نئے نقاد کے نام وارث علوی کا تیسرا خط

290
عزیزی و محبی!
میرے اور  تمھارے درمیان جوگی نقاد رفتہ رفتہ ایک پُل کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سوچتا ہوں، نہ وہ تمھیں مدرسانہ پند و نصائح سے لتھڑے ہوئے خطوط لکھتا نہ مجھے خلدِ نعیم میں تمھاری فکر ستاتی۔ میرے پیارے! تم نہیں جانتے اور ہرگز نہیں جانتے کہ تمھاری صحتِ نقد کی بقاء کے لیے مجھے قمریانِ بہشت کے ساتھ اپنے کئی اہسے مشاغل  بھی قضا کرنے پڑتے ہیں جو اکثر مومنین کی بہشت کے لیے عالم خواہش و ترغیب آباد کرنے کی واحد وجہ ہیں۔ سلسلہء ستم یہیں نہیں رکتا بل کہ عموماً تپسوی نقاد کے خط کی نقل مجھےانہی اوقات میں ملتی ہے جو رقاصانِ پری وش کی حاضری کے لیے مختص ہیں۔ جیسے ہی مصروف کارِ عشرت و طرب ہوتا ہوں؛ یکا یک ایک پنچہء جان کاہ، نقلِ نامہء نقادِ ہاتھ میں دے جاتا ہے کہ یوں۔ شتاب اسے کھول کر باآوازِ بلند پڑھنے لگتا ہوں۔ مندرجاتِ مراسلہ دیکھ کر طبیعت الٹ پلٹ ہو جاتی ہے۔ عروسانِ خلد بھی تمھیں کی گئی نصیحتیں سن کر کلہم قبحات، کلہم قبحات پکارنے لگتی ہیں اور مجھے تمھاری صحتِ نقد کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ جلسہء انبساط کا ایسا اسقاط ۔۔۔ اللہ اللہ : اور ایثارِ علی النفس کسے کہتے ہیں میری جان؟
تبلیغی نقاد کی چِٹھی کی ابتدا ہی افترا اور قتلِ انشاء سے ہوتی ہے:
” تم نےگزشتہ خط کے پس نوشت کے تحت لکھا ہے کہ میں تخلیق کاروں کے تعلق سے اپنے کچھ تجربات میں آپ کو شریک کروں۔ “اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے”۔ تم نے ہلکا سااندازہ لگالیا ہوگا کہ یہ تجربات کیسے رہے ہوں گے۔مثالی اور سبق آموز قسم کے۔”
میاں! تم نے حلفاً کہا تھا کہ آج تک تم نے بیراگی نقاد کو کوئی خط نہیں لکھا اور نہ ہی کبھی کسی قسم کی موعظت و عبرت یا زاتی تجربات کے بیان کی زبانی مانگ کی ہے اور یہ کہ جبری ناصح محترم کے خطوط کی چاند ماری نے تمھارا دماغ پریشان کر رکھا ہے۔ لیکن دیکھو  یہ کیسے برسرِ عام تم پر تہمت باندھ رہا ہے۔ انشاء پردازی سے نابلد یہ نقاد افترا پردازی میں ماہر نظر آتا ہے۔ محولہ بالا اقتباس ہی میں دیکھ لو,موصوف نے تم سے آپ اور آپ سے تم پر ایسے چھلانگیں لگائیں ہیں جیسے شریر بچے،  والدین کی عدم موجودگی کا یقین کر لینے کے بعد اپنے گھر میں اودھم مچاتے ہیں۔ پرچارک نقاد مزید فرماتا ہے:
” میں ان مصنفوں کا ذکر نہیں کررہا جو اپنی کتابوں کو بازار
کی چیز کے طور پر ، بازار میں بھیجتے ہیں اور اکثرخود بھی بازار میں ، چوراہوں پر ، فٹ پاتھوں پر بیٹھ جاتے ہیں ۔”
تم نے دیکھا کہ کیسے اس ستم ایجاد نے ایک ہی جملے میں تین مرتبہ بازار کا لفظ استعمال کرکے نفسِ مضمون ہی باعثِ آزار بنا دیا ہے۔ اور اے نفسِ عافیت کوش! صرف یہی نہیں؛ زرا سنبھل کے، ابھی تو:
                    ‘ مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں’
” وہ جانتے تھے کہ کتاب کو دنیا کے کارزار میں بھیجنے کے بعد، مصنف کو خاموش ہوجانا چاہیے۔جو کچھ کہے ،کتاب کہے۔اگر کوئی مصنف یہ سمجھتا ہے کہ کتاب خود کچھ نہیں کہتی ، انھیں کتاب کی ہستی اور قاری کی صلاحیت ، دونوں پر شک ہوتا ہے ۔”
چار سطور میں چار مرتبہ کتاب کا عذاب شمشیرِ صاعقہ خصال بن کر ادبی جمالیات کی گردن اڑاتا ہے۔ شرحِ متن کا بیان تو بعد کی بات ہے۔ لیکن ٹھہرو! کتاب کا عذاب ابھی ٹلا نہیں:
” ہر مصنف چاہتا ہے کہ اس کی کتاب کی عمر اس کی اپنی عمر سے کئی گنا زیادہ ہو۔یہ تو طے ہے کہ کتاب مکمل ہونے کے بعد ، مصنف اپنی کتاب کوایک معمولی سی قرولی بھی نہیں دے سکتا۔ زیادہ سے زیادہ اسی کتاب کو نئے سرے سے زرہ بکتر پہنا کر جنگ کے محاذ پر بھیج سکتا ہے۔ جو مصنف اپنی کتابوں کو بعد میں ان کے دفاع کے لیے کوئی ہتھیار دینے کی کوشش کرتے ہیں،وہ کتاب کواسی طرح اپنی شکست کا اعتراف کروانے پر مجبور کرتے ہیں ،جس طرح کسی بڑے ملک کی فوج کا کمانڈر سر عام، دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالے اور اپنے ملک کی تاریخ کو سدا کے لیے سرنگوں کردے۔ “
مجھے عصرِ حاضر کے کچھ ادیبوں سے ضعفِ بیان کا شکوہ تھا لیکن اس  نقادِ تجاہل کیش نے تو ہمارے قبیلے کا بھی سر جھکا دیا ہے۔ اس تحریر کے بعد نقاد، ادیب نما مسخروں کی لکھتوں میں تکرارِ زائد و ناقص کا شکوہ کیوں کر کرے گا۔
اب زرا متن کے لچھن بھی دیکھو۔ تپسی نقاد، ایک طرف بیانی ہے کہ کتاب مکمل ہونے کے بعد مصنف اسے ایک معمولی سی قرولی بھی نہیں دے سکتا اور اسی سانس میں فرماتا ہے کہ” زیادہ سے زیادہ اسی کتاب کو نئے سرے سے زرہ بکتر پہنا کر جنگ کے محاز پر بھیج سکتا ہے۔” اور اگلی ہی ساعت میں، مصنف کے بعد از تکمیلِ کتاب اسے کوئی ہتھیار بہ طور دفاع دینے کے ہول ناک عواقب بھی بیان کرتا ہے۔ میاں! یہ زرہ بکتر دفاع کے لیے نہیں تو کیا سڑکیں بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے یا اس سے گلیاں، نالے پکے کیے جاتے ہیں؟ اور یہ بھی دیکھو اس ستم ظریف نے مصنف کو کمانڈر اور قارئین کو دشمن سے مماثل قرار دے کر ارکانِ تمثیل و تشبیہ کو کیسے سرِ بازار رسوا کیا ہے۔ ارے بھائی! جب لطفِ سخن کی بنیاد محاکات پر ٹھہری تو پھر اس کے ارکان اعظم کی ماہیت معلوم کرنا بھی ادیب کا فرض ہے؛ کیا سمجھے؟ باہم متضاد افکار کا یہ انبار صلاح کار نقاد کے فکری انتشار کا شاہ کار ہے۔ اس خط کا مضمون اناڑی حکیم کی بنائی گئی وہ معجون ہے جسے چاٹ کر طبیب کی اپنی حالت غیر ہو جاتی ہے۔ اے جوانِ نوخیز! خدارا پرہیز۔
تم نے دیکھا کہ رِشی نقاد تخلیق کاروں سے اپنے تعلقات و معاملات کی بابت کیا کہتا ہے:
” میں پہلے ان تخلیق کاروں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں ،جن سے میرے مثالی تعلقات رہے ہیں۔ میں نے کسی خوف، ترغیب اور اندیشے کے بغیر ان کی تخلیقات پر لکھا ہے۔ ان پر ہر طرح کے سوالا ت قائم کیے۔ انھوں نے مجھے فراخ دلی سے یہ اجازت دی کہ میں ان کی تحریروں کو ہر ہر زاویے سے کھوجوں اور پھر بھی مجھے اپنے سوالوں کے جواب نہ ملیں تو میں ان کی نارسائی یا کسی کجی کا برملا ذکر کروں۔”
تخلیق کاروں سے تعلقات کے بارے میں نقاد اسی وقت لکھتا ہے جب اس کے پاس لکھنے کے لیے اور کچھ نہیں ہوتا۔ موصوف جن تخلیق کاروں کے بارے میں بے خوف و خطر لکھنے کا مدعی ہے، کاش ان میں سے دو ایک کے نام بھی لکھ دیتا۔ عام شہرت تو صوفی نقاد کی یہی ہے کہ لاطائل فکری موضوعات کے نشانے لیتے ہی اس کی عمر گزر گئی۔ زیادہ سے زیادہ ان مباحث کو مابعد جدیدیت اور نوآبادیات و مابعد نو آبادیات کا تڑکا لگا لیا۔ نقاد کا فرض ہے کہ اپنے عہد کے ادب کا محاکمہ کرے اور دیانت داری سے اس کی قدر کا تعین کرے۔ لیکن مکتبی نقاد وہاں بھی خودساختہ اور مصلحت آمیز ادیی اخلاقیات کا اموختہ دہرانے لگتا ہے۔ ادب کو آزاد، خود مختار، مقصود بالذات، وارفتگیء شوق کا ثمر آور عناصرِ حیات کا رنگ سمجھنے والوں کو ایسی تاکیدی تنقید سے ایسے ہی بچنا چاہیے جیسے وبا کے دنوں میں وائرس سے بچتے ہیں۔
سنیاسی نقاد کا اپنے ساتھ مثالی تعلقات رکھنے والے تخلیق کاروں سے متعلق یہ قول تو بہت ہی عبرت فزا ہے:
” انھوں نے مجھے فراخ دلی سے یہ اجازت دی کہ میں ان کی تحریروں کو ہر ہر زاویے سے کھوجوں اور پھر بھی مجھے اپنے سوالوں کے جواب نہ ملیں تو میں ان کی نارسائی یا کسی کجی کا برملا ذکر کروں۔”
زرا تصور کرو کہ کیسے ہوں گے وہ صاحبانِ جاہ و حشم جن کے دربار خاص تک اس خجستہ اختر نقاد کو رسائی حاصل تھی۔ جہاں کورنش بجا لانے کے بعد، جان کی امان پاتے ہوئے، ہیبتِ شاہی سے لرزتی ٹانگوں کے ساتھ یہ فقیر نقاد اپنا درسی کشکول بڑھا کر  جہاں پناہ سے ان کی تحریروں کو جانچنے کا اجازت نامہ حاصل کرتا ہوگا۔ یعنی، اگر یہ طغرائے شاہی نہ ملتا تو یہ حیدری فقیر٫ بادشاہ سلامت کی تحریروں کو چھونے کی جرآت بھی نہ کرتا۔ مظلوم نقاد کے اس اعتراف نے تو نظریہء نقد و نظر کی بنیادیں کھود کر رکھ دی ہیں۔ تخلیق کاروں سے اجازت لے کر ان کی تحریروں پر تنقیدی نگاہ ڈالنے والے نقاد کاش کبھی اپنے گریبانوں  میں بھی منھ ڈالیں کہ کیا وہ اس سوچ کے ساتھ منصبِ نقد پر بیٹھنے کے حق دار ہیں؟  نقاد وضع داری اور تابع داری میں فرق نہ رکھے تو تماشا بن جاتا ہے۔ اے جوانِ نوخیز! شجرِ نقد کی جڑوں میں اجازتی تنقید کا تیزاب ڈالنے والوں کے ضرر رساں افکار سے کوسوں دور رہنے ہی میں تمھاری عافیت ہے۔
سادھو نقاد کے زاتی تجربات کے بیان میں نہ نظم و ضبط ہے اور نہ ہی توازن۔ بیان میں رچاؤ معدوم اور اسلوب کی پختگی عنقا ہے۔ پورے مکتوب میں نہ کسی خیال میں لپک ہے اور نہ ہی کسی بات میں چمک۔ نہ احساس میں نرالا پن ہے اور نہ ہی اسلوب میں بانکپن۔ تم ادب کی رزم گاہ کی اور جاتے ہو یہ تمھیں اسکول کی طرف کھینچتا ہے۔ اور دیکھو یہ ستم ظریف ادیبوں کے متعلق کیا کہہ رہا ہے:
” میں ان مصنفوں کا ذکر نہیں کررہا جو اپنی کتابوں کو بازار کی چیز کے طور پر ، بازار میں بھیجتے ہیں اور اکثرخود بھی بازار میں ، چوراہوں پر ، فٹ پاتھوں پر بیٹھ جاتے ہیں ۔ انھیں کتاب کے قاری کی نہیں، گاہک کی تلاش ہوتی ہے۔ان کی بلا سے کہ گاہک کیسا ہے، انھیں کسی سے بھی دام اور کسی بھی طرح شہرت چاہیے اور ان کے پبلشر کو محض دام،وہ بھی ڈھیر سارے۔”
دل نہ بھی چاہے، تو میرے حکم پر فوراً اس ہنر سوز نقاد سے رابطہ کرکے محولہ بالا ” اکثر” مصنفین کی فہرست طلب کرو کہ مجھے بھی معلوم ہو کہ ہند و پاک کے کون کون سے علاقے میں تخلیق کاروں کا ایسا قبیلہ آباد ہے جسے قاری نہیں فقط گاہک کی ضرورت ہے۔ میرا زاتی مشاہدہ تو یہی رہا ہے کہ علوم و فنون کے اس دشمن سماج میں، پہلے تو ادیب بے چارہ! اپنی تخلیق کو خونِ جگر سے سینچتا ہے۔ پھر اپنی گِرہ سے پبلشر کو پانچ سو کتب کے ایڈیشن کی مکمل ادائیگی کرنے کے بعد بھی صرف سو دو سو کتابوں پر قانع ہو جاتا ہے۔ پبلشر سے لٹنے کے بعد یہ مجبورِ محض اس سے حاصل کی گئی کاپیاں ادبی دوستوں میں تقسیم کرتا ہے۔ لیکن ابھی اس صعوبت کیش کی مصیبت کہاں ٹلی ہے۔ اگلا مرحلہ دوستوں کو درخواست کرنے کا ہے کہ اے یارِ عزیز! پلیز, کتاب پڑھ کر اپنی رائے سے نوازو کہ کیا وہ نشہ تم نے بھی محسوس کیا جس کی سرمستی دورانِ تخلیق سربسر مجھ پر طاری رہی۔ یہی وہ قیمت اور یہی وہ منافع ہے جو مصنف وصول کرنا چاہتا ہے اور کچھ درویش تو اس کے بھی طلب گار نہیں ہوتے۔ اس انحطاط پذیر سماج کا تخلیق کار تو وہ سرمہء مفت نظر ہے جو محض چشمِ خریدار پر احسان کرنے پر ہی راضی ہو جاتا ہے اور اسے کچھ نہیں چاہیے۔ اس کے لیے سخن ناشناسوں سے کتاب کی قیمت وصول کرنے سے کہیں افضل سخن شناسوں کی تنقید کی کڑوی گولی نگلنا ہے۔ محض تحریر کو چٹ پٹا بنانے کے لیے مصنف کو  بازاروں میں اور فٹ پاتھوں پر گاہکوں کے انتظار میں بیوپاریوں کی طرح بٹھانا پاک و ہند کی اس مظلوم مخلوق کی توہین نہیں تو اور کیا ہے جو اپنی جیب سے کتابیں چھپوا کر اس حریفِ فن سماج میں ادب کو  کسی نہ کسی طرح زندہ رکھے ہوئے ہے اور اسی کے دم سے کاروبارِ نقد و نظر بھی چمک رہا ہے۔ میرے پیارے! نقاد کا کام ادیبوں پر ایسی بے مزہ پھبتیاں کسنا نہیں: ان کی تصنیفات کی قدر متعین کرنا ہوتا ہے اور بس۔ متن کا حق ادا کیے بغیر اپنی تنقید کا لوہا منوانے والے نقاد اصل میں وہ صیاد ہیں جو اپنے مکتبی علم کے پنجرے میں فن کا ہریل توتا قید رکھنا چاہتے ہیں۔ مبلغ نقاد کے ان ایمان لیوا خیالات پر کان دھرنے سے تمھاری تنقیدی بصیرت آباد نہیں برباد ہوگی۔
اے نخلِ امید و آرزو! مکتبی نقاد نے تمھارے مسکنِ نقد و نظر پر یہ تیسرا مخطوط حملہ کیا ہے۔  مکتوب نگار نے ایک مرتبہ پھر بڑی دیدہ دلیری  سے تمھارے “علم”  اور پریشانی میں اضافہ کیا ہے۔
لیکن یہ خط بھی اس کے سابقہ مکتوبات ہی کا تتمہ ہے۔ میں نے اپنے گزشتہ مکتوب میں بھی لکھا تھا کہ راہب نقاد نے اپنے مراسلے میں تمہیں نہ تو تخلیقی ادب کی ماہئیت معلوم کرنے کا کوئی گُر سکھایا ہے، نہ ادب اور تنقید کے نامیاتی عمل کا شعور دینے کی کوشش کی ہے، نہ تخلیقی تجربے کی باز آفرینی سے آگاہ کیا ہے، نہ متن کی شرح و بسط سے سوال اُگانے کی ترکیب بتائی ہے اور نہ ہی تنقیدی اقدار کے تعین کا کوئی کلیہ سکھایا ہے۔ خط کیا ہے، صرف و محض موصوف کے افکارِ پریشاں کا پلندا ہے جسے وہ تمہارے گلے کا پھندا بنانے پر تُلا ہوا ہے۔
صوفی نقاد اپنے خطوط میں تمھیں اس طرح پند و نصائح کرتا ہے جیسے کوئی نیم خواندہ استاد کند ذہن بچوں کو پہاڑے یاد کروا رہا ہو۔ پورے خط میں تنقید کی نئی جہات اور پہنائیوں کا اکتشاف تو کجا روایتی تنقید کے کسی پہلو کا بھی انکشاف نہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے سنیاسی نقاد دھتکارے ہوئے نظریات کی لاشیں اٹھائے تھک چکا ہے اور اب یہ بوجھ جوان کندھوں پر منتقل کرنا چاہتا ہے۔ خبردار! اس دام میں مت آنا۔ ان مردود خیالات کی میتوں کا اصل مقام کندھے نہیں قبریں ہیں۔ قبروں کا مال کندھوں پر لاد کر تماشا نہ بن جانا۔ میرے نورِ نظر! تمھاری منزل یہ گورستان نہیں بل کہ وہ چمنستان ہے جہاں گھن گھور گھٹاؤں سے بصیرت کے کوندے لپکتے ہیں۔ جہاں کی بدلیوں سے برستی علم و دانش کی پھواریں اذہان کو سیراب کرتی ہیں۔ ذہن کو پھپھوندی لگانے والے خیالات کے ان بیوپاریوں سے دور بھاگ جاؤ۔ ان چمن زاروں کی اور جو دم بہ دم، اپنے کان رستوں پر بچھائے تمھارے قدموں کی آہٹیں سننے کو بے چین ہیں۔ جو الہام و وجدان کی امانتیں سنبھالے کب کے تمھارے منتظر ہیں۔
سادھو نقاد کے تلقینی ٹیکوں سے تمھیں قوتِ نقد و انتقاد مِلے نہ ملے قوتِ ایجاد سے ترنت محرومی ضرور ملےگی۔ اس خط میں بھی عناصر و اصول کی وہی بےشعوری ہے جو اس کے گزشتہ مکتوبات کا عرق تھی۔ اصولاً تو اس عمر میں ایسی بے صرفہ تحریروں پر مکتوب نگار کا رواں رواں عرقِ انفعال میں تر ہونا چاہئے۔ سمجھ نہیں آتی کہ ایسی بےمغز باتوں اور بے رس نصیحتوں سے یہ بیراگی نقاد تمھاری تنقیدی صلاحیت و استعداد کی کون سی نشوونما کررہا ہے۔  قدیم نظریات کے کاٹھ کباڑ میں سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر نکالے گئےازکار رفتہ نصیحتوں کے دیمک لگے دفترِ بےمعنی کھنگالنے سے فقط تمھارے دماغ پر جالے لگیں گے۔ میرے عزیز! زرا بچ کر ۔۔ یہ سَنت نقاد تمھیں رہنمائی کا جھانسہ دے کر اپنے بوڑھے خیالات کی ناتوانیوں کا ساجھی دار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
کچے طالب علمانہ خیالات کو پکے ڈاکٹرانہ مقالات کا رنگ دیتے کی ناکام کوشش کے دوران مدرس نقاد نے بڑی دقتِ نظر سے اس بات کا دھیان رکھا  ہے کہ کہیں سہواٌ بھی اس کی کسی بات میں تدبرانہ گہرائی نہ پیدا ہونے پائے۔ میرے پیارے! یہ مکتبی نقاد تمھیں لکھے گئے خطوط کی صورت میں اپنے نکمے اور احماقانہ خیالات کو مدون کر رہا ہے۔ اس کی تنقیدی پسماندگی کی وجہ علم و فکر کی کوتاہی نہیں؛ اپنے ہی صادر کردہ فیصلوں کو آخری سچ سمجھتے کی گم راہی ہے۔
مجھے ترنت بتاؤ کہ بار بار تمھیں نئے نقاد کے نام خط کے ذریعے مخاطب کرنے والے ناصح نقاد کی اپنی طبعی اور ادبی عمر مبلغ کتنے سال ہے؟ میری معلومات کے مطابق تو موصوف ابھی خود بھی میدانِ تنقید کے نابالغان میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بھائی کی اچکن پہنے، چچا کی نظر کی عینک لگائےاور پھوپھا کی چھڑی ہاتھ میں لیے تم سے یوں مخاطب ہوتا ہے جیسے تمھارے بڑے تایا کے ساتھ ناظرہ پڑھتا رہا ہو۔
میرے عزیز! سارا خط تو اس “نقادِ اعظم” کی کوتاہ اندیشوں کو نشان زد کرنے میں صَرف ہو گیا۔ اب کچھ بپتا میری بھی سنو؛ شمسں الرحمن فاروقی کے آتے ہی عالمِ ہستی سے گلستانِ ارم میں آنے والوں کا تانتا بندھ گیا ہے۔ پہلے مشرف عالم ذوقی پھر شمیم حنفی اور اب ابوالکلام قاسمی جنت مکان ہوئے ہیں۔ فاروقی کی طرح شمیم حنفی بھی اپنے دنیاوی مزاج اور اہداف کے ساتھ بہشتِ موعود میں آئے ہیں اور  آتے ہی فاروقی کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔ شمیم حنفی اپنی کتاب ” جدیدیت کی فلسفیانہ اساس” پر میرے مجموعہء مضامین ” خندہ ہائے بے جا ” میں لکھے گئے مضمون پر ابھی تک مجھ سے نالاں ہیں اور فاروقی کے ساتھ میرا دنیاوی تعلق بھی تم سے پوشیدہ نہیں۔ میرے سلام کرنے پر دونوں منھ ایسے دوسری طرف پھیر لیتے ہیں جیسے نماز پڑھتے ہوئے سلام پھیر رہے ہوں۔ لیکن میں بھی باز آنے والا کہاں ہوں۔ بار بار سلام کر کے ان کی گردنوں کی ورزش کرواتا رہتا ہوں۔ سچ کہوں تو، ایسا کرنے سے میری طبیعت چَیتنے لگتی ہے۔ فاروقی حنفی اتحاد نے خلد میں بھی میری ادبی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ عالمِ آب و گِل میں ادبی حوالے سے تنہا رہنے کی مشق، فردوس میں بھی میرے کام آرہی ہے ورنہ اس اکیلے پن سے گھبرا کر کب کا حق گوئی تیاگ کر مذکوران کی ہم جلیسی کا شرف حاصل کر لیتا۔  مظفر علی سید، فضیل جعفری اور باقر مہدی سے ملاقات رہتی ہے۔ لیکن یہ احباب بھی میری طرح عزلت نشین ہوتے جا رہے ہیں:
         ‘  ترے  آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا ‘
عزیزی! مکتوب خاصا طویل ہو چکا اور میں بھی اب لکھتے لکھتے تھک گیا ہوں۔ کچھ سکہ بند مشاغلِ خلد کی تکمیل بھی کرنی ہے جنہیں بہ وجہء نامہء نقاد درمیان ہی میں چھوڑ آیا تھا۔  باقی باتیں پھر سہی۔ اپنا اور اپنے قلم کا خیال رکھنا۔
                                                        خیر اندیش
                                                         وارث علوی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...