غیرت آباد کی دل گرفتہ کہانیاں

177

آپ نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کا ایک گروہ بنالیں۔ ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کرلیں۔ اپنی تقدیس اور نرگسیت کا اوندھا لباس کچھ دیر کے لئے ہٹادیں۔ ان سے طویل رفاقت کا رشتہ قائم کرلیں۔ ان کو اعتماد دیں کہ وہ آپ پر اعتماد کرسکے۔ ان کا اعتماد حاصل کرلیں۔ ان کو سپیس مہیّا کریں ۔ اس گھٹن ذدہ ماحول میں ایک ایسی نظری ، اخلاقی اور طبعی جگہ فراہم کریں کہ وہ کسی خوف، شرمندگی، احساس کمتری و احساس برتری سے مبرّا ہوکر آپ کے ساتھ اور آپس میں اظہار خیال کر سکے اور ان کو یہ یقین ہو کہ کوئی اپنی عمر، علم، تجربے اور اقدار کی وجہ سے ان کو جج نہیں کرے گا۔
اس گروہ کو اظہار کے ایک ایسے جزیرے یا جنگل میں لے جائیں جہاں کوئی کسی کو جج نہیں کررہا ہو، جہاں کسی بات پر لا حول نہ پڑھا جاتا ہو، جہاں کسی پر جملے نہیں کسے جارہے ہو، جہاں جنس اور صنف کی بنیاد پر کوئی کسی کو جج نہیں کر رہا ہو۔ ایسا طبعی و ذہنی محفوظ مقام پر اس گروہ کی سہولت کاری کریں اور ان کو حوصلہ دیں کہ وہ اپنی بیتی ہوئی زندگی کی کہانیاں یا یوں کہے کہ زندگی کے اس دریا میں بہتے ہوئے ان پر جو بیتی وہ بلاخوف ایک دوسرے کو بتلاسکے اور جو اخلاقی، سماجی،معاشی، جنسی، ازدواجی، گھریلو ٹھوکریں انہوں نے کھائی ہیں ان کی کتھا سن کر ساتھ بیٹھے ساتھی جج کرنے کی بجائے ان کے ساتھ ان کے احساسات اور تجربات میں شریک ہوسکے ۔ پھر سنیں کہ کس کس پر کیا بیتی ہے!
ہمارے اس گھٹن ذدہ ماحول میں آپ کو کم ہی ایسے لوگ ملیں گےجن کو جنسی طور پر، معاشی طور پر، سماجی طور پر، ازدواجی طور پر ہراساں نہ کیا گیا ہو۔ ہراسانی کی یہ کہانیاں ہر گھر کی ہیں، ہر فرد کی ہیں۔
کوئی سکول میں ساتھیوں اوراساتذہ کے ہاتھوں ہراساں ہوا ہے تو کسی کے ساتھ ایسا مدرسے میں ہوا ہے۔ کوئی گھر میں ہی کسی سگے کے ہاتھوں ہراساں ہوا ہے تو کوئی محلّے میں۔ کسی کو کوئی محرم نےجنسی زیادتی یا ہراسانی کا شکار بنایا ہے تو کسی کو محلّے یا گاؤں کے بزرگوں نے۔ کوئی اپنی جنس، رنگ، نسل، کسب، زبان یا خاندان کی وجہ سے ہراساں ہوا ہے تو کوئی اپنے پیشے کی وجہ سے۔ کسی نے کسی کو اپنے سماجی رتبے کی وجہ سے ہراساں کیا ہے تو کسی نے کسی کو اپنی شیخی، بزرگی اور تقدیس کے بل بوتے پر۔
صرف یہی نہیں ان گھٹن ذدہ ڈھونگی معاشروں میں لوگ اپنے خیالات، حلیے اور نظریات کی وجہ سے بھی مسلسل ہراساں کیے جاتے ہیں۔ ان معاشروں میں انسان کی کوئی اپنی زات یعنی فردیت نہیں ہوتی بلکہ اسے ایک گھٹن ذدہ ثقافتی کُل کا پرزہ سمجھا جاتا ہے جہاں اس کی اپنی آزادی، شناخت، تشخص، شخصیت ،اقدار جیسی کوئی شے وجود نہیں رکھتی۔ وہ بس ایک بھیڑ کا حصّہ ہوتا ہے اور اسے بھیڑ چال پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر آپ عورت ہے، بچہ یا بچی ہے تو آپکا تو وجود ہی نہیں، اپکی تو شناخت ہی نہیں۔ آپ کے سارے فیصلے بڑے بزرگ کرتے ہیں اور وہی آپ کے جسم، روح اور خودی کے مالک بن جاتے ہیں۔
ہمارے جیسے معاشروں کے مضافات پر بسنے والے لوگوں میں ائے روز کسی لڑکی اور لڑکے کے قتل کی خبریں آتی ہیں۔ ان ثقافتوں میں یہ اس تواتر کے ساتھ ہورہا ہے کہ کسی کو ایسے قتلوں پر ذرہ بھر بھی تعجب نہیں ہوتا۔ آئیے آپکو ایک ایسےعلاقے غیرت آباد کی سماجی و ثقافتی سیر کراتے ہیں۔
یہاں ہر ہفتے میں کوئی قتل ضرور ہوتا ہے۔ غیرت کے نام پر خواتین اور مردوں کے قتل عام ہیں۔ اسی غیرت آباد میں کچھ ”غیرت مند“ جوانوں سے پوچھا کہ لوگ ان نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو کیوں مارڈالتے ہیں جو بھاگ کر شادی کرتے ہیں۔ جواب آیا تاکہ ایسے واقعات کا تدارک ہو۔ پوچھا گیا تو پھر یہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کیوں بھاگ کر شادی کرلیتے ہیں، ان کو تو پتہ ہوتا ہے کہ ایسا کرنے پر انکی زندگیاں ختم ہوجائیں گی۔ پھر یہ واقعات کیوں بڑھتے ہیں؟اگلے چہرے پر پہلے حیرت دیکھی پھر خاموشی اور اس کے بعد سرخی۔ کہنے لگا تم بڑے بے غیرت ہو۔ اس سے اگے مجھ سے بات مت کرو۔
اس علاقے میں یہ رواج عام دیکھا کہ 70، 80 سال کا بوڑھا 17، 18 سال کی لڑکی سے شادی کرسکتا ہے اور اس پر کسی کو حیرت نہیں ہوتی کہ ایسے مرد اکثر گاؤں کے نمبردار /سردار ہونے کے ساتھ ساتھ مولوی بھی ہوتے ہیں۔
گزشتہ ایک دو سال میں اسی علاقے کی ایسی دسیوں کہانیاں سامنے آئی ہیں کہ جن میں کسی نوجوان لڑکی کی شادی 70، 80 سال کے بوڑھے سے کرادی گئی اور وہ کچھ عرصہ بعد اس کے گھر سے بھاگ گئی اور پھر اس سردار/نمبردار کے خاندان کے مردوں نے اس لڑکی اور اس کے ہم عمر لڑکے کو کسی شہر میں ڈھونڈ کر ٹکڑے ٹکڑے کرکے مارڈالا تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔ مگر کیا کرے کوئی عبرت نہیں پکڑتا بلکہ ایسی بھاگم بھاگ بڑھ ہی جاتا ہے۔ ان کی تلاش کے لئے ان غیرت مند مردوں نے ایسی جاسوسی بھی کی ہے کہ سی آئی اے کو بھی حیرت ہوگی کیوں کہ ان کے سامنے دنیا کا سب سے بڑا آپریشن یہی تھاکہ کسی طرح اس نوجوان جوڑے کو پاکر قوم، قبیلے اور خاندان پر سے اس بے غیرتی کے دھبے کوخون سے دھو لے۔
ضمناً عرض کرتا چلوں کہ اس علاقے میں لوگوں کا پسندیدہ فلم ”ارطغرل غازی“ ہے اور خواتین نے اگر ٹی وی یا موبائل سکرین پر کچھ دیکھا ہے تو وہ یہی ڈرامہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں کئی مرد اس ڈرامے کو ثواب سمجھ کر دیکھتے ہیں۔
غیرت آباد میں کسی خاتون کو وہاں کے مقامی روایات کے برعکس اگر کسی بھی لباس میں دیکھا جاتا ہے تو ایک ہی خواہش سب مردوں میں پیدا ہوتی ہے: ہوس۔ اس کے بعد دوسری فکر یہی آتی ہے کہ یہ عورت ”چالو“ ہے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ ان غیرت مند مردوں نے پرائی عورت کو پکڑ کر اس کے ساتھ آتے ہوئے مرد کے ساتھ زبردستی نکاح بھی کروایا ہے اگرچہ یہ لوگ وہاں کسی پیشہ ور سرگرمی پر آئے تھے۔ اس سرگرمی کے لئے پورا غیرت آباد بچّوں سمیت جمع ہوتا ہے کیوں کہ وہاں تفریح کا واحد ذریعہ اسی طرح کی غیرت بازیاں ہوتی ہیں۔
غیرت آباد کے کئی نوجوان اور جوان ملک کی سرحدوں سے باہر جنگ لڑرہے ہیں۔ یہاں سے ہرکلعدم تنظیم چندے وصول کرتی ہے اور نوجوانوں کو اپنی صفوں میں بھرتی کرتی ہے۔ کئی بار سوچا کہ جس شخص نے 1990 کی دہائی میں میں غیرت آباد کا جو ثقافتی نقشہ کھینچا تھا وہ ابھی تک کم و بیش وہی کیوں ہے۔ پھر خیال آیا کہ ”غیرت“ کے ان انگاروں کا یوں دہکتے رہنا خاص لوگوں کے مفاد میں ہے اسی لئے یہاں کسی سماجی اور ثقافتی تبدیلی کو گوارا نہیں کیا جاتا۔ جو بڑی ثقافتی تبدیلی نظر آتی ہے وہ غیرت آباد کی کثیر آبادی کو اپنی مادری زبانوں اور شناخت کو چھوڑ کر بالادست قوموں کی زبانوں اور شناخت کو اپنانا ہے۔
غیرت آباد تو ایک آفسانوی علاقہ ہے مگر آپ اپنے کسی گاؤں، پنڈ، کلے، گام، لام، کوٹ پر نظر ڈالیں تو ہر ایک اسی غیرت آباد کا نقشہ پیش کرے گا۔ ہوسکتا ہے کہیں کہیں کوئی دراڑیں پڑی ہو مگر دن رات غیرت مند مقدس مردوں کی جانب سے غیرت کے عنقا ہونے کا رونا دھونا سن کر کہا جاسکتا ہے کہ بے شک سب نے واپس غیرت آباد کی طرف پلٹنا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...