قرارداد پاکستان کی تاریخی اہمیت اور استحکام ِ پاکستان کے تقاضے

1,164

’قرار داد لاہور‘جو 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں پیش کی گئی اور اگلے روز یعنی 24مارچ 1940 کو متفقہ طور پر منظور کی گئی،ہماری تاریخ کا ایک اہم سنگ میل قرار دی جاسکتی ہے۔اس قرارداد کو بعد ازاں ’قرارداد پاکستان‘کے نام سے موسوم کیا گیا اور اب یہ اسی نام سے زیر بحث رہتی ہے حالانکہ قراردادمنظور ہونے کے وقت تک ’پاکستان‘ کا لفظ مسلم لیگ نے سرکاری طورپراختیار نہیں کیا تھا۔مسلم لیگ کے مخالف پر یس نے جو زیادہ تر کانگریس کے زیر اثر تھا،ایک طرح سے طنزیہ انداز میں یہ کہ کر تنقید کی تھی کہ لیگ نے ہندوستان کے حوالے سے وہی حل پیش کردیاہے جو کیمبرج کے ایک طالبعلم چوہدری رحمت علی نے 1933 میں ’اب یا کبھی نہیں‘(Now or Never) کے نام سے اپنے کتابچے میں پیش کیا تھااور جس میں لفظ’پاکستان‘ کو تخلیق کیا گیا تھا۔گوکہ مسلم لیگ نے چوہدری رحمت علی کے پاکستان کے نقشے سے خود کو ہمیشہ الگ رکھا لیکن ایک مرتبہ جب ’پاکستان‘کا لفظ مسلم لیگ سے اور اس کی قرارداد لاہور سے منسوب کیا جانے لگا تو لیگ نے اس کو اختیار کرلینے میں دیر بھی نہیں لگائی۔البتہ اس امر سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ 1940 سے 1947 تک قائداعظم ہندوستان کے مسلمانوں کے حوالے سے جب بھی مستقبل کی نقشہ گری کے موضوع پر اظہار خیال کرتے تھے تو ’پاکستان‘کی اصطلاح کے علاوہ وہ ایک اور اصطلاح یعنی ’مسلم انڈیا‘ بھی استعمال کرتے تھے۔’پاکستان‘کی اصطلاح کسی خطے کی طرف اشارہ تو ضرورکرتی تھی لیکن اس کی مکمل وضاحت باقی تھی کیونکہ قرارداد کی رو سے ہندوستان کے شمال مغرب اور شمال مشرق میں آزاد مملکتوں کا قیام ضروری جغرافیائی ردوبدل(readjustment)کے بعد ہی عمل میں آنا تھا۔تقسیم ہند کے وقت تک پہنچتے پہنچتے پاکستان کا جغرافیائی حدود اربع طے ہوا اور اس کا وجود مسلم اکثریتی صوبوں پر مشتمل علاقہ پرمشتمل قرار پایا اور اس میں بھی عملاًتقسیم کے مرحلے تک پہنچتے پہنچتے پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا تصور بھی شامل ہوگیا۔یوں خود پاکستان کا لفظ بھی اپنی علاقائی شناخت کے حوالے سے 1947 میں جاکر واضح ہوا۔البتہ ’مسلم انڈیا‘ کی اصطلاح مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک ہندوستان میں پھیلے ہوئے جملہ مسلمانوں کا احاطہ کرتی تھی اور قائداعظم نے اس اصطلاح کو آخر وقت تک ترک نہیں کیا تھا۔

قرارداد لاہور یا قرارداد پاکستان کی منظوری کو اسّی (80)سال ہوچکے ہیں۔یہ ایک بہت طویل عرصہ ہے لیکن یہ دلچسپ بات ہے کہ ان 80 برسوں میں یہ قرارداد مختلف حوالوں سے مستقل زیر بحث رہی ہے۔یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ ہمارے ملک کے آئینی اور سیاسی مباحث بھی کبھی اس قرارداد کے تذکرے سے خالی نہیں رہے۔قیام پاکستان کے وقت تک اس پر جو بحثیں ہوئیں وہ مسلم لیگ اور کانگریس،نیز تیسری سیاسی قوت یعنی برطانوی حکومت کے درمیان ہوئیں۔خود مسلم لیگ کے اندر بھی اس کے اوپر بحث مباحثہ جاری رہا اور 1946 میں دہلی میں مسلم لیجسلیٹرز کنونشن میں اس کے الفاظ میں ترمیم کی گئی۔قیام پاکستان کے بعد اگلے چوبیس برس اس پر ایک طرف یہ بحث ہوتی رہی کہ اس میں دو مسلم ریاستوں کا ذکر تھا یا ایک مسلم ریاست کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ہمارے آئینی اور سیاسی مبصرین اس بحث میں الجھے رہے کہ قرارداد میں ‘States’کا لفظ جو استعمال ہوا تو واحد کے بجائے جمع کا صیغہ کیونکر استعمال ہوگیا۔بعض لوگوں نے یہ بھی رائے قائم کی کہ مدعا تو ایک ہی ریاست قائم کرنے کا تھا،جمع کی ترکیب ٹائپسٹ کی غلطی کی وجہ سے قرارداد میں جگہ پاگئی۔ایک کے بجائے دو ریاستوں کی تاویل پیش کرنے والے اس بات پر زور دیتے تھے کہ بات یہ نہیں تھی کہ ٹائپسٹ نے غلطی سے جمع کی ترکیب استعمال کی،بلکہ قرارداد کے اندر اس ترکیب سے پہلے اور بعد میں جوجملے لکھے گئے وہ بھی دو ریاستوں ہی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ قرارداد تیار کرنے والی کمیٹی نے اس کی تدوین میں بڑا وقت صرف کیا تھا، لہٰذایہ ممکن نہیں تھا کہ اس میں جمع کی ترکیب بے خیالی یا کسی غلطی کی وجہ سے درج ہوگئی۔وہ یہ بھی موقف رکھتے تھے کہ 1946 میں قرارداد میں جو ترمیم کی گئی وہ لیجسلیٹرز کے کنونشن میں کی گئی ترمیم تھی،جبکہ اصل قرارداد مسلم لیگ کے اجلاس ِ عام میں منظور کی گئی تھی،جو زیادہ وقیع ادارہ تھا۔

ایک یا دو مملکتوں کا تنازعہ اس وقت ختم ہوگیا جب 1971میں مشرقی پاکستان آزاد ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔لیکن قرارداد لاہور سے نکلنے والی ایک اور بحث پچھلے 80 برس سے جاری ہے۔یہ بحث صوبوں کی خود مختاری کے موضوع سے متعلق ہے۔ہمارے وہ سیاسی عناصر،سیاسی لیڈر اور جمعیتیں یا سیاسیات کا احاطہ کرنے والے اہلِ دانش جو صوبائی خود مختاری کے علمبردار رہے ہیں،ہمیشہ قراردا پاکستان کو ایک حوالے اور ایک مثالیے کے طور اپنے سامنے بھی رکھتے ہیں اور اپنے موقف پر اصرار کے نقطہئ نظر سے اس کا حوالہ بھی دینا ضروری سمجھتے ہیں۔

ماضی کے کسی بھی تاریخی نوعیت کے واقعے کو دو زاویوں سے دیکھنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ایک تو یہ کہ اس واقعہ کو خود اس کے عہد کے تناظر میں دیکھا جائے۔تاریخ کا ارتقائی سفر،دراصل اسباب و عوامل اور ان کے نتائج کا سلسلہئ عمل ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ ہی انسانی معاشروں کو آگے لے کر چلتا ہے۔سو کسی بھی عہد کے کسی واقعے کو سمجھنے کے لیے اس سے قبل کے سلسلہئ واقعات اور اس میں پوشیدہ اسباب اور نتائج کی کارفرمائی کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔تب ہی ہم اُس مخصوص واقعے کی اصل حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں۔سو، قرارداد پاکستان کی تفہیم تب ہی ممکن ہے جب ہم یہ دیکھیں کہ اس سے قبل کے برسوں میں،خاص طور سے ہندو مسلم سیاسی مناقشے کا آغازکیونکر ہوا،مسلم لیگ کے قیام کے مقاصد کیا تھے اور انگریزی حکومت کے تحت مسلمانوں کے لیے بہتر سے بہتر حالاتِ کار کے لیے جو جدوجہد کی جارہی تھی وہ کن مراحل سے گزری اور پھر یہ کیونکر ہوا کہ مسلم لیگ کو مارچ 1940 تک پہنچتے پہنچتے ہندوستان کے ایک ایسے مستقبل کے نقشے کے بارے میں سوچنا پڑا جو نقشہ 23مارچ کی قرارداد میں بیان کیا گیا تھا۔

ماضی کے کسی بھی واقعے کو زیرِ غور لانے کا دوسرا زاویہ یہ ہوسکتا ہے کہ اگر اس کی کوئی افادیت بعد کے زمانوں میں محسوس کی جائے تو اس کو اس کے اسی افادی پہلو کے حوالے سے زیر بحث رکھا جائے۔اگر اس کے اندر کوئی ایسا تصور اور خیال موجود ہو جو بعد کے زمانوں میں بھی سود مند ہوسکتا ہو تو اُس کواس حوالے سے بھی پیش نظر رکھا جائے اور محض ماضی کا ایک واقعہ سمجھ کرنظر انداز نہ کردیا جائے۔

قرارداد پاکستان کا اپنے عہد کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تولامحالہ ہمیں ہندوستان میں انگریز کی آمد یا خاص طور سے ہندوستان پر اس کے قبضے کے مکمل ہوجانے کے بعد کے سیاسی و آئینی ارتقا پر نظر ڈالنی پڑے گی۔1857 میں ہندوستان پر اپنے قبضے کو مکمل کرنے کے بعد جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کا اقتدار تاجِ برطانیہ کے سپرد کیا تو اس کے ساتھ ہی ہندوستان میں اپنا نظم ونسق قائم کرنے کی خاطر برطانوی پارلیمنٹ نے ایسے قوانین کا اجراء شروع کیا جو ہندوستان جیسے وسیع و عریض خطے پر استعماری کنٹرول کو ہموار بنانے کا ذریعہ بن سکتے تھے۔اس ضمن میں سب سے پہلے قانونِ ہند مجریہ 1858 منظور کیا گیا جس کے تحت لندن سے ہندوستان کو کنٹرول کرنے کا طریقہ کا ر وضع کیا گیا۔بعد کے برسوں میں برطانوی پارلیمنٹ سے ایسے قوانین وقتاً فوقتاً جاری ہوتے رہے جن کا بنیادی مقصد ہندوستان کا انتظامی کنٹرول مستحکم کرنا تھا۔اسی سلسلے میں ایسے قوانین بھی جاری کیے گئے جن کے تحت ہندوستانیوں کو یہاں کے انتظامی اور سیاسی ڈھانچوں میں جگہ دینا مقصود تھا۔اس سلسلے میں ابتداً نامزدگی کا طریقہ استعمال کیا گیا۔اس کے بعد نامزدگی کے ساتھ ساتھ انتخاب کے طریقے کو بھی جگہ دی جانے لگی اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نامزدگی کے بجائے انتخاب کے اصول کو اہمیت حاصل ہوتی چلی گئی۔یہیں سے مختلف ثقافتوں کے حامل افراد کے درمیان اپنی شناختوں کی بنیاد پر جمعیت سازی کا رجحان پیدا ہوا۔اسی رجحان نے آگے جاکر مسلمانوں کو ایک علیحدہ سیاسی جمعیت کے طور پر خود کو پیش کرنے پر مائل کیا۔مسلمان ہندوستان کی مجموعی آبادی میں ایک اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے لہٰذا نمائندہ اداروں کے آغاز کے ساتھ ہی ان میں اپنی بہتر سے بہتر نمائندگی کاا حساس فروغ پاتا چلا گیا۔اس کو ہندوستان کا مذہبی مسئلہ یا ’کمیونل مسئلہ‘(Communal issue) قراردیا گیا جس کے حل کے لیے مسلم لیگ اور قائداعظم نے ہر مرحلے پر ایسی تجاویز دیں جو اگر قبول کرلی جاتیں اور ان پر عملدر آمد کیا جاتا تو متحدہ ہندوستان کے دائرے میں ہی بیک وقت مشترک اور جداگانہ اقدار کی حامل دو بڑی ثقافتوں کے درمیان سیاسی طور پر چلنے کی ایک صورت پیدا ہوجاتی۔لیکن ایسا نہ ہوسکا۔

انگریز کے ہندوستان آنے کے ساتھ ہی ایک دوسرا انتظامی و سیاسی فیصلہ یہ ہوا کہ ہندوستان جیسے وسیع و عریض خطے کو،جہاں مختلف نسلی،لسانی اور ثقافتی عوامل نے مختلف علاقائی وحدتوں کی سطح پربھی خود کو استوار کررکھا ہے،ایک ایسے نظام کے تحت ہی مربوط کیا جاسکتا ہے جس میں ایک مرکز کے ساتھ ساتھ صوبائی وحدتوں کے وجود کو بھی تسلیم کیا جائے۔یہی نہیں بلکہ ہندوستان میں ساڑھے پانچ سو سے زیادہ ایسی موروثی وحدتیں بھی موجود تھیں جن کو صوبائی دائرہ کار سے الگ حیثیت دیتے ہوئے موروثی ریاستوں یا ’پرنسلے اسٹیٹس‘ کے طور پرشناخت کیا گیا۔یہ موروثی ریاستیں داخلی خود مختاری کی حامل تھیں جبکہ ان کے حکمران براہ راست تاجِ برطانیہ کے تحت تھے۔ہندوستان کا سیاسی و آئینی ارتقاء جو 1857 سے 1947 تک جاری و ساری رہا،بنیادی طور پر صوبوں کی سطح پر آگے بڑھا۔یہاں مسلم لیگ اور قائداعظم کی سوچ یہ تھی کہ ایک تو ہندوستان میں مسلم اکثریتی صوبوں کی تعداد بڑھوائی جائے اور دوسرے یہ کہ صوبوں کو خاطر خواہ خود مختاری حاصل ہو تاکہ وہ کسی مضبوط مرکز کی غلامی میں چلے جانے کے بجائے اپنے انفرادی تخلیقی و تعمیری رجحانات کو روبہئ کار لاسکیں۔

آج پیچھے مڑ کر دیکھیں اور ماضی کے ان دو سیاسی دھاروں یعنی ہندوستان کے اندر مذہبی شناخت کی بنیاد پر ابھرآنے والی جمعیتوں کی مناسب نمائندگی کا ’کمیونل سوال‘ اور مرکز اور وحدتوں کے درمیان تقسیمِ اختیارات کا موضوع، تو مسلمانوں کے سرکردہ رہنما محمدعلی جناح کی زِیرکی اور سیاسی و آئینی بصیرت کو محسوس کیا جاسکتا ہے کہ کس طرح انہوں نے ان دونوں تضادات کوایک ساتھ حل کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے ان دونوں مسائل کو بنیادی طور پر سیاسی مسائل ہی سمجھا اور ان کا جو مشترک حل تجویز کرنا چاہا،وہ بھی سیاسی حل ہی تھا۔انہوں نے ہمیشہ اس راستے کو اختیار کرنے کا مشورہ دیا جس پر چل کرہندوستان کے کمیونل مسئلے کو ایک قابل عمل وفاقی نظام کے ذریعے حل کیا جاسکتا تھا اور دوسری طرف انہوں نے ہندوستان کے لیے ہمیشہ ایک ایسا وفاقی سیاسی نظام تجویز کیا جو اگر قائم ہوجاتا تو ہندوستان کے کمیونل مسئلے کی بھی بڑی حد تک تشفی ہوجاتی۔محمد علی جناح کی اس سیاسی معاملہ فہمی کو تاریخ کے طالبعلم تو آج محسوس کرسکتے ہیں لیکن اس کو نہ تو وہ لوگ محسوس کرسکے جو ہندوستان میں مضبوط مرکز کے علمبردار تھے اور نہ ہی وہ عناصر اس کی مناسب تفہیم حاصل کرسکتے تھے جوقیام پاکستان سے قبل جناح کے دو قومی نظریے کو ایک خالص مذہبی اور فرقہ ورانہ موضوع سمجھ کر اس پر تنقید کررہے تھے یا جو قیام پاکستان کے بعد جناح کو ایک فرقہ پرست کے طور پر پیش کرنے پر کمر بستہ رہے۔جناح کے نزدیک دو قومی نظریہ غیر منقسم ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک سیاسی راستہ کھولنے کا وسیلہ تھا،نا کہ مذہب کی بنیاد پر منقسم دو ثقافتوں کے حامل عناصر کے درمیان ازلی و ابدی تقسیم اور دشمنی کا کوئی نسخہ۔

جناح کی 1913 میں مسلم لیگ میں شمولیت سے 1940کی قرارداد تک ہر سیاسی کاوش اور ہر آئینی فارمولا ان کے اسی طرز فکر کا مظہر تھا۔یہ ضرور ہے کہ انہوں نے اپنے ہر آئینی فارمولے کے رد کردیے جانے پر جو بھی اگلا فارمولا پیش کیا وہ پچھلے سے زیادہ سخت تھا لیکن انہوں نے مصالحت کا دروازہ کبھی بھی مکمل طور پر بند نہیں کیا۔1927 میں انہوں نے دہلی مسلم تجاویز کا پیکج پیش کیا،وہ رد کردیا گیا۔دو سال بعد انہوں نے اپنے موقف میں سختی پیدا کرتے ہوئے اپنے چودہ نکات پیش کیے،مصالحت کا راستہ ان میں بھی موجود تھا،مگروہ بھی رد کردیے گئے۔سائمن کمیشن کی آمد پر انہوں نے ہندوستان میں کانگریس اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر ہم آہنگ موقف اختیار کرنے کا راستہ اپنایا۔اس میں بھی ان کو ناکامی ہوئی۔1937 کے انتخاب کے فوراً بعد بھی انہوں نے مسلم لیگ کے موقف میں کچھ نہ کچھ لچک ضرور رکھی۔لیکن کانگریس کی مسلم لیگ کے ساتھ شراکتِ کار کی شرائط اتنی سخت تھیں کہ ان کو تسلیم نہیں کیا جاسکا۔بالآخر 1940 میں جبکہ کانگریس پر برا وقت آیا ہوا تھا، وہ 1939 میں اپنی صوبائی وزارتوں سے مستعفی ہوچکی تھی۔سلطنتِ برطانیہ دوسری جنگ عظیم کا حصہ بنی ہوئی تھی اور ہندوستان کو بھی اس جنگ میں جھونک دیا گیا تھا۔ایسے وقت میں مسلم لیگ کی سودے بازی کی پوزیشن کہیں زیادہ مضبوط ہوچکی تھی۔سو، 23 مارچ 1940 کو ہندوستان کے مستقبل کے آئینی نظام کے حوالے سے وہ تاریخی قرارداد پیش کی گئی جس میں ایک ایسا نقشہ پیش کیا گیا تھا جو بڑی حد تک ایک کنفیڈرل ہندوستان کا نقشہ تھا۔اس کی رو سے ہندوستان کے شمال مشرق اور شمال مغرب میں جہاں مسلمانوں کے اکثریتی خطے واقع تھے،ایسی آزاد ریاستوں کا خیال پیش کیا گیا جن کے اندر موجود وحدتوں کو خود مختاری (autonomy)اور اقتدار اعلیٰ (sovereignty)کا حامل قرار دیا گیا۔اس قرارداد کا نفسِ مضمون یہ باور کراتا ہے کہ مسلم لیگ کی سوچ وحدتوں کی زیادہ سے زیادہ خود مختاری کی سوچ بن چکی تھی۔پھر ان وحدتوں کو جن دو آزاد ریاستوں کا حصہ بننا تھا وہ دونوں آزاد ریاستیں ہندوستان کے ہمہ گیر وجود ہی کا حصہ ہوتیں۔اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلم لیگ نے اس قرارداد میں بھی مفاہمت کا دروازہ کھلا رکھا اور متحدہ ہندوستان کی ایک شکل جو ایک کنفیڈریشن کی شکل ہوتی،کو قبول کرنے میں تامل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ظاہر ہے کہ 1947 میں ہندوستان کی جو تقسیم ہوئی وہ 1940 کی قرارداد کے نقشے کے عین مطابق نہیں ہوئی لیکن یہ قرارداد ہماری تاریخ کے سیاسی سفر کا ایک اہم مرحلہ ضرور تھی۔

لیکن کیا اس قرارداد کو تاریخ کا ایک مرحلہ قرار دے کر ہم اس سے بالکل لاتعلق بھی ہوسکتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔اس قرارداد میں مسلم لیگ نے جس سوچ سے اپنی وابستگی کا ذکر کیا اور جس کی طرف اس مضمون میں پیچھے اشارہ بھی کیا گیا،یعنی یہ سوچ کہ وحدتوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دی جاسکتی ہے اور یہ خود مختاری اقتدار اعلیٰ کی حد تک بھی ہوسکتی ہے،بجائے خود ایک ایسی سوچ تھی جو آزادی کے بعد پاکستان کے لیے بہت راہ کشا ثابت ہوسکتی تھی۔

بدقسمتی سے آزادی کے بعد ہمارا سیاسی سفر بالکل ہی الٹ سمت میں شروع ہوا۔پاکستان پر سیاسی عناصر کی حاکمیت اور منتخب سیاسی اداروں کی بالادستی کے بجائے افسر شاہی کی حاکمیت کا نظام قائم ہوا۔تقسیم ہند کے فوراً بعد کے حالات نے بھی داخلی کمزوریوں کی حامل مسلم لیگ کو اس لائق نہیں چھوڑا کہ وہ ملک میں اتفاق رائے کی بنیاد پر ایک قابل عمل جمہوری اور سیاسی نظام ترتیب دے کر اداروں کے قیام کا آغاز کرتی۔پاکستان میں ابتدا ہی سے سول اورعسکری افسروں کو فیصلہ سازی پر اجارہ داری حاصل ہوگئی۔یہ وہ عناصر تھے جو استعمار کے دور کے پروردہ تھے۔ان کی تشکیل اور پرداخت،اور ان کا طرزِ فکر و احساس استعمار کا مرہونِ منت تھا۔ان کے نزدیک مضبوط مرکز ہی نئی مملکت کی بقا اور ترقی کی ضمانت فراہم کرسکتا تھا۔اسی افسر شاہی نے دس گیارہ سال برائے نام سیاسی حکومتوں سے اپنی مرضی کے فیصلے کروائے اور پھر 1958 میں ان حکومتوں کا راستہ بھی بند کردیا۔تب سے اب تک پاکستان میں چار فوجی حکومتیں قائم ہوچکی ہیں۔جو مجموعی طور پر73 سال کی تاریخ میں کوئی 33 سال کی مدت براہ راست اقتدار پر براجمان رہی ہیں۔جب ملک میں سویلین حکومتیں بھی قائم ہوئیں تب بھی وہ مکمل اختیار اور اقتدار سے محروم تھیں۔

پاکستان میں جمہوری سیاسی عمل کے عدم تسلسل اور عدم استحکام کا سب سے بڑا ہدف قومی وحدت بنی ہے اور اس کا بھی سب سے بڑا اظہار مرکز اور صوبوں کے درمیان فاصلوں کی شکل میں سامنے آیا ہے۔یہ بھی ہماری سیاسی تاریخ کا اہم پہلو ہے کہ ہمارے یہاں ایک بڑے عرصے تک جمہوریت اورشہری آزادیوں کے لیے تحریکوں کے منابع اور مراکز اُن صوبوں ہی میں نمودار ہوئے جو مرکز ی حکومتوں کی غیر منصفانہ پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کررہے تھے۔صوبائی وحدتیں ہمیشہ وفاق میں اپنے جائزمقام کے لیے جدوجہد آزما رہی ہیں۔وحدتوں کو ماضی میں جزوی کامیابیاں بھی ملی ہیں لیکن یہ مرکزکی شدت پسند سوچ اور رویوں کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

آزادی کے بعد سے اب تک وفاقی نظام کے حوالے سے ہمارا سیاسی سفر مرکزیت پسندی اور مرکزیت گریزی کی ناختم ہونے والی کشمکش کی تاریخ ہے۔قیام پاکستان کے وقت1935 کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کو ملک کے عبوری دستور کے طور پر اختیار کیا گیا تھا۔ایسا ہی ہندوستان میں بھی کیا گیا تھا لیکن ہندوستان نے 3 سال کے عرصے میں اپنا آئین بنالیا جبکہ پاکستان کو ایسا کرنے میں 9سال لگے۔تشکیلِ آئین میں اتنی طویل مدت اس لیے لگی کہ مشرقی پاکستان جو آبادی کی بنیاد پر نہ صرف سیاسی اداروں میں بلکہ ملک کے مختلف عسکری و انتظامی شعبوں میں نمائندگی چاہتا تھا اور ساتھ ہی اقتصادی وسائل کی تقسیم کے ایک ایسے نظام کا خواہش مند تھا جس میں اس کے ساتھ کسی ناانصافی کا احتمال نہ ہو۔مشرقی پاکستان کی صوبائی خود مختاری سے متعلق خواہشات مرکز میں موجود مقتدر اداروں اور سیاسی اشرافیہ کے لیے قابل قبول نہیں تھیں۔1954 میں جب بنگالی وزیراعظم محمد علی بوگرا کے دور میں ایک ایسا فارمولا تلاش کرلیا گیا جس کی رو سے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان سیاسی مصالحت ممکن تھی تو قبل اس کے کہ یہ فارمولا مسودہ ئ آئین کی شکل اختیار کرکے دستور ساز اسمبلی  میں پیش کیا جاتا،گورنر جنرل نے مذکورہ اسمبلی کو توڑنے کا اقدام کیا۔اس سے پہلے مشرقی پاکستان کے صوبائی انتخابات میں مسلم لیگ کو زبردست شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا جبکہ اس کے خلاف بننے والا اتحاد جگتو فرنٹ واضح اکثریت سے کامیاب ہوا تھا۔جگتو فرنٹ کے کم و بیش سب مطالبے صوبائی خود مختاری کے دائزہ کار کو بڑھانے کے مطالبے تھے۔ان کا مقصد مشرقی پاکستان پر مغربی پاکستان کی بالادستی کو ختم کرنا تھا لیکن دستوریہ کے خاتمے کے بعد نئی آئین ساز اسمبلی کے انتخاب کے موقع پر اور پھر اس اسمبلی کے وجود میں آنے کے بعد مشرقی پاکستان کی قیادت نے سیاسی مصالحت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے صرف اس لیے خود مختاری کے اپنے مطالبے سے کئی قدم پیچھے آنے کافیصلہ کیا تاکہ ملک کو بہرحال ایک دستور حاصل ہوجائے۔نتیجتاً وجود میں آنے والا 1956 کا آئین 1935 کے ایکٹ ہی کا چربہ تھا لیکن کم از کم اس نے 1954 میں رک جانے والے سیاسی عمل کو بحال کرنے میں مدد دی۔مشرقی پاکستان اور مغربی خطے میں سندھ،سرحد اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی عناصر کو توقع تھی کہ انتخابات کے بعد وہ نئی اسمبلی سے آئین میں ترامیم کروا کر 1956 کے دستور کو اپنے لیے زیادہ قابل قبول بنواسکیں گے۔1956 کے دستور کے بننے سے پہلے صرف مشرقی پاکستان کی عددی برتری کو غیر موثر بنانے اورneutralizeکرنے کے لیے مغربی خطے کے صوبوں اور ریاستوں کو ایک وسیع تر مغربی پاکستان نامی صوبے میں ضم کردیا گیا تھا۔لیکن یہ فیصلہ مغربی خطے کے چھوٹے صوبوں میں مقبول نہیں ہوسکا تھا۔لہٰذا ون یونٹ بننے کے ساتھ ہی’اینٹی ون یونٹ فرنٹ‘ بھی وجود میں آگیا تھا۔1957 میں صوبائی خود مختاری کی علمبردارمختلف جماعتوں اور قائدین کے اتحاد کے نتیجے میں نیشنل عوامی پارٹی وجود میں آئی تھی جس کی قیادت مشرقی پاکستان کے شعلہ بیاں اور کسانوں میں غیر معمولی حمایت رکھنے والے رہنمامولانا عبدالحمید خان بھاشانی کررہے تھے۔نیشنل عوامی پارٹی بھی ون یونٹ کے خاتمے اور مشرقی پاکستان نیز دیگر صوبوں کو آبادی کی بنیاد پر نمائندگی دینے کا مطالبہ کررہی تھی۔غالب امکان یہ تھا کہ حسبِ اعلان اگر فروری 1959 میں ملک میں عام انتخابات ہوجاتے تو وجود میں آنے والی نئی اسمبلی آئین میں ترامیم کرکے صوبائی خود مختاری کے مطالبات کو بڑی حد تک اس کے دامن میں سمیٹ لیتی لیکن 7اکتوبر 1958 کو ملک میں مارشل لا ء لگا دیا گیا اور آئین کو منسوخ کردیا گیا۔

ایوب خان کا 1962 کا آئین پچھلے آئین سے بھی زیادہ مرکزیت پسندی کا حامل تھا۔اگر چہ پچھلے آئین میں ایک کمزور اور مجہول پارلیمانی نظام کو جگہ دیتے ہوئے چند بہت اہم اختیارات صدر کو دے دیے گئے تھے جن میں وزیر اعظم کے تقرر اور اس کو معزول کرنے کا اختیار بھی شامل تھاتاہم آئین نے پارلیمانی نظام پر خطِ تنسیخ نہیں کھینچ دیا تھا۔ 1962 کے آئین نے پارلیمانی نظام کو یکسر رد کرتے ہوئے ایک ایسا صدارتی نظام وضع کیا جس میں صدر مرکزیت پسند نظام کی سب سے اوپر کی منزل پر فائز تھا۔دستور میں پاکستان کو وفاق قرار دینے کا تکلف تک نہیں کیا گیا بلکہ یہ کہا گیا کہ ’پاکستان ایک طرح کا وفاق ہوگا‘اور یہ ’ایک طرح‘یہ تھی کہ ملک میں دو صوبے تھے،دونوں کی آبادی مختلف ہونے کے باوجود اسمبلی میں نمائندگی برابر تھی،دستور کی مرکزی فہرست میں سارے ہی اہم موضوعات شامل کرکے صوبوں کے دائرہ کار کو بہت محدود رکھ چھوڑا گیا تھا۔دنیا کے بعض اہم جمہوری صدارتی نظاموں میں صدر کے اختیارات پر حد قائم کرنے اور اُس کے اقدامات پر نظر رکھنے کے لیے جو آئینی انتظام کیاجاتا ہے،اور جس کو Checks and Balanceکا نظام کہا جاتا ہے،1962کا آئین اس سے محروم تھا۔اس مرکزیت پسند نظام نے ایوب خان کے خلاف اٹھنے والی تحریک میں اہم کردار ادا کیا چنانچہ اس دور میں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی صوبائی خود مختاری کی علمبردار بن کر ابھریں۔1970 کے الیکشن میں صوبائی خود مختاری ایک بہت بڑا مطالبہ تھا اور مذکورہ جماعتوں کو جو ووٹ ملے وہ ان کو صوبائی خود مختاری کے مطالبے کی بنیاد پر ہی ملے۔

1970 کے الیکشن میں عوامی لیگ کا آئین ساز اسمبلی میں سادہ اکثریت سے کامیاب ہوجانا اس بحران کا نقطہ آغاز بنا جو دسمبر 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر منتج ہوا۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے کئی اسباب اور عوامل گنوائے جاسکتے ہیں مگر ہماری تاریخ کے اس سب سے بڑے سانحے کا بنیادی سبب آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کو اس کے سیاسی و اقتصادی حقوق سے محروم رکھنا تھا۔اور جب وہ اپنی قیادت کو سادہ اکثریت سے منتخب کروانے میں کامیاب ہوگیا تو ایک ایسے سیاسی بحران کے ذریعے راستوں کو تنگ کردیا گیا جو بحران غیر ضروری اور ناروا اہداف کو حاصل کرنے کی غرض سے پیدا کیا گیا تھا۔یہ بحران اگر صرف ایک سیاسی جماعت،جس کی بنیادیں صرف ایک صوبے تک محدود تھیں،کی واضح کامیابی سے پیدا ہوا تھا،تو اس کو سیاسی طریقوں سے حل کیا جاسکتا تھا اور اگر یہ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا جاتا تو بحران کے حل کے طریقے تلاش کرنا مشکل نہیں تھا۔لیکن اس وقت کی عسکری قیادت نے بقول جنرل یحییٰ خان کے،بندوق کی نالی سے اپنا راستہ نکالنے کا فیصلہ کیا جو بالآخر ناکامی سے دوچار ہوا۔

1973 کا آئین،مشرقی پاکستان سے محرومی کے بعد ہی ممکن ہوا۔یہ بھی تاریخ کا کتنا بڑا تضاد ہے کہ صوبوں کو آبادی کی بنیاد پرنمائندگی دینے سے انکار کی 24 سالہ تاریخ کے بعد جب مشرقی پاکستان الگ ہوگیا تو آبادی کی بنیاد پر نمائندگی کا اصول دل و جان سے قبول کرلیا گیا۔1973 کا آئین اس لحاظ سے بہرحال راہ کشا ثابت ہوا کہ بچ رہنے والے ملک کو آگے بڑھنے کے لیے ایک آئینی نظام میسر آگیا۔یہ آئین بھی مرکزیت پسندانہ سوچ ہی کا حامل تھا لیکن اس میں کم از کم وفاقی نظام کی کئی ضرورتوں کو تسلیم کرتے ہوئے ایسے ادارے فراہم کیے گئے تھے جو صوبوں کو برائے نام ہی سہی،کچھ نہ کچھ حیثیت دے رہے تھے۔نیشنل فائنانس کمیشن،کاؤنسل آف کامن انٹرسٹس،نیشنل اکنامک کاؤنسل،یہ اور ایسے ہی چند دیگر ادارے کم از کم ایک ایسا ڈھانچہ ضرور فراہم کررہے تھے جن کے ذریعے صوبے ملک کے وفاقی نظام میں کچھ نہ کچھ اپنی بات رکھ سکتے تھے اور منوا سکتے تھے۔بدقسمتی سے یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔دستور کے نفاذ کے چار سال کے اندر ہی ملک میں مارشل لاء لگ گیا۔دستور کو ’منسوخ‘ تو نہیں کیا گیا البتہ’معطل‘ ضرور کردیا گیا۔وفاقی نظام کے نقطہ نظر سے صوبوں کے اختیارات جو پہلے ہی نہ ہونے کے برابر تھے اب بالکل ہی ختم ہوگئے۔این ایف سی ایوارڈ تاخیر کا شکار ہونے لگا۔کاؤنسل آف کامن انٹرسٹس ایک بھولی بسری داستان بن گئی۔

اس دور میں حزب اختلاف کی کاوشوں کا ایک اہم محور صوبائی خود مختاری کی بحالی تھی۔تحریک ِ بحالی ئ جمہوریت (MRD) کے مطالبات میں صوبائی خود مختاری کا مطالبہ سرفہرست تھا لیکن 1988 سے 1999 تک جو سویلین حکومتیں برسر اقتدار آئیں یعنی دو مرتبہ بے نظیر بھٹو اور دو ہی مرتبہ نواز شریف کی سربراہی میں،ان حکومتوں کے گیارہ برسوں میں ان کی آپس کی کشمکش اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں جس نہج پر جاری رہیں اس میں صوبائی خود مختاری کے مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کی کسی کوشش کا امکان بہت کم تھا۔

اس دور کے بعد جنرل مشرف کے دور حکومت میں صوبائی خود مختاری کی صورت حال اس سے مختلف نہیں رہی جو جنرل ضیا ء الحق کے زمانے میں تھی۔آئین میں فراہم کردہ وفاقی ادارے بڑی حد تک غیر موثر اور مجہول بن کر رہ گئے۔ضیا ء الحق اور مشرف کے مجموعی طور پر 19 سالہ دور میں کاؤنسل آف کامن انٹرسٹس کے ایک یا دو سے زیادہ اجلاس منعقد نہیں ہوئے۔یہ وہ ادارہ ہے جس میں صوبے مرکز سے یا ایک صوبہ دوسرے صوبے سے اپنے کسی بھی اختلاف کو زیر بحث لاسکتا ہے اور مسائل کا کوئی حل افہام و تفہیم کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے۔اس دور میں حزب اختلاف کی جماعتوں میں یہ احساس بیدار ہوا کہ صوبے بڑی حد تک عضوِ معطل بنتے چلے جارہے ہیں اور یہ کہ خود سویلین حکومتوں کے زمانے میں بھی سیاسی جماعتوں کی باہمی چپقلش ملک کے وفاقی نظام کو غیر مستحکم بنانے کا ذریعہ بنتی رہی ہے۔اسی احساس نے 2006 میں میثاق جمہوریت (Charter of Democracy) کی بنیاد رکھی جس پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)کی قیادتوں نے دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ اتفاق کیا۔

چنانچہ یہی پس منظر تھا جس میں 2008 میں برسر اقتدار آنے پر پیپلز پارٹی کی حکومت کے زمانے میں اٹھارہویں آئینی ترمیم پر اتفاق رائے ہوا جس نے نہ صرف 1973کے آئین کی کئی اُن شقوں کو بحال کیا جو ضیاء الحق اور جنرل مشرف کے زمانے میں آٹھویں اور سترہویں ترامیم کے ذریعے بدل دی گئی تھیں،بلکہ آئین کی کئی شقوں میں ایسی ترامیم بھی کیں جن سے آئین میں دی گئی صوبائی خود مختاری کا دائرہ پہلے سے بہت وسیع ہوگیا_ 17مرکزی وزارتیں تحلیل کردی گئیں اور ان کے اختیارات صوبوں کو منتقل کردیے گئے۔نیشنل فائنانس کمیشن اور کاؤنسل آف کامن انٹرسٹس کو زیادہ مؤثر ادارہ بنادیاگیا۔بین الصوبائی رابطے کا نظام فعال بنایا گیا۔صوبوں کے مالیاتی وسائل میں معتدبہ اضافہ کیا گیا۔قدرتی معدنی اور ساحلی وسائل پر صوبوں کو مرکز کے ساتھ نصف اختیار کا مالک تسلیم کرلیا گیا۔یہ اور ایسے ہی اختیارات تھے جن کی وجہ سے اٹھارہویں آئینی ترمیم صوبائی خودمختاری کے نقطہ نظر سے ایک بڑا قدم قرار پائی۔

اب جبکہ اٹھارہویں ترمیم کو کتابِ دستور کا حصہ بنے ہوئے دس سال ہوچکے ہیں،یہ دیکھنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ ضروری بھی ہے کہ آیا اس ترمیم کے نتیجے میں ہمارے وفاقی نظام نے کسی نوعی بہتری کا مظاہرہ کیاہے۔یقینابعض دائروں میں اس ترمیم کے فوائد بھی ہوئے ہیں۔صوبوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔صوبائی وسائل اگر بہت زیادہ نہیں ہو گئے ہیں تو ماضی جیسے کمتر بھی نہیں ہیں۔البتہ اگر یہ دیکھا جائے کہ اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں ایک عام شہری کی زندگی کے معیار میں کیا اضافہ ہوا۔اس کو زندگی کی کچھ سہولتیں بہم ہوئیں یا نہیں۔اگر اس پیمانے پر جانچا جائے تو افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جتنے فائدے اٹھارہویں ترمیم کے وقت سوچے گئے تھے وہ ان برسوں میں حاصل نہیں ہوئے۔نہ  تو صوبوں کا تعلیم کا نظام بہتر ہوا نہ صحت کی صورت حال میں کوئی تبدیلی آئی۔شہروں کے مسائل ویسے کے ویسے رہے۔دیہات کی دنیا جیسی پہلے تھی ویسی ہی رہی۔مرکز سے پوچھو تو وہ کہتے ہیں کہ اب تو سب کچھ صوبوں کو دیا جاچکا ہے صوبوں سے پوچھو توکہتے ہیں ہم اپنی سی کررہے ہیں،لیکن جہاں جہاں مرکز کا تعاون درکا رہے وہ ہمیں حاصل نہیں ہورہا۔

سوال یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے نتیجہ خیز ثابت نہ ہونے کے بنیادی اسباب کیا ہیں۔پچھلے دس سال کے مرکز اور صوبوں کے اندر پائے جانے والے رجحانات کو دیکھیں تو جو بنیادی حقائق سامنے آتے ہیں وہ کچھ یوں ہیں۔اولاً یہ کہ مرکز کی جو شدت پسند سوچ ہمیشہ سے رہی ہے اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مجبوراً اور بڑی بے دلی کے ساتھ اٹھارہویں ترمیم کو تسلیم کرلیا گیا تھا لیکن ہمارے مقتدر ادارے جس میں سول اور عسکری دونوں طرح کے ادارے شامل ہیں،اور مرکزیت پسند سیاسی عناصر، اپنے ذہن،تربیت اور تجربہ کی بنیاد پر ماضی کے نظام سے کسی طور ہٹنے پر راضی نہیں ہیں۔وہ ہر پھِر کر اسی نظام کی طرف پلٹنا چاہتے ہیں اور گذشتہ دس برسوں میں انہوں نے بہت سی نئی چیزوں کو پرانی ڈھب پر استوار کرلیا ہے۔وہ اختیارات جو صوبوں کو منتقل کردیے گئے تھے، ان میں سے بہت سے اختیارات مختلف عنوانات سے ازسر نو مرکز کی طرف لائے جاچکے ہیں۔مختلف ناموں سے کئی وہ وزارتیں بھی قائم کرلی گئی ہیں جو ختم کردی گئی تھیں۔

دوسرا سبب اس ناکامی کا یہ ہے کہ جو امور صوبوں کے سپرد کیے گئے تھے۔صوبے یا تو تیاری نہ ہونے کی وجہ سے یا ایک دم بہت بڑی ذمہ داری آجانے کی بنا پر یا پھر خود سیاسی عزم و ارادے میں کمی کی بنا پر وہ نتائج نہیں دے سکے جن سے ان کی توقع تھی۔اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے بعد اُس وقت حکومت تین مزید سال اقتدار میں رہی پھر 2013 کے انتخابات کے بعد مرکز میں مسلم لیگ(ن)کی حکومت قائم ہوئی اور 2018 کے انتخابات کے بعد تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی۔ان تینوں ادوار میں یہ بھی رہا کہ مرکز میں ایک جماعت کی حکومت تھی اور چار صوبوں میں سے کسی ایک میں کسی دوسری جماعت کی حکومت تھی۔ایک عمومی رجحان یہ رہا ہے کہ اگر مرکز اور کسی صوبے میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہوتی ہے تو ان کے درمیان تصادم نہیں ہوتا اور اگر اختلافات ہوتے بھی ہیں تو وہ زیادہ نمایاں ہوکر سامنے نہیں آتے۔البتہ مرکز اور صوبوں میں دو مختلف جماعتوں کی حکومت ہو تو ان میں تصادم اور ٹکراؤ کی کیفیت زیادہ پیدا ہوتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے یہاں ان اختلافات کو آئینی اداروں کے اندر حل کرنے کے بجائے سیاسی الزام تراشیوں اور میڈیا کے پلیٹ فارم پر آگے بڑھانے کی روش اختیار کی جاتی ہے۔اس کے نتیجے میں پوائنٹ اسکورنگ تو ہوسکتی ہے لیکن عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے۔

اس وقت بھی ہم ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہیں۔مرکز میں اور تین صوبوں یعنی پنجاب،خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں پی ٹی آئی اور اس کی حلیف جماعتوں کی حکومتیں ہیں۔جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت برسر اقتدار ہے۔پی ٹی آئی کے تحت حکومتوں میں اختلافات زیادہ ابھر کر سامنے نہیں آتے لیکن جو اختلافات ہوتے بھی ہیں ان کے حل کے لیے بھی طے شدہ طریقوں سے زیادہ ماورائے آئین راستوں کو اختیار کیا جاتا ہے۔وزیر اعظم خود صوبائی کابیناؤں کے اجلاس میں تشریف لے آتے ہیں۔ان کے سیاسی رفیق جو کسی انتظامی عہدے پر فائز نہیں،صوبوں کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔پنجاب کے گورنر اپنے صوبے کے انتظامی و سیاسی امور میں براہ راست حصہ لیتے ہیں۔جبکہ آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔پنجاب کی اگر مرکز سے کوئی شکایت بھی ہے تو اسے پارٹی کی سطح پر حل کرنے کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔

جہاں تک سندھ کی حکومت کا تعلق ہے اس کے اور مرکز کے اختلافات زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آتے ہیں۔یہ امور بھی کاؤنسل آف کامن انٹرسٹس میں جانے کے بجائے میڈیا میں حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔سندھ میں حزب اختلاف کی جماعت ایم کیو ایم اور مرکز میں پی ٹی آئی حکومت کی حلیف ہے۔وہ کراچی کے بلدیاتی ادارے میں بھی برسر اقتدار رہے۔چنانچہ مرکزی حکومت جہاں ایک طرف سندھ کی حکومت سے برسرِ پیکار ہے اور سندھ کے گورنر براہ راست انتظامی امور میں دخل اندازی کرتے ہیں۔وہیں مرکزی حکومت سندھ کی حکومت کے داخلی تنازعے میں بلدیاتی حکومت کا ساتھ دیتی نظر آتی ہے۔نتیجتاً سندھ حکومت اور بلدیاتی حکومت دونوں ہی اپنی اپنی ناکامیوں کو دوسرے کے سرمنڈھ دیتی ہیں۔

پاکستان میں وفاقی نظام بڑے تردّد اور تاریخی نوعیت کی ناکامیوں کے بعد اختیار کیا جاسکا۔پھر اس کو اختیار کیے جانے کے بعد بھی ا س کو کاغذی دستاویز سے بڑھ کر ایک عملی نظام کی صورت دینے میں مشکلات حائل رہیں۔بہت سے تجربات کے بعد اٹھارہویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں ایک نسبتاً واضح راستہ سامنے آیا۔لیکن اس راستے پر بھی چلنے میں کہیں تذبذب کا مظاہرہ ہوتا نظر آیا، مطلوبہ عزم کی کمی نے راستہ روکا اور کہیں مطلوبہ اہلیتوں کے فقدان نے راستہ تنگ کیا۔لیکن ہم جہاں تک کا راستہ طے کرچکے ہیں اس میں آگے بڑھنے کے لیے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ بجائے نظریں بچا کر واپسی کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی جائے،سیاسی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات پر غور کیا جائے کہ اداروں کی نوعیت،صلاحیتوں اور اہلیتوں کی صورت حال کو کس طرح بہتربنایا جائے، نظم ِ حکمرانی کے لیے مطلوب ضروریات کو کس طرح حقیقت کا رنگ دیا جائے۔اورکس طرح ہم اٹھارہویں ترمیم کے فراہم کرد ہ خود مختاری کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں اور اس کو مزید سود مند اور ایک عام شہری کے نقطہ نظر سے کار آمد بنایا جائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...