میں ہوں نجود شادی کا دن(پانچویں قسط)

120

نجود علی یمن سے تعلق رکھنے والی ایک بچی ہے جس کی شادی اس کے بچپن میں کسی ادھیڑ عمر شخص سے کردی جاتی ہے جو بجائے خود ایک ظلم ہے مگر اس پر مستزاد یہ کہ اس پر شوہر کی جانب سے کام کاج اور دیگر امورِ خانہ داری سے ساسس سسر کی خدمت تک کی سبھی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ مزید یکہ اس پر ظلم و زیادتی اور تشدد کو بھی روا رکھا جاتا ہے۔ اس ظلم وجبر سے نجات کے لیے گھر سے نکلنے اور طلاق لینے میں کامیابی تک کے مراحل کو آپ بیتی کی صورت میں ایرانی نژاد فرانسیسی صحافی اور مصنفہ ڈلفن مینوئے (Delphine Minoui)نے”I’m Nujood: Age 10 and Divorced”کے نام سے تحریر کیا ہے۔ نجود علی جبری اورکم عمری کی شادی کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھی جاتی ہیں اوران کی آپ بیتی کااب تک تیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔اردو میں اس کتاب کا ابھی تک کوئی ترجمہ سامنے نہیں آیا۔ ہمارے سماج میں بھی جبری و کم عمری کی شادی اور گھریلو تشددایک المیے کی صورت موجود ہے۔ ایک باہمت کم عمر لڑکی کی آپ بیتی یقیناً ہمارے ذہنوں کو ضرور جھنجھوڑے گی۔ سہ ماہی تجزیات اس کتاب کا اردو ترجمہ قسط وار شائع کررہاہے۔ اس سلسلے کی  پانچویں قسط آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔(مدیر)

شادی کے دن  مجھے دیکھتے ہی میری کزنز  نے تالیاں بجانا شروع کر دیں،   تاہم میں انہیں اچھی طرح سے نہیں دیکھ پائی تھی کیونکہ میری  آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔   لہنگا میرے وجود سے کافی بڑا تھا اور زمین پر گھسٹ رہا تھا اس لیے میں آہستہ آہستہ آگے بڑھی کہ   کہیں گر ہی نہ جاوں ۔  مجھے جلدی میں  میری ہونے والی جٹھانی کا چاکلیٹی رنگ کا لمبا لہنگا  پہنایا گیا تھا جس کا آدھا  رنگ گھس چکا تھا ۔  ایک  رشتے دار  خاتون  نے میرے  بال سنوارنے شروع کر دیے   اور  میرے بالوں کی  چٹیا بنا دی تھی جس  کے وزن نے میرا سر  جھکا دیا تھا، اور تو  اور میں نے کاجل بھی نہیں لگایا تھا۔ اور جب میری نظر چھوٹے سے آئینے پر پڑی تو میں نے اس میں  جلدی سے اپنے  سڈول گالوں،  گلابی ہونٹوں اور بادام کی طرح کی بھوری آنکھوں پر نظر ڈالی تھی۔ میں نے دیکھا کہ  میری  پیشانی کتنی ہموار ہے اور کوشش کے باوجود مجھے اپنی پیشانی پر ایک  شکن بھی نہیں مل پائی تھی کیونکہ میں اس وقت چھوٹی تھی، بہت چھوٹی۔

میری شادی کی بات  ہوئے ابھی دو ہفتے نہیں گزرے تھے کہ مقامی رسم و رواج کے مطابق  خواتین نے  ہمارے چھوٹے سے گھر میں  شادی کا جشن منانا شروع کر دیا تھا۔ ان کی تعداد چالیس کے لگ بھگ تھی۔ دوسری طرف میرے چچا کے گھر مرد جمع ہو جاتے تھے اور بیٹھ کر قات چبانا شروع کر دیتے۔ دو دن پہلے جب  نکاح نامے   پر دستخط ہوئے تھے ، تو اس مجلس میں صرف مرد ہی بیٹھے ہوئے تھے اور ساری کاروائی  بنددروازوں کے پیچھے ہوئی تھی، نہ میری ماں  اور بہنوں کو خبر تھی  اور نہ ہی مجھے  کچھ  جاننے کا حق تھا  کہ کیا معاملات طے پائے۔ ہمیں دوپہر کے آخر میں صرف اپنے چھوٹے بھائیوں کے ذریعے  اس کی اطلاع ملی ،  جوکہ  گلی میں بھیک مانگنے نکلے تھے تاکہ میرے والد، چچا  اور میرے ہونے والے شوہر اور ان کے ساتھ آئے ان کے والد اور بھائی کے لیے  کچھ کھانے کا انتظام کر سکیں۔  یہ مجلس  قبائلی روایات  کے عین مطابق ہوئی تھی،   حاضرین مجلس میں صرف میرے والد کے بہنوئی ہی تھے جو پڑھنا لکھنا جانتے  تھے تو انہوں نے  ہی عقد سے متعلق لکھت پرت کا عمل سرانجام دیا۔ میرا مہر ڈیڑھ لاکھ ریال طے ہوا جس کی مالیت 750 ڈالر کے  مساوی ہے۔

  • “تم فکر نہ کرو ،” میں نے اس رات اپنے والد کو سرگوشی کے انداز میں  میری والدہ کو یہ کہتے ہوئے سنا۔ “ہم نے اس سے وعدہ لیا ہے کہ  وہ نجود کی پہلی ماہواری پر ایک سال  مکمل ہونے سے پہلے  اسے نہیں چھوئے گا۔”

میرا جسم  لرز گیا۔

ظہرانے سے شروع ہونے والی میری شادی کی تقریب جلد اختتام کو پہنچی ،  میں نے سفید عروسی جوڑا  پہنا  نہ میرے ہاتھوں  پر مہندی کے پھول سجے اور نہ ہی مجھے ناریل کینڈی کھانے کو ملی جو کہ مجھے بہت پسند ہے  اور جس کا ذائقہ  خوشی کے دنوں کی یاد دلاتا ہے۔ تقریب  بہت جلد ختم ہو چکی تھی لیکن مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ ہمیشہ جاری رہے گی۔ میں  کمرے کے ایک کونے میں  جاکر بیٹھ گئی،  میں نے دوسری خواتین کے ساتھ ڈانس  کرنے سے  بھی انکار کردیا  تھاکیونکہ مجھے  دھیرے دھیرے  ایسا محسوس ہونا شروع ہو گیا تھا کہ میری زندگی  ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے اور  غلط سمت کی طرف جارہی ہے۔ کم عمر خواتین نے  دل موہ لینے والے انداز میں بیلی ڈانس  کیا جیسا کہ ویڈیو کلپ میں ہوتا ہے جبکہ بڑی عمر کی خواتین نے آپس میں  ایک دوسرے کاہاتھ تھامتے ہوئے  بالکل اسی طرح روایتی لوک رقص پیش کیا جیسا کہ  دیہاتوں میں ہم دیکھا کرتے ہیں۔ ساز و سرور کی اس محفل میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد جب ایک گانا مکمل ہوتا اور خواتین روایتی انداز  میں  “لو لولولولولو”  کہہ کر جشن مناتیں تو  کچھ عورتیں مجھے مبارکباد دینے  کے لیے آتیں،  میں بھی  اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ان سے گلے ملتی لیکن  میں اپنے چہرے پر بناوٹی مسکراہٹ  طاری کرنے میں ناکام رہتی۔

میں برامدے کے ایک کونے میں دبک کر بیٹھی رہی،  رو رو کر میرا  چہرہ سوجھ گیا تھا، میں اپنے گھر والوں کو چھوڑنا نہیں چاہتی تھی اور  نہ ہی اس کے لیے تیار تھی۔ میں پہلے ہی سکول  کو اور اپنی سہیلی  ملاک کو بہت یاد کرتی تھی، تقریب کے دوران جب میری نظر چھوٹی بہن ہیفا پر پڑی  تو مجھے لگا کہ مجھے یہ بھی بہت یاد آئے گی۔ ساتھ ہی مجھے ایک بے ساختہ خوف نے آ گھیرا کہ اگر اس کے لیے بھی  ایسا ہی فیصلہ کیا گیا جو میرے لیے  ہوا تو پھر کیا ہو گا؟

سورج غروب ہوتے ہی  مہمان خواتین اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ گئیں  اور میں اپنے انہیں کپڑوں میں  سو گئی،  ہیفا بھی میرے ساتھ تھی، تھوڑی  دیر بعد  میری والدہ  بھی برامدے  کو   دوبارہ سیٹ کرکے آگئیں۔  جب مردوں کی مجلس برخاست ہونے کے بعد والد گھر آئے تو ہم سب سو چکے تھے۔میں نے  شادی سے پہلے اپنے والدین کے گھر  آخری رات   میں کوئی خواب دیکھا نہ ہی    مجھے اچھی طرح سو نا یاد ہے۔  مجھے بس یہی  لگ رہا تھا کہ میں صبح ایسے بیدار ہوں گی جیسے کوئی ڈراونا خواب دیکھنے کے بعد کوئی ڈر کر اٹھ جاتا ہے۔

اگلی صبح  چھ بجے کے قریب جب سورج کی  کرنوں نے کمرے کو روشن کیا تو مجھے امی نے  جگایا  اور   پھرتنگ دالان سے اپنے پیچھے چلنے کو کہا۔ ہم نے نماز ادا کی جیسا کہ ہم ہر صبح کرتے تھے  اور  خدا کی بارگاہ میں سجدہ  ریز ہو کر دن کی پہلی نماز پڑھتےتھے۔  پھر امی نے مجھے ایک کٹور ا  دیا جس میں  پیاز اور ٹماٹر کی چٹنی کے ساتھ  سفید لوبیا تھی جو ہم ناشتے میں کھاتے تھے اور  ساتھ دودھ والی چائے کا کپ  دیا۔

 

میرے سامان کا چھوٹا سا  بنڈل دروازے کے پاس میرا منتظر تھا لیکن میں نے یہ ظاہر کیا کہ میں نے اسے نہیں دیکھا۔ میں اس غیریقینی صورتحال سے بھرپور زندگی کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی  لیکن جب  گھر کے باہر گاڑی نے ہارن بجایا تو مجھے مجبورا  ہتھیار ڈالنے پڑے ۔  میری امی نے مجھے سینے سے لگا کر بھینچا اور پھر  مجھے کالا عبایا  اور سکارف پہننے میں مدد دی۔ اس سے پہلے میں  گھر سے نکلتے وقت ایک چھوٹا سا  رنگدار سکارف اوڑھ لیا کرتی تھی  اور کبھی  پہننا بھول بھی جاتی تھی لیکن کسی کی توجہ اس طرف نہیں جاتی تھی کہ میں نے سکارف نہیں پہنا۔ لیکن آج امی نے کپڑوں کے بنڈل سے سیاہ نقاب بھی نکال کر میرے حوالے کیا، اس سے پہلے مجھے کبھی نقاب نہیں کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا تھا۔

  • ” آج سے تمہیں گھر سے نکلتے وقت اپنے آپ کو مکمل ڈھانپنا ہو گا کیونکہ اب تم ایک شادی شدہ عورت ہو، تمہارا چہرہ  تمہارے شوہر کے علاوہ کوئی نہ دیکھے کیونکہ تم اس کی عزت ہو اور تمہیں اپنے شوہر کی عزت کا خیال رکھنا ہو گا۔”

میں نے  اداسی سے سر ہلایا اور امی کو الوداع کہا، مجھے  اپنی امی  پر بہت دکھ تھا کہ انہوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا تھا لیکن  میرے پاس الفاظ نہیں تھے کہ ان  کے سامنے اپنے دکھڑے کا اظہار کرتی۔

ہمارے دروازے کے سامنے جو گاڑی میرے انتظار میں تھی اس کے پیچھے  سے ایک  کوتاہ قامت شخص مجھے گھور گھور کر دیکھ رہا تھا۔ اس نے  میرے ابو کی طرح ایک لمبی سفید چادر اوڑھ رکھی تھی ،  وہ مونچھوں والا تھا اور جبکہ سر کے بال چھوٹے لہردار تھے۔  اس کی آنکھیں سیاہ تھیں  اور چہرہے کی شیو بھی ٹھیک طرح سے نہیں بنائی تھی جبکہ ہاتھ سیاہ  چکنائی سے اٹے ہوئے تھے۔ وہ بالکل بھی خوبصورت نہیں تھا ۔ اچھا ! تو یہ ہے وہ فیض علی تامر  جس نے  میرا ہاتھ مانگا اور اسے دے بھی دیا گیا۔ ایک اجنبی شخص جس سے گزشتہ سالوں میں اپنے گاؤں خارجی  آتے جاتے  مجھے نہیں یاد کہ ایک دفعہ بھی ملاقات ہوئی ہو۔

انھوں نے مجھے ڈرائیور کے پیچھے والی پہلی سیٹ پر بٹھایا، میرے ساتھ چار دوسری عورتیں بھی تھیں جن میں  میری جٹھانی بھی شامل ہیں۔ وہ دبے  انداز میں مسکراتیں  اور زیادہ باتونی نہیں معلوم ہوتی تھیں۔  اور وہ اجنبی شخص  اپنے بھائی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، مجھے تسلی تھی کہ اس لمبے راستے میں اس کی شکل نہیں دیکھنا پڑے گی لیکن مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ بار بار میری طرف دیکھتا ہے جس سے مجھے کوفت ہوتی تھی۔ یہ شخص ہے کون؟ مجھ سے کیوں شادی کی اس نے؟ وہ مجھ سے کیا توقع کر رہا ہے؟ اور یہ شادی؟ یہ دراصل ہوتی کیا ہے؟ میرے پاس ان سوالات کے جوابات نہیں تھے۔

جب  گاڑی کا  انجن چلنا شروع ہوا اور ڈرائیور نے ریس پر پاؤں رکھا تو ایک دفعہ پھر  میری  آنکھوں سے آنسوؤں نے اپنا رستہ بنا لیا۔ میرا دل ڈوبنے لگا۔ میں نے اپنا چہرہ شیشے کے ساتھ لگا  کر پیچھے دیکھنا شروع کر دیا اور اس وقت تک میری نظر اپنی امی سے نہیں ہٹی جب تک  کہ ان کا وجود  ایک نقطے کی مانند   نہیں رہ گیا۔

 

 

میں پورے سفر کے دوران میں ایک لفظ بھی نہیں بولی، میں تو اپنے ہی خیالات میں کھوئی رہی اور صرف یہ چاہتی تھی   کہ کسی طرح واپس گھر کی طرف فرار کا کوئی راستہ ملے۔ لیکن جوں جوں گاڑی صنعاء سے دور ہوتی جا رہی تھی اور شمال کے راستے کی طرف بڑھتی جا رہی تھی  مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ میری  اب ہر کوشش رائیگاں جائے گی۔ بارہا میر ا جی چاہا کہ اس سیاہ نقاب کو پھاڑ دوں جس میں میرا دم گھٹ رہا تھا، میں سوچ رہی تھی کہ میں تو بہت چھوٹی ہوں،  ابھی میری نقاب پہننے کی عمر ہے   نہ گھر والوں سے اتنا دور جانے کی  اور نہ ہی اس اجنبی شخص کے ساتھ  نئی زندگی کی شروعات کرنے کی  جسے میں جانتی ہی نہیں  اور نہ ہی اسے دیکھنا گوارا کرتی ہوں۔

اچانک گاڑی رک گئی۔

 

“پچھلا دروازہ کھولو!”

سپاہی کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ کیونکہ بہت زیادہ رونے کی وجہ سے میں تھک کر سو گئی تھی۔  ساتھ ہی مجھے یاد آیا کہ  شمال روڈ پر تو بہت سی تفتیشی چوکیاں ہیں  اور ابھی ہم پہلی چوکی پر پہنچے ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ فوج اور حوثی باغیوں کے مابین شمال میں جاری جنگ ہے۔ میرے والد کہتے ہیں کہ حوثی شیعہ ہیں ، جبکہ زیادہ تر یمنی سنی ہیں۔ ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ مجھے ذرا بھی آئیڈیا نہیں۔   مجھے بس اتنا پتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور روزانہ پانچ نمازیں پڑھتی ہوں۔

گاڑی کے اندر نگاہ دوڑانے  کے بعدسپاہی نے ہمیں آگے  چلنے کا اشارہ کر دیا۔  کاش میں موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے  اس سپاہی سے مدد کی اپیل کر لیتی  اور اسے اپنے بچانے کا کہہ سکتی! کیا ہری وردی  اور  کندھے پر اسلحہ  سجا کر اس کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ  وہ نظم و انصاف اور عوام کی حفاظت کو یقینی  بنائے؟  میں اسے بتاتی کہ میں صنعاء کو نہیں چھوڑنا چاہتی اور یہ کہ میں  مجھے اس بستی میں تنہائی  کا خوف ہے جہاں میں کسی کو بھی نہیں جانتی۔

مجھے  دارالحکومت صنعاء میں رہنے کی عادت ہو گئی   تھی،   اس کی بڑی بڑی عمارتی اورکشادہ شاہرائیں میرے دل کو بھاتی تھیں،   موبائل فون اور مشروبات کے وہ سائن بورڈ  دیکھ  کر  تو میرے منہ میں پانی آ جاتا  تھا۔ آلودگی اور ٹریفک جام میری روز مرہ زندگی کا حصہ بن چکے  تھے تاہم قدیم شہر باب الیمن مجھے بہت زیادہ یاد آئے گا۔  باب الیمن ( جو درحقیقت شہر کے اندر اصل شہر کہلانے کے لائق ہے ) ایک سحرانگیز جگہ ہے   جہاں مونا یا جمیلہ کا ہاتھ پکڑ کر  یونہی گھومنا مجھے بہت پسند تھا۔  مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ  میں کسی مشن پر جا رہی ہوں۔ یہ بالکل ہی  ایک الگ دنیا   ہے  جس کے مکانات  مٹی کے بنے ہوئے ہیں اور کھڑکیوں  کے گرد سفید گول خاکے منقش ہیں، اور نقش ونگار ایسے ہیں جنہیں دیکھ کر گمان گزرتا کہ  میری پیدائش سے بھی بہت پہلے  ہندوستانی  انجینئر یہاں سے گزر کر گئے ہیں۔  یہ جگہ اس قدر  پرانی تہذیب کی عکاس ہے کہ  میں نے  خود سے  ایک بادشاہ اور ملکہ کی کہانی گھڑ لی تھی اور فرض کر لیا تھا کہ یہ پرانا شہر انہیں کا تھا اور  پرانے زمانے  میں وہ یقینا  وہاں  خوشحال زندگی گزارکر گئے ہیں ۔

 

ہم جونہی باب الیمن میں داخل ہوتے تو ہر طرف سے ایک  شور وغل سنائی دیتا ہے: کہیں دکانداروں  کی آوازیں تو کہیں ریڈیو اور کیسٹوں کا شور، ساتھ ہی ننگے پاؤں  پھرتے بھکاریوں کی التجائیں۔ کبھی یوں ہوتا  کہ  کسی چوراہے پر  اچانک کوئی جوتے صاف کرنے والا  آپ کے پاؤں پکڑ کر اپنی  خدمات پیش کرتا ہے تو کبھی نماز کے لیے دی جانے والی اذان کی آواز اس پورے شور پر حاوی ہو جاتی ہے۔ مجھے تو چھوٹی دکانوں سے پھوٹنے والی  دھنیا، دار چینی، لونگ، اخروٹ اور کشمش کی خوشبو سونگنے میں مزہ آتا تھا۔ کبھی تو میں اپنے پنجوں کے بل کھڑی ہوجاتی تاکہ اپنے قد سے اونچی آویزاں چیزیں دیکھ سکوں ۔ ان تاحد نگاہ پھیلی چیزوں میں چاندی  کے بنے روایتی خنجر،  کڑھائی والی چادریں، شیریں جلیبی، مہندی اور مجھ سے کم عمر بچیوں کے کپڑے شامل ہیں۔

باب الیمن میں کبھی ہمارا سامنا  ایسی خواتین سے ہوتا جنہوں نے خوشنما رنگین حجاب  زیب تن کیا ہوتا۔ میں سمجھتی تھی کہ وہ “پرانے زمانے کی عورتیں”  ہیں،کیونکہ ان کےدل کش  رنگارنگ حجاب    ان کالے برقعوں سے یکسر مختلف  تھے جو  عام طور پر خواتین باہر نکلتے ہوئے پہنتی تھیں، مجھے وہ کسی اور عہدکی  عورتیں لگتی تھیں۔

 

ایک دوپہر، میں اپنی  پھوپھی جان کے ساتھ خریداری کے لیے  مارکیٹ گئی ، وہاں  میں بے پناہ ہجوم میں کھو گئی ۔میں نے اس خیالی دنیا  (جسےمیں اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی تھی) میں  کھو جانے کے لیے اپنی باگیں چھوڑ دیں ۔ جلد ہی میں نے اپنی پھوپھی جان کو ڈھونڈنے کے لیے واپسی کی راہ لی لیکن  مجھے لگا کہ ساری گلیاں  تو ایک جیسی ہیں۔ کیا مجھے آگے سے دائیں مڑنا چاہیے؟یا پھر بائیں؟ میں بھٹک  چکی تھی۔ میں نے  اکڑوں بیٹھ  کررونا شروع کردیا ، میں تو  کھو گئی ہوں  اورشاید ہمیشہ کیلئے۔ پورے دو گھنٹوں تک میری یہی حالت رہی  یہاں تک کہ میری پھوپھو کو جاننے والے ایک دوکاندار نے مجھے دیکھ  لیا اور مجھے پھوپھو کے حوالے کیا۔

ــنجو د! تم کب بڑی ہو گی؟ پھوپھو نےمیرا ہاتھ پکڑتے ہوتے ہوئے مجھ سے پوچھا۔

میں آج  رخصتی کی  اس اداس صبح  اس پھٹیچر گاڑی میں بیٹھے ہوئے  ایک مرتبہ پھر کھو گئی ہوں تاہم  اس دفعہ  میرے ارد گرد کی دنیا خیالی نہیں حقیقی ہے۔ مصالحوں کی سحرانگیز خوشبو  ختم ہو گئی ہے،  دکانداروں کی وہ شفقت بھری نگاہیں  جن کی وجہ سے  بچے گرم گرم جلیبیاں چکھ لیتے تھے نہ رہیں۔ میرے ارد  گرد نظر آنے والے چہرے اپنائیت سے خالی ہیں۔ میری زندگی ایک نئی کروٹ لے رہی ہے ، اب میں بڑوں کی  اس دنیا میں  داخل ہو  رہی ہوں جہاں خوابوں کا گزر نہیں۔

جونہی ہم دارالحکومت  کی حدودسے باہر نکلے سانپ کی طرح بل کھاتا ہوا  پرپیچ راستہ پہاڑوں اور وادیوں  کی طرف جا  نکلا۔ میں ہر موڑ پر اپنی سیٹ کے دستے  کو مضبوطی سے پکڑ لیتی۔ مجھے  معدے میں متلی  اور گھٹن کا احساس ہونے لگا، متلی پر قابو پانے کیلئے مجھے کئی بار خود کی ہی چٹکی کاٹنی پڑی۔ سڑک کے کنارے تھوڑی دیر تازہ ہوا خوری کے لیے گاڑی روکنے کا مطالبہ  کرنے   کی بہ نسبت مر جانا مجھے آسان لگ رہا تھا۔ میں نے آہستہ  آ ہستہ  تھوک نگلنا شروع کیا تاکہ طبیعت جمی رہے،میری کوشش تھی کہ میری ب طبیعت کی  خرابی  کسی پر ظاہر نہ ہو۔

میں نے سوچا کہ میں خود سے نظریں ہٹانے  کیلئےپاس سے گزرنے والے قدرتی مناظر کی باریکیاں دیکھنے میں مگن ہوجاؤں۔ بلند چٹانوں پر بنے پرانے ٹوٹ پھوٹ کا شکار قلعے، مارونی رنگ کے چھوٹے  چھوٹے گھر جن پہ سفیدی کی گئی تھی مجھے  باب الیمن کی یاد دلارہے تھے۔ راستے کے دونوں طرف کہیں  ناگ پھنی کے درخت  دکھائی دیتے تو کہیں مکمل خشک پہاڑی ٹیلے، کبھی زرعی کیاریوں  پر سے گزر ہوتا جہاں ہمیں گائیں اور بکریاں گھاس چرتی دکھائی دیتیں، اور کبھی  ایسی عورتیں نظر آتیں جن کے چہرے چادروں سے ڈھکے ہوتے ،میرا خیال ہے کہ شاید میں نے دو ہلکی سیاہی مائل بلیاں بھی دیکھی تھیں،لیکن میں نے جلدی سے اپنی آنکھیں بند کر لیں  تاکہ یہ منظر میرے حافظے پر نقش نہ ہو جائے۔جب میں نے دوبارہ آنکھیں کھولیں تو ہماری گاڑ ی کی اطراف میں قات ہی قات تھا۔دائیں بائیں ہر طرف  تاحد نگاہ ہریالی ہی ہریالی تھی۔یہ  تو کمال کا ہے!کتنا تر وتازہ لگتا ہے!

  • قات کا نشہ ہمارا قومی المیہ ہے۔ یہ اتنا پانی جذب کرتا ہے  کہ کسی وقت ہم سب اس ملک میں پیاس سے مر جائیں گے!ڈرائیور  حیرت و استعجاب سے چلایا۔

میں سوچنے لگی کہ زندگی کیسی عجیب ہے کہ صرف برے لوگ ہی برائی کی فصل نہیں کاٹتے بلکہ  کچھ خوبصورت چیزیں بھی برائی کا سبب بن جاتی ہیں۔میرے لیے  اس کا سمجھنا دشوار  تھا۔

ابھی کچھ اور مسافت طے کی تھی کہ میرے بالکل دائیں طرف میں نے  پہچان لیا کہ یہ کوکبان بستی ہے، یہ چٹانوں کے ایک ٹیلے کے اوپر بسا ہوا چھوٹا سا گاؤں ہے۔ مجھے یاد ہےکہ بہت چھوٹی عمر  میں میں  گھر والوں کے ساتھ اس کے قریب سے گزری تھی جب ہم  عید منانے کسی دوسرے گاؤں  جا رہے تھے۔کہا جاتا ہے کہ کوکبان کی عورتیں بہت خوبصورت اور دبلی پتلی ہوتی ہیں کیونکہ وہ  ہر صبح کھیتوں میں کام کیلئے جاتی ہیں۔ایک گھنٹہ اترائی  اترتے ہوئے لگتا ہے اور ایک گھنٹہ چڑھائی چڑھتے ہوئے،  درحقیقت یہ ورزش ہی تو ہے!ان کی بہادری کو سلام ہے!ایک گھنٹہ اترائی  اورایک گھنٹہ چڑھائی ۔۔۔ایک گھنٹہ اترائی ایک گھنٹہ چڑھائی۔

انجن کے شور سے میں چونک  کر جاگی۔کتنی دیر میں سوتی رہی ؟اس دوران ہم نے کتنے کلومیٹرفاصلہ  طے کیا؟ مجھے اس کی کچھ خبر  نہیں۔

 

ایک ۔۔۔دو ۔۔۔تین!

ہماری گاڑی کے پیچھے نصف درجن لوگ گاڑی کی ڈکی پر اپنا پورا زور لگا کر  ایک مٹی کے گھڑے میں پھنسی ہماری گاڑی کو دھکا دے کر نکالنے کی کوشش کررہے تھے۔ میں نے کوشش کی کہ گاڑی کے ٹائروں سے اڑنے والی دھول کے بیچ نظر آنے والے ایک  بورڈسے اس بے آب و گیاہ  بستی کا نام معلوم  کر سکوں جس میں ہم پھنسے ہوئے تھے: ارجم۔

لگ رہا تھا کہ ہم مرکزی شاہراہ چھوڑ کر کسی کچے ریتیلے راستے پر چلے آئے تھے جو ٹیلے کی لمبائی سے ہوکر ایک گہری گھاٹی تک جارہا تھا ۔گاڑ ی تو یقینا ً پھنس چکی ہے۔

ــبہتر یہی ہوگا کہ آپ یوٹرن لےلیں! مزید اس راستے پر چلنا آپ کیلئے ممکن  نہیں ہوگا، آگے کا راستہ اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ چہرے کو سرخ وسفید کپڑے سے ڈھکے ہوئے ایک دیہاتی نے کہا۔

ــلیکن ہمیں تو خارجی پہنچنا ہے، ڈرائیور نے جواب دیا۔

ــ ہونہہ! اس گاڑی  پر؟تم مذاق تو نہیں کر رہے؟

ــپھر کیا کریں؟

ــبہتر ین حل تو یہی ہے کہ گدھے  پر سوار ہوکر جائیں!

ــگدھے پر؟  لیکن ہمارے ساتھ تو گاڑی میں خواتین ہیں،یہ تو بہت مشکل ہوگا۔

ــ سنو، میری  مانو تو   ہمارے ایک جوان کو ساتھ لے لو یہ ان راستوں پر  مسافروں کو لانے لے جانے کا عادی ہے اور اس کی گاڑی کے ٹائر موزوں بھی ہیں اور وہ ان کو کم از کم ہر دو مہینے بعد تبدیل بھی کراتا رہتا ہے،ورنہ راستہ تو بہت خراب ہے۔

اسی  وقت گاڑی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔جس وقت بڑے  ہماری گاڑی سے دوسری گاڑی میں سامان منتقل کر رہے تھے تو میں نے آرام کے ان چند لمحات  کو  غنیمت جانتے ہوئے اپنی ٹانگیں سیدھی کیں جو سن ہورہی تھیں۔ ایک لمبی سانس لےکر میں نےپہاڑوں کی صاف ہوا سے اپنے  پھیپھڑوں کو ممکنہ حد تک بھر لیا۔ مجھے اتنا پسینہ آیا ہوا تھا کہ وہ مارونی لہنگا جسے میں ابھی تک  گاؤن کے نیچے پہنے ہوئی تھی میرے جسم سے چپک گیا ۔ میں نے اس کے کنارے اٹھا رکھے تھے تاکہ میں ٹیلے کے قریب ہوسکوں ،وادی لاع!وہ نیچے تھی،دور بہت ہی دور،وادی لاع کو میں نے پہچان لیا تھا میرے گاؤں کی وادی لاع،ویسی کی ویسی تھی بالکل بھی نہیں بدلی!حالانکہ میں بہت چھوٹی تھی جب ہم یہاں سے کوچ کر گئے  تھے،کیا یہ بچپن کی یادیں ہیں جو آج  تازہ ہو رہی ہیں  جو کہ  ان علاقوں کی طرف اپنے گھر والوں کےساتھ چند حالیہ اسفار کی وجہ  سے  میرے ذہن پر ثبت ہو گئی ہیں؟یا پھر یہ  وہ یادیں ہیں جو  پرانے البم  کی زرد تصویروں  میں بکھری ہوئی تھیں اور جنہیں   میرے والد وقتاً فوقتاً پر نم آنکھوں سے دیکھا کرتے  تھے؟

میری آنکھوں کے سامنے داد جان کی تصویر پھر گئی۔ میں دادا جان  سے بہت محبت کرتی تھی۔پچھلے سال ان کی موت پر میں بہت  روئی تھی ۔ہمیشہ ایک سفید عمامہ سر پہ باندھا کرتے تھے، داڑھی ہلکی سی تھی جوتھوڑی تھوڑی سفید ہورہی تھی اور  ان کی مارونی گھنی بھنوؤ ں سے بالکل میل نہیں کھاتی تھی۔کبھی  وہ مجھے اپنے گھٹنوں پر بٹھا لیتے اور پیچھے کی جانب چھوڑ دیتے اور پھر بالکل آخری لمحوں میں پکڑ لیتے ۔ مجھے ان کی بانہوں میں بے پناہ سکون  کا احساس ہوتا  تھا ۔مجھے ہمیشہ یوں لگتا تھا کہ اگر کبھی  میرے ارد گرد کی دنیا زیر و زبر ہو جائے  تو دادا جان مجھے بچانے ہمیشہ میرے پاس ہی ہوں گے، افسوس کہ بہت ہی جلد  ہمیں چھوڑ گئے۔

 

ــنجود ! نجود!

میں  نےیہ سوچتے ہوئے گھوم کر دیکھاکہ بھلا مجھے کون بلا سکتا ہے؟ یہ تو کوئی مانوس آواز نہیں تھی،  ان سنی سی لگ رہی تھی جیسے میرے کان اس سے ناآشنا ہوں،یہ تو میرے دادا جان کی آ واز کی طرح   بھی نہیں تھی جس  کو میں ہمیشہ بند آنکھوں سے بھی پہچان لیتی تھی۔سر اٹھانے پہ پتہ چلا کہ یہ وہی تھا میرا   انجان شوہر۔ جب سے ہم صنعاء سے چلے تھے پہلی دفعہ مجھ سے مخاطب ہوا تھا ،مجھ پر اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالتے ہوئے اس نے یہ اعلان سنایا کہ جانے کا وقت آگیا ہے،میں فوراً تعمیل میں  نئی سرخ وسفید ٹیوٹا پک- اپ کی جانب اٹھی جو مکمل زنگ آلود تھی۔ مجھے اگلی سیٹ پر اپنی باپردہ نند کے ساتھ نئے ڈرائیور  کی دائیں جانب بٹھایا گیا،باقی مرد  گاڑی کے پچھلے کھلے حصے میں دوسرےسواروں کے ساتھ بیٹھ گئے۔

ــمضبوطی سے پکڑ کے رکھنا،  راستے میں ہمیں سخت جھٹکے  لگیں گے! ۔۔ڈرائیور  نے متنبہ کیا۔

اسی دوران پک-اپ کی طرح کے ہی زنگ آلود سپیکروں سےبہ آواز بلند ایک لوک گانا چلنے لگا، بڑے پتھروں پر سے گزرنے والی پک اپ کے جھٹکے ہی کیا کم تھے  جو گٹار کی دھنوں کے ساتھ مقامی سطح  کے مشہور گلو کار حسین محب  کی آواز  کا بھی اضافہ ہوا۔

ہم لوگ ہچکولے نہیں کھا رہے تھے، بلکہ باقاعدہ  ہر طرف اچھل رہے تھے!گاڑی کے اگلے شیشے پہ تو کنکر  بار بار اچھل کر لگنے لگے۔میں نے دروازے کے دستے کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے دعا کی  کہ کسی طرح ایک  مرتبہ  میں صحیح سالم گاؤں تک پہنچ  جاؤں۔

ــگانے کی طرف دھیان دو بہن!گانے پر دھیان دینے سے  گھبراہٹ نہیں ہو گی! ڈرائیور کہنے لگا۔

اسے کیا خبر کہ میرے دل پر کون سی گھبراہٹ  چھائی ہوئی ہے۔

گاڑی  میں گھنٹوں حسین محب کے گانے چلتے رہے۔  مجھےگننا چاہیے تھا کہ کتنی  دفعہ اس نے  کیسٹ   الٹ پلٹ کرلگائی۔۔۔یوں لگتا تھا کہ اسے اس موسیقی کا نشہ ساہے جو  حقیقت میں بھی اسے آگے بڑھنے کی قوت فراہم کر رہی تھی۔ وہ گاڑی کے سٹیرنگ کو ایسے تھامے ہوئے تھا جیسے کوئی گھڑ سوار گھوڑے کی لگام تھامے ہوتا ہے، اور سب سے کم ہچکولے وہی کھا رہاتھا،آنکھیں ٹیڑھے میڑھے راستے پر ایسےجمی ہوئی  تھیں گویا  اسے راستے کی ہر ہر گھاٹی یاد ہو گئی ہو۔

کہنے لگا:

  • خدا نے فطرت کو سخت  بنایا ہے لیکن  انسانوں کو اس سے بھی زیادہ سخت بنایا ہے۔

تو یہ بات ہے، میں سوچنے لگی ،اگر یہ صحیح کہہ رہا ہے تو پھر ضرور خدا مجھے بھول گیاہوگا۔

 

جوں جوں ہم وادی میں داخل ہوتے گئے،میرے پریشانی بڑھتی گئی ، میں تھکی ہاری اور بھوکی پیاسی تھی ،لیکن اس سب سے بڑھ کر میں سہمی ہوئی تھی۔  میں نے اپنا غم بھلانےکے لیے  جس قدر ممکن تھا عقل کے گھوڑے دوڑائے، جوں جوں ہم وادی لاع کے قریب ہوتے گئے توں توں مجھے اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا اور میرے بھاگنے کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا ۔

خارجی بالکل بھی نہیں بدلا، یہ دنیا کا دوسرا کونہ ہے۔ میری کمر  ہچکولے کھا کھا کر ٹوٹ رہی تھی ، پہنچتے ہی میں نے پتھروں کے بنے پانچ گھر پہچان لیے، ایک  چھوٹی سی ندی جوگاؤں سے ہوکر گزرتی تھی ، شہد کی مکھیاں جو ایک پھول سے دوسرے پھول رس چنتی جارہی تھیں،  تاحد نگاہ درخت اور گاؤں کے بچے جو  چشمے سے اپنےزرد کنستروں میں پینے کاپانی بھر رہے تھے۔ایک گھر کی چوکھٹ پر  ایک عورت ہمارا انتظار کر رہی تھی ۔ مجھے فوراً  ہی احساس ہوا کہ وہ مجھے گھور رہی تھی۔ نہ مجھے گلے لگایا ،نہ ہی کوئی ہلکا سا بوسا دیایہاں تک کہ  کوئی ہلکی پھلکی  بات بھی نہیں، یہ اس کی والدہ تھی، میری  ساس ، بوڑھی اور بدشکل، چھپکلی کی طرح جھرجھری جلد ۔ اگلے دو دانت تھے ہی نہیں  اور جو تھے انہیں یا تو کیڑا  لگا ہواتھا  یا پھر تمباکو نے سیاہ  کردیا تھا۔ بالوں کو ایک کالی اور مٹیالی  رنگ کی چادر سے ڈھکا ہوا تھا ۔ ہاتھ کے اشارے سے مجھے اندر آنے کا کہا۔اندرونی حصہ نہایت سادہ تھا اور فرنیچر نہ ہونے کے برابر تھا۔پورا گھرچار کمروں ،ایک ہال  اورایک بہت چھوٹےسے باورچی خانے پر مشتمل تھا،جبکہ بیت الخلاء تو ٹیلوں کے پیچھے کھلی فضا میں تھا۔

نندیں جوگوشت اور چاول  تیار کر لائیں تھی میں بلا تکلف ہڑپ کر گئی ،میں تو بھوک سے مررہی تھی،جب سے صنعا سے چلے تھے  ایک لقمہ  تک نہیں چکھا تھا۔کھانے کے بعد بڑوں  نے قات کی محفل جما لی،   مزید برآں، اڑوس پڑوس کے لوگ بھی  جمع ہونے لگے۔ میں  اپنے کونے میں سمٹ کر بیٹھ  گئی اور خاموشی سے ان کی باتیں سننے لگے، مجھے اس بات پر حیرت ہو رہی تھی کہ   ان میں سے کسی کو میری کم عمری خلاف  معمول نہیں لگ رہی تھی۔  یہ تو مجھے بعد میں پتہ چلا کہ دیہاتوں میں کم عمری میں شادی کوئی عجیب بات نہیں تھی، اس وجہ سے میرا  نوعمر دلہن کے طور پر ان کے سامنے آنا کوئی استثنائی واقعہ نہیں تھا۔  بلکہ ایک قبائلی ضرب المثل ہےکہ ” اگر کامیاب ازدواجی زندگی گزانا چاہتے ہو تو نو سالہ لڑکی سے شادی کرو۔”

بڑے آپس میں طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے۔

ــصنعاء میں تو اب  گزر بسر بہت مشکل ہوگئی ہے،میری ساس کی ایک بیٹی نے شکو ہ کیا۔

ــمیں بچی کو کل ہی سے سمجھانا شروع کروں  گی کہ وہ کام میں لگ جائے، میری بوڑھی ساس میرا نام لئے بغیر بولی، پھر میں پر امید ہوں کہ و ہ اپنے ساتھ پیسے تو لائی ہوگی۔

ــاب بچپن کی اچھل کود ختم  ہوگئی ،ہم اس کو دکھائیں گے کہ اب کیسے عورت بننا ہے ،ایک حقیقی عورت!

سورج ڈوبتے ہی مہمان رخصت ہوئے تو مجھے میرا کمر ہ دکھایا گیا،  مجھے یاد ہے کہ مجھے بے پناہ اطمینان کا احساس ہوا  تھاکہ اب تو اس میں مارونی گاؤن کو اتار دوں گی جو  صبح سویرے سے پہنے  ہوئی تھی جو سچ میں بدبودار سابھی ہوگیاتھا۔ دروازہ بند کرتے ہی میں نے ایک سانس لی اور جلدی سے کپڑے تبدیل کرنے لگی تاکہ صنعا سے لائی ہوئی چھوٹی سی سرخ اونی قمیص پہن لوں، اس میں تو میرے گھر کی خوشبو بسی تھی،  ایسی رچی ہوئی  خوشبو  جس میں عود بسا تھا  ، اور جو مانوس اوراطمینان بخش تھی ۔ایک لمبی چٹائی  زمین پر بچھائی گئی تھی، یہ  میرا بستر  تھا۔ اور ساتھ میں روشنی کیلئےایک پرانا تیل کا چراغ جس کے شعلے  کا عکس دیوار کو روشن کر رہاتھا۔اتنی مدہم  رو شنی تھی کہ مجھے سونے کیلئے اس کو بجھانے کی ضرورت نہیں پڑی۔

 

آخر کار!
اب میں بستر پر دراز ہو گئی تھی اور میری  تمنا تھی  کہ اب میں  سوتی ہی رہوں ۔جب دروازہ ایک شور کے ساتھ کھلا تو میں بدک گئی اور مجھے لگا کہ آج رات ہوا کچھ زیادہ ہی تیز ہے۔بڑی مشقت سے میں اپنی آنکھیں  کھول پائی تو  کیا دیکھتی ہوں   کہ کوئی میری طرف بڑھ رہا تھا۔  اس نے پھونک  مار کر چراغ بجھا  دیا ا تھا اور رات کی  تاریکی مکمل طور پر چھا گئی تھی، میں کانپ اٹھی ۔یہ  تو وہی تھا ،  میں نے اس کو  سگریٹ اور قات کی   بدبو سے ہی   فوراًپہچان لیا تھا۔کتنا بدبودار تھا! اس سے کسی وحشی حیوان  کی سی بدبو آرہی تھی۔ اس نے آتے ہی بغیرکوئی  ایک لفظ کہے  مجھ سے چھیڑچھاڑشروع کردی۔

ــ  خدا  کا واسطہ ہے مجھے چھوڑ دو !میں نے ہانپتے ہوئے کہا، مجھ پر لرزہ طاری تھا۔

ــ تم میری بیوی ہو!اور آج سے  تمہیں میری تابعداری کرنا ہو گی، ہم دونوں اسی کمرے میں سویا کریں گے۔

میں ایک جھٹکے سے بھاگنے کیلئے کھڑی ہوئی اور وہ بھی وہ فوراً ہی لپکا۔اندھیرے میں، میں نے ایک روشنی کی لکیر دیکھی جو ادھ کھلے دروازے سے آ رہی تھی  ۔ بلا شبہ یہ چاند اور ستاروں کی روشنی تھی۔ایک لمحہ رکے بغیر  میں صحن کی جانب لپکی،لیکن وہ میرے تعاقب میں تھا۔

ــمدد!مدد! میں روتے ہوئے چیخی۔

رات کے اندھیرےمیں میری آواز گونجی لیکن میری چیخ و پکار صدا بصحرا ثابت ہو رہی تھی ۔میں ہر طرف بھاگی یہاں تک کہ میرا  دم گھٹنے لگا ۔میں سامنے آنے والے پہلے کمرے میں گھسی،لیکن جوں ہی وہ اس میں داخل ہوا میں اس سے بھاگ نکلی۔میں پیچھے دیکھے بغیر دوڑی اور کسی چیز سے ٹھوکر کھا کر گر گئی، شاید شیشے کا کوئی ٹکڑا تھا، میں  پھر بھاگنے کے لیے جلدی  سےاٹھ ہی رہی تھی  کہ مجھے دو بازؤں نے  گھسیٹ کر کمرے  کےاندر چٹائی پر لا پھینکا۔ میں کسی اپاہچ کی طرح زمین سے چمٹی ہوئی  تھی۔

ــ امی ! امی!۔۔۔  میں چلائی کہ شاید گھر کی کوئی عورت ہی میری مدد کو آ جائے۔

جب  کوئی جواب نہیں ملا تو میں پھر سے چلائی :

ــکوئی ہے ؟کوئی ہے؟

اس نے اپنا سفید  چوغہ اتار  پھینکا، یہ دیکھ کر میں  خود کو بچانے کے لیےاپنے آپ میں سمٹ گئی ہوں اس نے  میرے کپڑوں کی طرف دست درازی شروع کر دی  تاکہ مجھے بے لباس کر سکے۔  پھر اپنے کھردرے ہاتھ  میرے نرم و نازک وجود  پر پھیرتے ہوئے  اپنے ہونٹوں سے کلی کے لبوں کو مسلنے گا۔اس کے منہ سے تمباکو اور پیاز کی بدبو آرہی تھی۔

ــدور ہو جاؤ! میں اپنے ابو کو بتاؤں گی! میں نے کراہنا شروع کردیا ، اور پھر سے اس سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی۔

ــجو تیرےدل میں آ ئے اپنے باپ کو بتانا، اسی  نے تو نکاح نامے پر دستخط کئے تھے اور  اپنی رضامندی سے تمہیں میرے عقد میں دیا۔

 

ــتجھے کوئی حق نہیں !

ــنجود،تم میری بیوی ہو!

ــکوئی مددکرے!

اس وقت وہ طنزیہ انداز میں بولا:

ــمیں دوبارہ کہتا ہوں تم سے کہ تم میری بیوی ہو  اور تم پہ لازم ہے کہ اب وہی کرو جو میں  چاہتا ہوں!سمجھی؟

اچانک مجھے ایسا لگا جیسے ایک طوفان نے مجھے آ گھیرا ہو،مجھ پربجلی سی ٹوٹ پڑی ہو۔ اس نے مجھ پر لگاتار  چپیڑیں برسانا شروع کر دیں۔تڑاخ تڑاخ،میری تو دنیا ہی تاریک ہوگئی۔شدید زدوکوب سے  ایک شدید تپش نے میرے جسم کو گہرائیوں سے جلانا شروع کردیا ، ایک ایسی تپش جس سے آج تک میرا سابقہ نہیں پڑا تھا،میں نے بے فائدہ  چلانے کی کوشش کی کیونکہ  میری مدد کے لیے کوئی نہیں آیا، یہ بہت دردناک تھا، انتہا کا دردناک!  اور میں  تنہا ہی اس کا سامنا کررہی تھی۔

 

ٍ          آآآہ!  میرا خیال ہے کہ  یہ میری آخری چیخ تھی۔ اور پھر  میں اپنے ہوش کھو بیٹھی تھی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...