بین المذاہب ہم آہنگی میں نوجوانوں کا کردار بلوچستان میں جامعات کے طالب علموں کے ساتھ منعقدہ ورکشاپس کی مفصل رپورٹ

326

تعارف

پاکستان دنیا کی نوعمر ترین قوموں میں سے ایک ہے جس کی آبادی کا 140 ملین نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ [1] صرف 15 سے 29 سال کی عمر کے افراد تقریبا 64 ملین ہیں جو نیدرلینڈ کی آبادی سے چار گنا زیادہ ہیں۔ پاکستانی لیڈر اکثر اپنے ملک میں ترقی کی صلاحیت کا اندازہ بتانے کے لیے اپنے نوجوانوں کی آبادی کے اعداد و شمار کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ لیکن نوجوانوں کے اس بڑی تعداد کی کوئی اہمیت نہیں اگر ان کی نشوونما اور انھیں ترقی کے کارکن بنانے کے لیے کوئی واضح پالیسی موجود نہ ہو۔ درحقیقت اگر ایک بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی کو بے کار چھوڑ دیا اور نظرانداز کر دیا جائے تو وہ ایک بپھرے ہوئے طوفان کی طرح ہے، جو ایک تباہ کن قوت کے ساتھ اپنے بند توڑنے کا منتظر ہے۔

پاکستان میں سیاسی رہنما ہر مرحلے پر ایک بار تعلیم اور مہارت کی ترقی کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے موضوع پر بحث ضرور کرتے ہیں [2]، لیکن کسی بھی حکومت نے پالیسی سازی میں نوجوانوں کو ترجیح نہیں دی۔ ملک میں فعال نوجوان پالیسی کا فقدان ہے۔ اور گذشتہ دہائیوں کے دوران، ہزاروں نوجوان پاکستان کے اندرونی اور غیر ملکی تنازعات میں ایندھن بننے کے لیے غلط ہاتھوں میں چلے گئے جو کشمیر اور افغان جہاد سے لے کر فرقہ وارانہ تشدد اور علیحدگی پسند بغاوت تک پھیلے ہوئے تھے۔ شورش پسند گروہ، مذہبی ہوں یا قوم پرست، پاکستانی نوجوانوں کے جوش و خروش کے بل پر پروان چڑھتے ہیں، اور اپنے مقاصد کو بارآور کرنے کے لیے ان کا زورِ بازو استعمال کرتے ہیں۔ بعض بنیاد پرست اسلام پسند گروہ جیسے TLP یا ASWJ جیسی فرقہ وارانہ تنظیموں نے نوجوانوں کو اپنے مقاصد کے لیے متحرک کرنے کے فن میں مہارت تامہ حاصل کر لی ہے۔ وہ باقاعدگی سے نوجوانوں کو سڑکوں پر اور انٹرنیٹ پر نہایت آسانی اور تیزی سے متحرک کرتے ہیں۔

پاکستانی نوجوان جذباتی اور جذبہ ایمانی پر مبنی استحصال کا شکار ہیں۔ یہ کمزوری بنیادی طور پر نوجوانوں کی کمزور ذہنی صلاحیتوں کی وجہ سے ہے۔ غیر معیاری اور علمی اعتبار سے ناقص تعلیمی نظام پاکستانی نوجوانوں میں منطقی سوچ اور استدلال جیسی بنیادی دانشورانہ مہارت پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ماضی قریب میں وادی سوات میں، نوجوانوں میں بنیادی تنقیدی سوچ کی عدم موجودگی نوجوان لڑکوں کے دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی کی صفوں میں شمولیت کے پس پردہ ایک بڑے محرک کے طور پر پایا گیا تھا  [3] ، وہ آسانی سے انتہا پسندانہ پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے۔

عملی زندگی میں قدم رکھتے ہوئے نوجوانوں کو بہت سے مسائل و مشکلات کا سامنا ہے۔ جہاں رسمی تعلیم زیادہ تر انھیں مارکیٹ کے قابل مہارت فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے، وہاں زیادہ تر امداد پر مبنی معیشت بھی انہیں مناسب ملازمتیں فراہم کرنے میں مشکلات کا شکار نظر آتی ہے۔ نظام کی یہ ناکامی نوجوانوں میں مایوسی اور غصے کا باعث بنتی ہےاور آزاد اور تخلیقی اظہار کے مواقع محدود کرنے کے ساتھ، دیرپا مایوسی اکثر تشدد کی کارروائیوں میں بدل جاتی ہے جس کے نتیجے میں ملک میں سماجی امن اور استحکام کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

ان وجوہات کے پیشِ نظر، پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز نے بلوچستان میں بین المذاہب ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کے موضوع پر ورکشاپس کا انعقاد کیا۔ صوبے بھر سے سو سے زائد جامعات کے طالب علموں کو معاشرے میں امن اور استحکام کو متاثر کرنے والے اہم سماجی مسائل کے بارے میں تعلیم و تربیت فراہم کی گئی۔ بلوچستان میں تین دو روزہ ورکشاپس کا اہتمام کیا گیا جس میں علماء اور جامعات کے طالب علموں کو جمع کیا گیا تاکہ بین المذاہب ہم آہنگی کے بارے میں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی گئی اور انہیں مختلف سماجی مسائل پر آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع دیا گیا۔ اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر ان کے خیالات اور نقطہ نظر کو سمجھنے کے لیے سروے بھی کیے گئے۔ مزید برآں، تین دو روزہ ورکشاپوں میں سے تقریبا 16 طالب علموں کو منتخب کیا گیا اور بین المذاہب ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی سے متعلق موضوعات اور مسائل کے بارے میں ان سے تفصیلی انٹرویو کیا گیا۔ اس سرگرمی کا مقصد نوجوانوں کے طرزِ فکر اور اہم مسائل پر ان کے نقطہ نظر کی بصیرت حاصل کرنا تھا۔ زیرِنظر رپورٹ میں بلوچستان کے نوجوانوں کے ساتھ مکالمے کے نتائج شامل ہیں۔ سروے اور انٹرویو کے نتائج اور تجزیے بھی دیے گئے ہیں اور پاکستانی نوجوانوں کی مجموعی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے چند نکات پر مبنی سفارشات بھی اس رپورٹ کے آخر میں فراہم کی گئی ہیں۔

 

مکالمے کے موضوعات

1۔ عمومی فہم اور شہریت

ثقافتی تنوع اختلاف پیدا کرتا ہے لیکن اس طرح کا اختلاف فطری طور پر متشدد نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے حل کرنے کے لیے لازماً پُرتشدد صورت اختیار کرنا پڑتی ہے۔ معاشرتی اختلافات کو بات چیت یا قانونی مدد کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی قانونی نظام اپنی کمزوریوں کے باوجود معاشرے میں پیدا ہونے والے بہت سے سماجی تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرتا ہے۔ صرف اس صورت میں جب قانون کی حکمرانی کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں، مذہبی اختلافات کمزور طبقے کے لیے ڈراؤنے خواب بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں جہاں بنیاد پرستی عوام میں بہت زیادہ جگہ بنا چکی ہے، جذبات کی رو میں بہنے کا رویہ تیزی سے مرکزی رویہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ رجحان خود کو متشدد صورتوں میں ظاہر کرتا ہے بعض اوقات ایک ہجوم محض کسی جرم کے شبہ میں کسی کو پیٹتا یا مارتا ہے جیسے توہین مذہب وغیرہ۔

ہجومی تشدد کے بارے میں بات کرتے ہوئے، CVE تجزیہ کار عامر رانا نے کہا کہ ہجوم کی ذہنیت پاکستان میں گروہی انصاف (vigilante justice)کے متعدد واقعات کی ذمہ دار ہے۔ اس طرح کی ذہنیت کاباعث لوگوں میں اپنے اعمال کے نتائج و عواقب کو سمجھنے میں نااہلی ہے۔ بہت سے لوگ دوسروں کے اکسانے پر غیرمعقول سلوک پر اُتر آتے ہیں، اور گروہی ذہنیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لمحاتی اشتعال میں وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں کہ تشدد کا ارتکاب کرکے وہ قانون توڑ رہے ہیں جس کے نتائج کا انھیں سامنا کرنا پڑے گا۔ عامر رانا نے کہا کہ کسی شخص کو اپنے اعمال کے نتائج کا اندازہ کرنے کے لیے کسی غیرمعمولی ذہانت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ محض عمومی سمجھ درکار ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ “ذہانت سے آپ کو معلوم ہو گا کہ ہمارے معاشرے میں عقیدے کی بنیاد پر قتل عام کے پیچھے کیا وجوہات ہیں، لیکن عمومی سمجھ آپ کو بتائے گی کہ آپ اکسانے یا قتل کرنے میں حصہ نہ لیں، کیونکہ ایسا کرنا ایک جرم ہے جس سے آپ کو گرفتاری، مقدمات، قید یا اس سے بھی بدتر نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ”

عامر رانا نے مزید کہا کہ عمومی سمجھ ایک بنیادی سماجی مہارت ہے جو انسان کو چیزوں کا اچھا برا سمجھنے میں مدد دیتی ہے یا سماجی حالات میں فوری طور پر صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں معاون ہوتی ہے۔ چونکہ عمومی سمجھ کوئی پیدائشی خصوصیت نہیں ہے بلکہ ایک ایسی مہارت ہے جو ذہن سازی اور دوسروں کے اعمال اور طرز عمل اور ان کے نتائج کے فعال مشاہدے کے ذریعے سیکھی جا سکتی ہے، اس لیے ورکشاپ کے شرکاء پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی عمومی سمجھ کو بہتر بنائیں اور اسے روزمرہ زندگی میں استعمال کریں۔ عمومی سمجھ کا استعمال جتنا زیادہ ہو گا، غیرمعقول اعمال سرزد ہونے کا امکان اتنا ہی کم ہو گا۔ عامر رانا کے مطابق، یہ ایک شہری کی حیثیت سے ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں اقلیتی عقائد کے شہریوں کے ساتھ ہونے والی غلطیوں کا فیصلہ کرنے کے لیے اپنی عمومی سمجھ استعمال کرے۔

معاشرے میں امن اور ہم آہنگی میں رکاوٹ ڈالنے والے بہت سے سماجی مسائل انفرادی سطح پر حل ہو سکتے ہیں اگر زیادہ لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں عمومی سمجھ سے کام لیں۔ عامر رانا نے کہا کہ اگرچہ عمومی سمجھ لوگوں کو اچھے برے اور صحیح غلط میں فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہے، تاہم یہ انھیں دوسرے لوگوں پر منصف نہیں بناتی جو مختلف نسل، ثقافت یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا عمومی سمجھ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، انھوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے روزمرہ کے فیصلوں میں عجلت سے گریز کریں اور اس کے بجائے عمومی سمجھ کو بہتر اور زیادہ معقول راستا منتخب کرنے کے لیے استعمال کریں۔ نوجوانوں کو ترغیب دی گئی کہ وہ اپنے لیے خوش رہنے کے کچھ نہ کچھ مواقع پیدا کریں کیونکہ خوشی ان کی صحت اور تندرستی کے لیے اچھی ہے۔

مزید برآں، عامر رانا نے ورکشاپ میں شہریت کے جدید تصور کے بارے میں بھی بات کی، یہ بتاتے ہوئے کہ کس طرح جمہوریت میں شہریوں کو ان کے مذہبی عقائد سے قطع نظر ریاست کے رکن کی حیثیت سے مساوی درجہ فراہم کیا جاتا ہے۔ آئین کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی حقوق کے اعلامیے (UDHR) 1949 کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان جیسے جمہوری ملک میں ریاست قانونی اور اخلاقی طور پر ذمہ دار ہے کہ تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کرے اور آبادی کے کمزور اور غیرمحفوظ طبقات کے لیے مساوی پالیسیاں اپنائے۔ انھوں نے شرکاء کو شہریت کے باعث حاصل ہونے والی مراعات کے بارے میں بھی آگاہی فراہم کی اور پاکستان سمیت خطے کے ایسے لوگوں کی منظرکشی کی جنھیں شہریت حاصل نہیں۔ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ بے وطن لوگوں کی حیثیت سے رہتے ہیں کیونکہ وہ شہریت کے عالمی حق سے محروم ہیں۔

صرف پاکستان میں ہزاروں روہنگیا اور بنگالی کئی عشروں سے بے وطن لوگوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ برادریاں بغیر تعلیم کے اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہیں کیونکہ انہیں تعلیم اور صحت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، اور وہ کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر میں ایسی کچی آبادیوں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں بنیادی سماجی سہولیات تک نہ ہونے کے برابر ہیں۔

مختلف حکومتوں نے انہیں حقوق کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے، لیکن کسی نے ان کے دکھوں کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے۔ عامر رانا نے کہا کہ ایک انسانی مسئلے کے بارے میں یہ مسلسل بے حسی نہ صرف ظالمانہ ہے بلکہ یہ پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بھی متصادم ہے کیونکہ پاکستان انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کا دستخط کنندہ ہے جس کی رُو سے شہریت حاصل کرنا آفاقی انسانی حق ہے۔

ورکشاپ کے دوران، نوجوان شرکاء سے ‘بہترین پاکستانی’ کے بارے میں ان کے تصور کے بارے میں پوچھا گیا۔ جواب میں، مختلف تعریفیں اور وضاحتیں سامنے آئیں۔ کچھ جواب دہندگان کا خیال تھا کہ بہترین پاکستانی کی تشکیل کے لیے حب الوطنی بنیادی عنصر ہے جبکہ دوسروں نے مذہبی تقویٰ کو بہترین پاکستانی ہونے کی شرط قرار دیا۔ شرکاء کو موقع دیا گیا کہ وہ سوال پر اپنے خیالات اور رائے کا اظہار کریں اس سے پہلے کہ مقرر اس معاملے کے بارے میں اپنی تفہیم پیش کریں۔ عامر رانا نے کہا کہ ان کی سمجھ اور یقین کے مطابق بہترین پاکستانی وہ ہے جو صرف ایک اچھا شہری ہو۔ ایک شخص جو قانون کی پاسداری کرتا ہے اور بطور شہری اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے وہ ایک اچھا شہری اور بہترین پاکستانی ہے۔

 

2۔ معقول سوچ اور استدلال

کراچی کی معروف یونیورسٹیوں میں درس و تدریس سے وابستہ رہنے والے ماہر تعلیم ڈاکٹر سید جعفر احمد نے معقول سوچ اور استدلال پر ایک نشست منعقد کی۔ ڈاکٹر جعفر احمد نے کہا کہ انسان کسی بھی مسئلے پر متنوع عقائد رکھتے ہیں۔ پاکستان میں کرونا وائرس سے وابستہ خرافات پر ایک نظر ڈالنے سے ہی ایسے توہمات کی ناقابلِ یقین تعداد سامنے آتی ہے جنھیں ہزاروں لوگ مان کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر، 2020 میں جب کرونا وائرس کو ڈبلیو ایچ او نے پہلے ہی وبائی مرض قرار دے دیا تھا، بہت سے لوگوں نے اس طرح کے وائرس کے وجود پر یقین کرنے سے انکار کردیا۔ یہ انکار بعد میں ایک سازشی تھیوری میں تبدیل ہو گیا جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ یہ وائرس دراصل دنیا میں مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنے کے لیے تھا، اور وبائی مرض کو مسلمانوں کے خلاف مغربی سازش قرار دیا، حالانکہ اس وائرس کا پھیلاؤ چین میں شروع ہوا تھا۔ اسی طرح، جب کرونا کی ویکسین ایجاد کی گئی، کہانیاں گردش کرنے لگیں کہ ویکسین لگوانے نے مسلمان مَردوں کو بانجھ کر دیا ہے۔ ایسی کہانیاں خیالات کے بازار میں آتی رہتی ہیں اور ہزاروں لوگ ان پر یقین کرتے ہیں۔

ڈاکٹر جعفر احمد نے کہا کہ عمومی طور پر توہماتی کہانیاں نقصان دہ ہو بھی سکتی ہیں اور نہیں بھی، تاہم سنگین بحرانوں کے دوران غیر ثابت شدہ اور سازشی کہانیوں پر یقین رکھنے سے جاری وبائی مرض کے دوران انفرادی، خاندانی اور بہت وسیع سطح پر سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ لوگوں کا سازشی داستانوں کا باعث بننے کی بنیادی وجہ سائنسی تحقیق کے کلچر کا فقدان ہے۔ انھوں نے کہا کہ سائنسی علم عالمگیر حقائق پر منحصر ہے جس کا مطلب ہے کہ ان حقائق کی درستی اور صداقت کے لیے کہیں بھی جانچ کر لی جائے، نتائج آفاقی ہوں گے۔ سائنسی شواہد کے بجائے فرضی کہانیوں پر یقین رکھتے ہوئے، بہت سے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ جدید زندگی کی بہت سی آسائشیں اور آرام اور طویل عمری سائنس کی عطا ہیں جو معقول سوچ اور استدلال کی بنیاد پر ہیں۔

ڈاکٹر جعفر احمد نے کہا کہ اگر انسان اپنی دنیا کے بارے میں متجسس نہ ہوتے اور فطرت کے مظاہر پر سوال نہ اٹھاتے تو نہ سائنس ہوتی اور نہ ایجادات۔ لہٰذا، یہ سارا سلسلہ سوال اور استدلال سے شروع ہوا۔ سائنسی فکر دراصل منطقی فکر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سائنسی سوچ ہمیشہ ایجادات یا ٹیکنالوجی کے بارے میں نہیں ہوتی۔ یہ منطقی طور پر سوچنے اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر اپنے خیالات کی تشکیل کرنے کی صلاحیت ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سائنسی تحقیق اور معقول سوچ کبھی بھی پاکستان کے تعلیمی نظام یا بڑی سطح پر معاشرے کی پائیدار خصوصیات نہیں رہیں۔ سوچنے کے طریقے بس ناک کی سیدھ میں ہوتے ہیں جو اکثر مسائل پر سادہ خیالات رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، انصاف کے بارے میں ریاست کا رویہ صرف اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کسی مجرم کو کیے گئے جرم کے لیے مناسب سزا ملے۔ سزا سے آگے، تحقیق کرنے اور یہ جاننے کے لیے بہت کم تجسس ہے کہ کوئی خاص جرم کیوں کیا گیا، کتنی بار کیا گیا، اور جرم کے عوامل اور مختلف جہتیں کیا تھیں۔ دوسری طرف، تحقیق کا مضبوط کلچر رکھنے والے ترقی پسند معاشرے ہمیشہ نئے علم اور نیا سیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ ایک جرم کی وجوہات کا مطالعہ کرتے ہیں جو ان کی تفہیم کو بڑھانے میں مدد دیتے ہیں اور انہیں اس کے انسداد کے لیے بہتر فیصلے کرنے کے قابل بناتے ہیں۔

ڈاکٹرجعفر احمد کے مطابق، سائنسی تحقیق،عقلی سوچ اور استدلال لوگوں کو اپنے ملک میں سماجی تنوع کی پیچیدگیوں اور باریکیوں کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔ اور ثبوت پر مبنی باخبر سوچ لوگوں کو تنوع کی تحسین کرنے اور قبول کرنے میں مدد کرتی ہے۔ انھوں نے ایک ہندو کے ساتھ طویل دوستی کی اپنی ذاتی کہانی بھی بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کا ایک ہندو دوست کئی برس تک ایک مشترک کمرے میں رہے اور انھیں ایک دوسرے کے عقیدے یا مذہبی رسومات اور طریقوں سے کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ جہاں سائنسی سوچ غائب ہے جیسا کہ زیادہ تر پاکستانی معاشرے میں ہے، لوگ اکثر خرافات اور دقیانوسی تصورات پر انحصار کرتے ہیں جو یقیناً سماجی ہم آہنگی کے لیے معاون نہیں ہے۔ ورکشاپ کے دوران ڈاکٹر جعفر احمد نے طالب علموں پر زور دیا کہ وہ اپنی زندگی کا اصول بنائیں کہ ہمیشہ عقلی اور سائنسی طور پر سوچیں۔ انھوں نے کہا کہ روزمرہ زندگی کے معاملات پر بنیادی سائنسی اصولوں کا اطلاق کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کسی نتیجے پر پہنچنا یا پہلے سے خیالات کو اپنانا آسان ہے اور سائنسی طور پر سوچنا مشکل ہے، لیکن عقلی سوچ اور استدلال کے ضمن میں کی گئی چھوٹی کاوشیں، بڑے ثمرات کا باعث ہوں گی۔

 

3۔ اقلیت کی حیثیت سے پاکستان میں رہنا

زندگی ایک مشکل موڑ پر آ کھڑی ہوتی ہے اگر کوئی ایسا مذہب رکھتا ہو جو ریاست کے مذہب سے مختلف ہو۔ خطرات فطری طور پر در آتے ہیں جب ثقافتی تنوع کی حامل آبادی ایک ایسی ریاست کے زیر انتظام ہوتی ہے جو کسی مذہبی نظریے کے زیرِاثر ہو۔ مذہبی نوعیت کے سیاسی ڈھانچے کے ساتھ، پاکستان میں ریاست اپنی نظریاتی بنیاد کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کے خلاف عقیدے پر مبنی امتیازی سلوک کا رجحان رکھتی ہے۔ سیاست میں ایمان کا انجکشن قومی انضمام کی ضرورت کے طور پر بیچا کیا گیا۔ ابتدائی سیاست دان نہ صرف تنوع کے مخالف تھے بلکہ بظاہر ملک میں ثقافتی تنوع کو سنبھالنے سے بھی قاصر تھے۔ اس کے نتیجے میں، اکثریت کے عقیدے کو ایک ایسی متحد قوت کے طور پر پیش کیا گیا جو نسلی جذبات کو دبائے گی اور ابھرتی ہوئی قوم کو وحدت پر اکٹھا رکھے گی۔ یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ انضمام کا یہ خواب پورا ہوا یا نہیں، لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اس پالیسی نے پاکستان کے سماجی تانے بانے کو جو نقصان پہنچایا وہ غیر معمولی تھا۔

مذہبی اسٹیبلشمنٹ کو ریاست کا غیر رسمی سرپرست بناتے ہوئے، اسلامائزیشن نے غیر مسلم برادریوں کو سماجی ماتحتی تک محدود کر دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اقلیتوں کی پسماندگی اور ان کے ساتھ ظلم و ستم معاشرے کا مرکزی رویہ بن گیا۔ مذہبی اقلیتوں کو درپیش کچھ اہم مسائل و مشکلات کو محقق اور مصنف صفدر سیال نے ورکشاپس کے دوران بیان کیا۔ انھوں نے اس نکتے پر تبادلہ خیال کیا کہ پاکستان میں عام مسلمان شہریوں کے مقابلے میں اقلیتی گروہوں کے ارکان کے لیے زندگی کس قدر مشکل ہے، اور اقلیتوں کو روزانہ کی بنیاد پر درپیش سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل گِنوائے۔ صفدر سیال کے مطابق اقلیتی گروہوں کے ارکان کو شہریت کی دستاویزات کے حصول میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ بہت سے لوگ شناختی کارڈ حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال متاثرہ برادریوں پر سنگین معاشی اثرات مرتب کرتی ہے کیونکہ رسمی شناختی دستاویزات کے بغیر وہ مؤثر طریقے سے روزگار کی مارکیٹ سے کٹ جاتے ہیں۔ اپنی بقا کے لیے، وہ معمولی نوکریاں کرتے ہیں اور غربت کے نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنس جاتے ہیں۔

معاشی بے دخلی کے علاوہ، مذہبی اقلیتوں کے لیے تشدد ایک متواتر اور بڑا چیلنج ہے۔ صفدر سیال نے کہا کہ تشدد کا خطرہ نہ صرف انتہا پسند عسکری گروہوں کی طرف سے ہے بلکہ عام آدمیوں سے بھی ہے جو اکثریتی عقیدے سے تعلق رکھتے ہیں۔ عرصہ دراز سے ملک کے توہین رسالت کے قوانین کو اقلیتوں کو خاموش کرنے اور ستانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ایسے مقدمات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں جن میں لوگ ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے ان قوانین کو ہتھیار بناتے ہیں۔ اس طرح کے آتش گیر معاشرتی ماحول میں توہین رسالت کا محض الزام ہی ہجومی تشدد کو انگیخت کر سکتا ہے۔ اسی طرح، جبکہ غیر مسلموں کے سروں پر توہین رسالت کی تلوار لٹک رہی ہے، جبری مذہبی تبدیلیوں کا مسئلہ بغیر کسی مؤثر جانچ کے جاری ہے۔ خاص طور پر سندھ میں ہندوؤں کو نشانہ بناتے ہوئے اطلاع کے مطابق جبری تبدیلی کے نگران میاں مِٹو جیسے بااثر مولوی ہیں۔ عمومی صورت میں، اکثر کسی کم عمر ہندو لڑکی کو اغوا کر کے اسلام قبول کرا لیا جاتا ہے اور ایک مسلمان مرد سے شادی کر دی جاتی ہے۔ اور ایک بار تبدیلیِ مذہب کے بعد اس کے والدین اس تک رسائی سے محروم کر دیے جاتے ہیں۔

صفدر سیال نے کہا کہ موجودہ ماحول میں مذہبی اقلیتوں کے لیے تحفظ اور سکیورٹی کا فقدان ہے اس سے قطع نظر کہ ان کونسے قانونی تحفظ حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر عمل درآمد کے بغیر کوئی قانونی تحفظ کارآمد نہیں ہے۔ شہریوں کے حقوق اور آزادیاں آئین کے ذریعہ محفوظ کی گئی ہیں، لیکن قانون نافذ کرنے میں ریاست کی نااہلی یا عدم دلچسپی قانونی تحفظ کو بے معنی کردیتی ہے۔ ورکشاپ میں ایک مکالمے کی نشست کے دوران، صفدر سیال نے نوجوان شرکاء سے پوچھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں ہندو اور عیسائی شہریوں کو ان کے حقوق دیے گئے ہیں؟ شرکاء کی ایک بھاری اکثریت نے منفی میں جواب دیا، بعض نے کہا کہ اقلیتوں پر ظلم کیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کی اکثریت اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں سے واقف ہے۔

نوجوانوں پر زور دیا گیا کہ ان کے معاشرتی ماحول میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کو ذہن میں رکھیں۔ قومیت مساوی شہریت اور بقائے باہمی کی اقدار پر مبنی ہے، صفدر سیال نے مزید کہا کہ ہر شہری اخلاقی طور پر اپنے ساتھی شہریوں کے ساتھ ہمدردی کا پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ فعال شہریت مضبوط اداروں اور ترقی پسند معاشرے کی تعمیر کی کلید ہے اور جو چیز فعال شہریت کو فروغ دیتی ہے وہ سماجی ہمدردی ہے۔

 

4۔ بے دخلی کی سیاست

جہاں معاشرتی امتیازی سلوک مذہبی اقلیتوں کو مرکزی دھارے سے بے دخل کرتا ہے، وہیں سیاسی ڈھانچا انھیں اپنے حقیقی نمائندوں کو سیاسی طاقت کے مرکز یعنی پارلیمنٹ میں بھیجنے کی راہ میں حائل ہے۔ مشترکہ ووٹ کا نظام اقلیتوں کی سیاسی قسمت بڑی سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں میں دے دیتا ہے جو اپنے مفادات اور ترجیحات کے مطابق نشستیں تقسیم کرتی ہیں۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے بی بی سی کے صحافی ریاض سہیل نے کہا کہ جداگانہ انتخابات کے پرانے نظام میں سندھ کے ہندوؤں کی طرح اقلیتیں اپنے نمائندے منتخب کر سکتی تھیں جو حقیقی طور پر اپنی برادریوں کی نمائندگی کریں۔

لیکن اس نظام کو ختم کر دیا گیا اور اس کی جگہ مشترکہ ووٹ کے نظام نے لے لی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے سرحدی علاقوں میں ہندوؤں کی آبادی ہے جو اپنے عقیدے، ثقافت، معاش اور رہن سہن کے لیے بے شمار مسائل اور مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، لیکن پارلیمنٹ میں حقیقی نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی ان کی حالت زار پر توجہ نہیں دیتا۔ سماجی اور معاشی ترقی میں، عوامی اخراجات بڑے شہری مراکز پر مرکوز ہیں، اور دیہی سرحدی علاقوں میں رہنے والی اقلیتیں بنیادی ضروریات کے لیے طویل عرصے سے منتظر ہیں۔ ریاض سہیل نے کہا کہ مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کو زیادہ پروا نہیں ہے اگر ان برادریوں کو سکولوں یا ہسپتالوں کی ضرورت ہو۔ گزشتہ برسوں کے دوران، مذہبی اقلیتوں کے مطالبات بتدریج کم ہوتے چلے گئے ہیں، اور اس وقت وہ صرف حفاظت اور سلامتی چاہتے ہیں۔ اور بدقسمتی سے، یہاں تک کہ یہ ناکافی ضروریات بھی پوری نہیں ہوتی ہیں۔ ہندوؤں کو تشدد اور زبردستی مذہب تبدیل کرنے وغیرہ کی شکل میں ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مسلسل عدم تحفظ کی وجہ سے آبادیاتی شرح میں ایک سست رَو لیکن لگاتار تبدیلی جاری ہے کیونکہ بہت سے ہندو نسبتاً تحفظ اور امن کے لیے شہری مراکز کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ ریاض سہیل نے اپنے ایک ہندو دوست کی کہانی بھی بیان کی جس نے اپنی وفاقی حکومت کی نوکری چھوڑ دی کیونکہ وہ کام کی جگہ پر یکہ و تنہا محسوس کرتا تھا۔ اس کے ساتھی اکثر اس کے ساتھ بات چیت سے گریز کرتے تھے، جس سے وہ خود کو بے دخل اور اجنبی محسوس کرتا تھا۔ ریاض سہیل کے مطابق، ہندوؤں کے خلاف نفرت انگیز جذبات کی تبلیغ بنیادی طور پر نصابی کتابوں کے ذریعے کی جاتی ہے جو ہندوؤں کو ہندوستان کے ساتھ شناخت کرتی ہیں، اور تقسیم کے تناظر میں مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کے مظالم کو بیان کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ملک میں اردو صحافت نے ہندوؤں کو ان کے خلاف نفرت کا پرچار کرکے مرکزی دھارے سے بے دخل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

اسی طرح صحافی اور مصنف یار جان بادینی نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے دیہی علاقوں میں بااثر زمیندار اور قبائلی سردار اقلیتی گروہوں کے افراد کو اپنے حق میں ووٹ ڈالنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایسے علاقوں میں اقلیتیں طاقتور قبائلی سرداروں اور جاگیرداروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔ مذہبی اقلیتوں کی طرح بلوچوں جیسی نسلی اقلیتوں کو بھی سیاسی بے دخلی کا سامنا ہے۔ بلوچ برسوں سے بحرانوں سے گزر رہے ہیں، لیکن ان کی حالت زار پر پارلیمنٹ میں کم ہی بحث ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قومی دھارے سے مؤثر طریقے سے بے دخل کر دیے گئے ہیں۔ میڈیا میں اقلیتوں کی نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے میڈیا ہاؤسز بھی مسائل کو نظر انداز کرتے ہیں۔

تحقیقاتی صحافی ضیاء الرحمٰن کے مطابق، پاکستانی میڈیا بھی وہی منظر پیش کرتا ہے جو ملک میں اقلیتوں کی نمائندگی کا ہے۔ بڑے میڈیا ہاؤسز میں پیشہ ورانہ حیثیت میں عیسائی یا ہندو صحافی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے نتیجے میں، کوئی بھی اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ ملک میں اقلیتی برادریوں کو کیا مسائل درپیش ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں صورتحال مختلف نہیں ہے جہاں چند مقامی صحافی صوبے سے تمام رپورٹنگ کرتے ہیں کیونکہ میڈیا ہاؤسز کو صوبے میں زیادہ رپورٹرز رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اور کئی مرکزی دھارے کے میڈیا ہاؤسز ہیں جن میں بلوچستان سے ایک بھی رپورٹر نہیں ہے، ضیاء الرحمٰن نے مزید کہا کہ صوبہ تجارتی اور سکیورٹی دونوں وجوہات کی بنا پر رپورٹنگ کی ترجیح نہیں ہے۔

 

5۔ میڈیا اور اقلیتیں

تجارتی ذہنیت، سنسر شپ اور تعصب اہم عوامل ہیں جو میڈیا کے اجتماعی نقطہ نظر اور پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے بارے میں نقطہ نظر کو تشکیل دیتے ہیں۔ جمہوریت کا ایک ستون ہونے سے کہیں دُوری پر ہوتے ہوئے میڈیا بنیادی طور پر عوامی بھلائی کے خیالات کے بجائے تجارتی مفادات سے چلتا ہے۔ اگرچہ میڈیا کا عوامی مسائل کے بارے میں سوچنا نہ ختم ہونے والے نیوز بلیٹن اور ٹاک شوز میں ظاہر ہوتا ہے، تاہم تجارتی ریٹنگ اور صارفین کے مطالبات اس صنعت کی ترجیحات میں حتمی طور پر فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ منافع پر مرتکز اس ماحول میں جہاں میڈیا ہاؤسز بہتر درجہ بندی اور زیادہ اشتہارات کے لیے مسابقت میں ہوتے ہیں، انسانی حقوق کے مسائل اکثر پھُس پھسے اور سنسنی خیز مواد کے نیچے دب جاتے ہیں۔

میڈیا کے طریق کار، اس کے مفادات اور ترجیحات کے بارے میں آگاہی، اور میڈیا کے وسیع تر منظرنامے کو جاننا عام لوگوں کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ صنعت مفاد عامہ کی علمبردار سمجھی جاتی ہے اور یہ رائے عامہ کو متاثر کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے سینئر صحافیوں کو مدعو کیا گیا تھا تاکہ وہ وضاحت سے بتا سکیں کہ پاکستان میں میڈیا کیسے کام کرتا ہے اور مرکزی دھارے کا میڈیا مذہبی اقلیتوں کے مسائل کو کیسے پیش کرتا ہے۔ ان صحافیوں کا موقف تھا کہ اقلیتوں پر ظلم و ستم جیسے مسائل تجارتی نقطہ نظر سے بڑی کہانیاں نہیں بناتے۔ لہٰذا، میڈیا زیادہ تر اس طرح کے مسائل کے لیے اپنے مصروف اشاعتی وقت میں سے بہت کم مختص کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر ان کی انسانی حقوق کی قدر پر مبنی کہانیوں کی تفتیش کرنے کی خواہش بہت کم ہوتی ہے۔

ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے PFUJکے صدر شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں مرکزی دھارے کے میڈیا نے اقلیتوں پر ہونے والے ظلم کو مکمل طور پر یا کم رپورٹنگ کے ذریعے نظر انداز کیا۔ مذہبی اقلیتوں کے بارے میں خبروں کا بلیک آؤٹ بھی ہوتا رہا ہے۔ میڈیا میں اس رویے کو پھیلانے والے عوامل میں خبروں کی تجارتی عملداری سے لے کر سنسرشپ اور بنیاد پرستوں سے انتقامی کارروائی کے خوف تک شامل ہیں۔ میڈیا مالکان جن کا اربوں روپے کا سرمایہ ان کے کاروبار میں لگا ہوا ہے، اپنے میڈیا ہاؤسز کو پرتشدد ہجوموں کے ذریعے آگ لگتے ہوئے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ ایک تحقیق کے مطابق 2002 سے 2018 کے درمیان پاکستانی الیکٹرانک میڈیا انڈسٹری میں چار سے پانچ ارب ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری ہوئی۔ [4] شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ اس لیے عقیدے کے معاملات کے بارے میں حساسیت میڈیا کو احتیاط سے چلنے پر مجبور کرتی ہے جبکہ ایسی کسی بھی چیز کی رپورٹنگ کی جائے جو اقلیتی عقائد کے خلاف بنیاد پرست عناصر کی زیادتیوں کو ظاہر کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹرز اور بڑی میڈیا برادری میں پیشہ ورانہ مہارت کی کمی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اقلیتوں کے مسائل کی رپورٹنگ کے دوران، بہت سے صحافی اپنے ذاتی عقائد اور تعصبات کو اپنے پیشہ ورانہ کام سے الگ کرنے میں مشکل سے دوچار ہوتے ہیں۔ یہ امر ان کی رپورٹوں کی سالمیت کو کمزور کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، 2002 میں ملک میں نجی الیکٹرانک میڈیا کی آمد کے بعد سے پاکستان میں صحافیوں کی تعداد 2000 سے 20،000 تک بڑھ گئی ہے۔ [5] شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ صحافت کی بنیادی اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ میڈیا مذہبی اقلیتوں کے مسائل کو مناسب کوریج دے۔

اسی طرح، ڈان کے سینئر رپورٹر سلیم شاہد نے کہا کہ جب پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی حالت زار کی بات آتی ہے تو پریس اکثر مسائل کے حل کی بجائے مسئلے کا حصہ رہا ہے۔ اردو اخبارات نے اقلیت مخالف مواد شائع کیا۔ اس کا نمایاں اثر غیر مسلم برادریوں کے بارے میں تاثرات کی تشکیل پر ہوا۔ لیکن، صورتحال خراب سے بدتر ہوتی چلی گئی ہے کیونکہ پہلے زیادہ تر اردو اخبارات ایسے مواد شائع کرتے تھے لیکن اب آ کر انگریزی زبان کا پریس بھی یہ کام کر رہا ہے۔ سلیم شاہد نے کہا کہ عالمی سطح پر اخلاقیات موجود ہیں جو میڈیا کے کام کرنے پر آگاہی دیتی ہیں، لیکن پاکستان میں ان اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔

معیار گرنے کی ایک وجہ میڈیا ہاؤسز کے نیم خواندہ ارب پتی مالک ہیں، انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسا مالک جو بمشکل پڑھ لکھ سکتا ہے اور اپنے ادارے کے کام پر مکمل طور پر اثرانداز ہوتا ہے، کس طرح وہ اپنے ملازمین میں پیشہ ورانہ مہارت کو یقینی بنائے گا۔ سلیم شاہد نے ایک رپورٹر کے لیے مطلقاً ضروری خصوصیت کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اسے اپنے ذاتی عقائد اور جذبات کو شامل کیے بغیر غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کرنی چاہیے۔ تمام شہری اور ہر ایک برادری غیرجانبدارانہ اور منصفانہ کوریج کے مستحق ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میڈیا کا کام اکثریت کے مفادات کو پورا کرنا نہیں ہے بلکہ مفادِ عامہ میں چیزوں کو اجاگر کرنا ہے۔ عوام بھی غیر فعال ہیں کیونکہ یہ میڈیا سے شاذ و نادر ہی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سنجیدہ اور بڑے عوامی مسائل پر رپورٹنگ کرے۔

تاہم، بیرونی عوامل بھی ہیں جو میڈیا کے رویے کو متاثر کرتے ہیں اور اس کی ترجیحات کا تعین کرتے ہیں۔ سینئر صحافی عمران مختار کے مطابق میڈیا بعض گروہوں کے دباؤ کی وجہ سے اکثر مذہبی اقلیتوں کے بارے میں خبریں شائع کرنے سے گریز کرتا ہے۔ کئی بار، اقلیتوں کے بارے میں خبریں اشاعت کے مرحلے تک نہیں پہنچتیں جب تک کہ دباؤ والے ان گروہوں کی طرف سے نمایاں طور پر رضامندی نہ دی جائے۔ اس طرح کی تکلیفوں سے بچنے کے لیے، بہت سے میڈیا ہاؤسز سنجیدہ نوعیت کی کہانیوں کو چھوڑ کر کم اہم مسائل کی رپورٹنگ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ایک خبر کہانی شدید چھان پھٹک سے گزرتی ہے جس میں کم از کم تین مراحل شامل ہوتے ہیں۔ عمران مختار نے کہا کہ سب سے پہلے رپورٹر سنسر شپ کا اطلاق کرتا ہےدسرا سنسر نیوز ڈیسک لگاتا ہے اور آخر میں ایڈیٹر یہ کام کرتا ہے۔

 

6۔ خواتین کے حقوق

CVE ماہرین کے مطابق مذہبی بنیاد پرستی اور بدگمانی کے درمیان ربط موجود ہوتا ہے۔ شدت پسند خواتین کے حقوق کے سخت مخالف رہے ہیں۔ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ پاکستان میں انتہا پسندی اور خواتین مخالف تشدد دونوں متوازی طور پر بڑھ رہے ہیں۔ اس کے پیش نظر، ورکشاپس میں خواتین کے حقوق سے متعلق نشستوں کا اہتمام کیا گیا۔ پیشہ ورانہ ماہر خواتین اور خواتین رہنماؤں نے نوجوانوں کو اپنی جدوجہد کے تجربات سے آگاہی فراہم کی۔ خواتین کو درپیش چیلنجز پر بات کرتے ہوئے انسانی حقوق کی کارکن فائزہ میر نے کہا کہ ان کے والدین کو صرف بیٹیاں ہونے اور بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے نے رسوا کیا۔ کم عمری میں انھوں نے اپنے والد کی خراب صحت کی وجہ سے خاندان کی ذمہ داری اٹھائی اور اپنے بہن بھائیوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مدد کی۔ انھوں نے کہا کہ مجھے مشکلات اور متعدد چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن بالآخر میں ایک بیٹے کے برابر ثابت ہوئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ خواتین چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور ان پر قابو پانے کے لیے کافی مضبوط ہیں، لیکن انہیں مردانہ تسلط برداشت کرنے کے لیے بڑے صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی طرح سے محقق اور ماہر تعلیم فاطمہ نے کہا کہ روزگار کے مواقع میں بشمول ترقیاتی شعبے کے مردوں کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ خواتین کو ذہنی یا پیشہ ورانہ طور پر مردوں کی طرح قابل نہیں سمجھا جاتا۔ انھوں نے خواتین کے بارے میں معاشرے کے سرپرستانہ رویے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ خواتین کو اپنی زندگی کے معاملات جیسے کہ تعلیم وغیرہ کے فیصلے بھی خود نہیں کرنے دیے جاتے اور مزید کہا کہ اکثر یہ فیصلہ اس کے مرد رشتے دار کرتے ہیں کہ لڑکی کو کالج یا یونیورسٹی میں کیا پڑھنا چاہیے۔ انھوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ برابر کے شہریوں کے طور پر اپنے بنیادی حقوق کے لیے کھڑی ہوں، اور اپنی صلاحیتوں کو اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کریں۔ فاطمہ نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ‘کسی مرحلے پر آپ کو اپنے لیے کھڑے ہونا پڑے گا اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا پڑے گا’۔

صنفی تفاوت ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ یہ ملک کی آدھی آبادی کو پسماندہ کرتا ہے، اور اس کا اثر ہر شعبے میں خاص طور پر سماجی و اقتصادی دائرے اور امن کی تعمیر میں دور دور تک محسوس کیا جاتا ہے۔ عوامی شعبے میں پاکستانی خواتین کا کردار ان کی بڑی آبادی کے مقابلے میں ذرا بھی متناسب نہیں ہے۔ مذہبی قدامت پسندی اور پدرسری سماجی اقدار عالی دماغ اور بلند حوصلہ خواتین کے لیے بڑے چیلنج ہیں۔ مقررین نے کہا کہ خواتین کو حقوق دلانے اور بااختیار بنانے کے لیے کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔ واحد راستہ یہ ہے کہ چیلنجوں سے گزریں اور بنیادی حقوق سے کبھی دستبردار نہ ہوں۔ خواتین نہ صرف بڑے خواب دیکھنے بلکہ ان خوابوں کو تعبیر آشنا کرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہیں۔ فاطمہ نے کہا کہ عورت اپنے مرد رشتہ داروں کے ساتھ محض نتھی کر دی جانے والی چیز نہیں ہے۔ اس لیے عورت کو کسی کی ماں، بہن یا بیٹی کے طور پر پہچاننا ناانصافی اور اس کی اپنی شناخت سے انکار ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک عورت بطور انسان اور ایک شہری اپنی آزاد شناخت رکھتی ہے اور اس کی شناخت اس کے اپنے نام سے ہونی چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ صنفی بنیاد پر امتیازی سلوک کو ختم کرنے اور مردوں کی اکثریت کو متوازن کرنے کے لیے خواتین کو روایتی ماں بہن اور بیوی کے کرداروں سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ کوئی مسیحا ان کے لیے معاملا ت درست کرنے کے لیے نہیں آئے گا۔ مساوات کی جنگ گھر سے شروع ہوتی ہے جہاں بیٹی پر بیٹے کی قدر زیادہ کی جاتی ہے۔ مقررین نے کہا کہ زیادہ حقوق کے لیے لڑنے سے پہلے گھریلو سطح پر اس ذہنیت اور تصور سے نمٹنا چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی خاندان اپنی خواتین کو بااختیار بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کامیابی کی بلندیوں کو چھونے والی خواتین کی بڑی اکثریت کو ان کے خاندانوں نے فعال طور پر حوصلہ دیا اور ان کی مدد کی۔ انھوں نے کہا کہ والدین کی اپنی بیٹی کی معاونت، یا شوہر کا اپنی بیوی کی مدد کرنا خواتین کو ان کے خوابوں کو پورا کرنے میں بہت دُور رس معاونت فراہم کر سکتا ہے۔

 

7۔ آئین کی تعلیم کیوں؟

ورکشاپس میں نوجوانوں کو اہم قومی اور بین الاقوامی قانونی دستاویزات جیسے آئین، UDHR (1949) وغیرہ کی اہمیت کا احساس دلایا گیا۔ عوامی تعلیم کی خراب حالت کو دیکھتے ہوئے یہ متوقع تھا کہ نوجوانوں کی اکثریت یا تو آئین کی بنیادی سمجھ بوجھ یا اس سے دلچسپی یا دونوں سے محروم ہے۔ لیکن اس سمجھ کی کمی سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی جو ان کا آئین کہتا ہے، یا دیگر دستاویزا ت جیسے کہ UDHR کی اہمیت کیا ہے۔ نوجوانوں کے تخیل کو مہمیز کرنے کے لیے مقررین نے UDHR سے پہلے کے منظر نامے کی وضاحت کی جس میں بچوں سمیت لاکھوں افراد کو قتل کیا گیا اور جس نے قوموں کو آئندہ نسلوں کے لیے مظالم کو روکنے کے لیے اجتماعی طور پر سوچنے پر مجبور کیا۔ ان اجتماعی مباحث نے 1949 میں انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (UDHR) کو جنم دیا۔ UDHR کی تمام اہم دفعات پر مبنی چھپے ہوئے کاغذات ورکشاپ کے شرکاء میں تقسیم کیے گئے، اور بعض شرکاء سے کہا گیا کہ وہ ان دفعات کو اپنے ساتھیوں کر پڑھ کر سنائیں۔

سیکرٹری جنرل HRCP حارث خلیق نے کہا کہ UDHR انسانی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس نے بہت سی قوموں کو بادشاہتوں سے جمہوریتوں اور بادشاہ کی رعایا سے ریاست کے شہریوں میں منقلب کیا ہے۔ انھوں نے UDHR میں دیے گئے انسانی حقوق کی پانچ اقسام یعنی شہری حقوق، سیاسی حقوق، معاشی حقوق، ثقافتی حقوق اور سماجی حقوق کی وضاحت کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ UDHR کا مسودہ تیار کرنے والی اقوام متحدہ کی کمیٹی میں پاکستان بھی شامل تھا۔ حارث خلیق نے کہا کہ قانونی دستاویزات شہریوں کو اپنے بنیادی حقوق کا دعویٰ کرنے کے لیے بااختیار بناتے ہیں اور انسانی حقوق ریاستوں کے حق میں نہیں ہوتے۔

حارث خلیق نے پاکستان کے آئین میں کچھ بنیادی تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بعض دفعات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ مثال کے طور پر ایک آرٹیکل تمام شہریوں کے حقوق کو یقینی بناتا ہے جبکہ دوسرا غیر مسلم شہریوں کو صدر اور وزیر اعظم کے عہدوں کے لیے انتخاب لڑنے سے منع کرتا ہے۔ اسی طرح آئین میں تقریر کی آزادی کو یقینی بنایا گیا ہے، لیکن وہی آئین عدلیہ اور فوج پر کسی قسم کی تنقید کو روکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان تضادات کو پارلیمنٹ کو درست کرنا چاہیے ورنہ حقوق اور آزادیوں سے متعلق شقوں کو شامل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ حارث خلیق کے مطابق، پاکستان اب بھی نوآبادیاتی ریاست سے جمہوری ریاست میں منقلب ہونے کی کٹھنائی سے گزر رہا ہے جس کی وجہ سے آئینی دفعات پر عمل درآمد کا فقدان ہے۔ انھوں نے پارلیمنٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ شہریوں اور ریاست کے اداروں کے درمیان مذاکرات کا ایک ذریعہ ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں پارلیمنٹ نہ جمہوری ہے اور نہ ہی قانون سازی کے لیے آزاد ہے۔

آئین کی تعلیم کو ہر شہری کے لیے اہم قرار دیا گیا کیونکہ آئین سب سے اعلیٰ قانون ہے اور دیگر تمام قوانین اسی سے جاری ہوتے ہیں۔ کوئی بھی قانون جو آئین کی دفعات سے متصادم ہوتا ہے باطل ہو جاتا ہے کیونکہ قوانین کے مابین تصادم کی صورت میں آئین غالب ہوتا ہے۔ بنیادی دفعات اور شقیں بشمول بنیادی حقوق اور آزادیوں کی وضاحت کرنے والی دفعات کے ورکشاپ میں زیر بحث آئے۔ مقررین نے مزید کہا کہ شہریوں کو اپنے حقوق اور آزادیوں کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف اپنی حفاظت کرنی چاہیے، لیکن اس کے لیے بنیادی وضاحت اور آئین کا علم ناگزیر ہے۔ عام خیال کے برعکس کہ آئین قوانین کی کتاب ہے جسے صرف قانونی برادری پڑھ سکتی ہے، آئین کے بنیادی مخاطب عام شہری ہیں۔ ہر شہری اسے پڑھنے یا سیکھنے کا ذمہ دار ہے کہ اس کے ملک کا آئین کیا کہتا ہے۔ آئین کے بارے میں عوام کی لاعلمی آمریت کو در آنے اور ریاست اور معاشرے کو اپنی گرفت میں لینے کا موقع دیتی ہے۔ عوام کا چوکس ہونا جمہوریت کو بااختیار بناتا ہے، اور چوکس ہونا آگاہی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

 

8۔ اظہار رائے کی آزادی

مشہور کالم نگار وسعت اللہ خان نے ورکشاپ میں اظہار رائے کی آزادی کے بارے میں بات کی۔ انھوں نے کہا کہ بنیادی حقوق اور آزادیاں آئین کے ذریعے یقینی بنائی گئی ہیں، لیکن اس کا ازخود یہ مطلب نہیں کہ یہ حقوق اور آزادیاں لوگوں کو آسانی سے پیش کر دی جائیں گی۔ حقوق جدوجہد اور قربانی کے ذریعے حاصل کیے جاتے ہیں۔ ان معاشروں میں جہاں عوام اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی کا فقدان رکھتے ہیں اور احتساب کے تصور کو نہیں سمجھتے، ریاست مختلف حیلوں بہانوں سے بنیادی حقوق اور آزادیوں پر پہرے لگاتی ہے۔ انھوں نے آزادی اظہار پر پابندیوں پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اونچ نیچ کی شکایت کرنے سے پہلے کسی کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آزادی اظہار پر پابندی گھر سے شروع ہوتی ہے جہاں نوجوانوں کو اکثر سماجی اقدار یا روایات کے نام پر کئی مسائل پر بات کرنے سے روکا جاتا ہے۔

وسعت اللہ خان کے مطابق، معاشرے میں مذہبی حساسیت، سلامتی، یا سماجی اصولوں اور بہتری کی بنیاد پر آزاد اظہار رائے کو روکنے کا رجحان ہے۔ اور چند محدود آزادیاں جو ملک میں موجود ہیں، وہ بھی مراعات یافتہ افراد ہی کے لیے مخصوص ہیں۔ اشرافیہ جو بیانیہ بھی تشکیل دیتی ہے، اس میں عملی طور پر اقلیتوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ اگرچہ اس طرح کے عمل سے معاشرے میں ‘سب اچھا ہے’ کا تاثر تو پیدا ہو سکتا ہے، لیکن اس سے ناراضی بھی پیدا ہوتی ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ حبس کا ماحول دھماکا خیز نتائج کا باعث بنتا ہے۔

وسعت اللہ خان نے کہا کہ پاکستان میں لوگ اکثر اپنے حقوق چھوڑ دیتے ہیں اور اپنا مقسوم دوسروں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں اور پھر آزادی کی کمی کی شکایت کرتے ہیں۔ کوئی حق کبھی خوشی سے نہیں دیا جاتا جب تک کہ آواز نہ اٹھائی جائے۔ یہاں تک کہ ایک شیر خوار بچے کو اپنی بھوک کا احساس دلانے کے لیے اور خوراک کے حصول کے لیے رونا پڑتا ہے۔ ریاست بھی اسی طرح کام کرتی ہے۔ عوام کو آواز اٹھانی ہوگی اور اپنے حقوق لینا ہوں گے۔ اس خطے کے لوگ اپنے حقوق کے حصول کے لیے صدیوں سے انتظار کر رہے ہیں، لیکن ریاست آسانی سے حقوق دینے کے لیے نہیں بنی۔ آج جو بھی حقوق حاصل ہیں وہ جدوجہد اور قربانیوں کے بعد لیے گئے ہیں اور مزید حقوق کے لیے عوام کو مزید جدوجہد کرنی چاہیے۔ ہر خوشی کے لیے جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے، اور حقوق کے لیے جدوجہد ایک مختصر کوشش نہیں بلکہ ایک ایسی کوشش ہے جو کئی نسلوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس جدوجہد کو روکا نہ جائے۔

 

مسائل اور مشکلات

i۔ کمزور علمی مہارت

علمی مہارتیں جیسے منطقی سوچ اور استدلال ورکشاپ کے شرکاء کی اکثریت میں مفقود پائی گئیں۔ بہت سے حاضرین کو معتدل درجے کے پیچیدہ خیالات پر غور کرنے میں مشکلات کا شکار دیکھا گیا، جبکہ بعض دوسروں کو مبنی برحقائق سوچ کی اہمیت اور اس پر عمل کرنے کے بارے میں بہت کم آگاہی تھی۔ یہ مسئلہ چاروں صوبوں اور متنوع نسلی گروہوں کے تقریباً تمام پاکستانی نوجوانوں میں دیکھا گیا۔ اور اس کی وجوہات کا پتا لگانا مشکل نہیں ہے کیونکہ عوامی تعلیم کی خراب حالت ہے۔ کئی دہائیوں سے، تعلیم نے ریاستی نظریات اور بیانیے کو آگے بڑھانے کے لیے کام کیا ہے تاکہ سوچ کی یکسانیت اور بڑے پیمانے پر ایک متفقہ سیاسی نقطہ نظر پیدا ہو۔ یہ کوشش قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کے زیادہ سے زیادہ مقصد کو پورا کرنے والی ہے۔

دوسری طرف، دانشورانہ مہارت اور منطقی سوچ اور استدلال کی صلاحیتوں کی ترقی کبھی ترجیح نہیں رہی۔ کچھ ماہرین تعلیم نے اس رجحان کو ذہنی ترغیب سے تشبیہ دی ہے اور روبینہ سہگل جیسے نقاد قوم کی تعمیر میں تعلیم کو ذریعہ بنانے کو نوجوانوں کے خلاف ‘نفسیاتی تشدد’ قرار دیتے ہیں۔ تعلیمی پالیسی چلانے والا عنصر کوئی بھی ہو، یہ حقیقت اپنی جگہ رہے گی کہ رٹہ لگا کر تعلیم حاصل کرنا، مبہم اور الجھے ہوئے تصورات کو راسخ کرنا، اور درس گاہوں میں تعلیمی آزادی کا فقدان پاکستانی نوجوانوں میں ذہنی نشوونما کو روکتا ہے۔ یہاں تک کہ گریجویٹ سطحوں پر بھی، بہت سے طالب علموں کو دستیاب شواہد کا استعمال کرتے ہوئے عقلی انداز میں سادہ سے معتدل مرکب خیالات پر عمل درآمد کرنے کے لیے مشکلات سے گزرنا پڑا۔ بہت سے لوگوں نے کبھی بھی اپنی رائے کو حقائق کی جانچ کے تابع کرنے کی زحمت نہیں کی تھی، اور یہی صورتحال ان کے عالمی نظریات کو پروان چڑھانے والی معلومات کا بھی تھا۔

جہاں کمزور علمی مہارتیں معاشرتی مضمرات رکھتی ہیں جیسے مُڑاتڑا تصورِ کائنات یا دقیانوسی سوچ اپنانا، وہیں ان کی کمی کے باعث پاکستانی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کے لحاظ سے بھی مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر انتہائی مسابقتی بین الاقوامی ملازمت کی مارکیٹ میں جہاں دانشورانہ صلاحیتیں جیسے تنقیدی سوچ اور سائنسی استدلال مسائل کی گتھیاں سلجھانے جیسی مہارتیں بنیادی ضرورت ہیں۔ اس لیے حیرت کی کوئی بات نہیں اگر پاکستان عالمی ملازمتوں کی مارکیٹ میں ہنر مند انسانی وسائل برآمد کرنے میں اپنے دیگر علاقائی ممالک سے پیچھے ہے۔

منطقی سوچ اور استدلال کا فقدان نوجوانوں کو پروپیگنڈے اور سازشی بیانیے کا شکار بناتا ہے، ان دونوں کا پاکستان میں سماجی امن اور ہم آہنگی پر منفی اثر پڑا ہے۔ کئی بار سازشی نظریات مذہبی اقلیتوں کو بھی ہدف بناتے ہیں اور ہندوؤں، احمدیوں وغیرہ کو شیطانی مخلوق بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح تعلیمی نصابات میں بھی متعدد ایسے تاریخی واقعات بیان کیے جاتے ہیں جو حقائق کے منافی اور سازشی تصورات کا حصہ ہیں۔ عام طور پر، جب اس طرح کے پہلے سے تیار کردہ بیانیے حقائق کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں، کلاس روم میں سوالات اٹھانے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ طالب علم اس طرح کے خیالات کی ساکھ کو چیلنج کرنے کا استحقاق حاصل کیے بغیر ساختہ تصورات کو اپنا لینے پر مجبور ہیں۔ مجموعی طور پر فکری ہم آہنگی کو جزا کا حق دار ٹھہرایا جاتا ہے اور سوال اٹھانے پر ناک بھوں چڑھائی جاتی ہے۔

 

ii۔ میں کون ہوں؟

قوم پرستی اور جمہوریت کے نظریات سے جڑی سیاسی اسلامیت نے اس کے بالکل برعکس نتیجہ پیدا کیا ہے جو ملک نے پہلی بار 1949 میں اپنی اسلامیت کی سکیم کا آغاز کیا تھا۔ اسلامیت کے اس تجربے کا متوقع نتیجہ یہ تھا کہ ایک سماجی اعتبار سے متحد ایک ایسی قوم پیدا ہوتی جو خود کو مسلم قوم کے طور پر شناخت کرواتی۔ لیکن، دو ہی عشروں کے بعد، نتیجہ مشکل سے ویسا نظر آتا ہے جس طرح اسلامائزیشن پروجیکٹ کے اصل معماروں نے اس کا تصور کیا تھا۔ معاصر پاکستانی نوجوانوں سے پوچھیں کہ ان کی بنیادی شناخت کیا ہے تو وہ عام طور پر اس کی ایک غیرمنضبط تفصیل پیش کریں گے جو وہ اپنے آپ کو سمجھتے ہیں۔ ملک کی ہر جگہ کی طرح، بلوچستان میں بھی نوجوانوں کی شناخت کے تصورات ‘میں پہلے مسلمان ہوں’ اور ‘میں پہلے پاکستانی ہوں’ کے ارد گرد گھومتے ہیں، اور یہ ان پر بہت کم واضح ہے کہ ان بیانات سے ان کا مطلب کیاہے۔ اپنے دل کی بات کرتے ہوئے ان میں جو اعتماد تھا، اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان میں مشترکہ شہریت کا احساس کم تھا۔

بہت سے شرکاء نے غیر واضح اور اکثر متضاد خیالات پیش کیے کہ پاکستان کے لیے کون سا سیاسی نظام بہتر ہے۔ مثال کے طور پر، ان میں سے کچھ نے ایک طرف جمہوریت کی حمایت کی، اور ساتھ ہی دوسری طرف ماضی کی آمریتوں کو جائز سمجھا، ممکنہ طور پر وہ اپنے خیالات میں تضاد سے ناواقف تھے۔ تعجب کی بات نہیں کہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے نصابی کتابوں والا قوم پرستی کاسبق دہرایا۔ بعض ملک میں ثقافتی تنوع کا بہت خیر مقدم نہیں کر رہے تھے، اور ان کی سوچ نے ہندوؤں، عیسائیوں وغیرہ کے بارے میں ایک سرپرستانہ رویہ ظاہر کیا اور سیاست کے بارے میں ان کے کچھ خیالات معمول کے عمومی بیانات کی عکاسی کرتے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ سیاستدان بدعنوان ہیں۔

ثقافتی اعتبارسے پاکستان بہت زیادہ متنوع ہونے کی وجہ سے اکثریت کے مذہبی عقیدے پر مبنی قومی شناخت کو جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہاں تک کہ اگر اس طرح کی شناخت کو لوگوں کی بڑی اکثریت قبول کرتی ہے، پھر بھی لاکھوں ہندوؤں، عیسائیوں اور دیگر عقائد کے ماننے والوں پر اسے کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے؟ ریاست کی مذہبی شناخت سماجی انتشار کو فروغ دینے، اور شہریوں کو مرکز اور حاشیے کی تقسیم، فرسٹ کلاس اور سیکنڈ کلاس، اور اکثر محب وطن اور مشتبہ میں بھی درجہ بندی کرنے کی ذمہ دار رہی ہے۔ مذہبی تشخص نے ایک غیر متزلزل اسلامائزیشن کے عمل کو بھی جاری رکھا ہے جس نے معاشرتی انضمام اور قوم کی تعمیر کے تصورات، جو اَب کہیں گم ہو کر رہ گئے ہیں، ان کو فائدے سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اقلیتوں پر ظلم و ستم کو اس طرح کے پالیسیوں کا نتیجہ سمجھنا کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔ عامررانا کے مطابق، حکمران طبقہ مذہب اور سیاست کے اختلاط سے پیدا ہونے والے سیاسی نظام کے اندرونی تضادات کا حل تلاش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایک جمہوری ملک میں، مشترکہ شہریت نہ کہ مذہبی عقیدہ لوگوں کی شناخت بتاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب ثقافتی طور پر متنوع معاشرے پر ایک واحد مذہبی نظریہ مسلط کیا جائے تو اختلافات لازمی طور پر ظاہر ہوں گے۔

قومی شناخت کے بارے میں الجھن ایک پھیلا ہوا موضوع ہے جس پر پارلیمنٹ میں بحث کی ضرورت ہے۔ جو عوامل اس مسئلے کو پیدا کرنے میں شریک ہیں،ان کی نشاندہی کی جانی چاہیے اور غلطیوں کو دور کیا جانا چاہیے تاکہ شناخت کے سوال پر اس دائمی الجھن کو دور کیا جا سکے۔ ابھی تک، پارلیمنٹ نے اس موضوع کو چھونے سے گریز کیا ہے، شاید اس وجہ سے کہ اسے اس طرح کے ممکنہ طور پر مشکل یا حساس کام کو اٹھانے کی کوئی مجبوری درپیش نہیں ہے۔ ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس طرح کی کوئی بھی بحث لامحالہ سیاست اور مذہب کے اختلاط کے بارے میں بات چیت کا باعث بنے گی، اس طرح ممکنہ طور پر ریاست کی نظریاتی بنیاد پر بھی سوال اٹھتا ہے۔ لیکن، یوں معاملے کو التوا میں رکھنے کی قیمت کم پریشان کن نہیں ہے کیونکہ الجھن جتنی لمبی ہوگی، اتنا ہی زیادہ نقصان ملک کے سماجی و ثقافتی منظر نامے کو پہنچتا ہے۔

 

iii۔ احساسِ کمتری

تکرار کا باعث ہو گا اگر اس حقیقت کا اظہار کیا جائے کہ بلوچستان اس انصاف کے لیے ترس رہا ہے جس کا وہ حقدار ہے۔ بیگانگیت کا ایک عمومی احساس جس کی جڑیں صوبے کی ہنگامہ خیز سیاسی تاریخ میں ہیں، یہاں کے لوگوں کا سماجی اور سیاسی نقطہ نظر تشکیل دیتا ہے۔ ورکشاپس کے دوران یہ نوٹ کیا گیا کہ بلوچستان کے نوجوانوں میں احساس کمتری تقریباً ایک جیسا ہے۔ مظلومیت کا احساس ان کی سوچ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی عشروں کے دوران، صوبے نے عسکریت پسندی اور سیاسی عدم استحکام کے طویل جبکہ امن اور سکون کے مختصر ادوار دیکھے ہیں۔ یہ علاقہ سیاست سے متاثرہ شورش کا بھی مرکز ی حصہ رہا ہے، اور یہ 1980 کے عشرے میں افغانستان میں جہادی عسکریت پسندی کا ایک بڑا ‘لانچ پیڈ’ بھی تھا۔ اب تک نہ تو بلوچستان پیکج کی طرح سیاسی خیر سگالی کے اقدامات اور نہ ہی صلح کے وعدے صوبے میں امن اور استحکام لانے میں کامیاب رہے ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے بہت بڑا مگر کم آبادی والا بلوچستان عیش و آرام کانہیں بلکہ استحکام اور بنیادی سہولیات جیسے سڑکیں، تعلیم، صحت، پینے کے پانی وغیرہ کا خواہاں ہے۔

صوبے میں مایوس کن حقائق اس کے لوگوں کی سوچ اور نقطہ نظر کو متاثر کرتے رہتے ہیں جو یہاں کی محرومیوں میں سے ایک ہے۔ ورکشاپس کے بہت سے طالب علموں نے شکایت کی کہ دیگر صوبوں کے نوجوانوں کے مقابلے میں ان کے پاس تعلیم، پیشہ وارانہ تربیت اور روزگار کے مواقع تک مناسب رسائی نہیں ہے۔ پورے صوبے میں صرف چند یونیورسٹیاں ہیں، اور نوجوان تعلیم کے حصول کے لیے اکثر کوئٹہ تک طویل فاصلے طے کرتے ہیں۔ غربت اور کم آمدنی تعلیم کو ادھورا چھوڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اور دیہی نوجوانوں کی اکثریت جو اعلیٰ تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں انھیں بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے۔ اور جو لوگ اخراجات کا بوجھ سہار سکتے ہیں، اپنے بچوں کو سندھ اور پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں کیونکہ صوبے میں موجود چند یونیورسٹیاں اکثر دیگر صوبوں کے معیار کے لحاظ سے برابر نہیں ہیں۔ ایک نوجوان نے جو ورکشاپ میں شریک تھا، مواقع تک رسائی میں عدم مساوات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چند سال پہلے تک بلوچستان کے طالب علموں کو IELTS ٹیسٹ دینے کے لیے کراچی یا ملتان جانا پڑتا تھا کیونکہ پورے صوبے میں کوئی ٹیسٹنگ سینٹر نہیں تھا۔

اسی طرح، صوبے کی آبادی نسبتاً کم ہونے کے باوجود ان کے لیے بھی نوکریاں کم ہیں۔ نجی شعبے اور صنعتوں کی موجودگی بہت کم ہے، اور سرکاری شعبہ نوجوانوں کی روزگار کی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ سکیورٹی میں عدم استحکام کی وجہ سے معاشی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے جو کاروباری سرمایہ کاری کو روکتا ہے۔ دوسری طرف سی پیک جیسے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات صوبے میں نچلی سطح تک پہنچنا ابھی باقی ہیں۔ سی پیک پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے والے کچھ نوجوان حکومت کے معاشی خوشحالی کے وعدوں سے زیادہ متاثر نہیں تھے۔ چند ایک کا خیال ہے کہ سی پیک کے فوائد کا بڑا حصہ بڑے صوبوں خصوصاً پنجاب میں منتقل کر کے ان کے صوبے کے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے۔

 

iv۔ خود اعتمادی کا خسارہ

جیسا کہ پہلے بحث کی گئی ہے، پبلک ایجوکیشن کچھ بنیادی تعلیمی مقاصد جیسے کہ طالب علموں کے عالمی نظریات کو وسیع کرنا یا ان کی علمی صلاحیتوں کو ترقی دینے کے حصول میں نمایاں طور پر ناکام ہے۔ کم فنڈنگ ​​اور ناقص معیار کے مسائل کو ایک طرف رکھتے ہوئے، عوامی تعلیم تاریخی طور پر قومیت کے فرسودہ نظریات کے تسلیم کرنے والے اور پیروکار بنانے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ مذہبی غلاف میں لپٹے قوم پرست نظریات عام طور پر نوجوانوں میں مبہم اور الجھی ہوئی سوچ پیدا کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ برسوں کی تعلیم انھیں مناسب ذہنی صلاحیتوں سے آراستہ کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ اس پر مستزاد، جستجو کی خواہش کو عملی طور پر بھی اور ساتھ ساتھ اقدار کے نام پر بھی روکا جاتا ہے کہ اساتذہ کا نہ صرف احترام کیا جائے بلکہ ان سے خوفزدہ بھی رہا جائے۔ یہ عنصر طلباء کو ان کے اساتذہ سے سوال کرنے سے روک سکتا ہے۔ ورکشاپس کے دوران، یہ نوٹ کیا گیا کہ بہت سے شرکاء میں سوال اٹھانے یا کسی تصور کو منطقی طور پر چیلنج کرنے کے لیے اعتماد کا فقدان ہے۔ یہاں تک کہ ان کے لیے محض اپنے نقطہ نظر کو مربوط طریقے سے پیش کرنا بھی مشکل ہے۔ شائستہ اور فرمانبردار کلاس روم کے رویے نمایاں تھے۔

ورکشاپس میں شرکاء کی متواتر حوصلہ افزائی کی گئی اور اکثر اوقات اپنا اظہار کرنے اور مختلف چیزوں کے بارے میں اپنے خیالات اور تجربات دوسروں کے سامنے پیش کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ بظاہر، ان میں سے بیشتر سوالات اٹھانے یا اپنے خیالات اور آراء کا آزادانہ اظہار کرنے سے گریزاں تھے،ممکنہ طور پر یہ روایتی کلاس رومز میں تعلیمی آزادی کی کمی کا اشارہ ہے جہاں سوال کرنا بعض اوقات بدتمیزی کے مترادف ہوتا ہے۔

مجموعی طور پر، کلاس رومز میں تعلیمی عمل بلندی سے نشیب کی طرف بہاؤ کا ایک عمل ہے جس میں اساتذہ دوطرفہ مکالمے کی بجائے اذہان میں نصابی مواد انڈیلتے ہیں۔ دوسری طرف طالب علموں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بغیر کوئی سوال اٹھائے سبق حفظ کریں گے اور بعد ازاں امتحانات میں کامیابی کے لیے ان کو دُہرا دیں گے۔

ایک طرح سے، تعلیمی نظام طاقتور کی اطاعت سکھاتا ہے اور اس رجحان کو فروغ دیتا ہے کہ طاقتور جو بھی کہے اسے چیلنج نہ کریں۔ اسی تعلیمی پالیسی یا روایت کے مضمرات ہیں جو تعلیمی اداروں سے آگے بڑھتے ہیں، اور بڑے عوامی رویے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سکول کی تعلیم کے اس نظام کے فارغ التحصیل افراد اپنی بالغ زندگیوں میں بھی فرمانبردار ہوتے ہیں جہاں وہ حکومتی پالیسیوں میں خامیوں کو چیلنج کرنے میں ہچکچاہٹ یا اعتماد کا فقدان ظاہر کرتے ہیں یا ذہنی تربیت کی وجہ سے ریاست سے جوابدہی کا مطالبہ نہیں کرتے ہیں کہ حکام کا احترام کیا جائے یا ان سے خوفزدہ رہا جائےاور اس وجہ سے سوال نہ کیا جائے۔

 

سماجی امن اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے سفارشات

  1. تنقیدی سوچ اور منطقی استدلال کی تعلیم کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ طلباء کی بنیادی علمی مہارت کو بہتر بنایا جا سکے۔ کلاس رومز میں محض رٹا لگانے کی بجائے شواہد پر مبنی سوچ پر زور دیا جانا چاہیے۔
  2. تعلیمی اداروں کو زیادہ تعلیمی آزادی اور گنجائش دی جانی چاہیے کیونکہ مذہبی حساسیت وغیرہ کی بنیاد پر آزادانہ سوچ پر پابندیاں نوجوانوں کی فکری نشوونما میں سدِراہ ہوتی ہیں۔ سوال و جواب اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرنی اور اسے فروغ دیا جانا چاہیے۔
  • طالب علموں کو سکھایا جانا چاہیے کہ روزمرہ کے سماجی حالات میں عمومی سمجھ کا استعمال کیسے کریں کیونکہ عمومی سمجھ کا استعمال عام طور پر معقول فیصلوں اور بہتر انتخاب کا باعث بنتا ہے اور جذباتیت کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے جو کہ پاکستان میں عقیدے پر مبنی تشدد کے واقعات کا ایک اہم عنصر ہے۔
  1. جہاں تعلیمی نصاب نوجوانوں کے عالمی نظریات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، وہاں طالب علموں کی سوچ کو متاثر کرنے میں اساتذہ کا کردار بھی کم اہم نہیں ہے۔ لہٰذا اساتذہ کو تربیت دی جانی چاہیے کہ وہ اپنے معاشرتی تعصبات کو پہچانیں اور ان پر قابو پائیں، اپنی سوچ کو بہتر بنائیں اور اپنے عالمی تصورات کو وسعت دیں۔ اچھی تربیت پایا ہوا اور تعلیم یافتہ استاد اپنے طالب علموں میں بہتر سوچ پیدا کرتا ہے۔
  2. آئین کی کلیدی دفعات جیسے بنیادی حقوق کی تعلیم ہائی سکولوں میں لازمی ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ، UDHR 1949 کا پس منظر اور اس کی دفعات کو بھی نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔
  3. پارلیمنٹ کو نام نہاد قوم کی تعمیر کے لیے تعلیم کو استعمال کرنے کی واضح پالیسی کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے۔ اب تک کے شواہد بتاتے ہیں کہ اس پالیسی نے معاشرے کو فائدے سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
  • بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوئی بھی کوشش اس سے پہلے ہونی چاہیے کہ ملک میں اقلیتوں کو ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑے۔ اور ایسی آگاہی پیدا کرنے کے لیے کلاس روم سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہے۔ طالب علموں کو مذہبی اقلیتوں کی حالت زار کے بارے میں حقیقت پسندانہ صورتحال سکھائی جائے تاکہ بین المذاہب تعلقات میں بتدریج بہتری کی راہ ہموار کی جا سکے۔
  • جمہوریت اور مشترکہ شہریت کی اقدار سکولوں میں پڑھائی جائیں۔
  1. نصابی کتابوں کو ایسے مواد سے پاک کیا جانا چاہیے جو ہندو مذہب یا ہندوؤں کو پست دکھاتے ہیں۔
  2. نوجوانوں کو ہائی سکول کی سطح پر صنفی مساوات کی اہمیت کا احساس دلایا جانا چاہیے۔
  3. حکومت کو اظہار رائے کی آزادی کو تحفظ اور فروغ دینا چاہیے اور آزادانہ اظہار پر جلی اور خفی پابندیاں اٹھا دینی چاہئیں۔
  • پاکستان کے سماجی و ثقافتی تنوع کو درسی کتب اور میڈیا دونوں کے ذریعے اجاگر کیا جانا چاہیے۔
  • مذہبی انتہا پسندی کی کشش اور حمایت کو کم کرنے کے لیے، ریاست اور معاشرے کے ساتھ ساتھ افراد پر بھی شدت پسندی کے وسیع اثرات کو میڈیا اور آگاہی پر مبنی تحریری مواد کے ذریعے اجاگر کیا جانا چاہیے۔ ایک طالب علم کو انفرادی طور پر یہ سمجھنا چاہیے کہ انتہا پسندی یا دہشت گردی اس کی زندگی کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔
  • کتب بینی کو فروغ دیا جانا چاہیے کیونکہ نوجوانوں کے عالمی تصورات کو وسیع کرنے اور انہیں تنوع کو قبول کرنے اور اختلاف رائے اور مخالف خیالات کو برداشت کرنے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہے۔
  1. چھوٹے صوبوں اور اقلیتی عقائد کے گروہوں کو مرکزی دھارے کے میڈیا میں نمائندگی دی جائے۔ کوئی بھی دوسرا شخص ان پسماندہ طبقوں کی نمائندگی نہیں کر سکتا اور ان کے مفادات کا ان سے بہتر دفاع نہیں کر سکتا۔
  • اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ میڈیا ایک تجارتی صنعت کے طور پر ابھرا ہے، لیکن پھر بھی یہ پیشہ ورانہ مہارت کی پاسداری کرنے اور تجارتی اور عوامی مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا پابند ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

References

[1]   Shakeel Ahmed, Unleashing the potential of a young Pakistan, UNDP Human Development Reports, 24 July 2018

http://hdr.undp.org/en/content/unleashing-potential-young-pakistan

[2]   Pakistan to progress with innovations, ideas of youth of country: Murad Saeed, Radio Pakistan, 28 May 2021 https://www.radio.gov.pk/28-05-2021/pakistan-to-progress-with-innovations-ideas-of-youth-of-country-murad-saeed

[3]   Dr. Feriha Peracha (supervising psychologist of Sabaoon de-radicalization program), input at PIPS consultation on CVE, Nov 2020

[4]   Nazam Maqbool, The Electronic Media Economy in Pakistan, 2021, News Media – Policy and Research, Vol. 2, issue 9, PIDE https://pide.pk/research/news-media-policy-research-pr-vol-2-issue-9/

[5]   Nazam Maqbool, The Electronic Media Economy in Pakistan, 2021, News Media – Policy and Research, Vol. 2, issue 9, PIDE https://pide.pk/research/news-media-policy-research-pr-vol-2-issue-9/

 

(ترجمہ: عابد سیال)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...