مولانا طارق جمیل کا برانڈ

237

مولانا طارق جمیل صاحب نے ایک برانڈ اپنے نام سے متعارف کروایا ہے۔ ان کا کہنا ہے میری سرپرستی میں چلنے والے اداروں کے اخراجات اور اُن میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی کفالت اس کاروبار کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے علماء کرام سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ زکوٰۃ اور چندوں کے بجائے بزنس اور تجارت سے کمائی جانے والی دولت کے ذریعے ادارے چلائیں تاکہ عوام میں اُن کی عزت بحال ہو۔ مولانا کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے  لوگ علماء کرام کی عزت نہیں کرتے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اِن کے برانڈ کے ملبوسات کس قیمت پر میسر ہوں گے؟ کیا ان کے تیار کردہ لباس صرف امیر یا امیر ترین لوگ ہی خرید سکیں گے یا عام آدمی بھی خرید پائے گا۔ اس سے پہلے جنید جمشید مرحوم کا برانڈ مارکیٹ میں ہے جو مہنگے ترین برینڈز میں شمار ہوتا ہے۔ مولانا طارق جمیل کا تعارف ایک مُبلِّغ اور داعی کا ہے. اب اُن کا امتحان ہے کہ وہ جس عملی زندگی کے بارے میں تاجر، سیاستدان، حکمران اور والدین کو نصیحتیں کرتے تھے، خود کس طرح اس کاروبار کو چلاتے ہیں؟ پاکستان کے نامور عالم دین کے تاجر بھائی نے ایک روز مجھ سے کہا کہ میں اپنے بھائی سے کہا کرتا ہوں آپ گھنٹے کی تقریر میں نصیحت و تنقید کے بعد ممبر سے نیچے اتر آتے ہیں، ذرا ہم سے پوچھیں ان نصیحتوں پر عمل کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے؟ جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی سے بچنا، ملاوٹ کے بغیر سودا بیچنا، جائز منافع لینا، یہ سب کام مارکیٹ میں بیٹھ کر نبھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ممبر پر بیٹھ کر معاشرے کی برائیوں کی نشاندہی کرنا اور قرآنی آیات و احادیث سنانا بہت آسان ہوتا ہے۔ حقیقتاً  وہ لوگ ولی اللہ ہیں جو مارکیٹ میں بیٹھے، حلال روزی کماتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں انبیاء، صدّقین اور شھداء کی رفاقت کل قیامت میں نصیب ہو گی۔

مولانا طارق جمیل صاحب نے جو قدم اٹھایا ہے۔ یہ ہماری تاریخ میں نیا اور انوکھا نہیں ہے۔ آئمہ، فقہاء کرام اور علماء کرام کاروبار کرتے  اور کاروبار سے لوگوں کی کفالت بھی کرتے رہے ہیں۔ امام ابو یوسف یتیم بچے تھے ان کے سوا گھر کی کفالت کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ حضرت امام ابو حنیفہ نے انہیں کام سے اٹھا کر تعلیم میں مشغول کر دیا۔ امام ابو یوسف کی والدہ نے آپ سے کہا کہ اگر بیٹا پڑھے گا تو گھر کے اخراجات کیسے چلیں گے؟ امام ابو حنیفہ نے فرمایا اسے پڑھنے دو گھر کے اخراجات کا بوجھ میں اٹھاتا ہوں۔ امام ابوحنیفہ بھی کپڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ ایک بار آپ نے کہیں جانا تھا تو آپ نے ملازم سے کہا کہ فلاں کپڑے میں خرابی ہے اگر کوئی لینے آئے تو  اُسے اس عیب سے خبردار کر دینا۔ ملازم بھول گیا۔ جب کپڑا گاہک لے گیا تو اُس کے بعد امام ابوحنیفہ آئے۔ جب آپ کو  معاملے کا علم ہوا تو آپ نے وہ رقم راہِ خدا میں دے دی، اپنے استعمال میں نہیں لائے۔ آج بھی بہت سے علماء اور اُن کے صاحبزادگان تجارت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اِن کے برانڈ کے ملبوسات کس قیمت پر میسر ہوں گے؟ کیا ان کے تیار کردہ لباس صرف امیر یا امیر ترین لوگ ہی خرید سکیں گے یا عام آدمی بھی خرید پائے گا۔ اس سے پہلے جنید جمشید مرحوم کا برانڈ مارکیٹ میں ہے جو مہنگے ترین برینڈز میں شمار ہوتا ہے

میرا ذاتی مشاہدہ ہے وہ نوجوان جو بزنس کرتے ہیں یا کسی اور شعبے سے وابستہ ہیں۔ وہ فرقہ واریت یا گدی نشینی کے معاملات میں آنا پسند نہیں کرتے۔ وہ آزادانہ کاروبار کرتے اور ایک عام شہری کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔ فرقہ واریت اور گدی نشینی میں دلچسپی صرف اُن صاحبزادگان کی ہوتی ہے جو یا تو سب سے بڑے ہوتے ہیں یا پھر روزگار میں دوسروں سے پیچھے ہوتے ہیں۔ فرقہ واریت اور پیری مریدی کے ذریعے عوام کے استحصال کے دروازے کو ہمیشہ کے لئے بند کرنا ہے تو اُس کا بہترین ذریعہ کاروبار ہے۔

جب پاکستان تخلیق ہو چکا اُس وقت ایک علمی شخصیت نے حضرت قائداعظم سے گزارش کی تھی کہ ہمیں جتنے علماء کرام کی ضرورت ہے اس سے زیادہ علماء کرام ہجرت کر کے پاکستان آ رہے ہیں۔ اس لیے انہیں حکومتی سرپرستی میں کاروبار کے چھوٹے چھوٹے یونٹ شروع کرکے دئیے جائیں تاکہ یہ لوگ کاروبار کریں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان کی گلی محلے میں چار چار مسجدیں ہوں گی اور فرقہ واریت عام ہوگی۔ اُس وقت ریاستِ پاکستان نے اس مسئلے کو  بوجوہ اہمیت نہ دی۔ آج نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

اسلامی تاریخ اور فقہ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے زکوٰة ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ وصول کرتی، اجتماعی معاملات اور منصوبوں پر خرچ کرتی تھی۔ زکوة کا استعمال جب سے انفرادی طور پر جمع کرنا اور خرچ کرنا ہوا ہے اس سے یہ مسائل پیدا ہوئےہیں۔ آج مدارس کی حیثیت فیکٹری سے زیادہ نہیں رہی۔ جس میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی حالت فیکٹری کے ورکروں سے زیادہ اچھی نہیں ہوتی لیکن فیکٹری کے مالکان اور اولاد  امیر ترین ہوتے ہیں۔ اگر مدارس کے نظام ریگولرائز کرنے کے بات کی جائے تو فوراً احتجاجی آوازیں بلند ہوتی ہیں کہ حکومت اسلام کے خلاف اقدامات کر رہی ہے۔ ان مدارس کے ذمہ داران سے کم ازکم اس کا حساب تو ضرور لیا جانا چاہیے کہ طلباء و طالبات کے لیے مہیا کردہ نظام بدتر کیوں ہے؟ اور آپ کا اپنا رہن سہن اتنا شاہانہ اور امیرانہ کیوں ہے؟

مولانا طارق جمیل صاحب کا تجارت کرنا احسن قدم ہے۔ اللہ تعالی انہیں کامیابی عطا کرے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...