ایمرجنسی کے دوران رپورٹنگ کرتے وقت صحافی پُلِ صراط پر چل رہا ہوتا ہے

156

صحافی جس ذرائع سے خبر کی تصدیق کرائے گا تو  دونوں گروہوں کی طرف سے  کسی ایک کی حمایت یا ہمدردی کا الزام لگنا عام سی بات ہے، ایسی صورت حال میں صحافی خود  کو کیسے محفوظ رکھ سکتا ہے؟

ایک خبر آتی ہے جہاں یہ دکھایا جا رہا ہوتا ہے کہ کس علاقے میں کہاں حملہ ہوا اور کتنے لوگ اس میں ہلاک ہوئے یہاں خبر کی حقیقت بتانا تو بہت دور کی بات ہے الفاظ کے چناؤ کیلئے بھی ایک صحافی کو بہت محتاط رہنا پڑتا ہے۔

بلوچستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ایمرجنسی کے دوران جہاں علیحدگی   پسندوں کیسرگرمیوں کی تشہیر پر سختی سے پابندی ہے وہاں مسلح تنظیموں کی جانب سے بھی کوریج نہ دینے پر صحافیوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سلسلے میں علاقائی سطح پر  فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی  کو محتاط رہناپڑتا ہیں۔

مسلح تنظیموں کی خبر نہ چلانے پر سنگین نوعیت کے نتائج بھگتنے کی دھمکیاں اور خبر چلانے کی صورت میں یہ ڈر کہ کہیں خود خبر نہ بن جائیں۔

اس سلسلے میں جب ہم نے تربت سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی طارق مسعود سے بات کی تو اُنکا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں صحافیوں کی قلم سے   بیک وقت سب خوش نہیں ہوتے ، چند لوگ خوش ہوتے ہیں مگر بہت ساروں  کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے  ۔ جہاں تک ایمرجنسی کے دوران  رپورٹر ز کو کن مشکلات کا سامنا ہے وہ انتہائی اہم ہیں ، مجھے بطور صحافی کئی بار فون کالز آچکے ہیں    ہمارا  بطور صحافی کسی کی جانب جھکاؤ نہیں ہونا چاہیے میزان تھوڑا  اُوپر نیچے ہو تو اوپر والے ناراض ہوتے ہیں  تو ہمیں صراط المستقیم  پر چلنا ہے۔ جب ہم ایسی صورتحال پر رپورٹنگ کر رہے ہوتے ہیں تو ہم پل صراط پر چل رہے ہوتے ہیں ۔ میں کئی بار طلب کیا جاچکا ہوں اور فون کالز بھی  آتے رہتے ہیں ، دوسری جانب مسلح تنظیمیں  بھی نارضگی میں کسی سے کم نہیں ہیں تھوڑی سے تنقید پر بھی وہ نارضگی کا اظہار کرتے ہیں ، بطور صحافی   بھی کئی بار  مسلح تنظیموں کی جانب سے  بھی  فون آتے تھے کبھی دھمکیاں اور کبھی پیار سے سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔   

علاقے میں  ایک صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہمیں مسلح تنظیموں کی جانب سے اکثر ایسے  مسئلے پیش آتے ہیں کہ انکا خیال ہے کہ انکی خبریں ہم  ہیڈ آفیس  تک نہیں  پہنچاتے ہیں جبکہ   ایسا نہیں ہے ہمارے حدود میں جو بھی واقع پیش آتا ہے ہم شام تک اپنی خبر ہیڈ آفیس تک بھیج دیتے ہیں اب اخبار کی اپنی پالسیاں  ہوتی ہیں بطور رپورٹر ہم انکی پالیسیوں پہ اثر انداز نہیں ہوسکتے ہیں وہ خبر چلائے یا نہیں چلائے،  ہمارا کام خبر بھیج دینا ہوتا ہے وہ ہم  کرتے آرہے ہیں ۔  اسی طرح اگر شاذ ونادر مسلح تنظیموں کی کوئی خبر ہمارے بیورو سے لگ جائے تو تو انتظامیہ کی جانب سے  متعدد بار جواب طلبی ہوتی ہے۔  انٹلی جنس اداروں کی جانب سے   مسلح تنظیمموں کی خبر نہ چلانے کی تنبیہ کی جاتیہے ۔  انکے مطابق انکے ساتھ متعدد بار ایسا ہوا ہے کہ جب  وہ انتہائی سخت گیر موقف رکھنے والے  قوم پرستوں کی سیاسی سرگرمیوں کو کور کرنے کے دوران انہیں   اس لیے وقتی طور پر نظربند کررکھا گیا تھا نیور پوری طور پر بریک نہ ہو۔

 

اس حوالے سے ہم بلوچستان کے معتبر نیوز پیپر (روزنامہ انتخاب  حب ) کے ایڈیٹر ایند پبلشر سینئر صحافی نرگس بلوچ صاحبہ سے بات کی تو اُنکا کہنا ہےکہ  کسی بھی اس علاقے میں جہاں ایمرجنسی ہو یا کنفلیکٹ چل رہا ہوں اس ریجن میں سب سے زیادہ خطرہ ایک سیاستدان سے بھی زیادہ خطرناک صورتحال ایک صحافی کے لیے ہوتی ہے وہ کچھ اس طرح سے ہوتی ہے کہ جہاں مزاحمتی تحریکیں چل رہی ہوتی ہیں وہاں ملک کے ادارے اور قومی سلامتی اداروں کے درمیان ایک مسلسل جنگ چل رہی ہوتی ہے اس جنگ کے دوران چونکہ علاقے کی خبر دینا علاقائی اور ریجنل اخبارات کا کام ہوتا ہے خاص طور پر جو علاقائی رپورٹرز ہوتے ہیں ان کے لئے کئی مشکلات پیدا ہو جاتی ہے مثال کے طور پر کہ ایک خبر آتی ہے جہاں یہ حقائق دکھائے جا رہے ہوتے ہیں کہ کس علاقے میں کہاں حملہ ہوا اور کتنے لوگ اس میں ہلاک ہوئے یہاں خبر کی حقیقت تو بتانا بہت دور کی بات ہے الفاظ کے چناؤ کیلئے بھی ایک صحافی کو بہت محتاط رہنا پڑتا ہے گزشتہ دنوں ہم نے اخبارات میں دیکھا کہ پڑوسی ملک افغانستان میں طالبان سے بھی صحافیوں کو یہ دھمکی دی ہے کہ ان کے متعلق خبر بناتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ نہ ہی عسکریت پسند  یا دہشتگرد جیسے الفاظ استعمال کیے جائے بلکہ ان کا نام صرف اور صرف از افغان طالبان استعمال ہو اسی طرح افغانستان کے حالات پھر بھی ہم کہیں گے  کہ اس طرح سے بہتر ہے کہ وہاں انٹرنیشنل میڈیا کو رسائی حاصل ہے کہ وہ وہاں جاتے ہیں اور کچھ حد تک وہاں کی رپورٹنگ کر سکتے ہیں لیکن یہاں صورتحال اس کے برعکس ہیں ریجنل  اخبار کا جو صحافی ہوتا ہے  وہ ایک سینڈوچ کی صورتحال اس کی ہوتی ہے نہ وہ کھل کر اپنے علاقے کے بارے میں رپورٹنگ کر سکتا ہے کیونکہ اس کے علاقے میں ایمرجنسی چل رہی ہوتی ہے تو اس کے لئے چاہے وہ مالک ہو ایڈیٹر ہو یا پھر وہ ایک فیلڈ میں کام کرنے والا صحافی یا گھر سے کالم لکھنے والا ایک صحافی ہو اس کے لیے انتہائی مشکلات ہیں۔

جہاں مسلح تنظیموں کی مسائل ہوتے ہیں اور پھر حکومتی سلامتی اداروں کی طرف سے دباؤ ہوتا ہے شدید قسم کا دباؤ ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم مسئلہ ہے جس کے لیے بلوچستان کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرسکتاوہ ہے کہ کسی بھی ادارے کو چلانا ہے خاص طور پر جیسے میں ایک ایڈیٹر کے ساتھ ساتھ پبلشر بھی ہوں ہمیں ایک ادارے کو چلانا ہوتا ہے  ہمارے لئے ان حالات میں مالی مشکل بھی ایک بہت  بڑا مسئلہ ہے کیونکہ بلوچستان میں اٹریکشن کسی بھی حوالے سے کاروباری حضرات کی نہیں ہیں خواہ وہ گوادر پورٹ سی پیک کا کوئی بھی دوسرا ادارہ ہو جو وہاں کام کر رہا ہوں وہ بلوچستان سے متعلق خبریں ہو کوئی اس کو اہمیت نہیں دیتا نہ نجی ادارے کوئی اس کو کوئی خاص اہمیت دیتے ہیں ۔ چونکہ کاروبار نہیں ہے تو سرمایہ داری بھی اس حساب سے نہیں ہے تو کوئی اس بات کو اہمیت ہی نہیں دیتا کہ اخبارات کے اشتہارات یا اخبارات کو اپنے پیروں پر کھڑا رکھنا اس کو سسٹین کرنے کے لئے اس کی کوئی کسی طرح سے مدد ہو سکے اور نہ ہی دنیا بھر میں دیکھا گیا ہے کہ جو اخبارات جو ادارہ رسائل سے متعلق ہیں ان کے لیے ضرور کسی نہ کسی طریقے سے ان کو قائم رکھنے کے لیے حکومت کچھ نہ کچھ مدد کرتی ہے جس کو عام زبان پہ دوسرے شعبے سے متعلق ترقی کے لئے یا اس کو قائم رکھنے کے لئے ہم سب سے ٹھیک کہتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بلوچستان کی جب بات ہوتی ہے تو نہ صوبائی حکومت میں وفاقی حکومت اس معاملے میں کسی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے اور پھر اوپر سے وہ حالات کے جس کے لئے آپ کو مسلسل دھمکیوں کا اس وقت پاکستان میں جتنے صحافی اپنے صحافتی امور کو انجام دیتے ہوئے قتل ہوئے ہیں ان میں سب سے بڑی تعداد بلوچستان کے صحافیوں کی ہے اور حالات کچھ اس طرح کے رہے ہیں گزشتہ کئی سالوں سے لے کر اب تک کے ہر صحافی اور ایڈیٹر اپنے کام کو انجام دینے میں مسلسل ایک نفسیاتی اور معاشی دباؤ اور ہیجان کی صورتحال میں ہے۔

بلوچستان میں ایمرجنسی  بلوچستان میں جاری علیحدگی کی پانچویں تحریک 2000 میں شروع کی گئی اور یہ اُس وقت زور پکڑ گئی جب جنرل مشرف نے نواب اکبر خان بگٹی کو  قتل کردیا گیا۔  اب یہ چار گروپس میں ہیں ۔  

اس بارے میں تربت سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافی اسد اللہ بلوچ نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ  ہمیں  ایمرجنسی کے دوران رپورٹنگ کرتے وقت بہت زیادہ احتیاط کافی حد تک متحرک ہونا ضروری ہے، ایمرجنسی کے ماحول میں ایک صحافی کو خبر کی تصدیق کے لیے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، متحارب گروہ یا انتظامیہ یا متعلقہ کسی سرکاری محکمے سے خبر کی تصدیق مشکل سے کی جاتی ہے اور اس میں بھی بڑی حد تک احتیاط برتنا لازمی ہے۔

صحافی جہاں اور جس سورس سے خبر کی تصدیق کرائے گی تو بھی دونوں گروہوں کی طرف سے اس پر کسی ایک کی حمایت یا ہمدردی کا الزام لگنا عام بات ہے اس میں صحافی کی جان بھی خطرے میں آسکتی ہے۔ ایمرجنسی یا جنگی ماحول صحافت کے لیے بے حد مشکلات اور پر خطر دور ہوتا ہے، اس ماحول میں آپ کے سورس بھی خبر دیتے یا تصدیق کرتے وقت خوف کا شکار رہتے ہیں۔ چند سال قبل ہمارے ساتھی سینئر صحافی رزاق گل بلوچ کو  بھی قتل کردیا  گیا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...