کوہستان میں چینی بس کے ممکنہ محرکات

527

کوہستان میں چینی کارکنوں کی بس کو ہونے والے حادثے کی وجوہات کیا تھیں ؟ کیا یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے یا پھر کسی فنی خرابی کی وجہ سے بس حادثے کا شکار ہوئی ؟ اس حوالے سے پاکستان کے سرکاری ذرائع کا جو مؤقف  سامنے آیا ہے وہ اسے حادثہ کہہ رہے ہیں جبکہ چینی حکومت اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دے رہی ہے ۔اگر یہ دہشت گردی ہے تو  یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان میں چینی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا ہو ۔

پاکستان میں تقریباً 60 ہزار چینی مختلف ترقیاتی منصوبوں میں شریک عمل ہیں ،جن کی سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کئے جاتے ہیں تاہم پھر بھی ماضی میں چینیوں پر حملے تواتر سے ہوتے رہے ہیں ۔اپریل 2021ء میں  پاکستان میں چینی سفیر کو اس وقت نشانہ بنانے کی کوشش کی جب وہ کوئٹہ کے سب سے محفوظ سمجھے جانے والے ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے اور رات کو ایک ڈنر سے واپس آرہے تھے کہ ان کے آنے سے محض چند لمحے پہلے ہوٹل کی پارکنگ میں دھماکہ ہو گیا جس میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے اور بارہ شدید زخمی ہوئے۔ اس کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی  ۔ اس سے پہلے2018ء میں  کراچی میں چینی قونصل خانے کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا جس کی ذمہ داری بلوچ نیشنل آرمی نے قبول کی تھی ۔چینی شہریوں پر پہلا حملہ 2007ء میں اس وقت ہوا تھا جب اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن جاری تھا اور 8 جولائی 2007ء کو تین چینی کارکنوں کو پشاور میں گولی مار دی گئی تھی ۔پھر مئی 2017ء میں کوئٹہ سے  پہلے دو چینی باشندوں کو اغوا کیا گیا اور پھر انہیں گولی مار دی گئی ۔ 5 فروری 2018ء کو کراچی ڈی ایچ میں دو چینی  کارکنوں کو گولی ماری گئی جس کے نتیجے میں ایک ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا ۔یہ دونوں چینی ایک شپنگ کمپنی میں کام کرتے تھے ۔11 اگست 2018ء کو دالبدین میں چینی انجنیئرز کو لے کر جانے والی بس پر خود کش حملہ ہوا تھا جس میں چھ چینی زخمی ہوئے تھے ۔12 مئی 2019ء کو گوادر میں پی سی ہوٹل پر حملہ ہوا جس کا نشانہ بھی چینی کارکن تھے تاہم خوش قسمتی سے حملہ آور وں کو سیکورٹی فورسز نے اوپروالی منزلوں پر پہنچنے نہیں دیا ۔

کوہستان کے جس علاقے میں چینی بس پر حملہ ہوا ہے اس علاقے میں پہلے بھی بسوں پر حملے ہوتے رہے ہیں مگر ان کا نشانہ شیعہ کمیونٹی کے افراد بنتے تھے ۔ ان حملوں کی ذمہ داری جنداللہ گروپ قبول کرتا رہا ہے ۔

داسو میں جس جگہ چینی کارکنوں کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا ہے اس سے محض سو کلومیٹر دور دیامر میں طالبان کا مظبوط گڑھ ہے جو تواتر سے  سیکورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں اور لڑکیوں کے سکولوں کو جلاتے رہتے ہیں ۔2018ء میں صرف ایک رات میں لڑکیوں کے 12 سکول جلائے گئے ۔

2014ء سے 2021ء کے درمیان سی پیک اور چینی باشندوں پر ہونے والے حملوں کی تفصیل(بشکریہ پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز)

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ 7 جولائی 2021ء کو ایک وڈیو جاری کی گئی جس میں مسلح   طالبان  کھڑے ہیں  جس میں ایک شخص خود کو کمانڈر حبیب الرحمٰن بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کا نائب امیر ہے۔وہ افغان طالبان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے   اپنے ساتھیوں کا تعارف کرواتا ہے کہ میرے ساتھ کمانڈر  نصیرالدین ،کمانڈر محفوظ اللہ ،مولانا مقصود الحق  اور کمانڈر لیاقت خان  موجود ہیں  ۔وہ کہتا ہے کہ حساس اداروں نے ہمارے ساتھ 20 فروری 2019ء کو جو معاہدہ  کیا  تھا اس پر عمل در آمد نہیں ہوا  اس لئے وہ فوراً معاہدے پر عمل در آمد کا مطالبہ کرتا ہے ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس وڈیو کے جاری ہونے کے ایک ہفتہ بعد ہی  مبینہ طور پر چینی  کارکنوں کی بس کو نشانہ بنایا گیا ۔اب اس وڈیو اور اس حملے میں کوئی لنک موجود ہے یا نہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ کوہستان اور گلگت بلتستان کے درمیان داریل کی وادی میں ہمیشہ سے ہی شدت پسندوں کا راج رہا ہے ۔اس کے ڈانڈے افغان جہاد سے بھی بہت پہلے ملتے ہیں جب ایک مقامی مولوی چلاسی بابا نے مزارات پر جانا اور شادی پر ڈھول باجے کی رسومات کو بدعت قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مہم چلائی اور ایک مخصوص مکتب فکر کے خلاف فرقہ واریت کو ہوا دی ۔ بعد ازاں جب افغان جہاد شروع ہوا تو یہاں 1980ء میں   مجاہدین کے لئے ٹریننگ کیمپ بنائے گئے جو گیارہ ستمبر کے حملوں تک چلتے رہے ۔اسی دوران ضلع دیامر سے گلگت کے کئی دیہات پر فرقہ وارانہ لشکر کشیاں بھی کی گئیں ۔گاؤں کے گاؤں جلا دیئے گئے اور متاثرین ہجرت کرکے راولپنڈی اور کراچی میں جا کر پناہ گزین ہوئے ۔ یہاں جہادی کیمپ تو بند ہو گئے مگر تشدد آمیز کارروائیاں بند نہیں  ہوئیں ۔29 مارچ 2013ء کو پولیس کی ایک گاڑی پر فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی عطااللہ اور اس کا ڈرائیور جا نبحق ہو گئے ۔اسی سال فوج کے ایک قافلے پر حملہ ہوا جس میں فوج  کے دو افسران کرنل غلام مصطفیٰ اور کیپٹن اشفاق عزیز اور ان کے ساتھ پولیس کے ایس پی ہلال احمد جانبحق ہو گئے ۔یہ تینوں ان 9 غیر ملکی کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تفتیش میں شامل تھے جنہیں  23 جون 2013ء کو نانگا پربت کے بیس کیمپ میں قتل کر دیا گیا تھا ۔ مقتول کوہ پیماؤں میں سے پانچ کا تعلق یو کرین ، ،تین کا چین اور ایک کا روس سے تھا ۔ بعد ازاں یہاں فوج سے وابستہ ایس سی او کے دو انجنیئروں کو بھی اغوا کیا گیا جنہیں بعد ازاں مذاکرات کے نتیجے میں رہائی ملی ۔

چینی انجنیئروں کی جس بس کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا وہ روزانہ صبح کارکنوں کو لے کر داسو جاتی تھی جہاں ہائیڈل پاور پراجیکٹ پر کام جاری ہے ۔مقامی عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بس کھائی میں گرنے سے پہلے زور دار دھماکے سے فضا میں اچھلی اور پھر کھائی میں جا گری ۔ اس حوالے سے یہ وقعہ دہشت گردی کی کارروائی لگتی ہے جس میں دیامراور کوہستان میں پہلے سے موجود طالبان گروہ ملوث ہو سکتے ہیں ۔گذشتہ دنوں اعلیٰ عسکری قیادت  کی جانب سے منتخب اراکین پارلیمنٹ کو جو ان کیمرہ بریفنگ دی گئی تھی اس میں بھی یہ کہا گیا تھا کہ افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان اندر سے ایک ہی ہیں ۔

یہ بات بھی حیران کن  ہے کہ افغان طالبان نے اس بار چین کے ساتھ منسلک سرحدی پٹی واخان پر بھی پہلے مرحلے میں ہی قبضہ کیا ہے حالانکہ اس سے قبل کے طالبان دور حکومت میں بھی یہ پٹی  آزاد ہی رہی تھی ،جہاں کے مکینوں کی اکثریت آغا خان کے ماننے والوں کی ہےلیکن اس بار اس پر قبضہ ضروری خیال کیا گیا ہے ۔گویا اس کا تعلق چینی علاقے یغر میں مسلمانوں سے ہو سکتا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ چینی حکومت کی جانب سے ان پر بہت زیادہ پابندیاں عائد ہیں ۔طالبان دور حکومت میں مشرقی ترکستان کی اسلامی تحریک کے رہنماؤں کو افغانستان میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی تاہم طالبان نے چین کو یہ یقین دہانی بھی کرا رکھی تھی کہ مشرقی ترکستان تحریک کو چین میں کارروائیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔طالبان کے موجودہ ترجمان سہیل شاہین نے فروری 2020میں دوحہ معاہدے کے وقت پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کی سرزمین امریکہ یا اس کے اتحادیوں سمیت چین یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی تاہم اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اگر یغر میں مسلمانوں کو مسائل ہوئے تو وہ اس پر چینی حکومت سے بات  کریں گے ۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مشرقی ترکستان کی اسلامی تحریک کے تقریباً 500 اراکین ابھی بھی افغانستان کے بدخشاں کے صوبے میں موجود ہیں ۔یہ بات بھی حیران کن ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے چینی مخاصمت میں  مشرقی ترکستان کی اسلامی تحریک کو دہشت گرد گروپوں کی فہرست سے نکال دیا تھا ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...