عمران رجیم کا علیحدگی پسندوں کےساتھ مذاکرات محض ایک خواب ہو سکتا ہے

255

ایک نظر بلوچستان اور ملک کے بدلتے ہوئے معروضی حالات پر جو کہ یک دم تیزی کےساتھ تبدیل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ دو دہائیوں سے دنیا کی سپر پاور امریکہ نے گزشتہ دنوں افغانستان میں پراسرار طور پر بگرام ائیربیس کو خالی کر دیا۔ عین اسی موقع پر وزیراعظم جناب عمران خان نے بلوچستان گوادر کے دورے پر اعلی سول و عسکری آفسران کی موجودگی میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ، ہم چاہتے ہیں بلوچستان کے علیحدگی پسند گروہوں سے بات چیت کا عمل شروع کیا جائے۔ واضح رہے کہ، بلوچستان میں 2004 سے شروع ہونے والی یہ پانچویں اور طویل ترین علیحدگی کی تحریک ہے۔ جو دو دہائیوں سے تاحال جاری ہے۔ اس تحریک کے اہم پہلو کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ باقی مختصر تحریکوں سے اس لیے مختلف ہے کہ ان کی قیادت بااثر سردار و نواب کی بجائے عام ناراض بلوچ کر رہے ہیں۔
یہی بنیادی وجہ رہی ہے کہ یہ طویل ترین تحریک ثابت ہوئی ہے اور باقی تحریکوں سے اس لیے مختلف ہے کہ اس وقت مختلف علیحدگی پسند تنظیموں کی مختلف لوگ قیادت کر رہے ہیں ۔
بلوچستان میں اس سے پہلے کی بغاوتوں کا اگر مختصر جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ یہ طویل ترین اور منظم ترین تحریک ہے۔ اس سلسلے میں سینیٹر میر اکرم دشتی اپنی کتاب “راجی جیڑہ ” میں لکھتے ہیں کہ جب ریاست قلات کو پاکستان میں شامل کیا گیا تو خان آف قلات کے بھائی آغا عبدالکریم نے بلوچستان کی الحاق کے خلاف مئی 1948 میں 200 افراد کے ساتھ سرلٹھ کے مقام پر بغاوت کی، مگر یہ تحریک محض دو مہینے کے بعد سبوتاژ ہوگئ۔ مثلا انتہائی سخت گیر موقف رکھنے والے ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کا اپنا ایک مزاحمتی دائرہ کار ہے۔ نواب زادہ براہمداغ بگٹی کی ایک تنظیم ہے۔ اسی طرح حر بیار مری اور جاوید مینگل کے اپنے اپنے بنائے گئے مسلح گروہ ہیں۔ یہاں ایک سوال یہ جنم لیتا ہے کہ شاید اس جنگ کی طول لینے کی ایک وجہ بھی یہی ہے کہ اسٹیک ہولڈرز ایک سے زیادہ ہیں اور مختلف قیادتوں کے زیر اثر ہیں۔ تاثر یہی پایا جاتا ہےکہ اس وقت اللہ نظر بلوچ کی تنظیم زیادہ متحرک ہے۔ ۔
اسی طرح دوسری مزاحمتی تحریک 1958 میں بابو نوروز خان کی سربراہی میں شروع ہوئی، اور پھر نو مہینے کے بعد بابو نوروز اور ان کے ساتھیوں کو ایک معاہدے کے تحت گرفتار کرکے پھانسی پر چڑھا دیا گیا ۔ 1961-1962 کی بغاوت بھی اسی طرح بلا نتیجہ اختتام پذیر ہوئی ۔ ان مندرجہ بالا تینوں مختصر تحریکوں میں سے 1973 ۔1977 کی مزاحمتی تحریک اس لیے زیادہ فعال اور منظم تصور کی جاتی ہے کہ اس میں بلوچوں کے علاوہ لندن گروپ کے نام لیئے جاتے تھے ، مورخ لکھتے ہیں کہ یہ جدید فکری سوشلسٹ تھے جس میں اسد رحمان، راشد رحمان اور نجم سیٹھی کے نام نمایاں ہیں ۔ اُس دور میں اس تنظیم کا باقاعدہ ایک تنظیمی پرچہ “جبل” کے نام سے نکلتا تھا۔ انکی تنظیم کا نام( بلوچ پیپلز لبریشن فرنٹ) بی پی ایل ایف) تھا۔ جو کہ آج پانچ حصوں (بی ایل ایف، بی ایل اے، بی آراے ، لشکر بلوچستان) میں تقسیم ہو کر علیحدگی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔
بلوچستان میں علیحدگی پسند گروہوں سے مذاکرات کا خیال پاکستان کو اس وقت کیوں آیا، کیا اس سے قبل بلوچستان میں جاری شورشوں سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں تھا؟اس موقع پر یہ کہنا اور سوچنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ دو دہائیوں کے بعد ایک سپر پاور افغانستان میں اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر امریکی فوج کا انخلا کررہی ہے اور پاکستان سمجھتا ہے کہ شاید اس کے جانے کے بعد اس خطے میں مزید خلفشار پیدا ہوگا اور اس کے اثرات پاکستان اور بالخصوص بلوچستان پر پڑنے والے ہیں ۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ شاید پاکستان کو یہ علم ہے کہ پاکستان مخالف بلوچ علیحدگی پسند اس وقت افغانستان میں موجود ہیں شاید وہ اس ہنگامی صورتحال میں افغان اور پاکستان حکومت مخالف طالبان کی مدد سے اپنے دائرہ کار کو مزید وسیع کر کے یہاں اپنی سرگرمیوں کو تیز کر کے پاکستان کے لیے وقتی طور پر زیادہ مشکلات پیدا کرسکتے ہیں ( وقتی طور پر اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ ایک تو یہ افغانستان میں طالبان کا دائرہ کار اتنا وسیع نہیں ہوگا اور دوسرا یہ اس کی مدت طویل نہیں ہوگی) کیونکہ اس وقت افغانستان پہ سب کی نظریں ہیں اور وہاں کا انتشار خطے میں کسی کے مفاد میں نہیں ہے) وقتی طور پر شاید وہ اپنے لیے کچھ حاصل کرسکیں مگر ان کے دیرپا ثمرات مجموعی طور پر بلوچستان کے مطلوبہ مفاد میں نہیں ہونگے، کیونکہ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہےکہ افغان بلوچ کا فکری ساتھی کم اپنی مفادات کی خاطر وقتی طور پر ضرور ہمدرد رہا ہے، اس سلسلے میں نا پاکستان کو پریشان ہونے کی ضرورت ہے اور نا ہی ؑعلیحدگی پسندوں کو خوش ہونے کی ضرورت ہے، کہ اس تبدیلی سے مجموعی طور پر اُس کے کاز کو فکری سہارا ملےگا ۔
اس سے قبل مسلم لیگ ( ن) کی حکومت میں بھی سابق وزیر اعلی بلوچستان مرکزی صدر نیشنل پارٹی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور سول وعسکری قیادت کی رضامندی سے جلا وطن بلوچ رہنماؤں سے ملاقات اور مذاکرات کے لیے آمادہ کرانے کے لیے ایک مذاکراتی عمل کا آغاز کردیا گیا اور اُن کی متعلقہ بلوچ رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں مگر بعد میں اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کچھ قیادتیں اس عمل کو مزید آگے لے جانے کی حق میں اس لیے نہیں تھیں کہ ان بیس سالوں میں ناراض گروپس کو کاؤنٹر کرنے والوں نے مشکل وقت میں ملک کے ساتھ وفاداری کرتے ہوئے ان کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے میں ریاست کے لیے مددگار ثابت ہوئے ہیں اُن کو ناراض نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ اور دوسری یہ کہ وہ اس جنگ کو ختم کرنا بھی نہیں چاہتے ہیں۔ اور یہ بھی ہے کہ جو کم خواہشات لے کے زیادہ وفاداریاں نباہ رہے ہیں تو درد سر کس بات کی ہے کہ جو اپنے طریقے سے چیزوں کو چلانے والوں کو اس صوبے کا مالک بنایا جائے۔
گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بگٹی قبیلے کے ایک اہم رکن ممبر نیشنل اسمبلی شازین بگٹی کو اپنا معاون خصوصی برائے مفاہمتی ہم آہنگی منتخب کیا، اس بجائے کہ متعلقہ افراد کی جانب سے اس مذاکرات کے بارے میں شازین کے بارے میں کوئی موقف دینے کے ان کے اپنے صفوں حکومت میں شامل بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سرفراز بگٹی اور سنینیٹر انوار الحق کاکڑ کی شکل میں شازین کی نامزدگی کو وزیراعظم کی بہتر چوائس نہیں سمجھا۔ ایسے تاثرات سے اُسی بیانیے کو بھی سنجیدگی سے غور کیا جاتا ہے کہ اگر ناراض بلوچ کو منایا گیا تو یہ جو مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ وفادار ہوکر اُن کو کاؤنٹر کرتے آرہے ہیں اُن کا کیا ہوگا۔ اب تو صرف عجلت سے سرفراز بگٹی کا ردعمل سامنے آگیا ہے انوار الحق کاکڑ کا ردعمل بھی اسی کا ایک تسلسل ہے اگر ڈسکشن مزید میچورٹی کی طرف بڑھے گی۔ تو ان کے مزید ردعمل سامنے آنا شروع ہوں گے۔ بلکہ یہاں مسئلہ بہتر چوائس سے زیادہ کچھ تاریخی حقائق پر غور و فکر کرنے کا ہے کیونکہ ماضی میں بھی اس طرح کے عام معافی اور مذاکرات کے نام پر بلوچستان کے ناراض لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں برتا گیا۔ وزیر اعظم صاحب کے اپنے صفوں میں شامل لوگوں کے تحفظات اپنی جگہ درست ہیں، اس عمل سے جو مسلسل مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ تھے اُن کو تو اس عمل سے خوشی نہیں ہوگی وہ ضرور اس کو سبوتاژ کریں گے، مگر اس وقت جس عمل کی شروعات کی اہم پہلو ہے اُس پہ غور کرنے کی زیادہ ضرورت اس لیے ہے کہ وہ جو باہر یٹھے ہیں وہ خان صاحب کی اس خواہش کا خیر مقدم کریں گے ۔ وہ تو عالمی اداروں کی ثالث کے بغیر کسی بھی طاقت یا اسٹیک ہولڈر سے بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں ۔اس وقت حکومت کے اپنے کاروان میں جن افراد نے بہتر چوائس کے لیے اپنا موقف دیا ، شاید اُن کے ذہنوں میں زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ ہیں ۔
اگر ماضی کے مذاکراتی عمل اور اسکے نتائج کا سامنے رکھ کر تجزیہ کیا جائے تو اس بار بلوچ علیحدگی پسند اسٹیک ہولڈرز ماضی کے تمام تجربات کو سامنے رکھ کر کوئی قدم اُٹھائیں گے، کیونکہ مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کی ضرور ایک لائن ہوگی ایسا نہیں ہے کہ ناراض بلوچ جو ڈیمانڈ کریں گے ” پاکستان تحریک انصاف) کی حکومت اُس پہ من و عن عمل کرے گے ۔ اب تک تو صرف عمران خان نے گودار میں اس سلسلے میں اپنے انفرادی خواہشات کو ظاہر کرتے ہوئے ایک بیان داغا، اس کے بعد ہر کوئی اپنی طرف سے تجزیے و تبصرے کر رہے ہیں ، اگر عمران رحیم اس بارے میں پر اعتماد ہیں کہ تمام ذیلی و بالائی ادارے اس کی خواہش کو پورا ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کے ہر اقدامات کے پیچھے شانہ بشانہ اس کے ساتھ ہوں گے تو حکومت نے شازین بگٹی کی نامزدگی میں عجلت سے کام لینے کی ضرورت نہیں تھی ، معاون خصوصی کو نامزدگی سے قبل انہیں مذاکرات کے بارے میں چند ( ٹی ، او، آرز) ٹرم آف ریفرنس) بنا کر پبلک کرنا چایئے تھا ۔
اب تک تو اس عمل کو زیادہ تر اسٹیک ہولڈرز منفی انداز میں ( ریسپانڈ) کر رہے ہیں ۔ اگر چند ایک اسٹیک ہولڈر اس عمل کو خیر مقدم کرکہ یہ عمل آگے بڑھاتے تو بلوچستان میں اس کے منفی اثرات اس لیے پیدا ہوسکتے ہیں کہ اس پوری جنگ کے دوران متعدد گھر متاثر ہوئے ہیں اُن ماؤں کو کون تسلی دے گا کہ جسکا لخت جگر ایک کاز کے لیے قربان ہوۓ ہیں ۔ اور دوسرے وہ جو اس کے برعکس مخبری کے نام پہ قتل کئے گئے ہیں ۔۔۔ اگر اس طرح کا ماحول پیدا ہوا تو بلوچستان میں خانہ جنگی پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ کوئی اپنوں کو کبھی بھول نہیں سکتا جن کا اثرو رسوخ ہے وہ اپنا بدلہ لینے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔۔۔
موجودہ رجیم میں مذاکرات کے کامیابی کے آثار اس لیے کم نظر آرہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی قیادت اس بارے میں اتنا تجربہ نہیں رکھتے، وہ جو بڑی سیاسی و تجربہ کار سیاستدان ہیں وہ اس حکومت یا عمل میں شامل نہیں ہیں اور دوسرا اہم پہلو یہ اس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی اسٹیک ہولڈرز بھی شامل نہیں جو کہ اس بارے میں زیادہ تجربہ رکھتے ہیں اور ماضی قریب میں سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ اس پراسس کا حصہ رہ چکے ہیں، سردار اختر مینگل بھی اس میں ایک کردار ادا کرسکتے ہیں ، مگر خان صاحب اس پہ خود سنجیدہ نہیں ہے یا مسئلہ اس کے سمجھ میں نہیں آرہا ہے ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...