بلوچستان، علاقائی سطح پرخواتین کا صحافت میں نہ آنے کی وجہ سماجی رویے ہیں ۔

207

زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح شعبہ صحافت بھی ایک اہم شعبہ ہے جدید دور میں صحافت ریاست کی ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ وہ الگ بحث ہے کہ اس شعبےکے لوگوں نے خود اسکو اہمیت نہیں دی ہر وقت بجائے سماج کے اصل مسائل کو اجاگر کرنے کے حاکم وقت کے ترجمان بنے بیٹھے ہیں۔ مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس وقت ملک بھر میں میڈیا ورکرزکی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہے وہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر خبر کی تلاش کےلیےنکلتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا علاقہ تربت ایک شورش زدہ علاقہ ہے جہاں صحافی بے سرو سامانی کے عالم میں اپنی جان کا رسک لے کر اس میدان میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
مرد و خواتین سماجی تعمیر میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔ تربت کیچ میں باقی شعبوں کی طرح شعبہ صحافت میں خواتین بہت کم آتی ہیں یا بالکل نہیں آتی ہیں ۔ حالانکہ سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ہم خواتین کو دیکھ رہے ہیں وہ کونسی وجوہات ہیں کہ خواتین مین اسٹریم فیلڈ میں نہیں آنا چاہتی ہیں ؟اس وقت بلوچستان کے دو بڑی جامعات میں شعبہ ابلاغیات کا شعبہ موجود ہے جامعہ بلوچستان اور سردار بہادر خان وومین یونیورسٹی میں، مگر پھر اس شعبے میں خواتین کی شراکت تسلی بخش نظر نہیں آرہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ معاشرے میں ہرطرح کے مسائل روزانہ کی بنیاد پر پیش آتے ہیں اور بہت سارے مسائل خواتین کے ساتھ بھی پیش آتے ہیں مگر وہ میڈیا پہ اس لیے نہیں آتے کہ ان کو رپورٹ کرنے والے خواتین نہیں ۔ وہ خواتین کے ساتھ زیادہ بہتر محسوس کرتی ہیں ۔
چونکہ تربت یونیورسٹی میں ابھی تک شعبہ ابلاغیات نہیں جتنے بھی ڈگری ہولڈرز خواتین ہیں وہ جامعہ بلوچستان سے ہیں اس وقت کیچ میں آٹھ سے دس خواتین ہیں جو ڈگری ہولڈرز ہیں ۔ اس وقت سوشل میڈیا و دیگر ملکی اور بین الاقوامی نیوزپیپرز و جرائد پہ تربت کے ایک پسماندہ گاؤں ” کلاتک” سے تعلق رکھنے والی فیمیل لکھاری جو کہ ذہنی امراض ، صحت اور بُک ریویو کےحوالےسے روزنامہ ڈان میں لکھتی ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ مجھےیہ پیشہ بہت پسند ہے۔ مگر چونکہ میں ابھی شعبہ طب ، ایم بی بی ایس کر رہی ہو اکیڈمک مصروفیات کی بنا پر جرنلزم کو جاری نہیں رکھ سکتی۔اسی طرح ( دی نیوز ٹوڈے ،پی کے) میڈیا ہاؤس پہ ماہکان مقبول رند بھی ، فیمنزم ، نسل پرستی و دیگر سماجی موضوعات پہ لکھتی ہیں ۔
شعبہ صحافت میں دلچسپی رکھنے والی خواتین کی تعداد اس لیے کم ہے کہ اس شعبے میں علاقائی سطح پہ کام کرنے کے مواقع نہیں ہیں، اس سلسلے میں ہم علاقائی سینئر صحافی طارق مسعود بلوچ سے بات کی اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت تین خواتین لکھاریوں نے فیلڈ میں کام کرنے کے لیے ہم اسے رابطہ کیا مگر اُن کی شعبہ صحافت میں نہ آنے کی وجہ چند سماجی رویے ہیں اور دوسری اہم بات جو اُن سے متعلق ہیں وہ یہ کہ وہ جس میڈیا ہاؤس سے وابستہ ہوتی ہیں متعلقہ ادارہ یہاں ہمارے مرد و خواتین صحافیوں معاوضہ نہیں دیتے، ہم مرد تو اپنی گزر بسر کرسکتے ہیں مگر خواتین چونکہ کل وقتی صحافی بننا چاہتی ہیں ان کے لیے بہت ساری مشکلات میں سے اہم ان کی گھر سے فیلڈ میں بیورو آفس میں آنے کے لیے پک اینڈ ڈارپ کا مسئلہ ہے ، میڈیا مالکان کی اس رویے سے ہمارے ہاں خواتین کا فیلڈ میں نہ آنے کی ایک اہم اور بنیادی وجہ ہے۔ مسعود نے مزیدکہا کہ اس وقت تربت سے تعلق رکھنے والی والی خوتین نازش بلوچ، شمع بلوچ اور نائلہ بلوچ نے ہم سے رابطہ کیا کہ ہم فیلڈ میں آنا چاہتی ہیں مگر یہاں پھر مسئلہ وہی ہے کہ وہ اس شعبے میں آکر ان کے معاوضوں کا مسئلہ ہے جو کہ یہاں صحافیوں کو تنخواہ نہیں ملتی یہی چند وجوہات ہیں کہ خواتین کا صحافت میں نہ آنے کی۔ زیادہ تر طالبات کو عملی صحافت کے میدان میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ دوئم یہ کہ اوقات اور کافی نقل و حرکت کا مسئلہ انہیں صحافت میں آنے سے روکتی ہے پھر کام کی جگہ کے مسائل موجود ہیں اس طرح کے کچھ مسائل ہیں کہ وہ فیلڈ میں کم آجاتی ہیں ۔ اس بارے میں عورت کا ہمیشہ یہی جائز تحفظات سامنے آجاتے ہیں کہ دوران فیلڈ یا ڈسک میں کام کرانے کے دوران ان کے سُپروائز ایڈیٹرز مرد ہوتے ہیں ان کے ساتھ کام کرنا ، ایک قبائل سماج کے اندر مشکل ہے۔
تربت میں باہر سے متعدد خواتین اسٹوری کرنے کے لیے آتی تھیں مگر اب بلوچستان کے حالات کے پیش نظر کوئ نہیں آتا ، اس سے قبل ، بی بی سی ، سابق ہرالڈ سے وابستہ فیچر رائٹر سحر بلوچ اپنی اسٹوریز کے لیے تربت مختلف دور دراز علاقوں کا وزٹ کرچکی ہیں ، اب اگر کوئی بھی خاتون صحافی آنا چاہتی ہیں اس کے لیے بالکل حالات سازگار نہیںں ۔
اس بارے میں تربت سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی روزنامہ آزادی اور تربت پریس کلب سے وابستہ اسد اللہ بلوچ کہتے ہیں کہ علاقائی صحافت میں یہ اپنی نوعیت کا ایک اہم مسئلہ ہے ۔ تربت میں ہم نے ایک دو مرتبہ اس شعبے میں خواتین کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کی مگر خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی اسکی ۔ تربت پریس کلب میں کوئی خواتین جرنلسٹ وابستہ نہیں ہے ۔بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہیں، یہاں کی سماجی و قبائلی نظام سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔ خصوصا ورکنگ فیمیل جرنلسٹ کے لیے کیونکہ اسے فیلڈ میں کام کے دوران ایک وقت میں کئی ایونٹس کو کوریج دینے کے لیے مختلف مقامات پر جانا پڑتا ہے، اس سماج کا ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ اتنا روشن خیال سماج نہیں کہ وہ وہ خواتین کے متعلق اتنا کچھ سہہ سکے۔ اس پہ طرح طرح کے الزامات لگنے کے امکانات اپنی جگہ خاندان کی طرف سے بھی بڑی رکاوٹیں حائل ہوسکتی ہیں۔
اس متعلق اسد بلوچ مزید کہتے ہیں کہ دوسری اہم وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ مرد کی طرح کوئی بھی عورت سواری کے بغیر فیلڈ میں نہیں جاسکتی ، جبکہ مرد کسی بھی وقت کسی سے لفٹ لے کر کسی بھی پروگرام کو کور کرسکتا ہے اس کے برعکس عورت یہ سب کچھ نہیں کرسکتی۔ اس بارے میں سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ میڈیا مالکان اپنے صحافتی کارکناں کو ضروریات کے مطابق نہ اچھی تنخواہ دےسکتی ہے اور نہ ہی الاؤنس اس کے باوجود مرد ورکنگ جرنلسٹ اپنی جان کو ہتھیلی پہ رکھ کر خبر کی تلاش کے لیے نکلتا ہے۔ بغیر سہولیات اور سیکوریٹی کے عورت فیلڈ میں کام کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
اسی سلسلے میں میں نے تربت سے تعلق رکھنے والی انگریز ی اخبارات میں بطور فری لانس لکھاری ماہکان رند اور ( نیا دور)ڈیجیٹل میڈیا گروپ سے وابستہ نعمیہ زہری بلوچ ، ماہان اسلم کہتے ہیں کہ دیکھیں! جہاں تک یہاں بات صحافت کی ہے تو بہت ساری وجوہات ہیں مردوں کی اجارادی ہے ہمارے معاشرے میں ظلم اور دباؤ ہے اور شعبہ صحافت میں خواتین کے لیے کوئی مواقع نہیں ہے ، معاشرتی دباو سے ہٹ کر یہاں لاتعداد رکاوٹیں موجود ہیں جو ایک خواتین کو سامنا کرنا پڑتی ہے کہ وہ صحافت کی طرف مائل نہیں ہوسکتی ہے ، ا انہوں نے مزید کہا کہ خاندان کی جانب سے حوصلہ افزائی نہ ہونا بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ۔

موجودہ صدی میں جہاں ٹیکنالوجی نے ترقی پائی ہے تو وہاں جدیدیت کو ہر شعبے نے اپنی کامیابی کے لئے اول شرائط میں شمار کیا ہے
جدیدیت اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے قبل خبریں، تجزیہ، شمارے، تحریری، اور کالمز وغیرہ سچ اور حقائق پر مبنی تھے جیسے جیسے ترقی ملتی گئی زرائع ابلاغ کے مالکان میں جیت اور سنسنی کا مقابلہ بڑھ کر میڈیا انڈسٹری تک اپنی جڑیں بنالی جس کی وجہ سے خبریں اخبارات و جریدوں سے نکل کر اسکرین تک پہنچ گئی اور اسکرین کی ترقی ناظرین کی دل چسپیوں سے تعلق رکھتا تھا پھر میڈیا انڈسٹری نے نت نئے پروگراموں کا آغاز کیا جہاں خواتین کو بطور مہرہ اشتہارات کی تشہیر اور خبروں کی تفصیلات تک استعمال کیا گیا جہاں سے شعبہ صحافت میں تہذیبی اقدار کا خیال نہیں رکھا گیا
جس کی وجہ سے ہر کوئی اپنی خواتین کو شعبہ صحافت سے دور رکھنا چاہتا ہے بلخصوص قبائلی سوچ میں اس کی گنجائش بہت کم ہے۔
بلوچستان میں خواتین کے لیے صحافت کی دنیا میں آگے بڑھنا اس قدر مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ آن لائن اور آف لائن، دونوں صورتوں میں انہیں صنفی تفریق کا سامنا پڑتا ہے۔ انہیں ان کے کام کی بجائے لباس اور چال ڈھال کے حوالوں سے پرکھا جاتا ہے۔۔میرے سوچ کے مطابق صحافت میں خواتین کو بعض اوقات ہمارا معاشرہ نہیں چھوڑتا بعض اوقات قبائلی نظام، والد، چچا اور خاندان کا سخت ہونا اور اس کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان کو مردوں کے بجائے خواتین کیساتھ کام کرنے میں آسانی ہو بلوچستان میں کسی نیوز چینل کا بیوروچیف یا کسی اخبار کا ایڈیٹر خاتون ہو تو شاید وہ اپنی خدمات سرانجام دے سکیں۔
بلوچستان کی بات سامنے آتی ہے تو میں پہلے تعلیمی اداروں کو دیکھتا ہوں۔ بلوچستان میں ایک ہی جنرل یونیورسٹی ، جامعہ بلوچستان ہے جس میں صحافت کا شعبہ برائے نام ہے ، خاص کر خواتین کے لئے SBK ہے جس میں صحافت کا شعبہ محض تدریسی فرائض کو سر انجام دینے کے لئے اور طالبہ سے بھاری فیسیں وصول کرنے کے لیے ہے، گوکہ ان جامعات میں قابلِ اساتذہ ہیں لیکن ان کوکیا سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، قابلِ غوربات یہ ہےکہ تعلیمی اداروں کو زیر بحث لانے کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ ان جامعات میں شعبہ صحافت کے لئے کیا کیا سہولیات موجود ہیں کیا ان کو ریڈیو، ٹی وی چینل سمیت دیگر ذرائع ابلاغ کے لئے کوئی پریکٹیکل سہولت موجود ہے اگر موجود ہے تو معیاری ہے اور طالبہ کے زیر استعمال ہے؟
دوسری بات اس سوال کو قبائلی / پدر شاہانہ طرز سے دیکھنا ضروری ہے۔جیساکہ آپ جانتی ہے کہ یہ معاشرہ صدیوں سے پدر شاہانہ گرفت میں جکڑا ہوا ہے جہاں ہر جگہ مرد کی اجارہ داری قائم ہے خواہ وہ صحافت کا شعبہ ہو، سیاست ہو یا کہ زندگی کے دیگر شعبہ جات خواتین کو محض گھر میں چار دیواری میں قید و بند دیکھنا چاہتے ہیں کوئی یہ نہیں سوچتا کہ خواتین کو بھی آگے لانے کے لیے تعلیم دیا جائے تاکہ خواتین بھی مردوں کے مقابلے میں شعبہ صحافت سمیت دیگر شعبہ جات میں برابر شریک ہوکر معاشرے کی بھلائی کے لئے کوشاں رہیں۔
صحافت کے پیشے میں میڈیا انڈسٹری بھی برابر کا قصوروار ہے جس میں چند لوگوں کی اجارہ داری قائم ہیں وہ جس کو چاہے فیلڈ سے متعلق اٹیچمنٹ پہ رکھ لیں اور جس کو چاہے نکال دیں یا پھر اس شعبے میں آنے کا موقع ہی نہ دیں اس کے پیچھے بھی کئی وجوہات ہیں جیساکہ، مذہب، فرقہ، قوم، قبیلہ، زبان اور ثقافت وغیرہ۔
لیکن یہ بھی انتہائی قابلِ غور بات ہے کہ بلوچستان میں سیکورٹی کا بڑا ایشو ہے جس سے خواتین خود کو محفوظ تصور نہیں کرتیں ، صحافت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ان وجوہات کی بناء پر پروفیشنل ازم سے دور ہو جاتی ہے تاکہ ان کو یا ان کے گھر والوں کو کسی بھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑےصحافت کی ڈگری حاصل کرنا آسان ہے لیکن پریکٹیکل ہونا مشکل ہو جاتا ہے جس میں تعلیمی اداروں کی نااہلی سرفرست ہے۔ دوران ڈگری یا ڈگری کے بعد ایسا کوئی ورکشاپ، سیمینار وغیرہ دیکھنے کو نہیں ملتے جس سے خواتین اس شعبے میں مہارت رکھنے سے قاصر ہیں یہ ذمہ داری ریاست کی کہ عام عوام کو سہولیات فراہم کریں تاکہ خواتین فیلڈ سے متعلق آسانی سے چیزوں کو سمجھ کر پروفیشنل بن جائیں ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...