“اسلام اِن پاکستان: اے ہسٹری” – پروفیسر محمد قاسم زمان

ڈاکٹر سید رضوان ضمیر

284

بے مثال دستاویزی تحقیق کے متاثر کن حاصلات پر مبنی، پروفیسر محمد قاسم زمان کی “اسلام ان پاکستان: اے ہسٹری” (پاکستان میں اسلام: ایک تاریخ) بلاشبہ پاکستان کے مذہبی منظر نامے کا سب سے جامع جائزہ ہے۔ [1] اس کے ذریعے نہ صرف ہم معروف علماء، تنقیدی آراء، علمی گروہوں اور متون (اور تناظرات) کی ایک قوس قزح سے متعارف ہوئے ہیں بلکہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مصنف پاکستان کے مذہبی عملداروں سے متعلق وہ حالات و افکار سامنے لائے ہیں جو رائج مذہبی تصورات اور میڈیا کی چمکیلی شہ سرخیوں میں پیش کی گئی ان کی صورتوں سے ہٹ کر ہیں ۔ ‘اسلام ان پاکستان’ ان سادہ اور فرسودہ تعمیمات کے لیے تریاق کی حیثیت رکھتی ہے جو پاکستان میں اسلام کے مطالعے کو مسخ کرتی ہیں، جبکہ اس میں پیش کی گئی کئی ایک بصیرتیں معاصر مسلم معاشروں میں تعمیم کے قابل ہیں۔

پوری کتاب میں اہم مسلم شخصیات، گروہوں، بنیادی تحریروں اور پاکستان کی تاریخ کے اہم لمحات اور واقعات کی سرگزشت بیان کرتے ہوئے پاکستان میں مذہب کے حوالے سے ہونے والی کلیدی پیش رفتوں کو مکمل طور پر ان کے سیاق و سباق کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کتاب کے تعارفی حصے میں پروفیسر زمان نے واضح کیا ہے کہ کتاب ‘کیا نہیں ہے’۔ یہ پاکستان میں ‘اسلام کے موجودہ طرزِعمل’ کا احاطہ کرنے کی ایک کوشش نہیں ہے (ص2)، نہ ہی یہ یہاں رہنے والے عام مسلمانوں کے تصورِحیات اور مذہبی زندگی پر بات کرتی ہے۔ پھر اس کا دائرہ عمل کیا ہے؟ اس میں اہم اسلامی مذہبی رجحانات پر بحث کی گئی ہے جو برطانوی نوآبادیاتی عہد کے دوران مسلم ریاست کی نئی تشکیل میں اہم عوامل بننے کے لیے متشکل ہوئے۔ یہ ان دونوں کی، خاص طور پر پاکستانی ریاست کے تناظر میں، باہم ارتقا پذیر حرکیات کی تفصیل بھی فراہم کرتی ہے۔ ایسے رجحانات کی مسلسل موجودگی درحقیقت اس کتاب کے اہم حاصلات میں سے ایک ہے: ” اسلامی رجحانات میں سے کوئی ایسا نہیں تھا جو بیسویں صدی کے آغاز پر موجود ہو یا وجود پذیر ہو رہا ہو اور سو سال بعد آ کر ختم ہو گیا ہو۔ “(اختتامیہ، ص 265) یہ رجحانات کیا ہیں؟ پروفیسر زمان کی مرتبہ فہرست کے مطابق: 1) جدیدیت پسند؛ 2) روایت پسند (یعنی دیوبندی، بریلوی، اور اہل حدیث کے علماء) 3) اسلام پسند اور آخر میں 4) اقلیتی افکار کے حامل احمدی اور شیعہ۔ صفحہ در صفحہ مصنف ظاہر کرتے ہیں کہ یہ رجحانات سیّال اور مبہم ہیں۔ یہ کبھی کبھار باہم آمیز ہو جاتے ہیں، کبھی کبھی سنگین تنازعات کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور کبھی کبھار ایک دوسرے پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔ کتاب کی خواندگی سے جو کچھ سامنے آتا ہے وہ ایک پیچیدہ مذہبی منظر ہے جو بیشتر اوقات حیران کن ہے۔ تاہم، حیرانی کے یہ عوامل لازمی طور پر اس منظر نامے سے نہیں پھوٹے، کئی ایک پڑھنے والوں کے لیے یہ حیرت میڈیا سے متاثرہ ان کے پہلے سے مقبول تصورات کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔

پہلا باب (“نوآبادیاتی ہندوستان میں اسلامی شناخت”) بعد کے تمام ابواب کی کلید ہے۔ اس میں ہم نوآبادیاتی ہندوستان میں موجود اور نئے ابھرتے ہوئے اسلامی رجحانات اور ان کے باہمی پیچیدہ روابط سے متعارف ہوتے ہیں۔ دشمنی اور مخالفت بھی تھی، لیکن ساتھ ساتھ ربط اور تعاون بھی تھا۔ اسلامی جدیدیت سے مراد یہ ہےکہ اسلامی بنیادی عقائد روشن خیال اقدار سے ہم آہنگ ہیں اور اگر ایک بار ان کو روایتی غلط تشریحات کے بار سے آزاد کر دیا جائے تو یقیناً یہ اس جدید دورمیں مسلمانوں کو درپیش جدید چیلنجوں کا علاج ہو گا۔ زمان صاحب واضح کرتے ہیں کہ اسلامی جدیدیت کے ساتھ روایت پسندوں کے معاندانہ اور ناقابل اعتماد تعلقات کی جڑیں اس کے ابتدائی مراحل میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ اس ٹکراؤ کا خاص طور پر اظہار سیاسی میدان میں ہوا جب ایک مسلم اکثریتی قومی ریاست پاکستان کے قیام کی تجویز پر دونوں دھڑوں کا مؤقف سامنے آیا۔ زمان صاحب بتاتے ہیں کہ روایت پسندوں اور جدیدیت پسندوں کے سیاسی نظریات اور بنیادی رجحانات ایک دوسرے سے متصادم تھے۔ نئی ریاست کی شناخت قائم کرنے میں ان حریف رویوں کی باہم موجودگی اس وقت سے چلی آ رہی ہے اور اس نے مختلف شعبوں میں اپنا کردار ادا کیا ہے، جیسے پاکستان کے آئین، قانون سازی اور شدت پسندی کی قانونی حیثیت سے متعلق مباحث میں ہوا۔

ان مسابقتی نظریات کے باوجود یہ جدیدیت پسند ہی تھے (کتاب کے دوسرے باب بعنوان “جدیدیت اور اس کے اخلاقی وعدے” کے مباحث) جو نئی پاکستانی ریاست کے اربابِ بست و کشاد ہوئے اور ریاستی طاقت استعمال کی۔ درحقیقت، یہ جدیدیت پسندی کی طرف جھکاؤ ہے جو زمان صاحب کے مطالعے سے عیاں ہے اور اس کا مدار ہے۔ پاکستان میں اسلامی جدیدیت کے اس بے مثال جائزے میں، زمان صاحب نے ایک “آمرانہ سلسلے” (ص 54) کا انکشاف کیا ہے جو اس نئی ریاست میں اسلامی عقائد کو چلانے اور اس پر اختیار حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کے تجزیہ نہ صرف پاکستان میں جدیدیت کے مطالعہ کے لیے بلکہ عام طور پر جدید اسلامی فکر کے بارے میں ہمارے فہم پر گہرے اثرات کا حامل ہے۔

اگرچہ اسلامی جدیدیت کے رجحان کو ایوب دور میں فضل الرحمٰن کے ذریعے سب سے زیادہ چرچا اور رسوخ ملا۔ یہی وہ وقت ہے جب پاکستان میں اسلامی روشن خیال کے زوال کا آغاز ہوا اور بعد کے عشروں میں اس نے اسلام پسندوں اور علما کے لیے میدان چھوڑ دیا۔ زمان صاحب نے نشان زد کیا ہے کہ جدیدیت پسندوں اور علماء کے درمیان ایک بڑی تفریق کی وجہ علما کی طرف سے روشن خیال اقدار کے حق میں شریعت کا نظرانداز کیا جانا ہے( اور اس میں بھی خصوصی توجہ سماجی اور سیاسی اخلاقیات پر ہے)۔ تاہم اس کے نتیجے میں زمان صاحب نے علما کے رویے پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے:

جدیدیت اور جدیدیت پسند اخلاقیات کی مخالفت علما کے راستے میں حائل رہی ہےکہ وہ فرد کی اخلاقی تشکیل کے سماجی اور سیاسی اخلاقیات کے ساتھ کسی مستحکم تعلق کے بارے میں فکرمندی سے آگے بڑھ کر سوچنے کی ہمت کریں۔ کچھ بھی ہو، حالیہ عشروں میں علماء کی صفوں میں اس نوع کے تعلق میں کمی آئی ہے (ص 82)۔

زمان صاحب نے اس معروف خیال کو بھی حل طلب مسئلہ قرار دیا ہے کہ یہ ضیاء کی حکومت تھی جس نے جدیدیت پسندوں کو کمزور کیا یا صرف اسلام پسند اور روایتی رجحانات کو مضبوط کرنے کی ذمہ دار تھی۔ شاعر ہ پروین شاکر کا معاملہ اس سلسلے میں صرف ایک مثال ہے (ص82،83)۔ اس کے علاوہ دیگر بھی ہیں۔

بے نظیر اور نواز دور کے اختتام تک جدیدیت شدید زوال کا شکار تھی، پڑوسی ملک افغانستان میں سیاسی پیش رفت اس کی کوئی کم اہم وجہ نہیں تھی۔ نائن الیون کے بعد کے مشرف دور نے ریاستی سطح پر منظم “روشن خیال اعتدال پسندی” کے ذریعے غیر فعال جدیدیت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی۔ آخر میں، جب کہ غامدی، اوج اور خالد مسعود کی صورت میں اب بھی جدیدیت کی آوازیں موجود ہیں، وہ اپنے حریفوں کو قائل کرنے میں مسلسل ناکام ہیں اور یا تو ان کی تردید کی جاتی ہے یا زبردستی (یہاں تک کہ پرتشدد طور پر ) انھیں ایک طرف کر دیا جاتا ہے۔ اختتامی صفحات غلبے سے زوال تک جدیدیت کی تقدیر میں اس تبدیلی کی وجوہات کو زیرِغور لاتے ہیں۔ یہ حصہ (ص92 تا 94) بے مثال تجزیے اور بصیرت سے بھرپور ہے۔

تیسرا باب(“علماء اور ریاست”) تین موضوعات کے تحت پاکستانی ریاست کے لیے علماء کا کردار بیان کرتا ہے: آئین سازی، اسلامی قانون سازی اور مدرسہ اصلاحات (ص 95)۔ مثال کے طور پر پہلے کیس میں، علما کے تشکیل کردہ تعلیماتِ اسلامیہ بورڈ نے ریاست کے آئین کی تیاری میں (ص97) معاونت کے طور پر جو تجاویز پیش کیں،علماء کی ‘روایت پسند رومانیت’ کے باوجود اس میں جدیدیت پسندوں کے مؤقف کو متعدد مقامات پر گنجائش فراہم کی گئی تھی۔ تاہم جدیدیت پسندوں نے آمرانہ سلسلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان تمام تجویز کو مسترد کر دیا۔

اپنی سابقہ تحریروں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے زمان صاحب واضح کرتے ہیں کہ مثال کے طور پر تقی عثمانی جیسے علما جو جدیدیت پسندوں کے سے افکار سے دُور ہیں، اور بہت زیادہ متاثرکن ہیں، قابل احترام سمجھے جاتے ہیں اور بہت سے مسلمان ان کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دورِ حاضر میں اسلام کا ایک مستند اور مستقبل گیر چہرہ پیش کرتے ہیں(ص133)۔

دوسرے باب(محولہ بالا) اور چوتھے باب (“اسلامیت اور خدا کی حاکمیت”) غالباً اس تحقیق کی سب سے اہم دین ہے۔ اگر سابقہ باب جدیدیت کے پروجیکٹ کی کوتاہیوں کا ایک ہمدردانہ خاکہ پیش کرتے ہوئے اس پر تنقید کرتا ہے، تو اس باب میں خدا کی حاکمیت کے تصور کے ماخذ کا ایک بے مثال بیان ہے جو اسلامی فکر کی پہچان ہے۔

زمان صاحب نے شاید پہلی بار جنوبی ایشیا کے اسلامی ماحول میں اس تصور کے دلچسپ اور کثیرالجہت ماخذ ات اور آثار کی کھوج کی ہے: “نئے عہد نامے کی ابتدا سے بیسویں صدی کے سرکردہ اسلام پسند نظریے تک جو ایک ردِنوآبادیات پہلو رکھتا ہے، اور پھر سے نہ صرف قرآن تک بلکہ اس نازک موضوع پر حضرت عیسیٰ کی تعلیمات میں سے جو کچھ انجیلوں میں محفوظ رہ سکا ہے”(ص146)۔

قرآن کی ممتاز مسلم تفسیروں کے ایک سروے کے ذریعے، قرآنی آیات (مثلا 12 12:40 اور 3:36) پر جس پر اسلام پسند اپنا واضح دعویٰ کرتے ہیں کہ “حاکمیت خدا کی ہے”، زمان صاحب مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ یہ تصور کس قدر جدید ہے۔ جو بات ابھی تک واضح نہیں ہے وہ علماء کے درمیان اس تصور کی بازگشت ہے۔ وہ لکھتے ہیں، “ایک بار جب مودودی کی خدا کی حاکمیت کی تشکیل نے پاکستان کے اندر اور باہر توجہ حاصل کر لی تھی، اس کے خلاف بحث کرنا بہت مشکل تھا” (ص 163)۔ لیکن علماء اپنی روایت کے ورثے میں اس نعرے کے رخصت ہو جانے کے عمل کو کیوں نہیں سمجھ سکے؟ دوسرے لفظوں میں، اس تصور کے روایت (یعنی قبل از جدیدیت تفسیری کاموں میں) سے علیحدگی کے باوجود، یہ علماء کے درمیان ترویج کیسے پا گیا؟ زمان صاحب کا تحریر کردہ یہ باب دیگر حوالوں سے بہترین ہونے کے باوجود اس سوال کا تسلی بخش جواب نہیں دیتا۔

پانچواں باب (“مذہبی اقلیتیں اور اسلامی شناخت کے اضطراب”) کتاب کے نسبتاً کمزور ابواب میں شامل ہے۔ یہاں زمان صاحب دو مذہبی اقلیتوں (احمدی اور شیعہ) کے مقسوم کا جائزہ لیتے ہیں، اور خاص طور یہ کہ “ان اقلیتی برادریوں کے بارے میں علماء کے ساتھ ساتھ اسلام پسندوں کے نظریات اور ان کے کارکنوں کے مخالفانہ رویوں کو کیا چیز زیر کر سکتی ہے” (صفحہ 165)۔ حیرت انگیز طور پر، مصنف کا تجزیہ تیزی سے کئی طرح کے “اضطراب” کی زمرہ بندی میں بدل جاتا ہے جو ان اقلیتوں نے سنی اکثریت، خاص کر اس کے “قدامت پسند” گروہ کے لیے پیدا کیے ہیں۔ یہ ایک ایسی اصطلاح ہے جو کتاب میں بہت کم استعمال ہوئی ہے اور اسی باعث مبہم بھی ہے۔ احمدیوں کے معاملے میں زمان صاحب نے مذہبی اضطراب پر عمومی توجہ مرکوز کی ہے جس کی وجہ سے حالات 1953 کی احتجاجی تحریکوں، 1974 کا ربوہ واقعے، اور 1984 کے آرڈیننس تک پہنچے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے وسیع سیاسی اور معاشی تدبیرکاریوں کا محاکمہ بھی کیا ہے۔ اہل تشیع کے معاملے میں مصنف اضطراب کی ان نوعیتوں کا ذکر کرتا ہے جو وسیع سُنی اکثریت کی مذہبی خواہشات پر روک لگانے کے لیے اقلیت کی حقیقی یا حقیقی سمجھی جانے والی غیرمتزلزل صلاحیت اور سرگرمیوں کےنتیجے میں بیدار ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سنی شیعہ تعلقات کی صورت بدلنے میں ایرانی انقلاب کے گہرے اثرات بھی ہیں۔ تاہم، دونوں صورتوں میں، اسلام پسندوں اور علما کے اضطراب کے درمیان واضح فرق کو سمجھنا مشکل ہے۔ اس تجزیے سے جو شے بالکل غائب ہے، وہ ان اقلیتوں کے نقطہ نظر سے یعنی سنی اکثریت والی ریاست میں ان کے اضطراب[3] کو پیش نظر رکھ کر اس مسئلے کا مطالعہ کرنے کی کوشش ہے۔ زمان صاحب کا پیش کردہ تجزیہ پاکستانی ریاست میں اقلیتوں کی حیثیت کے بارے میں روشن خیال اذہان کے اضطراب کے لیے تسکین کا کوئی قابلِ ذکر پہلو نہیں رکھتا۔

تمام متشدد صورتوں کے خلاف، چھٹا باب(“صوفیانہ فکر کے مجادلے کا علاقہ”) پاکستانی مذہبی منظر نامے میں تصوف کے پیچیدہ مقام کے بارے میں ایک خوش آئند بصیرت فراہم کرتا ہے۔ زمان صاحب دکھاتے ہیں کہ صوفی افکار کی سنجیدہ اور بڑھتی ہوئی مخالفت،خاص طور پر عقیدت کے طریقوں (مثلاًتعویذ گنڈے اور مزارات کی ثقافت) کے باوجود،صوفیانہ فکر حیرت انگیز طور پر مذہبی منظر نامے پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اس ضمن میں جیش محمد کے حلقوں میں ذکر برائے جہاد (ص 213)، اور جماعت اسلامی کے ایک رہنما کی “کشف المحجوب “کے مختصر ترجمے کے بارے میں گفتگو مصنف کی فراہم کردہ بہت سی دلچسپ مثالوں میں سے چند ہیں۔ اختتامی حصے (ص 216) میں چھے نکات سب سے قیمتی ہیں جو اس بات کو زیرِبحث لاتے ہیں کہ آیا تصوف کے رجحان میں کمی آئی ہے یا نہیں۔ یہ حصہ اس مطالعے کے اعلیٰ نکات میں سے ایک ہے۔

آخری باب (“مذہب، تشدد اور ریاست”) کھل کر بلاواسطہ اس فکرمندی کو زیربحث لاتا ہے کہ جو عمومی طور پر پاکستانی مذہبی منظر نامے میں میڈیا میں، ملک کے بارے میں مغربی دنیا کی گفتگو میں، اور یہاں تک کہ علما کے ہاں بھی موجود ہے۔ زمان صاحب کے محتاط مطالعے کے مطابق، یہ پاکستان کی نئی تشکیل شدہ ریاست ہے جس نے سب سے پہلے جہاد کو استعمال کیا اور ہندوستان کے ساتھ48- 1947، 1965 اور 1971 کی جنگوں میں اسلام کا نام متحرک کیا۔ زمان صاحب واضح کرتے ہیں کہ بعد کی دہائیوں میں غیر ریاستی عوامل اگر اسی نام کو استعمال کریں تو یہ حیرت کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ اس باب کا سب سے اہم حصہ آخری (“بیانیے کی تبدیلی؟”)ہے۔ یہاں زمان صاحب وضاحت (بلکہ تقریباً ماتم) کرتے ہیں کہ “اس طرح کے چیلنجوں [جیسے طالبان جیسے عسکریت پسند اسلام پسندوں کے لائے ہوئے مسائل]کے جواب میں ایک تزویراتی بیانیہ غیرموجود یا کمزور ہے” (ص 252)۔ جب خود ریاست نے انڈیا کے ساتھ اپنی جنگوں میں جہاد کی بات کو شروع کیا اور یہاں تک کہ مقامی سطح پر ریاستی ایجنڈوں کی تکمیل میں بھی اسے استعمال کیا، اس کے بعد ریاست نہ اس کو بدل سکی اور نہ ختم کر سکی۔ یہ بیانیہ اور غیرریاستی عوامل کی طرف سے اس کا استعمال، جیسا کہ بعد کے عشروں میں دیکھا گیا ہے، اب یہاں رہے گا۔

کتاب کا اختتامیہ پاکستان کے مذہبی منظر نامے کے نقشے کو ازسرِنو دیکھتا ہے کہ پچھلے سو برس میں یہ کس طرح تبدیل ہوا یا تبدیل نہیں ہوا۔ زمان صاحب کے خیال میں، اگر موجودہ صورتحال کا موازنہ پاکستانی ریاست کے پہلے دو عشروں سے کیا جائے، تو اس وقت کے مقابلے میں اب اسلامی جدیدیت زوال میں ہے (ص 274)۔ چونکہ اسلامی جدیدیت اس مطالعے کا بنیادی محرک رہی، مصنف اس زوال اور پاکستان کے مستقبل کے لیے اس کے مضمرات کا جائزہ لینے کے لیے آخر میں اسی پر واپس آئے ہیں۔

زمان صاحب “پاکستان میں اسلام” کے وسیع تر دقیانوسی تصورات کو کمزور یا ختم کرنے میں کتنا کامیاب رہے ہیں؟ اگر بنظرِ غائر پڑھا جائے تو مصنف نے کتاب کے تقریباً ہر صفحے پر ان تصورات میں رخنے ڈالے ہیں۔ “پاکستانی اسلام” کے یک جہتی تجزیے کی بجائے زمان صاحب ایک وسیع اور ہمہ جہت تجزیہ پیش کرتے ہیں، جو ایک بڑے تناظر کو محیط ہے جس میں جملہ عوامل اور مذہبی، سیاسی اور سماجی دھارے جو اپنا کردار ادا کرتے ہیں، یہ سب شامل ہیں۔ اگرچہ اس متن کی مشکل بھی اسی مقام پر ہے۔

پاکستانی مذہبی تناظر کے نئے قارئین کے لیے، ان مختلف عوامل اور ان کی وسعت اور اثرات کو جانچنا انتہائی مشکل ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں جس چیز کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے وہ ایک اختتامی باب ہے جو مختلف ابواب کے بکھرے ہوئے نتائج کو جوڑتا، آپس میں مربوط کرتا اور ملا دیتا، اور قارئین کو ایک بڑا تناظر دریافت کرنے میں مدد دیتا۔ مزید دو چیزیں بھی محلِ نظر ہیں۔ سب سے پہلے قاری پاکستان کی بطور قومی ریاست (جس کا ماضی نوآبادیاتی ہے) کی پیچیدہ حرکیات، اس کے اثرات کے ساتھ ساتھ مختلف نوآبادیاتی مدوجزر کے بارے میں خاطر خواہ بحث کی عدم موجودگی پر حیران ہو سکتا ہے۔ دوسرے، پاکستان میں اسلام کی سادہ ساخت کو اس کے ابہام، المیوں اور غیر یقینی صورتحال کی اس قدر مفصل وضاحت قارئین کو حیران کر سکتی ہے کہ کیا ان سے بچنے کا بھی کوئی راستہ ہے؟ کیا پاکستان میں اسلام کی کوئی برکتیں، خوبصورتیاں، کارفرمائیاں، یا شان و شوکت نہیں ہے؟

 

حوالہ جات:

[1] یہ جائزہ شیر علی ترین کے جائزے “The Tragedies and Ambiguities of Islam in Pakistan” مطبوعہ Islamic Studies 58:2 (2019)، ص 245 تا 253 کی تحسین کرتا ہے۔ قارئین کے لیے اس کا مطالعہ بھی مفید ہو گا۔

[2] خاص طور پر ملاحظہ کیجیے “Ulama in Contemporary Islam: Custodians of Change”، 2002

[3] اہل تشیع اس مسئلے سے کیسے نبردآزما ہوئے، اس کی بہت عمدہ تفصیل پروفیسر زمان کے طالب علم سائمن وولف گینگ فش نے اپنی حالیہ تحقیق بعنوان “In a Pure Muslim Land”، (2019) میں پیش کی ہے۔

(ترجمہ: عابد سیال)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...