توروالیوں میں شادی بیاہ کی رسوم

322

اپنی مخصوص خصوصیات کی وجہ سے توروالی حقیقی طور پر ایک داردی زبان ہے اور اس کا شمارجنوبی داردستانی زبانوں میں ہوتا ہے۔ سر آرل سٹیئن (Sir Aurel Stein) بتاتے ہیں کہ یہ سوات کوہستان میں بولی جاتی ہے اور اپنے اندر ہندآریائی اثر رکھتی ہے[1]۔ سوات کوہستان موجودہ ضلع سوات کے بالائی پہاڑی علاقے کو کہا جاتا ہے جوپیا خوڑ اور تیرات سے شروع ہوکر اوپر شمال کی طرف دائیں بائیں بلند پہاڑوں کے بیچ لمبی گھاٹی کی صورت میں واقع ہے اور جس میں مدین، بحرین اور کالام کی حسین وادیاں شامل ہیں۔ انتظامی لحاظ سے سوات کوہستان ضلع سوات میں رقبے کے لحاظ سے پورے سوات کے سات ذیلی ڈویژنوں (sub-divisions) میں سب سے بڑے سب ڈویژن ”بحرین سب ڈویژن“ کا پورا علاقہ بنتا ہے جس کا کل رقبہ 3183 مربع کلومیٹر ہے جو سوات کے کل رقبے، 5337 مربع کلومیٹر، کا تقریباً  60فی صد بنتا ہے[2]۔ کافی عرصہ پہلے موجودہ سوات کوہستان کو ”توروال“ کہا جاتا تھا۔ اب کئی ماہرین ”توروال“ صرف ان علاقوں کو کہتے ہیں جہاں توروالی زبان بولی جاتی ہے۔ تفصیل کے لیے گریئرسن کی کتاب (Torwali-An Account of the Dardic Language of the Swat-Kohistan) کے پہلے صفحے پر نقشے کو ملاحظہ کیجیے جو ان کو سر آرل سٹئین نے 1926ء میں اس علاقے کے دورے کے بعدبنا کر دیا تھا۔ [3]

پشتو اور ہندکو کے علاوہ شمالی پاکستان کی کسی زبان کو کسی بھی قومی مردم شماری میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس لیے ان زبانوں کے بولنے والوں کی تعداد کا درست تعین نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم پاکستان میں آخری قومی مردم شماری جو 2017ء میں کی گئی تھی[4]، کا راقم نے بلاکس نمبرز، سرکل نمبروں اور ان بلاکس و سرکلز میں مختلف گاؤں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔ اسی طرح تحصیل بحرین میں ووٹروں[5] کی تعداد کا تجزیہ کرکے جب تخمینہ نکالا تو آبائی علاقے (تحصیل بحرین سوات) میں مقیم توروالیوں کی تعداد 90،000 کے قریب رہی۔ توروالی بولنے والوں کے تقریباً 38 فی صد لوگ مستقل نقل مکانی کرچکے ہیں۔ اسی طرح کئی لوگ بیرون ملک رہتے ہیں۔ ان سب کو ملا کر توروالی زبان بولنے والوں کی موجودہ تعداد 137،000 کے لگ بھگ بنتی ہے۔

سماجی، سیاسی، معاشی اور تعلیمی پس منظر

شادی بیاہ کی رسومات پر تفصیل سے پہلے توروالی سماج کی موجودہ صورت حال پر ایک سرسری نظر ڈالنا ضروری ہے تاکہ سیاق و سباق سمجھ میں آجائے۔

سوات وادی کی قدیم تاریخ گواہ ہے کہ توروالی لوگ سوات کے قدیم باشندوں میں سے ہیں۔ سوات میں آثار قدیمہ اور ان سے متعلق تحقیق بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے۔ سوات میں توروالیوں کو سولہویں صدی عیسوی میں سوات کے زرخیز میدانی علاقوں سے بے دخل کرنا شروع کیا گیا۔ یہ سیاسی، سماجی اور ثقافتی تسلط کئی صدیوں تک جاری رہا جس کے نتیجے میں ان سودیشی لوگوں کو نہ صرف ان کی شناخت بھول گئی بلکہ ان کی ثقافت اور زبان پر بالادست ثقافت اور زبان کا اثر گہرا ہوتا گیا۔

نوآبادیت کے اس جبر نے توروالیوں کو زیرتسلط رکھا اور وہ مختلف ادوار میں مختلف قسم کی دشواریوں اور استعماریت کا شکار ہو کر آخر کار موجودہ علاقے تک محدود ہوگئے۔ ان سخت دشوار گزار پہاڑوں نے باقی ماندہ توروالیوں کے لیے فصیل کا کام کیا اور وہ آبادکاروں کے براہ راست حملوں سے بچ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ توروالی زبان کسی حد تک موجودہ علاقےمیں زندہ رہ سکی۔

دوسرے پہاڑی سماجوں کی طرح توروالی سماج بھی 1922 ء کو ریاست سوات کے اس علاقے میں آنے سے قبل یاغستانی تھا۔ مقامی طور پر گاؤں کی سطح پر چھوٹے راجواڑے ہوا کرتے تھے جہاں کوئی زمیندار ایک طرح کا حکمران ہوا کرتا تھا۔ یہ سلسلہ توروالیوں کے مسلمان ہونے کے بعد بھی جاری رہا کیوں کہ مقامی سیاسی روایات کو مذہب کی تبدیلی بھی پوری طرح متاثر نہ کرسکی۔

لوگوں کی معیشت کا انحصار کاشتکاری اور گلہ بانی پر تھا اور یہ ناکافی تھا کیوں کہ پہاڑی علاقہ ہونے کہ وجہ سے زمینیں کم تھیں اور سال میں صرف ایک فصل، مکئی اگتی تھی۔ اس لیے غربت زورں پر تھی اور خوراک کی قلّت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ خوراک اور روزگار کی تلاش میں اب تک توروالیوں کے 35 تا 38 فی صد لوگوں نے اپنے آبائی علاقے سے مستقل طور پر ہجرت کی اور پاکستان کے بڑے شہروں جیسے کراچی، کوئٹہ، پشاور، نوشہرہ، حیدرآباد وغیرہ میں جاکر بس گئے۔ صرف یہ نہیں بلکہ پاکستان بننے سے پہلے کئی خاندانوں نے دہلی اور ممبئی کو بھی اپنا مسکن بنالیا۔  گزشتہ تین چار دہائیوں سے روزگار کی تلاش میں کئی نوجوان خلیجی ممالک بھی چلے گئے۔ روزگار کے سلسلے میں یہ مستقل اور عارضی نقل مکانی اب بھی جاری ہے اور سردیوں میں اس علاقے سے کئی مرد روزگار کی تلاش میں شہروں کا رخ کرتے ہیں۔

رسمی تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہمیں بہ مشکل چندافراد ہی ملیں گے جو ستّر کے پیٹے میں ہوں اور خواندہ ہوں۔ اب بھی اس علاقے میں 40 سال کی عمر سے اوپر ایسا کوئی شخص نہیں ملے گا جس نے پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی ہو۔ پورے توروالیوں میں پی ایچ ڈی سکالرز کی تعداد 5 بندوں سے زیادہ نہ ہوگی۔ مقامی طور پر پرائمری سکولوں میں بھی دو دہائی پہلے مقامی اساتذہ کی تعداد بہت کم تھی۔ اس لیے توروالی بچّوں کو غیر توروالی اساتذہ پڑھاتے تھے اور ان کارویّہ اکثر مقامی لوگوں کے بارے میں ہتک آمیز ہوتا تھا۔ جس کا اثر ان بچّوں پر یوں پڑتا کہ وہ اپنی ثقافت اور زبان پر شرم محسوس کرنے لگ جاتے تھے۔ اب بھی ہائی و مڈل سکولوں میں مقامی اساتذہ کی تعداد بہت کم ہے اور اکثریت غیر توروالیوں کی ہے۔

ایک دہائی پہلے تک پشتو توروالیوں کی دوسری زبان ہوتی تھی۔ مذہب کی زبان بھی پشتو ہی تھی۔ توروالیوں میں کثیر تعداد اب بھی نماز کی نیّت پشتو میں باندھتے ہیں۔ مساجد میں تقاریر پشتو میں ہوتی ہیں۔ اسلام کے دیوبندی مکتب فکر نے دو تین دہائی قبل علاقے میں جڑ پکڑنا شروع کیا اور اسمیں تیزی افغانستان میں سویت یونین کے خلاف جہاد سے آگئی۔ اسی کے ساتھ یہاں مذہبی فرقہ واریت نے بھی جنم لیا جو سنی فرقے کے اندر شروع ہوئی۔ قدیم بریلوی قسم کی مذہبی رسومات متروک قرار دی گئیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے مقامی طور پر کئی نوجوان علماء اور مذہبی پیشوا بھی پیدا ہوئے۔ علاقے میں مدرسے قائم کیے گئے۔ تبلیغی جماعت کا پھیلاؤ ہوگیا اور قریہ قریہ تک پہنچ گئی۔

سن 1970ء کے بعد جب ریاست سوات پاکستان میں ضم ہوکر سوات ایک ضلع بن گیا یہاں توروالی علاقے میں ملکی سیاسی جماعتوں نے اپنی بنیاد رکھی۔ مقامی طور پر بااثر افراد ان سیاسی جماعتوں میں شامل ہوگئے۔ یوں پرانا مقامی سیاسی نظام ٹوٹنے لگا اور اس کی جگہ ملکی سیاست نے لی۔ یہی وجہ ہے کہ پورے توروال علاقے میں نسلی یا علاقائی سیاست اپنی جگہ نہ بناسکی۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ان بااثر سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ کئی دیگر سیاسی رہنماء مقامی طور پر میدان میں اتر آئے اور متبادل قیادت فراہم کرنے کے دعوے کیے گئے۔ ان سیاسی سرگرمیوں میں مزید تیزی سوشل میڈیا کے آنے سے بھی آئی۔

1980ء اور 1990ء کی دہائی میں توروالی شاعری و موسیقی عروج پر تھی۔ اس زمانے میں توروالی شاعری اور موسیقی کی سینکڑوں کی تعداد میں آڈیوکیسٹس آئیں۔ 1990ء کی دہائی کے نصف سے آگے موسیقی  کی یہ روایت سست پڑ گئی جس کو مزید دھچکا پہلے وی سی آر اور پھر سی ڈی اور ڈی وی ڈی نے لگایا۔ تاہم مقامی کارکنوں کی محنت اور سوشل میڈیا خصوصاً موبائل فونز کے آنے بعد یہ روایت دوبارہ زندہ ہوگئی۔ البتہ دیسی توروالی رقص جیسے ”ڈھیز“ اور ”نآر“ نایاب ہوگئے اور ان کی جگہ بالی ووڈ یا پشتو رقصوں نے لی۔ پہلے توروالی شعراء میں خواتین کی تعداد تقریباً 70 فی صد ہوتی تھی جبکہ اب یہ تعداد گھٹ چکی ہے اوراب صرف چند عمررسیدہ خواتین توروالی شعرڙو کہتی ہیں۔ مردوں میں نوجوان شعراء کی تعداد بڑھ گئی جنہوں نے اردو یا پشتو صنفوں کی طرز پر بھی شاعری کرنی شروع کی۔

موسیقی کے آلات جیسے ستار، بھیدین (مٹی کا مٹکا)، ڈھول، سُرنا، بانسری ہوا کرتے تھے۔ ڈھول اب تقریباً ختم ہوچکا کیوں کہ ڈی جے اور ڈیک سسٹم آیا ہے۔ ستار کی روایت ختم ہوئی تھی تاہم اب دوبارہ کافی حد تک بحال ہوگئی اور ساتھ رباب نے بھی قدم جمالیے۔ بانسری کم بجائی جاتی ہے جبکہ سُرنا اور ڈھول (ڈُھومام) تقریباً ناپید ہوچکے ہیں۔ ڈھول اور سُرنا بجانے والے نہ رہے۔

علاقے میں 1980ء میں سوئیس حکومت کے تعاون سے ایک طویل المدتی ترقیاتی منصوبہ ”کالام مربوط ترقیاتی منصوبہ“ (Kalam Integrated Development Project) کے نام سے آیا اور یہاں کام شروع کیا جو تقریباً 20 سالوں تک متحرک رہ کر ختم کردیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت علاقےمیں نئی فصلیں متعارف کرائی گئیں اور جنگلات کے فروغ اور پائیدار انصرام کے لیے کام کے ساتھ ساتھ زرعی ٹیکنالوجی کو بھی متعارف کرایا گیا۔ سماجی لحاظ سے یہ منصوبہ گاؤں کی سطحوں پر چند تنظیموں تک محدود رہا۔ اس منصوبےسے متاثر ہوکر اس کے آخری آیام میں چند توروالی اور گاؤری تعلیم یافتہ جوانوں نے ایک سماجی تنظیم اسکائی ایڈ (Swat-Kohistan Youth Association for Integrated Development)  کی بنیاد رکھی۔ یہ مقامی طور پر پہلی سماجی تنظیم تھی تاہم درکار تربیت نہ ہونے کی وجہ سے آگے نہ بڑھ سکی البتہ کچھ عرصے تک سماجی طور پر متحرک ضرور رہی اور اپنے فلسفے کے مطابق علاقے سے بعض بظاہر مہنگے رسوم کے خاتمے میں بھی سرگرم رہی جن میں شادی کے وقت دلہن کو ڈولی (کیٹھیل) میں لے جانے پر پابندی بھی شامل تھی۔ اسی تنظیم کے ساتھ ایک اور ڈھیلی ڈھالی تنظیم کوہستان ثقافتی فروغ کی تنظیم ”کوہستان کلچرل پروموشن سوسائٹی“ بھی کچھ عرصے کے لیے سرگرم رہی۔ 2007ء میں مقامی نوجوانوں نے ایک اور سماجی تنظیم ادارہ برائے تعلیم و ترقی (IBT) کی بنیاد رکھی جو ابھی تک سرگرم عمل ہے اور علاقے میں تعلیم و شعور کے فروغ کے ساتھ ساتھ توروالی زبان و ثقافت کی تدوین و ترویج، فروغ، احیاءاور اس کی تعلیم کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔ اسی کے ساتھ اس ادارے سے وابستہ نوجوان علاقے میں سماجی و علمی طور پر سرگرم عمل بھی ہیں۔

توروالی علاقے میں جرگے کی روایت کمزور پڑ چکی ہے۔ لوگ شخصی طور پر کافی آزاد ہیں۔ کوئی مضبوط جاگیرداری نظام وجود نہیں رکھتا۔ یہاں نسبی و کسبی تعصب اس قدر پختہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ شاید توروالیوں میں ذیلی قبیلوں کی کثرت اور معیشت کے جدید طریقے یعنی تجارت پر انحصار ہے۔ توروال علاقے میں مغرب کی طرف جنگلات اور زمین کی ان ذیلی قبائل میں تقسیم مشرق کی جانب تقسیم سے مختلف ہے۔ مغربی توروال میں زیادہ تر” دوتر“کا رواج ہے تو مشرق کی طرف زیادہ اشتراکی نظام ”دھیمی“ یعنی گھرانے کے حساب سے تقسیم کا نظام رائج ہے۔

توروالی لوگوں کے مختلف قبائل ایک دوسرے میں شادی کرانے کو معیوب نہیں سمجھتے۔ اسی طرح غیرتوروالیوں یعنی گاؤریوں، گوجر برادری اور پشتونوں میں بھی شادیاں کراتے ہیں۔ توروالیوں میں خونی رشتہ داری (kinship) کافی حد تک مضبوط ہے تاہم اس کی شدّت اس قدر نہیں جیسے اباسین کوہستان یا دیر کوہستان میں پائی جاتی ہے۔

گزشتہ دو تین دہائیوں سے توروالیوں کی مجموعی معیشت میں بہتری آئی ہے۔ کئی نوجوان بیرون ملک روزگارکے ذریعے رقم کما کر گھر بھیجتے ہیں۔ اسی طرح جن لوگوں نے پہلے بڑے شہروںمیں مستقل نقل مکانی کی تھی ان میں سے کئی لوگوں نے اچھی دولت کمائی اور واپس آکر آبائی علاقے میں سرمایہ کاری کی۔ اسی سرمایے کے ساتھ نئی روایات بھی ساتھ لائے جن کا اظہار شادی بیاہ کے مواقع پر خوب کیا جاتا ہے۔ اب ایک اچھی خاصی تعداد سرکاری ملازمتیں خصوصاً تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ ہوگئی ہے۔ کافی لوگ اب سیّاحت کے شعبےسے بذریعہ دکانداری اور ہوٹلنگ /میزبانی بھی وابستہ ہوگئےہیں۔ تاہم مضافاتی گاؤں میں اب بھی غربت لوگوں کے ساتھ چڑیل بن کر رہ رہی ہے۔

یہ مختصر سماجی، معاشی اور سیاسی پس منظر دکھانا ضروری تھا تاکہ شادی بیاہ کی رسومات میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان کے محرّکات کو سمجھا جاسکے۔

توروالیوں میں شادی بیاہ

حی زید جھیل ہُوئی نِھگات مھی نیتکیلیدے پَلا

کھیدک خانگے سأتی تُنُو باوا سی دیرا

ترجمہ

دل پر جھاڑیاں اُگیں،نتھنوں سے اُن کی شاخیں نکل آئیں

کب تک اپنے والد کے گھر کی رکھوالی کروں!

توروالی کے اس گیت )ڙو( میں اس آفاقی سچ کو بڑی کرب سے بیان کیا گیا ہے جو کہ ہمارے معاشرے میں ہر کہیں نظر آتا ہے۔ دل پر جھاڑیاں اُگنا اور نتھنوں سے ان کی شاخیں نکلنا اس اذیت کے اظہار کے استعارے ہیں جس کا شکار ان پدرشاہی معاشروں میں بیاہ کیے بغیر رہنے والی خواتین ہوتی ہیں۔ پدرشاہی معاشر وں میں شادی خواتین کے لیےسلامتی کا واحد ذریعہ ہوتی ہے لیکن یہ سلامتی بھی زیادہ تر مرد کی مرضی سے نتھی ہوتی ہے کیونکہ کوئی خاتون اب بھی اپنی مرضی سے اپنی شادی کا اظہار تک نہیں کرسکتی۔

دوسرے معاشروں کی طرح توروالیوں میں بھی جب لڑکا جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو اُس کے ماں باپ اس کا گھر بسانے کی تگ و دو شروع کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ماں،باپ کی نسبت زیادہ بے چین ہوتی ہے۔ موزوں لڑکی کی تلاش شروع کی جاتی ہے۔ لڑکے کی ماں اُس کی بہنوں کے ہمراہ مختلف گھروں میں جانا شروع کر دیتی ہے۔ لڑکی کی صورت، خاندان، باپ کی دولت اور کہیں کہیں تعلیم کی جانچ شروع کی جاتی ہے۔ کبھی کبھار تلاش کے اس عمل میں بیٹے کی مرضی بھی شامل ہوتی ہے جبکہ لڑکی سے اُس کی رضا بہت کم پوچھی جاتی ہے۔ جب کوئی لڑکی پسند آئے تو باقاعدہ رشتے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اس سلسلے کو مقامی طور پر ”یرَک یا جرگہ“ کہا جاتا ہے۔ یرَک عمومًا لڑکے کا والد یا اُس کے ایما پر کوئی رشتہ دار آگے بڑھاتا ہے۔ یہ عمل اکثر مختصر ہوتا ہے لیکن کہیں کہیں اس میں ایک آدھ سال بھی لگ جاتا ہے۔ اس دوران کئی اُمور مثلاً مہر،جہیز بھی طے کیے جاتے ہیں۔ جب بات پکی ہو جائے تو منگنی کرائی جاتی ہے۔

منگنی کو توروالی میں “لھین” کہتے ہے۔ مقررہ تاریخ پر لڑکے والے اپنے رشتہ داروں اور ہمسایوں کو اپنے گھر عموماً صبح کو مدعو کرتے ہیں۔ اپنی استطاعت کے مطابق ان کی خاطر تواضع کی جاتی ہے۔ اس تواضع میں عموماً مٹھائی ہوتی ہے لیکن اب پرتکلف کھانے جیسےتلے ہوئے چکن اور دیگر مہنگی خوراک بھی رواج پا رہی ہے۔ یہاں سے پھر چند لوگ مولوی صاحب کے ہمراہ لڑکی والوں کے گھر جاتے ہیں۔ وہاں ان کے رشتہ دار اور پڑوسی جمع ہوئے ہوتے ہیں۔ شرکاء عام دلچسپی کی باتیں کرنے کے بعد اصل مدعا کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کی ابتدا لڑکے کے گھر سے آئے ہوئے کوئی بزرگ کرتے ہیں۔ مہر کی شرطیں طے کی جاتی ہیں۔ اکثر نکاح بھی کرایا جاتا ہے اور آج کل کئی جگہوں پر نکاح نامہ پر بھی دستخظ کیے جاتے ہیں۔

توروالی لوگوں میں مہر عام ہے۔ یہ عموماً سونے کے زیور، کمرہ اور جائیداد کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ سب چیزیں مالی حیثیت پر انحصار کرتی ہے البتہ زیور کی شرط پر سمجھوتہ کم ہی کیا جاتا ہے۔ زیورکی مقدار دو تین تولے سے ساٹھ ستر تولے تک ہوتی ہے۔ بعض امیر گھرانے لڑکے کے خاندان سے پچاس ساٹھ تولےسے زیادہ کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ بعض لوگ دو تین تولے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ تاہم اکثریت پانچ سے دس تولوں پر راضی ہو جاتی ہے۔ شرائط کے تحریری دستاویزات عموماً نہیں ہوا کرتے مگر اب اس کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔ نکاح نامہ اکثر نہیں لکھا جاتا تھا مگر اب کافی حد تک ایسی دستاویز بنائی جاتی ہے۔ نکاح پڑھوانے کے وقت مولوی صاحب موجود ہوتے ہیں۔ لڑکی سے اُس کی رضا لینے کے لیے اُس کا کوئی محرم اُس کے پاس جاتا ہے۔ اُسے واکدار کہتے ہیں۔ وہ جا کر لڑکی سے واک ) اختیار( لیتا ہے۔ اسی طرح اگر لڑکا بہ نفسِ نفیس موجود نہ ہو تو اُسکا باپ یا کوئی دوسرا قریبی رشتہ دار مختیار بن جاتا ہے۔ تین بار نکاح کے الفاظ مولوی صاحب دہراتے ہیں۔ لڑکے اور لڑکی کے نام بھی لیے جاتے ہیں۔ تین بار فریقین”قبول ہے“کا ورد کرتے ہیں۔ نکاح کے الفاظ میں مہر کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ رشتہ صرف دو افراد کے بیچ نہیں بلکہ دو خاندانوں کے بیچ ہوجاتا ہے۔ اب ان کے بیچ آمدورفت کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ شروعات عموماً دونوں خاندان ایک دوسرے کے لیے پرتکلف دعوتوں سے کرتے ہیں۔

جب لڑکاداماد بن جانے کے بعد پہلی بار اپنے سُسرال جاتا ہے تو اس کے اس دورے کو “کُھوائےبَیُو­­” کہتے ہیں، ) لُغوی لحاظ سے ”پیروں کو جانا“)۔ اس کی نسبت قدیم رسم سے ہے جب عمر میں چھوٹے افراد تکریماً جُھک کر بزرگوں کے پیر چُھو لیتے تھے۔ اس موقعے پر خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ لڑکے کے ہمراہ اس کے قریبی رشتہ دار جاتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ لڑکی کے لیے ملبوسات اور سونے کی انگوٹھی اور کچھ تحائف لے جاتے ہیں۔ لڑکی کو انگوٹھی پہنائی جاتی ہے۔ یہ چیزیں لڑکی اپنے پاس رکھتی ہے اور شادی کے دن ایک الگ سوٹ کیس میں اپنے ساتھ اپنے سسرال لاتی ہے۔ وہاں دعوت ہوتی ہے۔ واپسی پر لڑکی والے لڑکے کو بھی ملبوسات اور کہیں کہیں آنگوٹھی پہنا کر رُخصت کرتے ہیں۔ اس سارے عمل میں منگیتروں کی کوئی براہ راست ملاقات نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ داماد خاص موقعوں جیسے عید کے روز سُسرال ضرور جاتا ہے۔ وہ اپنی سالیوں اور سالوں کو عیدی بھی دیتا ہے۔

منگنی اور شادی کے بیچ کا دورانیہ مہینوں سےسالوں تک کا ہوتا ہے۔ اس دوران جانبین شادی کی تیاری کرتے ہیں۔ شادی کی تاریخ طے کی جاتی ہے۔ یہاں شادیاں عموماً بزرگ مہینوں جیسے شوال، ذالحجہ، ربیع الثانی، جمادالثانی، رجب اور شعبان میں کرائی جاتی ہیں۔ جوں جوں شادی کے دن قریب آتے ہیں تیاریاں زور پکڑتی ہیں۔ لڑکے والے دُلہن کے لیے قیمتی ملبوسات اور جوتے خریدتے ہیں۔ عروسی ملبوسات کئی جوڑوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بعض لوگ دوسرے معاشروں سے متاثر ہوکر لہنگے جیسا لباس بھی ان میں شامل کرتے ہیں۔ یہ ساری چیزیں اور زیور سوٹ کیسز میں ڈال کر شادی سے ایک آدھ دن پیشتر لڑکی کے گھر پہنچائی جاتی ہیں۔ ان کو پھر دُلہن کے ہمراہ دولہا کے گھر بھیجا جاتا ہے۔

شادی کی تاریخ سے ایک دو ہفتے پہلے لڑکے کے احباب اس کا کمرہ سجاتے ہیں۔ اس دوران وہ مل کر خوشی بھی مناتے ہیں۔ گھر کو سجایا جاتا ہے۔ دُولہے کے لیے کمرہ خصوصی طور پر سجایا جاتا ہے۔ اس دوران یہ احباب محفلیں بھی منعقد کرتے ہیں جن میں وہ توروالی موسیقی سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مقامی گلوکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ موسیقی کے آلات میں مٹی کا گھڑا بہت استعمال ہوتا ہے۔ گھڑے کے منہ کو کپڑے یا چمڑے سے کس کر بند کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ ایک قسم کا طبلہ بن جاتا ہے۔ سِتار کا استعمال بھی خوب کیا جاتا ہے۔ اب کئی صاحب ثروت گھرانوں میں پشتو زبان کے پیشہ ور فنکاروں اور رقاصاؤں کو بھی بلایا جاتا ہے۔

اُدھرلڑکی کے ہاں خواتین کی حد تک شادی کی تیاری منگنی کے وقت سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ اسکی رخصتی کے لیے کُرسیوں، میزوں، بیڈز اور تکیوں کے لیے کڑھائی کے غلاف )کُشنز( بنائے جاتے ہیں۔ ان پر خوبصورت نقش و نگار تاراور سوئی کی مدد سے کیے جاتے ہیں۔ پھر شادی سے دو تین ہفتے قبل دُلہن کے لیے دعوتوں کے دورےشروع ہوتے ہیں۔ ان دوروں کو توروالی میں “گَؤ” ) دورے کرانا( کہتے ہیں۔ یہ دعوتیں عموماً رشتہ دار اور احباب کراتے ہیں۔ وہ لڑکی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق فرنیچر یا روزمرہ استعمال کی چیزیں بھی تحفہ کرتے ہیں۔ سہیلیاں لڑکی سے ملتی ہیں اور اس کے لیے تحفے لاتی ہیں۔

شادی کے دن ہی ولیمہ ہوتا ہے۔ ولیمے کے پکوان میں چاول اور گوشت کا استعمال عام ہوتا ہے۔ تاہم اب کئی لوگ ولیمہ کا پر تکلّف کھانا دیتے ہیں۔ پرانے وقتوں میں لوگوں کو کوٹوال )ایلچی) کی وساطت سے بُلایا جاتا تھا۔ پھر دعوتی کارڈز کا رواج آیا اور اب بھی جاری ہے۔ باراتی اپنے ساتھ دُلہن کو لانے کے لیے ڈولی لے جاتے جو سجی ہوئی پالکی کی طرح ہوتی تھی۔ اب ڈولی کا رواج تقریباً ختم ہو چُکا ہے۔ )کیٹھیل/ ڈولی کے رواج کو ایک سماجی تنظیم SKYAID نے جہیز کی لعنت ختم کرنے کے لیے کیا تھا)۔ چونکہ ڈولی اور جہیز لازم و ملزوم ہوتے تھے اس لیے بعض خوشحال گھرانے ڈولی والے بارات کے ساتھ لاکھوں روپے مالیت کا جہیز بھی کر لیتے۔ اس میں دکھاوے کا احتمال زیادہ ہوتا اور نتیجتاً غریب گھرانوں کی لڑکیوں کے لیے کوفت کا سبب بنتا۔ باراتی ڈولی کے علاوہ جہیز کا سامان بھی اپنے ساتھ لے آتے۔ اُن وقتوں میں جین ) بارات( کے ساتھ ڈھول باجے اور شہنائیاں ہوتیں جنہیں پیشہ ور فنکار بجاتے۔ دولہا کے گھر دوست و رشتہ دار بھی شادی کے روز یا دوسرے دن اپنے اپنے گھروں سے جین یعنی تحفےلیکر آتے۔ وہ اپنے ہمراہ بیل، گائے یا دُنبہ بھی رنگوں سے سجا کر تحفے کے طور پر لاتے۔ پرانے زمانے میں ان باراتوں میں لوگ اکثر مختلف رنگوں کے جھنڈے بھی اُٹھائے ہوئے ہوتے تھے۔ ان جھنڈوں کو ”تُوغ“ کہا جاتا۔ جس کسی کی شادی میں باراتیوں کی تعداد، توغوں کی تعداداور ڈھول شہنائیوں کی مستی جتنی زیادہ ہوتی اتنا ہی وہ معتبر ٹھہرتا۔ جیسے کہ اس توروالی گیت سے ظاہر ہے:

؎کمل تُوغا سی بور سواد آناد سی باوا،

مھی نَیُو سی سَمام شِد نہ تُھو آفرا۔

[عنات کے باپ نےکیدام کو تُوغوں )رنگ برنگ جھنڈوں( کا گلدستہ بنالیا، میرے لے جانے کا اہتمام ہے اور رقیب کو خبر ہی نہیں]۔

بارات کو اکثر اُس وقت تک دلہن سمیت ڈولی نہ اُٹھانے دیتے جب تک اُن میں سے کوئی اُس نشانے کو اپنی بندوق کی گولی سے نہیں اُڑاتا جسے ایک خاص فاصلے پر رکھ کر نشانہ بازی کرائی جاتی۔ اب عموماً دُلہن کو رات کے آخری پہر یا شام ڈھلےاُس کےاپنےگھر والے ہی اپنے ساتھ لا کر دوُلہے راجے کے گھر چھوڑ آتے ہیں۔ جب دُلہن گھر پہنچتی ہے تو دہلیز پر کوئی شخص قُرآن مجید کو لیے بڑے احترام سے اُس کا خیر مقدم کرتا ہے۔ یہ عمل نیک شگون کے لیے کیا جاتا ہے۔ جہیز کے سامان کو دولہے کے گھر سے لوگ جاکر شادی کی تاریخ سے ایک روز قبل لے آتے ہیں۔ کہیں کہیں دُلہن کے گھر سے خواتین آکر اس سامان کو خود دُلہن کے کمرے میں سجاتی ہیں۔ پہلے دُلہن کے لیے الگ کمرہ نہیں ہوتا تھا۔ اب سارے لوگ ہرنئی شادی شدہ جوڑے کے لیے الگ کمرے بنواتے ہیں۔

دولہا کے گھر شادی سے کئی دن قبل خوشی کا ماحول بن جاتا ہے۔ رشتہ دار اور پڑوس کی نوجوان لڑکیاں دولہا کے گھر جمع ہو کر ناچ گانے کی محفلیں سجاتی ہیں۔ “جیری کین” کی تال پر رقص ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ توروالی ڙو اور پھلبھی گائے جاتے ہیں۔ اب ان محفلوں میں اُردو موسیقی پر بھی رقص ہونے لگا ہے۔ ان محفلوں کو تفریح کےمواقع پاکر جوان لڑکیاں شوق سے شرکت کرتی ہیں۔

دُلہن کو نئے گھر سے مانوس کرانےکی خاطر اُس کے ساتھ ایک شادی شدہ عورت بھی میکے سے آتی ہے۔ اس عورت کو توروالی میں سأت )ساتھی( کہتے ہیں۔ یہ عورت عام طور پر دُلہن کی خالہ، بہن، پھوپھی یا چچی ہوتی ہے۔ خاتون ساتھی کے علاوہ دُلہن کی رُخصتی کے وقت اس کے قریبی رشتہ داروں میں سے چار پانچ مرد بھی اُس کے ساتھ آتے ہیں۔ لیکن خاتون ساتھی کے برعکس وہ دُلہن کو اس کے کمرے میں بٹھا کر واپس جاتے ہیں جبکہ خاتون سأت تین چار دن تک دولہا کے گھر قیام کرتی ہے۔ اُسے پھر کافی عزت و تکریم کے ساتھ رخصت کیا جاتا ہے۔ اس کو نئے کپڑے اور انگوٹھی تحفے میں دیے جاتے ہیں جبکہ اس کے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے لیے فروٹ اور پراٹھے وغیرہ بھیجے جاتے ہے۔ ان ساری چیزوں کو ایک چھوٹے قافلے کی شکل میں دولہے کے گھر سے عموماً بچے لے جاتے ہیں۔ اس قافلے کے ساتھ دولہا اور وہ ساتھی خاتون بھی ہوتے ہیں۔ اپنے گھر پہنچ کر یہ خاتون اس فروٹ وغیرہ کو پڑوس میں تقسیم کراتی ہے۔ اس تقسیم کو توروالی میں نامَن کہا جاتا ہے۔ یہ تقسیم دولہا کے خاندان کی عزت بڑھانے کے لیے کی جاتی ہے۔

شادی کے چند دن گزرنے کے بعد دُلہن میکے جاتی ہے۔ اس دورے کو توروالی زبان میں سَتَمہ )ساتویں پر ( کہا جاتا ہے۔ اس موقعے پر دُلہن کو اس کے سُسرال والے بڑے طمطراق سے رخصت کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ فروٹ اور دوسری اشیاء خوردونوش بھیجے جاتے ہیں۔ ان چیزوں کو وہ اپنے میکے کے پڑوس میں نامَن کے طور پر تقسیم کراتی ہے۔ بالکل اسی طرح پھر وہ میکے سے رخصت ہو کر آتی ہے۔ شادی کے بعد کئی سالوں تک میکا اپنی بیٹی کو ہر عید پر عیدی بھیجتا ہے، جو کھانے پینے کی اشیا اور کپڑوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

شادی بیاہ سے متعلق کچھ قدیم توروالی رسوم[6] :از جاوید اقبال توروالی

شادی بیاہ کو توروالی زبان میں ”بیوا“کہتے ہیں اور منگنی کو ”لھین“ کہا جاتا ہے۔ شادی کی وجہ سے خاندانوں میں جو رشتہ قائم ہوجاتا ہے اسے”خیخے“ اور سمدھی حضرات ”خیخ“ کہلاتے ہیں۔ عرصہ قدیم میں جب رشتے کی بات ہوتی تو لڑکا لڑکی کے بیچ پسند ناپسند کا تصور نہیں تھا۔ والدین جو ان کے بارے میں طے کرتے وہی ماننا پڑتا۔ اکثر رشتے شیرخواری میں ہی طے ہوجاتے۔

پہلے زمانے میں کوئی کسی کے پاس رشتہ لے کر جاتا تو یہ شرط رکھی جاتی کہ لڑکا اور لڑکی کُشتی لڑیں گے۔ اگر لڑکا لڑکی کو ہرا دیتا تواسےشادی کےقابل سمجھا جاتا بصورت دیگر نا اہل۔ بعد میں اس کی جگہ نئی رسم آئی کہ جس لڑکے کا رشتہ آتا تو لڑکی والےایک سخت گیلی لکڑی جوکہ چیرنے میں انتہائی مشکل ہوتی، میدان میں رکھ دیتے اور لڑکے کو کلہاڑا تھما دیتے۔ اگر لڑکا اس لکڑی کو چیر کاٹ کر ایندھن کے قابل بناتا تو وہ شادی کے لیے اہل سمجھا جاتا، ناکامی کی صورت میں نااہل۔ اسی گیلی لکڑی کو ”جماݜ ٹون“کہا جاتا تھا۔ جب کسی کی لڑکی مانگنے یرک/جرگہ جاتا تو وہ لوگ رشتے کے ہاں نہ ہونے تک زمین پر بیٹھتے تھے۔ اگر لڑکی والوں میں کوئی بہت زیادہ ضد کرتا تو اس کے آگے قران شریف کا واسطہ بھی دیا جاتا۔ مہمانوں کا زمین پہ بیٹھنا لڑکی کا رشتہ مانگنے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

جب رشتہ پکا ہوجاتا تو منگنی ہوجاتی۔ منگنی میں دولہا والے خوشی مناتے۔ روایتی موسیقی کی محافل سجاتے۔ نکاح پڑھوایا جاتا۔ نکاح کی رسم لڑکی کے گھر ہوتی تھی مگر ان تقریبات کا خرچا کو دولہا والوں کو اٹھانا پڑتا۔ مہر منگنی میں طے کیا جاتا تھا۔ منگنی کے تیسرے دن لڑکی کے گھر سے دولہا کے گھر کچھ لوازمات مثلاً پراٹھے، چاول، گوشت فروٹ وغیرہ بھیجے جاتے تھے۔ یہ رسم اب بھی موجود ہے۔ اس کو ”بھینیک“ کہتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہےکہ پرانے زمانے میں یہ بھینیک سادہ طریقے سے ہوتا اور اب اس میں جدّت آئی ہے۔ پہلے چاول اور گوشت بھیجا جاتا اور اب پراٹھے اور فروٹ بھی بھیجے جاتے ہیں۔ جتنے لوگ بھینیک کے ساتھ آتے انہیں فی کس پہلے ایک سکہ دیا جاتا اور اب تو بات ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ منگنی کے بعد شادی کی نیٹہ یعنی تاریخ طے کی جاتی ہے۔ دولہا والے تیاری کرتے اور مقررہ وقت پر شادی ہوجاتی۔ پہلے دلہن کے زیورات، گھریلو برتن، رائج الوقت فرنیچر اور ملبوسات کا بندوبست دولہا کی طرف سے ہوتا تھا حتیٰ کہ لڑکی کے گھر ولیمہ کا خرچہ بھی دولہا ہی اُٹھاتا تھا۔ گویا جہیز کا سامان باپ نہیں لڑکی کا سُسر کرتا تھا۔ بعد میں بادشاہ سوات میانگل عبدالودود نے اس رواج میں مداخلت کرکے کل تخمینہ 60 روپے مختص کردیے کہ دولہا والے نقد ساٹھ روپے دیں گے اور لڑکی کا باپ اس میں سے سارا انتظام خود کرےگا۔ اس فیصلے پر عوام نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا اور اسے ریاست کی طرف سے ان کی ثقافت میں مداخلت سے تعبیر کیا تھا جیسے کہ اس توروالی گیت میں اس کا ذکر ملتا ہے۔

سیرأن مھی تھی، واگدا ہودُو سیدو سی باچا
ڇابیِشے دے آ کھأ کیئی بیگیِل او پدما

ترجمہ: بیٹیاں میری ہیں اور ان کا اختیار بادشاہ سوات کے پاس ہے۔ میں ساٹھ روپے میں شادی کی رسومات بیگیِل اور پدما کیسے پوری کروں۔

شادی کے موقع پر ڈھول باجے کا اہتمام ہوتا تھا۔ خواتین ڈھول کی تھاپ پر مردوں کی موجودگی میں
رقص کر سکتی تھیں۔ دلہن کو کیٹھیل/ڈولی میں بٹھا کر لایا جاتا تھا۔ دلہن کا سازوسامان ڈولی کے ساتھ لایا جاتا تھا۔ بارات جب دلہن لینے جاتی تودلہن کے گھر کئی مراحل سے گزرنا ہوتا۔ پہلے نشانہ بازی کی رسم ادا کی جاتی تھی۔ نشانہ گرائے بغیر دلہن کی ڈولی کو دلہن کے گھر سے اٹھانے نہیں دیا جاتا۔ اس کے بعد دلہن کے رشتہ دار ڈولی کو دروازے پر روک کر پیسے لیتے جو دولہا کے رشتہ دارادا کرتے اس رسم کو ”شآ“ کہا جاتا تھا۔ بعد میں یہ رقم دلہن پر ہی خرچ کی جاتی تھی بلکہ اس سے دگنا۔ دلہن کےلیے الگ کمرے کا رواج نہیں تھا۔ گھر کے ایک کونے کو پھولوں سے سجا کر دلہن کے لیے مختص کردیا جاتا تھا۔

شادی کے تیسرے دن لڑکی کے گھر سے کچھ لوازمات لائے جاتے تھے جن میں پکایا ہوا چاول اور گوشت ہوتا تھا۔ جسے ایک بڑی قاب میں رکھ کر لایا جاتا تھا۔ اس رسم کو”کورھاٹ“ کہا جاتا تھا۔ یہ رسم کہیں کہیں اب بھی منائی جاتی ہے۔ دلہن کےساتھ ایک یا کئی مرد اور ایک عورت آتے ہیں۔ یہ لوگ دلہن کے قریبی رشتہ داروں میں سے ہوتے ہیں۔ مرد کچھ دیر دولہا کے گھر دلہن کے ساتھ گزار کر چلے جاتے ہیں۔ جبکہ خاتون جسے”سأت جوَئی/ساتھی خاتون“ کہا جاتا ہے شادی کے تیسرے یا چوتھےدن اپنے گھر رخصت کی جاتی ہے۔ اس کے لیے اپنی بساط کے مطابق تحفے بھیجے جاتے ہیں جن میں اشیاء خوردونوش، ملبوسات اور کبھی کبھی کوئی جانور بھی ہوتا ہے۔ وہ عورت واپس اپنے گھر جاکر یہ چیزیں خصوصاً کھانے پینے کی چیزیں پڑوس میں بانٹتی ہے۔ اس کو ”نامان یا نامن“ کہا جاتا ہے۔ نامان سے مراد ہر وہ شے ہے جسے دولہا کے شادی خانہ سے لایا جاتا ہے۔ ہاں اگر دلہن کے ماں باپ کے گھر سے بھی کوئی ایسی چیز تقسیم ہو مثلاً ان کی بیٹی شادی کے بعد واپس ان کے گھر آتی ہے تو اس وقت بھیاپنے ساتھ سسرال سے لائی ہوئی چیزیں وہ پڑوس میں تقسیم کرتی ہے ان کو بھی نامان کہا جاتا ہے۔

شادی کے بعد ”پدنور یا پدما“ کی رسم ادا کی جاتی ہے۔ دلہن کو شادی کے کچھ عرصہ بعد میکے بھیجا جاتا ہے۔ جو میکے میں مہینہ یا کم و بیش عرصہ گزار کر آتی ہے۔ پدنور سے پہلے لڑکی میکے میں قدم نہیں رکھ سکتی۔

بارات کو مقامی زبان میں”جین“ اور باراتیوں کو”جینیأ/جینی“ کہا جاتا ہے۔ شادی میں جو مبارکباد کی رقم یا دیگر تحفے دیے جاتے ہیں ان کو بھی جین کہتے ہیں۔ پہلے اس طرح دوستوں، رشتہ داروں یا گاؤں والوں کی طرف سے دُولہے کو جین کی رقم دینے کی رسم عام تھی لیکن گزشتہ تیس سالوں میں اس کو حرام قرار دیا گیا اور اب یہ رسم ناپید ہوچکی ہے۔ دُلہن کے گھر سے اس کے زیورات اور دیگر چیزیں چمڑے کی ایک تھیلی میں ڈال کر اس کے سسرال لایا جاتا تھا۔ اس تھیلی کو ”بیگیِل“ کہا جاتا تھا۔ اب اس کی جگہ سوٹ کیس نے لی ہے

[1] Torwali: An Account of the Dardic Language of the Swat- Kohistan, Sir George A. Grierson, Royal Asiatic Society, London, 1929; page 3.

[2] Forest Denudation in Kalam Forest Division in Swat: A Mitigation plan; Zubair Torwali, Bahrain Swat, 2020, page 2

[3] Torwali: An Account of the Dardic Language of the Swat- Kohistan, Sir George A. Grierson, Royal Asiatic Society, London, 1929

[4]https://www.pbs.gov.pk/sites/default/files//population_census/National.pdf

[5]https://www.ecp.gov.pk/documents/er/ECP_PK_21122020.pdf

 

[6]”توروالی ثقافتی روایات و رسومات“ از جاوید اقبال توروالی صفحہ نمبر 173، مجلّہ ”سربلند“ مدیر زبیرتوروالی، اشاعت 2021ء ادارہ برائے تعلیم و ترقی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...