مرغا بنائی گئی قوم

368

جب سے کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کے لیے حکومتِ وقت نے وردی پوشوں کی خدمات حاصل کی ہیں ہر طرف بے جا بے جا ہو گئی ہے۔ سرکاری سرپرستی میں قوم کو شدید مہذب اور اخیر شائستہ طریقے سے کرونا اور اس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر سے متعلق فوری آگاہی بخشی جا رہی ہے۔ اس عظیم الشان مقصد کے لیے گلیوں، سڑکوں اور چوراہوں کے عین بیچ عوامی آگاہی کے ہنگامی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ جہاں پولیس کے چاک و چوبند جوان بڑی تندہی سے، سرِ عام اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

چوراہوں کے بیچ قائم ان ہنگامی مراکز میں دن دیہاڑے پاکستان کے باشعور عوام کی بلا معاوضہ کلاس لی جاتی ہے۔ اور پورے قومی وقار کے ساتھ، باجماعت مرغا بنا کر ان کی کھلم کھلا تربیت کی جاتی ہے۔ اس پرداخت کے اختصاصی مراحل میں فقط ملکی مفاد کے پیشِ نظر، شہریوں کی رہی سہی غیرت و حمیت کے فوری خاتمے کے لیے انھیں مرغا بنا کر چلایا بھی جاتا ہے۔ اس فرحت بخش تفریح کے بعد غیور عوام کی تشریفوں پر پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ جوتے کاری، سوٹی باری اور لاٹھی پاٹھی کی جاتی ہیں۔ معزز شہریوں کو محض ان کی بھلائی اور صلاح و فلاح کی خاطر، امدادِ باہمی کا درس دینے کے لیے ایک دوسرے کے کان پکڑوا کر بیٹھکیں بھی لگوائی جاتی ہیں جس سے قوم کا اخلاق اور پٹھے دونوں مضبوط ہونے کا قوی امکان ہے۔

اس مبارک موقعے پر وہاں دیگر شہری بھی موجود ہوتے ہیں جو پولیس کے ہاتھوں اس عظیم الشان عوامی تذلیل کو انسانی شرف کے منافی عمل سمجھنے اور اس کے خلاف احتجاج کرنے جیسے فالتو اور بےکار کاموں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنے اپنے موبائل فونوں سےان روح پرور مناظر کی وڈیو بنانے میں مصروف ہوتے ہیں۔ یہ ویڈیوز ازاں بعد صدقہ جاریہ سمجھ کر وائرل کی جاتی ہیں کہ کوئی محبِ وطن اور غیرت مند پاکستانی یہ دل خوش کن اور غیرت افروز منظر دیکھنے سے محروم نہ رہ جائے۔ اور ان ویڈیوز کو دیکھ کر وطنِ عزیز میں اپنی اصل اوقات اور حیثیت کا فہم، بلامعاوضہ حاصل کر سکے۔

عوامی سطح پر شہریوں کی اس کھلم کھلا عزت افزائی کو بہت سراہا جا رہا ہے۔ ” اے جتیاں دے ای قابل نیں” ( یہ جوتیوں ہی کے قابل ہیں) اور ” ایہناں لوکاں دا اے ای علاج اے” ( ان لوگوں کا یہی علاج ہے) جیسے عوامی شعور کے نمایندہ جملوں سے اس عمل کی تائید کی جا رہی ہے۔ مقتدر حلقے اس بےنظیر عوامی حوصلہ افزائی کو اپنی چوہتر سالہ شبانہ روز کوششوں کا ثمر قرار دے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ انہی مساعیء جمیلہ کا فیضِ عام ہے کہ آزادی کے محض چوہتر سالوں بعد ہی عوامی شعور اس بلند سطح پر آ چکا ہے، جہاں قوم عزتِ نفس اور پاسِ ناموس جیسی بے کار چیزوں سے مستغنی ہو چکی ہے۔ عوامی تائید نے قانون کے رکھوالوں میں نئی روح پھونک دی ہے اور وہ پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش اور جذبہء ملی سے سرشار ہو کر ایک نئے عزم کے ساتھ، شہریوں کو مرغا بنا رہے ہیں۔

گلیوں، محلوں اور چوراہوں کے بیچ جگہ جگہ قائم عوامی آگاہی کے ہنگامی مراکز کے قیام میں پولیس کی عوام اور انسان دوست پالیسیوں کے ساتھ ساتھ ان باشعور اور ہوش مند شہریوں کو داد نہ دینا بھی زیادتی ہوگی جنہوں نے وبا کے دنوں میں کمال مہارت اور مستقل مزاجی سے تمام حفاظتی تدابیر کو ہوا میں اڑا کر خود کو ملکی تاریخ میں امر کر لیا ہے۔ یہی بہادر اور زی شعور رضاکار عوامی آگاہی کے ہنگامی مراکز کی مستقل رونقیں ہیں۔ یہ مردِ مجاہد ہمہ وقت اس نیک مقصد کے لیے کوشاں ہے کہ کسی طرح انھیں کرونا ہو جائے تا کہ اس زرِ کامل عیار کو یہ فی سبیل اللہ دوسرے شہریوں میں تقسیم کر کے اپنی دنیا و عاقبت سنوار سکیں۔

ملک و قوم کو اپنے ان دلیر سپوتوں پر بجا طور پر فخر ہے جو صرف اور صرف لوگوں کی بھلائی کی خاطر، کرونا انفیکشن کے حصول کی عظیم کد و کاوش کے دوران پکڑے گئے ہیں؛ اور اس کی پاداش میں کڑی دھوپ میں بیچ چوراہے، کس شانِ استغنا سے باجماعت مرغا بنے حسنِ خود آرا کو بے حجاب کر رہے ہیں۔ اس حالتِ استغراق میں، موصوفین کی روحانی لذت کو دوبالا کرنے کے لیے پولیس کا ایک فرض شناس جوان باری باری ان کی تشریفوں پر شہتوت کی سوٹیاں مارتا ہے۔ جس پر یہ مردانِ صفا کیش عارضی طور پر کھڑے ہو کر اپنی تشریفات کو دونوں ہاتھوں سے سہلاتے ہیں اور جیسے ہی لذتِ روحانی میں تخفیف ہوتی ہے دوبارہ مرغا بن کر سلوک کی اگلی منازل طے کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ شہریوں کی یہ نڈر، بے باک اور باشعور قسم، جو کرونا کو آج بھی یہود و نصاری کی سازش قرار دے کر اس کا مسلسل انکار کر رہی ہے؛ دراصل عظیم مقاصد کے حصول کے لیے تعلیم کے فتور سے دور رکھی گئی وہ خوش بخت پود ہے جو مقتدر حلقوں کے کسی بھی بیانیے کا فوری دستیاب ایندھن ہے۔

مقتدر حلقوں کے مطابق کرونا کی صورت میں قدرت نے انھیں ایک مرتبہ پھر عوام کو عزتِ نفس جیسے موزی مرض سے بچانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بابت وہ اپنی قومی زمہ داریوں سے کبھی بھی غافل نہیں رہے۔ آزادی کے فوری بعد ہی اس مفاد لیوا مرض کے تدارک کا بہترین انتظام کردیا گیا تھا۔ عوام کے نفس کو کشتہ کرنے کے لیے ہر سرکاری محکمے میں چن چن کر ایسے تجربہ کار اور فرض شناس اہل کار تعینات کیے گئے تھے جو اپنے حسنِ اخلاق سے شہریوں کو مسلسل احساس دلاتے تھے کہ عزت تو آنی جانی چیز ہے؛ جب کہ بےعزتی اس لحاظ سے کہیں بہتر ہے کہ اس نے ہمیشہ آپ کے ساتھ رہنا ہے۔

قومی سطح پر اس شان دار تربیت نے عوام کے اجتماعی اخلاق پر بڑے خوش گوار اثرات مرتب کیے اور انھوں نے ایک دوسرے کے ساتھ بھی کم و بیش ویسا ہی رویہ اختیار کیا جیسا سرکاری دفاتر میں ان کے ساتھ روا رکھا جاتا تھا۔ اس حسنِ عمل کی بدولت بہت ہی قلیل مدت میں، عوام کی اکثریت نے عزتِ نفس جیسے موزی مرض کے ساتھ ساتھ احترامِ باہمی جیسی خطرناک بیماری سے بھی نجات پا لی۔ مقتدر حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کے فقید المثال علاج اور کامیاب قومی تربیت کا نتیجہ ہے کہ آج، جب شہریوں کو سرِ بازار مرغا بننے کا حکم دیا جاتا ہے تو وہ چوں بھی نہیں کرتے اور بہ خوشی مرغا بننے پر تیار ہو جاتے ہیں اور اس حکم کی قانونی حیثیت سے متعلق فضول سوالات کر کے اپنا اور پولیس کا وقت برباد نہیں کرتے۔ کیوں کہ وہ اپنے وسیع عملی تجربے کی بدولت، جان چکے ہیں کہ اس فوری اطاعت سے جو قیمتی وقت بچے گا وہ بھی بالآخر دیگر عوامی فلاح کے کاموں ہی میں صرف ہو گا۔

کرونا ایس او پیز پر عمل در آمد کرانے کے لیے قانون کے محافظ جس دھڑلے اور دیدہ دلیری سے قانون اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں اور جس شان دار طریقے سے افسرانِ بالا نے اس پر چپ سادھ رکھی ہے؛ اس سے عوام میں پولیس کے رویے میں بہتری کے بڑھتے ہوئےخدشات نے دم توڑ دیا ہے۔ مؤقر عوامی حلقوں کے مطابق لوگوں نے پولیس کے رویے میں بہتری کا اندیشہ رفع ہونے پر سکھ کا سانس لیا ہے کیوں کہ ایسی کوئی بھی مثبت تبدیلی عوام کی اکثریت کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی تھی جو چوہتر سالہ مسلسل تذلیل سے اس قدر مانوس ہو چکے ہیں کہ اب:

‘ ان کو عزت ملے گی تو مر جائیں گے’

قانون کے رکھوالوں کے ہاتھوں دھڑا دھڑ عوامی خدمت کو ملک کی عدالتیں بھی بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس کی عدیم النظیر کارکردگی کو سراہنے کے لیے عادلوں نے بہ طور انعام، حکمت آمیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اس تناظر میں عوام ایک مرتبہ پھر آئینِ پاکستان میں فوری ترمیم کے زریعے بنیادی انسانی حقوق کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہ حقوق آئین اور عدالتوں پر بلاوجہ بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ اس مطالبے کے جواب میں عوام کو مسلسل، عملی یقین دہانی کروائی جا رہی ہے کہ جب عدالتیں اس بوجھ کو محسوس ہی نہیں کر رہیں تو انھیں بھی اس بابت پریشان ہونے کی مطلق حاجت نہیں۔ عوام عدالتوں کی اس عملی یقین دہانی کے بعد کافی افاقہ محسوس کر رہے ہیں۔

وطنِ عزیز میں اس قدر مثالی اور اطمینان بخش صورتِ حال کے باوجود کچھ سرپھرے روشن خیال اور ترقی پسند حلقے محض امنِ عامہ میں خلل ڈالنے کی بری نیت سے شہریوں کے ساتھ اس توہین آمیز سلوک پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ان سرپھرے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ ہر شہری کا آئینی حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یوں ماورائے عدالت گلیوں میں زاتی عدالتیں لگانے سے ملک میں مزید انارکی پھیلے گی۔ کرونا ایک مہلک وبا ہے، ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی ہونی چاہئیے تاہم اس کی آڑ میں کسی شہری کے ساتھ توہین آمیز رویے کی کسی بھی صورت میں تائید نہیں کی جا سکتی۔ مقتدر حلقوں میں سماج کے اس انتہائی اقلیتی طبقے کے موقف کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جو عوام کو مسلسل انسانی حقوق، عزتِ نفس، قانون کی حکمرانی اور شخصی آزادیوں جیسے فتنہ پرور نظریات سے گم راہ کرنے کی مذموم کاروائیوں میں مصروف ہیں۔ وطنِ عزیز کے فرماں رواؤں کا کہنا ہے کہ ایسے ملک دشمن عناصر کی مستقل بیخ کنی ناگزیر ہے کہ یہ ہماری چوہتر سالہ محنت پر پانی پھیر کر ملکی امن کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا شہری اپنے اور ملک کے وسیع ترین مفاد میں ان فتنہ سازوں سے ہمہ وقت چوکنا رہیں اور بلا چون و چرا مرغا بن کر محبِ وطن شہری ہونے کا ثبوت دیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...