نئے نقاد کے نام وارث علوی کا چوتھا خط

318

عزیزی و محبی!

بھئی یہ سنیاسی نقاد تو بہت ہی اڑیل واقع ہوا ہے۔ میں نے سوچا تھا ایک دو خطوط کے بعد تمھاری گلو خلاصی ہو جائے گی، لیکن یہ عدوئے نقد جس عزمِ بالجزم سے تمھارے فہم و ادراک کا کِریا کَرم کرنے پر اُدھارُو ہے؛ ایمان کی کہوں تو مجھے اس کی توقع ہرگز نہیں تھی۔

یہ نقادِ رنج انگیز تمھارے لیے ہی باعثِ آزار نہیں ہے میرے لیے بھی عذابِ رگ و جاں بن چکا ہے۔ کل دوپہر کے وقت میں چشمہء سلسبیل کے کنارے تختہء گُل پر بیٹھا، تفریحِ طبع کی سبیل کر رہا تھا۔ ہائے! کیا منظر تھا: سلسبیل میں بہتا خزانہء آب اپنے اطراف میں لگے اشجارِ بہشت کے لیے آئینہ بنا ہوا تھا۔ بہتے جھرنوں کی لَے پر قمریانِ خلد کی چہکار نے سارے میں موسیقی بھر دی تھی۔ میرے یمین و یسار حورانِ خلدِ نعیم تھیں۔ کوئی نرگس چشم، کوئی گوہرِ یمیم، کوئی غنچہ دہن، کوئی سنبلِ مُو، کوئی شعبدہ گر، کوئی عربدہ جُو، کوئی حور لقا، کوئی نغمہ خرام تو کوئی لعلِ آب دار۔ صد حیف! کہ اس عالمِ مستی میں اچانک ایک دستِ نامعقول؛ نامہ ہائے نقادِ غلط نویس کی تین عدد نقول مجھے تھما گیا۔

‘ سہ تیر میرے سینے پہ مارے کہ ہائے ہائے ‘

ایک حورِ گوہر ریز کو تینوں خطوط بالجہر پڑھنے کا حکم دیا۔ وہ پیکرِ معصوم، نامہء نقادِ کج نگاہ پڑھتی جاتی اور تقویتِ قلب و دماغ کے لیے وقفے وقفے سے خمیرہء گاوزبان عبنری جواہر دار بھی چاٹتی جاتی۔ اس دوران دیگر حورانِ عین سینہ کوبی کرتے ہوئے مسلسل کلہم قبحات، کلہم قبحات کا ورد کر رہی تھیں۔ جیسے ہی پہلا خط مکمل ہوا وہ حورِ بے قصور غش کھا کر گِر پڑی۔ دوسرا خط ایک اور پری تمثال کو پڑھنے کے لیے دیا ہی تھا کہ حورانِ ارم ہاتھ باندھے التجائیں کرنے لگیں: أرجوك توقف، أرجوك توقف۔ ناچار ایک ہی خط پر اکتفا کرنا پڑا۔

میاں! یہ دشمنِ بغل تو اب طومار نویسی پر اتر آیا ہے۔ اوپر نیچے، چوتھا، پانچواں اور چھٹا خط: بھئی یہ ہرگز مکتوب نگاری نہیں، باقاعدہ بمباری ہے۔ چوتھا اور پانچواں خط تو دو دو حصوں پر مشتمل ہے یعنی حصہ اول اور حصہ دوم جو مختلف تواریخ میں لکھے اور ارسال کیے گئے ہیں۔ تاہم ان خطوط میں بھی حنوط وہی بیزارکن، کائی لگی اور باسی مدرسانہ پند و نصائح ہے جس سے پہلے ہی تمھاری طبیعت شارٹ اور میری اچاٹ ہے۔ ارے بھائی، یہ داعیء الی القہر تو ہم خرما و ہم ثواب سمجھ کر تمھیں گم راہ کر رہا ہے۔ لگتا ہے کسی روسیاہ نے اس خونی نقاد کو تمھاری سپاری دے رکھی ہے۔ میرے پیارے! زرا بچ کر رہنا۔

تیاگی نقاد کا مکتوب اپنے آغاز ہی میں انشاء کو معتوب کرتا ہے. یہ جملہ ملاحظہ ہو:

” تم نے کئی نقادوں کی تحریروں میں یا ان کی زبانی یہ جملہ پڑھا ہوگا ”

زبان پہ عبور دیکھو نوجوان! “ان کی زبانی جملہ پڑھا ہوگا” کا جواب نہیں. ایسے ہی موقع پر کہتے ہیں: خود غلط انشا غلط املا غلط۔

آگے چل کر یہ نقادِ دام افگن فرماتا ہے:

” آدمی ،دنیا اور اس میں موجود اشیا و مظاہر کے بارے میں رائے قائم کرکے ،دراصل اپنی ازلی تنہائی اور بے بسی کا مداوا کرتا ہے۔”

چند سطور کے بعد موصوف یہ ” سِرِ٘ نہاں” بھی عیاں کرتا ہے:

تم دیکھو گے کہ یکسرغلط ، بے بنیاد مئوقف بھی آدمی کی تنہائی مٹا سکتا ہے(اور اس کی بنیاد پر ایک پوری جماعت وجود میں آسکتی ہے) ۔ اسی لیے لوگ اپنی تنہائی مٹانے کے لیے بے بنیاد باتیں قبول کرنے اور اس سے بڑھ کر،عجیب وغریب کام کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔”

تم نے دیکھا کہ کیسے یہ تباہ کن نقاد، اپنی بےبنیاد اور عجیب و غریب باتوں کی قلعہ کوب منجنیقوں سے تمھارے فہم و ادراک کے راج محل پر مسلسل سنگ باری کر رہا ہے۔ بھئی اشیاء و مظاہر کی بابت رائے قائم کرنے سے انسان کی ازلی تنہائی اور بےبسی کا مداوا کیسے ہوتا ہے؟ ترنت جوابی لفافہ بھیج کر خط باز نقاد سے جواب طلب کرو۔ اقوالِ افرنگ سے مستعار افکار کا اپنے سیاق و سباق کے بغیر ایسا کڈھب اظہار، آلاپ کے بغیر پکا گانا گانے جیسا ہے۔

موصوف مزید فرماتا ہے:

” اسی طرح تم کسی شخص کی آرا سے ،یہ باآسانی جان سکتے ہو کہ وہ کس قسم کی دنیا اپنے اور دوسروں کے لیے پسند کرتا ہے،لیکن تم یہ بھی دیکھو گے کہ کسی رائے کو بار بار دہرانے والے چالاک لوگ ہوتے ہیں،وہ چیزوں کی اصل سے ہماری توجہ ہٹانے کی شعوری یا لاشعوری کوشش کررہے ہوتے ہیں۔”

اپنے خطوط میں تسلسل سے بے صرفہ و بےکار افکار کا اموختہ دہرانے والا اڑیل نقاد، بیانی ہے کہ “کسی رائے کو بار بار دہرانے والے چالاک لوگ ہوتے ہیں۔” میرے پیارے! نقادِ غلط انگیز کو بتاؤ کہ کسی رائے کو بار بار, موقع بے موقع دہرانے والے چالاک ہوں نہ ہوں، خبطی ضرور ہوتے ہیں۔ کیا سمجھے؟

اس مرتبہ بھی نقادِ یک پہلو نے اپنے دوسرے خط کی طرح رائے اور تاثر کی شدید جُگل بندی سے جی بھر کے طبیعت بیزار کی ہے:

” رائے کی جگہ تاثر رکھنے والے لوگ ابتدا میں معصوم ،مگر آخر آخر میں متعصب ہوجاتے ہیں۔تاثر اور رائے، دونوں ہمیں صرف ایک بات کی خبر دیتے ہیں کہ لوگ چیزوں کو کس طور دیکھتے اور بیان کرتے ہیں۔ چیزیں اپنی اصل میں کیا ہیں، اس کا علم تمھیں آرا اور تاثرات سے نہیں ملےگا۔ جو لوگ صرف رائے اور تاثر پر بھروسا کرتے ہیں، وہ بھول ہی جاتے ہیں کہ دنیا میں حقائق بھی وجود رکھتے ہیں۔”

محولہ بالا اقتباس میں نقادِ تضاد العمل، سراسر اپنی خالص زاتی رائے اور تاثر کا اظہار کرتے ہوئے تمھیں بتا رہا ہے کہ حقائق رائے اور تاثر سے ماورا ہوتے ہیں۔ میرے عزیز! یاد رکھنا، سَنت نقاد کے باہم متضاد خیالات وہ کڑوا تمباکو ہیں جسے تم نے ایک بار پی لیا تو بعد میں چاہے زعفران کے پانی سے غرارے کرو، منھ سے بساند نہ جائے گی۔

دھیان رکھنا، ابھی رائے اور تاثر کی جُگل بندی ختم نہیں ہوئی:

” نقاد کے لیے لازم ہے کہ وہ ادب کی حقیقت اور اس سے متعلق آرا اور تاثرات میں فرق کرنا سیکھے۔ تمھیں اپنے ارد گرد اور کتابوں میں آرا اور تاثرات کا انبار ملے گا جو تمھیں صرف یہ بتا سکتا ہے کہ لوگوں نے ادب کو دیکھنے ، جانچنے اور بیان کرنے کے کیا کیا اسالیب اختیار کیے ہیں۔گویا رائے اور تاثر ہمیں ، لوگوں کے ادراک سے متعلق خبر دیتے ہیں، چیزوں کی اصل سے متعلق نہیں۔چیزوں کی اصل تک کوئی کوئی پہنچتا ہے ، مگر یہ وہی شخص ہوتا ہے جو سب سے پہلے چیزوں سے متعلق آرا اور خود چیزوں میں فرق کرنا سیکھتا ہے۔”

ہزار شکر کہ بالآخر نقادِ زود نویس کی مکتوب باری کی اصل وجہ کُھل ہی گئی۔ محولہ بالا اقتباس کی آخری تین سطور میں موصوف نے اصل مدعا بیان کردیا ہے، مکرر پڑھو:

” چیزوں کی اصل تک کوئی کوئی پہنچتا ہے ، مگر یہ وہی شخص ہوتا ہے جو سب سے پہلے چیزوں سے متعلق آرا اور خود چیزوں میں فرق کرنا سیکھتا ہے۔”

گزشتہ خطوط کے سیاق و سباق میں غور کرو گے تو تم پر منکشف ہوگا کہ ان سطور میں نقادِ خود پرست کا روئے سخن اصل میں اپنی ذاتِ اقدس ہی کی طرف ہے۔ بھئی موصوف نے تو اپنا دل جلا کے سرِ عام رکھ دیا ہے اب تم اس ” مشعلِ نور و ہدایت” سے فیض مند نہ ہونا چاہو تو تمھاری مرضی۔

بایں ہمہ، خط باز نقاد سے پوچھو کہ چیزوں کی اصل اور حقائق سے اس کی کیا مراد ہے؟ چیزوں کی اصل جاننے کا مطلق پیمانہ کیا ہے؟ اگر اشیاء کی اصل جاننے کا کوئی مطلق پیمانہ نہیں ہے تو ان کی اصل کیسے مطلق ہو سکتی ہے؟ کیا اشیاء کی اصل کسی شخص کی مدلل رائے سے علاحدہ کوئی وجود رکھتی ہے؟

اے دیدہء حق بیں! میں جانتا ہوں کہ راہب نقاد تمھیں opinion and fact کی بحثِ عتیق میں الجھا رہا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ یہ مدرس نقاد تمھیں مکتبی تنقیدی نظریات کے رٹے رٹائے، فرسودہ اسباق بار بار کیوں یاد کروا رہا ہے۔ یاد رکھنا تنقید ہمیشہ نئے خیالات کی تولید سے پھلتی پھولتی ہے، ضبطِ تولید سے نہیں۔ تقویمِ پارینہ کی مسلسل جگالی تنقید نہیں فقط شعبدہ بازی ہے۔ کاش کوئی نقاد نما اساتذہ کو سمجھائے کہ نقاد کی ذہنی تربیت مغربی تنقیدی افکارِ کہنہ کی نقالی سے نہیں، اعلی ترین ادب کے جز رس مطالعے سے ہوتی ہے۔ بل کہ اعلی ترین ادب کے عمیق مطالعے کے لحم پاروں میں معاصر علوم کے بارہ مسالے بھی ڈالنے پڑتے ہیں ورنہ تنقید کی ہنڈیا پھیکی رہ جاتی ہے۔

کاش! مکتبی نقاد اپنے نکمے خیالات کی بےطلب ترسیل کی بجائے تمھیں عمدہ ادب کی معروضی پہچان کے کلیے سکھاتا اور اعلا ادب کی پرکھ کے نئے تنقیدی معیاروں سے روشناس کراتا لیکن تنقید کے نئے پیمانے متعارف کرانے کی بجائے اپنی زات کو کائنات سمجھنے والا یہ نقادِ بے دھڑک تو شرحِ نقدِ عتیق سے بے سبب تمھیں عذاب الحریق دے رہا ہے۔

موصوف فرماتا ہے:

“تنقید کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ کسی تحریر کے فن پارے کے طور پر قائم ہونے کے اصولوں کا محاکمہ کرے اور ان اصولوں کے بارے میں کسی ابہام کا شکار نہ ہو؛صاف لفظوں میں،تنقید ادب کے سرچشمے تک پہنچے؛ فن پارے کے معانی اوران معانی کی تشکیل کے پیچیدہ عمل کا تجزیہ کرے۔ کوئی فن پارہ، فن پاروں کی بھیڑ میں کیسے اور کتنی جگہ بناتا ہے ، اس پر غیر مبہم رائے دے۔وہ دنیا سے کسی نئی ، مگر فن پارے کے لیے ناگزیر زبان میں بات کرتا ہے یا مانگے تانگے کی زبان میں ، اسے واضح کرے۔”

محولہ بالا اقتباس میں کی گئی تمام تر ہدایات کے جواب میں نقاد کہنہ پرست سے فقط یک لفظی سوال پوچھو کہ: کیسے؟ کیوں کہ موصوف نے تمھیں کوئی ایسا میزان، معروضی ضابطہ یا قاعدہ نہیں دیا جس کی مدد سے تم اس کی ہدایات پر عمل پیرا ہو سکو۔ اس اقتباس میں بھی حضرت کا تنقیدی شعور اور جدلیت نہیں، بے بنیاد زعمِ علمیت بول رہا ہے۔

نقادِ تصدیع رساں! تمھیں بذریعہ خطوط ایسے تنقید سکھا رہا ہے جیسے کسی زمانے میں خط و کتابت کے زریعے موٹر مکینکی اور ریڈیو ریپئرنگ سکھائی جاتی تھی۔ ظاہر ہے ایسی تربیت سے تم ادبی تنقید کا وہی حشر کرو گے جو خط و کتابت سے ” ہنر وری” سیکھنے والے قلمی مکینک، ماموں کی موٹر اور گھر کے اکلوتے ریڈیو کا کیا کرتے تھے۔

‘ احتیاط احتیاط برخوردار ‘

ناصح نقاد کی ہدایات پر زنہار عمل نہ کرنا ورنہ اردو ادب پڑھنے والے تو پہلے ہی، ادیب نما مسخروں کی بیزار کن تحریریں اور ان کی توصیف میں کئے گئے لغو اور پھٹیچر فرمائشی تبصرے پڑھ کر برانگیختہ ہیں۔ دھیان رہے کہ ماموں کی چپل اور ابا کے سلیپروں کے بعد بھی دنیا سے آلاتِ تشدد کا خاتمہ نہیں ہوا اور مار کھانے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔

زود نویس نقاد کا تمھارے نام یہ چوتھا خط ہے لیکن ہنوز اس نے تمھیں تخلیقی ادب کی پرکھ کا کوئی ایسا معروضی اور عصری معیار عطا نہیں کیا جو ہمارے دور اور ادبی مزاج سے جنما ہو اور جس کی مدد سے تم اعلا و ادنی ادب کو ممیز کر سکو۔ مندرجہ بالا اقتباس میں تنقیدی ہدایت نامہ تو جاری کیا گیا ہے لیکن اس “رشد و ہدایت” سے بہرہ ور ہونے کے لیے کوئی فقہی اصول وضع نہیں کیا گیا۔ لہذا ان ہدایات کو پڑھ کر تم کسی ادب پارے کی حقیقت کو سمجھو نہ سمجھو نِربل نقاد کی نارسائی کو ضرور سمجھ جاؤ گے جو تخلیقی ادب کی قدر کے تعین کے لیے کوئی نئی کسوٹی دینے کی بجائے اِدھر اُدھر کی باتیں کرکے اپنے من کا بوجھ ہلکا کر رہا ہے۔

موصوف رقم طراز ہے:

“لوگوں کو اچھی کتابیں ضرور پڑھنی چاہییں اور خراب کتابوں کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھناچاہیے۔خراب کتابیں ، خراب کھانے کی مانند ہیں۔آدمی کو بیمار بنادیتی ہیں۔”

مندرجہ بالا ہدایات میں بدیہی طور پر کوئی قابلِ اعتراض بات نظر نہیں آتی تاہم ایک کمی ضرور ہے۔ میرے خیال میں اگر بری کتابوں کے ساتھ ساتھ برے خطوط کو بھی شامل کر لیا جائے تو عبارت زیادہ بامعنی اور مکمل ہو جائے گی اور اسی بہانے ستم کشتہء مکتوباتِ نقادِ مضرت رساں کی تالیفِ قلب بھی۔

باقی ماندہ خط بھی ویسی ہی پند و نصائح پر مشتمل ہے جس کی بابت تمھیں ایک سے زائد مرتبہ متنبہ کر چکا ہوں کہ برخوردار! حضرتِ نقاد کی ہدایات، راہبانہ مشوروں کی ایسی کتابیں ہیں جن کی بیشتر آیات وقت اور زمانے کے ہاتھوں منسوخ ہو چکی ہیں۔ ان پر عمل پیرا ہو کر دین و دنیا مت برباد کرنا۔

کچھ روز قبل مجھے نقاد رخنہ گر کے کچھ افسانے پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ افسانے پڑھتے ہی مجھے ایک ” مفکرِ عظیم ” کی وہ حکایت یاد آئی جس میں” مفکر ” مذکور ایک چرواہے سے کہتا ہے کہ میں بغیر گِنے محض اپنے کُلیوں کی مدد سے بتا سکتا ہوں کہ تمھاری بھیڑوں کی تعداد کتنی ہے۔ چرواہا یہ سن کر کہتا ہے کہ اگر تم نے بغیر گنتی کے بھیڑوں کی درست تعداد بتا دی تو مَیں ان میں سے ایک تمھیں بہ طور انعام دے دوں گا۔ ” مفکر” آنکھیں بند کرکے اپنے کلیے کی مدد سے حساب کرکے بتاتا ہے کہ ان کی تعداد ایک سو تیئیس ہے۔ یہ سن کر گلہ بان حیران رہ جاتا ہے اور فرطِ عقیدت سے اس “دانش ور” سے کہتا ہے کہ اس ریوڑ میں سے اپنی مرضی کی بھیڑ بہ طور انعام چُن لے۔ جس پر وہ ” یگانہء روزگار” فلسفی نہایت چھان پھٹک کے بعد چرواہے کا کتا، بھیڑ سمجھ کر اٹھا لیتا ہے۔ نظریے اور عمل کا ایسا ہی تفاوت مجھے حضرتِ نقاد کے افسانے پڑھ کر محسوس ہوا۔ سننے میں آیا ہے کہ موصوف نے کسی زمانہ میں ڈاکٹر وزیر آغا کی ہدایت پر انشائیے لکھنے شروع کیے تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ انہی انشائیوں کو افسانوں میں تبدیل کرنے کی بے سود کوشش میں اس کی کہانیوں کا مجموعہ وجود پذیر ہوا۔ موصوف کی خط بازی نے فرصت دی تو اس پر بھی لکھوں گا۔

فی الحال اسی پر گزارہ کرو۔ فرصت ملتے ہی باقی ماندہ خطوط کا جواب بھی ارسال کر دوں گا۔ اس سے پیشتر ڈاکٹر وزیر آغا سے بھی ملنا چاہتا ہوں۔ اسی غرض سے نقادِ زود نویس کے جان کاہ خطوط کی نقول بھی سنھبال رکھی ہیں۔ قبل ازیں، کئی مرتبہ ڈاکٹر صاحب سے ملنے کی کوشش کر چکا ہوں لیکن بار بار ان کے مکان کی بیل دینے پر بھی کوئی دروازہ نہیں کھولتا حالاں کہ میں دروازے کی درز میں سے دیکھ لیتا ہوں کہ فاروقی، حنفی اور آغا صاحب مسرور و شاداں، بزمِ ادب سجائے بیٹھے ہیں۔ لیکن مجھے گھنٹی بجاتا دیکھ کر ان کے ماتھوں پر شکنیں پڑ جاتی ہیں اور چہروں پر ناگواری کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ یہ دیکھ کر میں اور زیادہ بیل دیتا ہوں۔ اس سے مجھے ایک عجیب سی روحانی تسکین ملتی ہے۔ آخری مرتبہ تو میں بیل دے کر اس پر چیونگم بھی چپکا آیا تھا۔ یہ سوچ کر کہ میرے اس عمل سے تینوں حضرات کتنے محظوظ ہوئے ہوں گے میری طبیعت لہرانے لگتی ہے۔ لیکن اب وہ سہولتیں نہیں رہیں۔ آغا صاحب نے اپنے گھر کے باہر دو عدد مسٹنڈے سیکورٹی گارڈ کھڑے کر دئیے ہیں۔ جب بھی ملنے جاؤں، ایک ہی جواب ملتا ہے کہ صاحب سو رہے ہیں حالاں کہ ان کے ہنسنے کی آواز باہر تک سنائی دیتی ہے۔ بہ ہر طور بدگمانی سے بچتا ہوں، شاید انھیں بہ طور انعام نیند میں لطائف سنائے جاتے ہوں۔ ہنوز میں راز ہائے بہشت مکمل طور پر نہیں جان پایا۔

میرے عزیز! اب مجھے اجازت دو، بار بار حوروں کے میسج آرہے ہیں۔ میں نے کل ان سے وعدہ کیا تھا کہ انھیں” مقدمہء شعر و شاعری” سمجھاؤں گا۔ رفتہ رفتہ ہم جلیس حوروں کو سخن شناس کر رہا ہوں۔ جون ایلیا نے بالکل درست کہا تھا کہ ‘ حسن اتنی بڑی دلیل نہیں’۔ باقی باتیں آیندہ مکتوب میں ہوں گی۔ اپنا اور اپنے قلم کا خیال رکھنا۔

خیر اندیش

وارث علوی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...