کیا کورونا بحالی کے منصوبے فطرت کی انسانی تباہی کو روک سکتے ہیں؟

393

اس زمیں پر انسانی کامیابیوں کا فائدہ تو انسانوں کو ہوا ہی مگر خسارہ باقی سارے نباتات، حیوانات، چرند پرند زمینی اور آبی مخلوق کے حصہ میں آیا۔ وہ دن جب انسان نے اپنے آپ کو اس زمین کا اکلوتا مالک سمجھ کر اس پر موجود ہر چیز کو اپنے فائدہ کے لیے استعمال کرنا شروع کیا تو باقی ساری مخلوق پر زمین تنگ ہوگئی۔ آج کئی جانوروں اور نباتات کی اقسام صرف اس لیے تیزی سے ناپید ہو رہی ہیں کہ انسانوں نے ان پر زمین تنگ کر دی ہے۔

کیا زمین صرف انسانوں کے لیے ہے؟ تحقیق کے مطابق، دنیا کے 7.6 بلین انسان زمین پر موجود تمام جانداروں کا صرف 0.01٪ بنتے ہیں۔ پھر بھی انسانی تہذیب کے طلوع ہونے کے بعد سے، انسانیت کل جنگلی ممالیہ کا 83٪ اور نصف پودوں کی اقسام کا مکمل خاتمہ کا سبب بنی ہے۔ زمین پر انسان کا بہت ہی چھوٹا سا حصہ ہونے کے باوجود بھی حیرت انگیز طور پر ہمارے غیر متناسب اثرات کا پتہ چلتا ہے. اس رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ انسان قدرتی وسائل کے استحصال میں انتہائی کارآمد ہے۔

ماحولیاتی تحقیقاتی ادارے گلوبل فوٹ پرنٹ نیٹ ورک کے مطابق 2021 کا ارتھ اوورشوٹ ڈے 29 جولائی کو آرہا ہے۔ کرونا وبا میں جب دنیا لاک ڈاؤن میں تھی تو سال 2020 کا ارتھ اوورشوٹ ڈے 22 اگست کو ہوا تھا. یہ سال کا وہ دن ہے جب انسانیت “تمام حیاتیاتی وسائل کو استعمال کر لے گی جن کو زمین پورے سال کے دوران تجدید کرسکتی ہے”۔ ارتھ اوورشوٹ ڈے سے لے کر سال کے آخر تک، انسانیت ماحولیاتی خسارے میں اضافہ کرتی ہے۔ انسانیت اس وقت 60٪ سے زیادہ زمینی وسائل استعمال کرتی ہے جس کی تجدید کی جاسکتی ہے، اس کے لیے ہمیں 1.6 زمین چاہیےہوںگی۔

سن 1970 کی دہائی کے  کے بعد سے ماحولیاتی اوورشوٹ مستقل طور پر بڑھتی جارہی ہے۔ سال 2020 میں پہلا موقع تھا جب کرونا وائرس کی وجہ سے یہ تاریخ پچھلے سال کے مقابلے میں تین ہفتہ بعد آئی ہے۔ انسانی سرگرمیوں میں کمی کی وجہ سے ماحولیاتی اثر میں 9.3٪ کمی ہوئے تھی. اس سال ارتھ اوورشوٹ ڈے پھر سے 2019 والی تاریخ پر آیا ہے. یہ انسانیت کا زمین کے وسائل کے بے دریغ استعمال کا ثبوت ہے۔

کیا اسی لئے مستقبل کی پیشنگوئی کرتی فلمیں میں ایک بات مشترک ہے، وہاں قدرتی ماحول، باغات، جنگل چرند پرند نہی دکھائے جاتے۔ بس اڑتی گاڑیاں، مصنوعی خوراک اور کنٹرولڈ ماحول دکھایا جاتا ہے۔ آج ہم حیوانات، چرند پرند کو چڑیا گھروں میں دیکھتے ہیں وہ دن دور نہی جب درختوں، پھولوں اور باغات کو بھی اسی طرح مخصوص جگہوں پر ہی دیکھ سکیں گے۔

آسٹریا کے مصور میکس پینٹنر کی ڈرائنگ “فطرت کی نا ختم ہونے والی کشش” زمیں پر فطرت اور ہمارے باہمی مستقبل کا ایک تاریک انداز دکھاتی ہے۔ میکس نے 1970 کی ایک پنٹنگ میں ایک اسٹیڈیم میں درختوں کو لگا دکھایا ہے جہاں انسان فطرت کو دیکھنے اکھٹے ہئے ہیں ویسے ہی جیسے آج ہم کوئی میچ دیکھنے جاتے ہیں۔ میکس پینٹنر دکھا رہے ہیں کہ “فطرت، مستقبل میں  صرف مخصوص جگہوں پر ہی پائے جاۓ گی، جیسا کہ پہلے ہی چڑیا گھر کے جانوروں کا معاملہ ہے۔” یہ کوئی اچنبہ کی بات نہی جب مستقبل میں فطرت کا تجربہ کرنے کے لئے ہم مخصوص جگہوں پر جائیں۔

کیا انسانیت ایک مصنوعی دنیا کی طرف بڑھ رہی ہے، یا ہمارے پاس فطرت قدرتی ماحول کو بچانے کا ایک موقع ہے؟ چند سال پہلے تک معیشت دانوں اور منصوبہ سازوں میں یہ نظریہ تھا کہ قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال کے بغیر ترقی اور معاشی اہداف حاصل کرنا ممکن نہی۔ مگر جدید تحقیق بارہا یہ ثابت کر چکی ہے کہ ترقی کا موجودہ نمونہ ماحولیاتی نقطہ نظر سے ناپائیدار ہے. یکہ بعد دیگر تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ گرین مساوی معیشت بھی ترقی کے اہداف اور زیادہ روزگار پیدا کر سکتی ہے۔ گرین پائیدار ترقی ہی ماحولیات کو تحفظ فراہم کر سکتی ہے.

آکسفورڈ یونیورسٹی کے گلوبل ریکوری آبزرویٹری رپورٹ، جو اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور ماحولیاتی پروگرام اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تعاون سے تیار کی گئی ہے، کی رپورٹ میں، “کیا ہم بلڈنگ بیک بیٹر کر رہے ہیں؟”، نے پایا ہے کہ صرف ایک ملک نے گرین ریکوری کے 100 فیصد منصوبوں کا خاکہ پیش کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کی 50 بڑی معیشتوں نے کوڈ وبائی امراض کے بعد بحالی کے لئے 14.6 ٹریلین ڈالر کا وعدہ کیا ہے۔ جس میں سے صرف پانچواں سے بھی کم حصہ سبز پائیدار اقدامات کے لئے ہے۔

یوروپی یونین 2050 تک کاربن غیر جانبدار بننے کے مقصد پر کام کر رہی ہے۔ ان میں جیٹ ایندھن پر ٹیکس لگانے اور اگلے 20 سالوں میں پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی کاروں کی فروخت پر موثر طور پر پابندی عائد کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔ مزید وہ عمارتیں جو ضرورت سے زیادہ توانائی خرچ کر رہی ہیں ان کی جلد سے جلد تزئین و آرائش کرنا شامل ہے.

پاکستان کا کاربن کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے باوجود بھی قدرتی آفات کے شکار ممالک کی لسٹ میں ٹاپ پر ہے. ہر آفت سالوں کی ترقی کو ختم کر کے کمیونٹیز کو مزید غربت میں دھکیل دیتی ہیں. وفاق اور دونوں بڑے صوبوں کے بجٹ میں موسمیاتی تبدیلی اور ماحول پر کچھ رقم تو مختص کی گئی ہے مگر یہ پالیسی سازی میں مرکزی کردار سے بہت دور ہیں. پاکستان نے کرونا وبا کے بعد موثر بحالی کے لیے ابھی تک کوئی جامع منصوبہ پیش نہی کیا جو ماحولیات، صحت، شہروں، تعلیم، تینوں پانیوں (پینے، گندے اور سیلابی پانی) کے بنیادی ڈھانچے, زراعت, ٹرانسپورٹ اور توانائی جیسے شعبوں میں بنیادی تبدیلی کا احاطہ کرے۔ کیا معیشت کی بحالی کی بنیاد اسی نظریہ پر رکھی جاۓ گی جس کی وجہ سے ماحولیات کی ایسی تباہی دیکھنے کو ملی؟

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انجر اینڈرسن کے مطابق “سائنس واضح ہے اور وقت ختم ہو رہا ہے”۔ سائنسدانوں نے متنبہ کیا ہے کہ آئندہ سال عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں تیزی آئے گی اور جب تک حکومتیں اپنے کوڈ معاشی بحالی کے منصوبوں میں آب و ہوا کی تبدیلی کو مرکزی ترجیح نہیں دیتی ہیں تو اس میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ایک سبز وبائی بحالی میں کاربن ایندھن سے دور جانا اور صفر اخراج ٹیکنالوجیز، بنیادی ڈھانچے, کم توانائی خرچ عمارات میں سرمایہ کاری کرنا اور فطرت کی بحالی شامل ہے۔

یہ ​ایک بہت بڑا موقع ہے جسے حکومتیں کھو نہیں سکتی ہیں۔ معاشی نمو کو تیز کرنے کے لئے جو بھی نقطہ نظر اختیار کیا جاۓ انہیں احتیاط سے منتخب کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے دیرپا ماحولیاتی اثرات مرتب ہوں گے. کورونا وبا بحالی منصوبے مستقبل کی آفات کے اثر کو کم کرنے کا ایک زبردست موقع ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈنگ سائنسز (این آئی بی ایس)  ایک رپورٹ کے مطابق آفات کے خاتمے میں لگنے والے ہر $1 معاشرے کو $6 کی بچت کرتا ہے۔ معاشیات کے لئے اکثر کہا جاتا ہے “یہ انتخاب کی سائنس ہے”۔ آج یہ انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لئے کیسی زمین چھوڑ کر جائیں.

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...