بڑی تعداد میں تنقید لکھنے کی طرف آنا پڑے گا  وجہ یہ ہے کہ ہمارے سکہ بند نقاد مغربی تنقید کی بھینٹ چڑھ چکے اور وہ نظم کی تفہیم سے ویسے بھی عاری دکھائی دیتے ہیں تو یہ کام خود شاعروں کو، نظم نگاروں کو کرنے ہوں گے.. معاصر نظم اور نظم نگاروں کی تحسین اور تنقید کے لیے راہ ہموار کرنی پڑے گی. اس کے بغیر چارہ نہیں ”

فارس مغل نظم و نثر میں بھرپور لکھتے ہیں اور اپنا دائرۂ اثر رکھتے ہیں۔ شاعری کے علاوہ، فکشن ناول، افسانے بھی لکھے ہیں اور خوب داد پائی ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک نظم کی خوبیوں میں کیا کیا اوصاف لازمی ہیں؟ نیز نظم میں ایسا کیا ہونا چاہیئے کہ قاری کی توجہ اس پر قائم رہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ”  نظم میں خارجی ساخت کے ساتھ داخلی کیفیت بھی اس کا اہم جزو ہے چناچہ میرے نزدیک نظم ہمارے خارج اور باطن کے کرب کا اظہار ہے۔۔۔نظم اپنی آفاقیت، تہذیبی فضا، ذہنی کیفیت، حسن و لطافت،  جذبات و احساسات، پیرایہ ء اظہار، موضوع، مواد، اسلوب، اثر پذیری  کے ساتھ دورِ حاضر کی نمائندہ ہونی چاہیے۔۔۔اردو ادب پر ایک عرصے تک تقسیمِ ہند و ہجرت کا المیہ غالب رہا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں شاعر کا تخیل ہمیشہ سے محبت کی رہنمائی میں رہا ہے اسے ارد گرد پھیلی معاشرتی کثافتوں اور ناآسودہ زندگی سے فرار کی کوشش کہا جاسکتا ہے حالانکہ اب حالات پہلے سے زیادہ سنگین اور صورتحال ابتر ہوچکی ہے کہ چار اطراف جنگ کا ماحول دکھائی دیتا ہے۔۔۔ان غیر معمولی حالات اور حادثاتِ زمانہ میں لکھی جانے والی نظموں سے آج کا قاری ہو یا شاعر مکمل نہیں تو جزوی طور پر متاثر ضرور نظر آتا ہے،نئے موضوعات کی قطار لگی ہوئی ہے لیکن میرے خیال میں ایک رکاوٹ ترسیل کی بھی ہے جو قاری اور شاعر کے درمیان حائل ہے”

فیصل ندیم جنہوں نے اپنا تخلیقی سفر زندگی کے تلخ و شیریں لمحات میں جاری رکھا، آج کل غزل پر زیادہ توجہ رہتی ہے اور اکثر طرحی مشاعروں میں مصروف رہتے ہیں۔کسی کتاب کو پڑھنے کی چاہ ہو تو تلاش کرتے ہیں اور پڑھتے ہیں۔ فناس اور اکاؤنٹس پڑھنے کے بعد کاروبار چلا رہے ہیں لیکن اس حساب و کتاب میں شب ہائے ہجر کو بھی حساب میں ضرور رکھتے ہیں۔ جب بھی نظم لکھی ہے اچھی لکھی ہے اور ڈھیروں داد پائی ہے۔ فیصل ندیم کے کچھ تنقیدی مضامین بھی پڑھ چکا ہوں۔ امید ہے اپنے مطالعہ اور اپنی رائے کا اس میں بھی اظہار کرتے رہیں گے۔ جب ان سے  استفسار کیا گیا کہ اردو نظم کے میدان میں معاصر شعراء کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ خالصتا روایت کی بنیاد پر ہی نظم کہی جا نی چاہیے یا اس کے اپنے امکانات اور قالب ہوتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ  “نظم بڑے موضوعات کو  Capture کرتی ہے اس لیے اس لیے زندگی سے جڑا وسیع سے وسیع موضوع اپنے بیان میں Vocabulary کے کسی مسئلے سے دوچار نہیں ہوتا۔ موجودہ وقت اپنے Tempo کے سبب بہت  سی روایات سے دستبردار ہو گیا ہے جن میں تخلیق کو اس کے اصل مفاہیم سے ہم آہنگ ہو کر قبول کرنا بھی ہے۔ عہدِ حاضر کا نظم نگار اپنی نظم سے کتنا Sincere ہے اس کا فیصلہ تو کیا جا سکتا ہے لیکن وہ اپنی Presentation میں کتنا کامیاب ہے اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ عہدِ حاضر کی برق رفتاری نے ہر شے کو متاثر کیا ہے جس میں تخلیق، تخلیق کار اور ان کے ناقد بھی ہیں بسا اوقات ناقد تخلیق کو بہتر سمجھنے کے باوجود اس کی رفتار کو سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے اسی لیے ہر بڑی تخلیق کو اس کو حال ویسے Accept نہیں کرتا جیسا اس کے بعد والا دور کرتا ہے۔ موجودہ نظم روایت سے جہاں جہاں جڑٰی ہے وہاں پابند سے آزاد اور آزاد سے پابند ہے جہاں روایت شکن ہے وہاں آزاد  بھی ہے اورنثری بھی۔ نظم اپنے موضوعات سے بیان تک قلبی واردات ہونے کے ساتھ ذہن کے مشاہدے کا بیان بھی ہے اور آج کا نظم نگار معاشرتی ذمہ داریوں سمیت نظم کو “”نظم و ضبط”” سے برت رہا ہے۔ یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ عام قاری ہمیشہ تغزل کو اہمیت دیتا ہے اور زیادہ انقلابی نظمیں جو قبول کی سند لے سکیں سب تغزل سے لبریز تھیں۔”

اقصیٰ غرشین ایک وفاقی ادارے میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں، مطالعہ کی دلدادہ اور علم و ادب کے میدان میں متحرک اور فعال، اگرچہ ادبی و علمی سرگرمیوں سے دور ہیں لیکن زبان اور ادب کے موضوعات پر ہمہ وقت توجہ رکھتی ہیں۔ کئی زبانیں نہ صرف سیکھ رکھی ہیں بلکہ ان کا ادب پڑھتی بھی ہیں اور ان کے گاہے گاہے تراجم بھی کرتی ہیں۔ جب ان سے شعری ارتقا ء اور نظم میں زبان و بیان کو شعری قالب کے تناظر میں کیسا دیکھا جاسکتا ہے؟  زمینی و زمانی حقیقتوں کے تناظر میں نظم کے امکانات کیا ہوسکتے ہیں؟ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ  ”دیکھئے شعر، نظم، بیت، جو نام دیں  finger prints کی مانند ہیں۔ ہر لکھنے والا جدا سوچ مگر احساس میں یگانیت رکھتا ہے۔ یہاں ایک رکاوٹ تو فن و ادب سے ہماری مجموعی بیزاری ہے۔ دوسرا مسئلہ ہمارا۔ ایک عہد یا ایک شاعر کی پرستش ہے۔ عشق تو میر و غالب کی میراث ہے اور صاحب یہ کسی ماڈرن کیفے میں espresso shots لیتے ہوئے محسوس نہیں کیا جا سکتا۔ پھر جو یہ برصغیر کی موسیقی کی علت ہے، آپ طے کردہ حدود سے مختلف انداز اپنا کر دیکھیں، ایک فوج آپ کو بحر، ردیف و قافیہ سمجھانے آ جائے گی۔ تقابلی جائزہ میں فقط فارسی شاعری جو میں اصل زبان میں پڑھ لیتی ہوں کر سکتی ہوں۔ وہاں بیان انداز پر سبقت لے گیا ہے۔ وہاں سہراب سپہری تصوف کو عاشق، معشوق، جام و ساغر سے پرے لے جا کر پوچھ رہے ہیں کہ “مجھے دوست کے گھر کا پتہ بتاؤ، شفافیت کا مظہر فوارے میں بہتا پانی ہے، سچ کا علم درخت پر چڑیا کو آزاد کراتے بچے کے ہاتھ میں ہے۔ فروغ فرخ زاد ایک ہی نظم میں موضوع پر موضوع اور انداز  بدلتی جاتی ہیں پر احساس کو رد نہیں کرتیں۔ شاملو حافظ و خیام کو ہوائی جہاز و برقی ٹرینوں کی سیر کروا رہے ہیں۔۔۔مقصد یہ تھا کہ اظہار پر قدغن نہیں ہے۔ ادب نہیں بدلازمانہ بدل گیا ہے، اب فاختہ کے ساتھ میٹرو سٹیشن کی بات بھی ہوگی. اب اردو کا شاعر لکھنؤ کی گلیاں یاد نہیں رکھ سکتا اگر اسکی زندگی کوئٹہ کے پہاڑوں پر سلیمانی چائے پیتے گزری ہو. زبان میں ایک قدرتی وسعت ہے، ہماری شاعری اسکو جگہ دینے میں تأمل سے کام لے رہی ہے. اردو شاعری ساخت میں اس قدر الجھی ہے کے نئے لکھنے والوں کو شناخت بدلنے کا حکم دیتی ہے کہ وہ جو ایک زمانے پہلے کامیاب رہے انکی ڈگر پر چلو۔ ایک آدھ بار تو ن م راشد کی مثال ایسے دی گئی جیسے ڈرانا مقصود ہو۔۔۔کہنے کو تو بہت کچھ ہے مگر مختصر یہ کہ شاعر ایک بہاؤ، ایک گرداب میں ہوتا ہے جس وقت وہ الفاظ کاغذ یا smart phone پر اتار رہا ہوتا ہے، مثبت تنقید مقدم مگر گرداب کو روک کر fish bowl میں بدلنے کے احکام کو ایک بار ذرا روک لیجیے، نتائج کا اعلان امتحان سے پہلے اور اردو شاعری کو ارتقاء کا موقع دینے سے پہلے ہی ہر نئے ضابطے اور تجربے پر پابندی لگا کر نہ ہی شعر کا، نہ ادب کا اور نہ ہی کسی تہذیب کا دامن پر کیا جا سکتا ہے۔ جیسے عربی، فارسی کی غزل مستعار لی ہے ویسے ہی جدید انداز بیان کو ایک موقع دیجیے۔ قارئین کو خلوص سے پڑھنا بھی آتا ہے اور سفاکیت سے رد کرنا بھی۔۔۔”

سلیم شہزاد نے شاعری کے لیے بن باس کاٹا ہے، معاصر شاعری میں غریق رہتے ہیں اور ادبی اخلاص رکھتے ہیں۔ لفظوں کے بھید بھاؤ جانتے ہیں اور جوہری کی نگاہ سے معنی کو دیکھتے ہیں سلیم شہزاد سے جدید نظم کے بارے میں نقادوں کی آراء مختلف اوقات میں مختلف رہی ہیں، کیا آپ سمجھتے ییں کہ اردو نظم کو اچھے نقاد ملے ہیں؟ تو انہوں نے روانی کے ساتھ بولنا شروع کیا کہ  ” فراق گورکھپوری کہتے ہیں غزل پھولوں کی مالا ہے ”  جبکہ میں کہتا ہوں نظم کا پلڑا متضاد میں ہے نظم کا مزاج خوابناک ہے یہ بھاری نیند میں جاگنے جیسا ہے۔۔۔شاعری میں صنف نظم روایت ہے۔۔۔دراصل اس کا کینوس اتنا ہی بڑا ہے کہ قریباً ہر دہائی میں اسے کروٹ بدلنے کی ضرورت رہی اور اسے محسوس کرنے والے بھی الگ الگ زمانوں میں جئیے۔۔۔میں سمجھتا ہوں حالی کے مقدمہ شعر و شاعری سے ستیاپال تک اس درمیان میں ڈاکٹر وزیر آغا بھی کہیں ملتے ہیں لیکن ابھی تک بات ناکافی ہے نظم کے تنقید نگار کو آج مغرب کا لٹریچر بھی دیکھنا ہو گا اور نئے زاوئیے تراشنا ہوں گے۔”

اویس اسدی اگرچہ ایک بین الاقوامی ادارے میں پناہ کے متلاشی افراد کی دیکھ ریکھ کرتے ہیں لیکن خود انہوں نے شاعری میں پناہ لی ہے، اس وقت اویس اسدی بلوچستان کے نظم نگاروں میں اپنی الگ اور منفرد شناخت بنانے میں کامیاب نظر آتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی مگر موثر نظمیں لکھ رہے ہیں۔ اویس اسدی سے جب پوچھا گیا کہ آپ کے خیال میں نظم کے قاری کی ترجیحات کیا ہوتی ہیں اور آپ کے اپنے قارئین کے بارے میں کیا رائے ہے؟ تو انہوں نے  جواب دیا کہ” یہ دور سیدھی اور واضح بات کا دور ہے۔ پوری ادبی تاریخ آج کے سنجیدہ قاری کی پوروں میں ہے۔ اس کے پاس مشکل یا بے معنی بات پر سر کھپانے کی فرصت نہیں۔پھر نظم وہ صنف ہے جو قاری سے وقت اور دھیان مانگتی ہے۔ تیز بھاگتے ہوئے مصروف انسان کو کچھ دیر کے لئے روک کر اپنے پہلو میں بٹھا کر اس سے بات کرتی ہے۔ اسے کچھ دیر کے لئے کسی سوچ میں محو کردیتی ہے۔اس مناسبت سے نظم اگر قاری کی زبان میں اس سے بات نہ کرے، اس کے درد نہ کہے،معنویت سے خالی ہو، موضوع سے مطابقت نہ رکھتی ہو یا غیر ضروری حد تک طویل ہو تو قاری اس پر اپنا وقت ضائع نہیں کرے گا۔میری نظم کے زیادہ تر قاری میرے شاعر دوست ہیں جو اپنی مصروف زندگی میں بھی سوچنے کو وقت دیتے ییں، کسی خیال کی رعنائی میں کھو جاتے ہیں اور تازہ افکار کی کھوج میں رہتے ہیں۔۔۔”

 

 

 

نظمیں

 

قندیل بدر

”مجھے ڈرانا آسان نہیں ”

 

مَیں ہمیشہ ہریالی کی طرف دیکھتی ہوں

میری نظر خشکابوں میں پانی بھر دیتی ہے اور بیابانوں میں

درخت لگا دیتی ہے

اجاڑ زمینوں سے ابلتے چشمے اور سنگلاخ چٹانوں سے بہتے جھرنے

میرا ایمان ہیں

رات کی کالک چیرتی لکیر، میری سفیر ہے

مجھے آنسو میٹھے لگتے ہیں اور مسکراہٹ نمکین

 

مجھے ہرا نا آسان نہیں

زمینی خداؤں کے لیے میں آہنی دیوار ہوں اور آسمانی خدا

اکثر مجھ سے مشاورت پر مجبور ہو جاتا ہے

 

مجھے گرانا آسان نہیں

میرا ماتم،زلزلے اور لاوے کی طرح

خون میں لتھڑی

ان زمینوں کو مسمار کرنے کے لیے ہے

جن پر زمینی خدا ناز کرتے ہیں

تمہیں مجھے میرے قہقہوں سے ناپنا ہوگا

جو مَیں لکھی گئی تقدیر پر روز لگاتی ہوں

 

فارس مغل

” اب کے برس ”

 

مرتی ہی رہی رسمِ وفا اب کے برس بھی

روتی ہی رہی خلقِ خدا اب کے برس بھی

دلگیر و فسردہ ہی گئی چشمِ بہاراں

اْلجھی ہی رہی زلفِ صبا اب کے برس بھی

لْٹتی ہوئی دھرتی کا مِری بن کے مسیحا

آئی نہ کہیں سے وہ صدا اب کے برس

پتھر کے صنم خاک کے پْتلوں کی جبیں پر

لکھتے ہی رہے خود کو خدا اب کے برس بھی

اس شہر میں موجود ہیں ہر رنگ کی آنکھیں

لیکن کوئی بینا نہ ملا اب کے برس بھی

اس فکر میں ہیں لوگ کہ جیون کا سفینہ

ڈوبا نہ ہی ساحل سے لگا اب کے برس بھی

مصروف بہت ہے سرِافلاک وہ شاید

لائی نہ اثر کو ئی دْعا اب کے بر س بھی

زنجیرِ غلامی ہی رہی رقص میں فارس

اور عَلمِ بغاوت نہ اْٹھا اب کے برس بھی

 

فیصل ندیم

”بلوچستان”

 

مصلہ اب تکونا ہو چکا ہے

میں اپنی سمت سیدھی کر رہا ہوں

میرا قبلہ کہیں پر کھو چکا ہے

بلوچستان

فقط چادر نہیں ہے چار دیواری ہے میری

وقارِ حجرہِ اسود یہاں ہر ایک پتھر ہے

زباں خاموش ہے لیکن انھیں ہر خواب ازبر ہے

مری تہذیب کا قبلہ

تمدن کے نشیبوں میں گڑا ہے

یہ اپنے جام درک کا علاقہ

برون، ارتقا ہر اک سکندر سے بڑا ہے

مہ خضدار کا خطہ محبت یافتہ ہے

یہ اپنے ہاتھ میں بندوق کا زیور

اگر سمجھو محبت اور امن کی فاختہ ہے

بلوچستان

میرے سینے کا تمغہ ہیں

ترے خاکے

ترے پیکر

تری سسی، ترے پنوں

ترے نوری،ترے چاکر

میں تمغوں کو بچائے پھر رہا ہوں

ترے سرسبز ہونے کا پیمبر

پیر غائب سے پیر غائب ہے

اور اب سلسلہِ کن فیکوں

حدِ امکان تک عجائب ہے

 

اقصیٰ غرشین

”  شکشت خوردہ  ”

 

اب ہر جا ہو کا عالم ہے

یہ تو ہوگا

انگاروں سے کھیلے ہو تو

یہ تو ہوگا

لہروں کو للکار رہے تھے، دیکھ لیا؟

لو کیسے نیّا ڈوب رہی ہے

یہ تو ہوگا

سجدے خاک کے بندے کو

عرش کی دھول کے منبع کو

آگ اور خون کی بازی کھیلی

یہ تو ہوگا

سائل کو فریاد کا حق کیا

اسلاف کی پونجی بیچنے والو

یہ تو ہوگا

اپنی فردا وار جو دی ہے

غیر کے رنگ میں ڈھلتے ڈھلتے

یہ تو ہوگا

پچھتاوے اب کام نہ آویں

ایک ہی راگ سب گاوے جاویں

یہ تو ہو گا

یہ تو ہوگا

یہ تو ہوگا

 

سلیم شہزاد

”  قبرستان کے وسط میں لکھی نظم ”

 

رنگ سفر میں رہتے ہیں اور

خوشبو کے سنگ، تتلی بن کر

اْڑتے اْڑتے کھوجاتے ہیں

شاید مٹی ہوجاتے ہیں

اورپھر اک دن!

بھیس بدل کر آجاتے ہیں خوابوں میں

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ

خواب اگر مٹی ہوجائیں

آنکھیں پتھر ہوجاتی ہیں

پتھر تو بھاری ہوتے ہیں

کتنے بوجھ اٹھائیں گی یہ پلکیں آخر

بوجھل بوجھل سی رہتی ہیں

رنگوں کے کھوجانے پر

تصویریں دھوکا دیتی ہیں

”یوں“ سمجھیں ہم ساحل پر ہیں

جھاگ سے لکھے افسانے میں

زیادہ دیر نہیں رہنا ہے

بہہ جانے میں

بارش، بادل ایک بہانہ ہوتا ہے

سب کو جانا ہوتا ہے

روحیں یہ سب دیکھ رہی ہیں، ہنستی ہیں

رشتوں کے بافیدہ جال میں الجھے لوگ

نامحرم قبروں پر فاتحہ پڑھتے لوگ

 

اویس اسدی

”  دوستو تم کہاں رہ گئے  ”

 

روشنی طاقچوں میں مقفل ہوئی

تیرگی کی فصیلیں بڑھیں دوستو

دار کے سلسلے اب ہر اک کے گریبان تک آ چکے

اور کوئی نہیں نکتہ چیں دوستو

تم جہاں ہو وہاں کے نہیں دوستو

لوٹ آؤابھی

تم کہاں رہ گئے

 

مست جب سے گیا

کون ہے کوہ و صحرا کا پرسان غم؟

شہہ مریدوں کے کاندھوں سے اتری کمانوں کے خم

ریگزاروں میں سسی کے بوجھل قدم

منتظر ہیں

مگر آنے والوں کا یارہ نہیں

 

نخل_ امید_ لیلی و کو بے مائیگی کی گھٹن کھا گئی ہے

مگر کوئی چارہ نہیں

 

ہجر بے آسرا

وصل ناپید ہے

چشم بینا نہیں

طور سینا نہیں

بند ہیں لامکاں کی طرف جانے والے سبھی راستے

دوستو حرمت_قیس کے واسطے

لوٹ آؤابھی

تم کہاں رہ گئے

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...