شہزادیوں کا فرار: محمد بن راشد آل مکتوم کی شخصیت کے اوجھل پہلو

مائکل صفی

179

رات کے اوقات میں تین چار مرتبہ ایسا ہوجاتا تھا کہ شدید درد کی وجہ سے وہ لڑکا نیند سے بیدار ہوجاتا۔ مستقبل میں دبئی کا حاکم بننے والا نوعمر لڑکا شاید اپنے صحرائی خیمے میں اکیلا ہوتا تھا جو بارہا بچھوؤں کے ڈسنے سے اٹھنا پڑتا۔ اسے جلد ہی علم ہوگیا کہ یہ اتفاقیہ نہیں ہو رہا تھا۔ ایک قبائلی بزرگ آٹھ سالہ لڑکے کے بستر پر اس کے سونے سے قبل بچھو ڈال دیتا تھا۔ تاکہ اسے ایک تو صحرا میں بقا اور زندگی گزارنے کا سبق ملے کہ سونے سے قبل کبھی بھی اپنے بستر اور خیمے کو چیک کرنا مت بھولو، اور دوسرا یہ کہ لڑکے کے جسم میں بچھو کے زہر کے خلاف مدافعت پیدا ہوجائے۔ شیخ محمد بن راشد کہتے ہیں کہ آج بھی بچھو کا زہر ان کے جسم پر اثر نہیں کرتا۔

انہوں نے اس بارے لکھا ہے: ’’ہر وہ چیز جو تمہیں تکلیف دے، ضروری نہیں کہ وہ شر ہو، بعض اوقات درد ہمیں سبق دیتا ہے اور مدافعت پیدا کرتا ہے‘‘۔

یہ واقعہ اس شخص کی اصل اساطیر میں سے ایک ہے جس نے اپنے خاندان کے زیرتسلط ایک صحرائی علاقے کو دنیا کے مسحورکن، جدید ترین اور سیاحوں کے لیے مرکزِنگاہ شہر میں بدل دیا۔ اور اس سب نے محمد بن راشد کی شخصیت سے جڑے تنازعات کو اوجھل کیے رکھا تھا۔ مگر پچھلے تین برسوں سے یہ تنازعات دنیا کے لیے توجہ کا محور بن گئے ہیں۔

پچھلے ہفتے کے دوران ان کی 35 سالہ بیٹی شیخہ لطیفہ کے مختصر ویڈیو پیغامات میڈیا پر گردش کرتے رہے ہیں جن میں وہ کہتی نظر آتی ہیں کہ وہ سخت حفاظتی تحویل کے حامل گھر میں قیدی کی طرح رہ رہی ہیں اور ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ شہزادی کے یہ پریشان کن ویڈیو پیغامات محمد بن راشد کی شخصیت کو اس سے مختلف ظاہر کرتے ہیں جس کی شبیہ انہوں نے خود بطور ایک بہترین کاروباری، شاعر، گھڑ سوار اور ایک ترقی پسند عرب لیڈر کے بنا رکھی ہے۔  اگرچہ ان کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے جو چار ارب ڈالر کی ثروت کے مالک ہیں اور ایک ایسے شہر کے امور چلاتے ہیں جو عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں گڑھ کی حیثیت رکھتا ہے، مگر اس کے باوجود حیران کن بات یہ ہے کہ ان کی ذات کے بارے میں کوئی خاص معلومات موجود نہیں ہیں، پچھلے سال ایک برطانوی جج نے ان کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ان کی شخصیت انتہائی طور پہ نجی قسم کی ہے‘‘۔

پچھلے سال ایک برطانوی جج نے ان کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ان کی شخصیت انتہائی طور پہ نجی قسم کی ہے‘‘

ان کی شخصیت کے بارے میں جو معلومات عام ہیں وہ ان کی اپنی طرف سے فراہم کردہ اور اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی ہیں۔ تین یادداشتیں، ایک شعری مجموعہ، اور 2017ء میں شائع ہونے والی کتاب جو خوشی اور مثبت احساسات کے موضوع سے متعلق ہے۔

محمد بن راشد کی ذات کے دوسرے پہلو کی ایک جھلک دو دہائیاں قبل سامنے آئی جب ان کی بیٹی شمسہ بن محمد راشد المکتوم نے ایک برطانوی وکیل کو فون کالی کی تھی کہ ان کے باپ نے انہیں خود سے الگ کردیا ہے۔ اس کال کے چند ہفتوں بعد شہزادی کیمبرج شہر کی کسی سڑک سے غائب ہوئی اور اس کا کوئی پتہ نہیں چلا۔ پھر 2018ء میں ان کی دوسری بیٹی شیخہ لطیفہ کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ کہتی ہیں وہ بھاگنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ اور مزید کہتی ہیں کہ ’’اگر آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ میرے ساتھ کچھ برا ہوگیا ہے، یا تو میں مار دی گئی ہوں یا پھر انتہائی سخت مشکل میں ہوں‘‘۔ اس کے بعد پچھلے چند سالوں میبں مزید ایسے ویڈیو پیغامات کا ظہور اور عدالتی احکامات نے محمد بن راشد کی شخصیت کے اوجھل پہلو کو نمایاں کرنا شروع کیا ہے۔

دبئی ہمیشہ سے دنیا کی ثروت کا محور نہیں تھا۔ 71 سالہ محمد بن راشد المکتوم جب پیدا ہوئے تھے تب وہاں پہلا ہستپال، سرکاری سکول، ایئرپورٹ بھی تعمیر نہیں ہوئے تھے۔ بلکہ ابھی برطانوی استعمار سے آزادی بھی نہیں ملی تھی۔ انہوں نے 2014ء میں بی بی سی کے انٹرویو میں کہا تھا ’’جب میں پیدا ہوا تھا تب یہاں بجلی اور پانی کی سہولیات نہیں تھیں‘‘۔ انہوں نے اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ سخت اور ناروا صحرا کے وسط میں بقاء اور زندگی گزارنے کے طریقے سیکھ  رہے تھے تو ہرن، تلور، ریگستانی مرغابیوں اور اونٹوں کی کھوج لگاتے تھے، ان کے تلووں کے نشانات انسانی فنگرپرنٹس کی طرح ممتاز ہوتے ہیں۔ میرے والد نے مجھے سکھایا تھا کہ ’’صحرا میں کھانے کا انتظام رکھنے کے لیے خاص حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔

وہ سرزمین جس پر مستقبل میں شیخ محمد بن راشد نے حکومت کرنی تھی، اس میں ابھی تیل کی دریافت نہیں ہوئی تھی۔ لیکن دبئی میں بقاء کی حکمت عملی اس کے آئندہ کل کی تشکیل کے لیے کام کر رہی تھی۔ جب آس پاس کی تمام بندرگاہوں پر ٹیکس اور محصولات کا اضافہ کیا جارہا تھا، اس وقت دبئی کے امراء نے ٹیکس کا خاتمہ کردیا۔ جس کے بعد ایران اور بھارت سے تاجروں کی قطاریں لگ گئیں اور اس شہر کا نام موتی اور سونے کے مترادف بن گیا۔

شیخ محمد راشد جو یہ سب دیکھ رہے تھے اس پیشرفت سے انہوں نے یہ سبق سیکھا کہ ’’عصرحاضر کے حقیقی لیڈرز خاموش قدآور کردار ہیں جو اصحاب ثروت ہیں، نہ کہ سیاستدان جو شورشرابہ مچائے رکھتے ہیں‘‘۔

ان قدآور کرداروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ان کے طور طریقے سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ 1966ء میں ان کے والد نے انہیں کیمبرج یونیورسٹی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے بھیجا۔ انہیں مغرب کی ’’عجیب مگر دلچسپ خوشبو‘‘ یاد ہے۔ انہوں نے وہاں اپنے پہلے کھانے میں دنبے کا گوشت، مٹر اور تلے ہوئے آلو کھائے، لیکن اس میں سے جو کھانا بچ گیا اسے فرِج میں رکھ دیا گیا اور دوبارہ گرم کرکے اگلے کھانے کے وقت پیش کردیا گیا۔ محمد بن راشد لکھتے ہیں: ’’یہ کھاتے ہوئے میرے ذہن میں عجیب وغریب خیالات آرہے تھے۔ دبئی میں ہم ہمیشہ تازہ کھانا کھاتے تھے، کھانے والے لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کھانے کے بچ جانے کا تصور ہی نہیں تھا‘‘۔

2019ء میں شائع ہونے والی اپنی آخری یادداشت میں جہاں انہوں نے والدین، اجداد اور دبئی کے حالات و تاریخ کو قلم بند کیا ہے، وہیں اس کے ساتھ انہوں نے ایک غیرمعمولی اور حیران کن امر کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جس کا ان کی زندگی سے کوئی تعلق ہے۔ اس میں وہ بتاتے ہیں کہ صحرائی بچھوؤں کے خلاف ان کے اندر مدافعت ہوسکتی ہے، مگر بچھو صرف ایک قسم کے نہیں ہوتے

جب دبئی کا آس پاس کی دیگر ریاستوں کے ساتھ اتحاد ہوا اور عرب امارات کی بنیاد رکھی گئی تو نوجوانوں شہزادے کو پہلی فوج اور وزارت دفاع کے قیام کی ذمہ داری سونپی گئی۔ لیکن شہزاہ ہوابازی کی طرف اس حد تک راغب تھا کہ اس کی سوچ کو بدلا نہیں جاسکتا تھا۔ نوجوانی ہی میں جب وہ پہلی مرتبہ ہیتھرو ایئرپورٹ کی چکاچوند میں کھڑا تھا تو اس کے ذہن میں یہ عزم ابھرا تھا کہ ’’ہمارا مستقبل دبئی کو عالمی سفری منزل بنانے میں پوشیدہ ہے‘‘۔ ائیرلائن انڈسٹری کے مشیروں اور انجینئرز کے اعتراضات و تحفظات کے باوجود اگلی چار دہائیوں کے دوران مسلسل جدوجہد کے بل بوتے پر انہوں نے اس خواب کو تعبیر دی۔ دبئی ہوابازی کے شعبے کا عالمی مرکز بن گیا اور یہاں سیاحت اور اس سے جڑے شعبوں کی اربوں ڈالر کی صنعت قائم ہوگئی۔

تمام تر مشکلات کے باوجود کامیابی کے حصول کی کہانی میں محمد بن راشد المکتوم نے اپنی کتاب کے آخری تین ابواب ایک اور لطیفہ نام کی خاتون کے ذکر کے لیے مختص کردیے۔ یہ ان کی والدہ تھیں۔ وہ ان کی ’’پہلی محبت، دل اور رُوح‘‘ تھیں۔ وہ ’’میری زندگی میں سب سے حیرت انگیز، نرم خو، معاون، مہربان اور انتہائی غیرمعمولی فرد کی طرح شامل رہیں‘‘۔ 1983ء میں ان کی موت نے محمد بن راشد نے انہیں کبیدہ خاطر کردیا۔

سرکاری سطح پر ان کی بیویوں کا بہت کم ذکر آتا ہے۔ ان کی سب سے چھوٹی اور چھٹے نمبر کی اہلیہ شہزادی ھیا کی کہانی منظرعام پر آئی ہے۔ شادی کے متأثر ہونے کے بعد شہزادی ھیا نے کہا تھا کہ وہ لطیفہ اور شمسہ کے بارے میں فکرمند ہیں۔ لندن میں اس بیان کے چند دنوں بعد انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں اپنے گھر سے کئی بار بندوق ملی ہے جس کے ساتھ پرچی ہوتی ہے جس پہ یہ درج ہوتا ہے کہ ’’ہم تمہارے بیٹے کو لے جائیں گے، تمہاری بیٹی ہماری ہے، اور تمہاری زندگی ختم ہوچکی ہے‘‘۔

برطانیہ کی ایک عدالت نے پچھلے برس یہ کہا تھا کہ ان دھمکیوں اور ہراساں کرنے کے واقعات کے ساتھ شہزادی لطیفہ اور شہزادی شمسہ کی جبری واپسی کے پیچھے موجود افواہیں، اس کی رائے میں درست محسوس ہوتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود یہ لگتا ہے کہ اس پس منظر اور عدالتی بیان کے بعد بھی دبئی اور برطانیہ کے مابین دفاعی و تجارتی تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ نہ اس سے محمد بن راشد کے ذاتی روابط کو کوئی گزند پہنچی ہے۔

تھنک ٹینک چیٹم ہاؤس میں خلیجی امور پہ دسترس رکھنے والے ماہر کرسٹین کوٹس کا کہنا ہے کہ ’’گھڑ دوڑ کے کھیل میں ایک نمایاں نام ہونے کی وجہ سے وہ برطانوی معاشرے کے اوپر کے طبقے میں اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ اور برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ ان کے گہرے روابط قائم ہیں جس کے سبب انہیں احترام ملتا ہے‘‘۔

2019ء میں شاثع ہونے والی اپنی آخری یادداشت میں جہاں انہوں نے والدین، اجداد اور دبئی کے حالات و تاریخ کو قلم بند کیا ہے، وہیں اس کے ساتھ انہوں نے ایک غیرمعمولی اور حیران کن پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ اس میں وہ بتاتے ہیں کہ صحرائی بچھوؤں کے خلاف ان میں مدافعت ہوسکتی ہے، مگر بچھو صرف ایک قسم کے نہیں ہوتے۔

وہ لکھتے ہیں:

’’کہا جاتا ہے کہ انسانی بچھو سازشیں کرنے اور افواہیں پھیلانے کے کردار میں زمین پر اپنا زہر انڈیلتے ہیں، وہ رُوح کو تکلیف دیتے ہیں، رشتوں میں دراڑیں ڈالتے ہیں اور تفرقہ ڈالتے ہیں۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں: ’’صحرائی بچھوؤں کے ساتھ سونا شاید آسان ہو، مگر انسانی بچھوؤں کے ساتھ رہنا آسان نہیں ہوتا‘‘۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: دی گارڈین

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...