حیرت تو حیرت ہے!

99

الیکشن کمیشن کے فیصلے نے خو شگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔

حیرت مگر کتنی ہی خوشگوار کیوں نہ ہو، حیرت ہی ہوتی ہے۔ حیرت کیا ہے؟ خلافِ معمول یا خلافِ توقع واقعے پر انسانی ردِ عمل۔ چاند روز نکلتا ہے۔ ہلال سے بدر ہوتا اور پھر بدر سے ہلال ہوتاہے۔ اس میں کچھ خلافِ معمول نہیں، اس لیے کسی کو حیرت نہیں ہوتی۔ یہی چاند اگر شق ہو جائے تو انسان حیرت میں ڈوب جائے۔ حیرت عادت پر نہیں، خرقِ عادت پر ہوتی ہے۔

جس سماج میں لوگ سچ بولتے ہوں، عدالتیں انصاف کرتی ہوں، حکمران امانت دار ہوں، وہاں کسی شہری کی حق گوئی، کسی عدالت کا انصاف اور کسی حکمران کی امانت داری حیرت میں مبتلا نہیں کرتی۔ ہاں کچھ اس کے بر خلاف ہو تو حیرت ہوتی ہے۔ قوم آج الیکشن کمیشن کے فیصلے پر خوشگوار حیرت میں مبتلا ہے‘ جیسے کچھ خلافِ واقعہ ہو گیا‘ جیسے قمر شق ہو گیا۔

حیرت سے مگر کیا کسی خوش گمانی کو جنم لینا چاہیے؟ کیا مان لینا چاہیے کہ دھند ڈسکہ کی فضاہی سے نہیں، ملک کے تمام آفاق سے چھٹ گئی؟ کیا اب ہرووٹ کو عزت ملے گی؟ کیا اب ہرفیصلہ پارلیمنٹ کیا کرے گی؟ کیا سب خودکو آئین کے دائرے میں قید کرلیں گے؟ کیا آزادیٔ رائے کو بطور قدر مان لیا جائے گا؟ کیا وطن کے افق پر نئی صبح کے آثار ہیں؟ میرا دل ان سوالات کے جواب اثبات میں نہیں دیتا۔

اس خوش گمانی کو لوگ بعض دوسرے واقعات کی تائید سے یقین میں بدلنا چاہتے ہیں‘ جیسے حمزہ شریف کی ضمانت‘ جیسے تحریکِ انصاف کی صفوں میں پھیلی سراسیمگی۔ داستان گو ان نقطوں کی مدد سے ایک خط کھینچتے اور پھر بتاتے ہیں کہ سیاست کی گاڑی صراطِ مستقیم پہ چل نکلی ہے۔ اب راج کرے گی خلقِ خدا۔ میرا معاملہ مگر یہ ہے کہ ‘ خوشی سے مرنہ جاتے اگر اعتبار ہوتا‘۔

پہلی بات: جس تبدیلی کی نوید سنائی جارہی ہے، اس کی تائید میں کوئی ٹھوس دلیل موجود نہیں۔ سیاست کے میدان میں وہی پرانی صف آرائی ہے۔ وہی نقطہ ہائے نظر کا تصادم ہے۔ ضمنی الیکشن کے نتائج پر نواز شریف صاحب کا وڈیو پیغام سن لیجیے۔ مریم نواز کے لہجے میں وہی شدت ہے۔ وہ اس دھاندلی کوقومی سطح کا منصوبہ سمجھتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ مریم اس وقت قدموں کے نشان ڈسکہ سے اسلام آباد کی طرف جاتا دیکھ رہی ہیں، راولپنڈی کی طرف نہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں مگر فاصلہ اتنا کم ہے کہ لمحوں میں پاٹا جا سکتا ہے۔

دوسری بات: میرا تجزیہ اب بھی یہی ہے کہ موجودہ سیاسی نظام میں شریف خاندان کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ضمنی انتخابات نے بتا دیا کہ ملک کی سیاست وہیں کھڑی ہے جہاں 2013ء میں تھی۔ اگر کوئی تبدیلی آئی ہے تووہ تحریک انصاف کی مقبولیت میں ہے۔ وہ پہلے سے کہیں کم مقبول ہے۔ اس کی کوئی واقعاتی شہادت موجود نہیں کہ گزشتہ تین سالوں میں نون لیگ اور پیپلزپارٹی کی مقبولیت میں کوئی کمی آئی ہے۔ اس کی گواہی البتہ موجود ہے کہ تحریکِ انصاف کی مقبولیت کم ہوئی ہے۔

ڈسکہ کی دھند چھٹ جانے کا یہ مطلب نہیں کہ سارے ملک کا مطلع صاف ہوگیا ہے۔ قومی افق کوصرف عوامی جدوجہد ہی نکھار سکتی ہے۔ سواری اپنے سامان کی خود حفاظت کرے تو راہزنوں سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ سوشل میڈیا نے یہ صورتحال پیدا کر دی ہے کہ کسی چہرے کا چھپا رہنا اب ممکن نہیں۔ کوئی ووٹ چرا کر بھاگ نہیں سکتا۔ یہی امید کی کرن ہے

اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ انتخابات کے نتائج ابھی سے بتائے جا سکتے ہیں اگر انتخابی فضا میں کوئی دھند نہ ہو۔ اگر شریف خاندان کیلئے کوئی جگہ نہیں تو یہ دھند مکمل طور پر صاف نہیں ہوسکتی۔ یہ ممکن ہے کہ مارچ میں ہونے والے لانگ مارچ کو روکنے کیلئے یہ یقین دلانا مقصود ہوکہ آئندہ انتخابات دھند کی نذر نہیں ہوں گے۔ ثبوت میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ پیش کیا جا سکتا ہے۔ اگر اپوزیشن اس پرایمان لے آتی ہے تواس کا انجام وہی ہوگا جو پچھلے سال مولانا فضل الرحمن کا ہوا تھا۔

تیسری بات: طاقت ایک مرکز سے دوسرے مرکز کو آسانی سے منتقل نہیں ہوتی۔ اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ گروہ بہت کمزور ہو جائے جو اقتدارکے مرکزپر قابض ہے۔ دوسرا یہ کہ اُس مرکزکی قیادت میں جوہری تبدیلی آجائے اور نئی قیادت حکمتِ عملی کویکسر بدل ڈالے۔ مثال کے طور پر ایک سیاسی جماعت کی قیادت بدل جائے اور نئی قیادت اپنا لائحہ عمل تبدیل کردے۔ اس وقت دونوں باتوں کے آثار نہیں ہیں۔ نہ توطاقت کا موجودہ مرکز کمزور ہوا ہے اورنہ ہی اس کی قیادت میں کسی تبدیلی کا امکان ہے۔

چوتھی بات: مقتدر حلقوں نے موجودہ سیاسی حکومت کی پشت پناہی چھوڑدی ہے اوراس کے مقدرکا فیصلہ اس کے ہاتھ میں دے دیاہے۔ اب اس حکومت میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ اپنا وزن اٹھا سکے۔ کیا الیکشن کمیشن کے فیصلے سے یہ نتیجہ برآمد کیا جا سکتا ہے؟ میرا خیال ہے فی الحال یہ ممکن نہیں ہے۔ اس حکومت کو تنہا صرف اس صورت میں چھوڑا جا سکتاہے جب آنے والے کچھ ضمانتیں فراہم کریں۔

سب سے بڑی ضمانت ماضی کوبھول جانا ہے۔ اس کی یقین دہانی کہ 2014ء سے 2018ء کے انتخابات تک جو کچھ ہوا، اس کا کوئی ذکر نہیں ہو گا۔ تاریخ کے اس باب کو نہیں کھولا جائے گا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ضیاالحق اور پرویز مشرف نے آئینی ترامیم سے اپنے عہدِ اقتدار کو آئینی تحفظ فراہم کیا تھا۔ اگر سیاسی جماعتیں اس کی ضمانت دیں تو تحریکِ انصاف کو تنہا چھوڑا جا سکتا ہے۔ میرا خیال ہے، اس کا امکان نہیں۔ اس لیے سردست اس کا بھی کوئی امکان نہیں کہ مقتدر حلقے اس حکومت کو تنہا چھوڑ دیں۔

یہ بات صرف اسی صورت میں مانی جا سکتی ہے جب نون لیگ نواز شریف کے بجائے شہباز شریف کا بیانیہ اختیار کرلے۔ مریم نواز پس منظر میں چلی جائیں اور شہباز شریف رہا ہوکر قیادت اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ میرا کہنا ہے کہ اس سے بھی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اس سے نوازلیگ کمزور ہوجائے گی اور پھر انہی مقتدر قوتوں کے رحم وکرم پر ہوگی۔ شہبازشریف صاحب کے ساتھ وہی کچھ ہوگا جو پہلے ہواتھا۔ وجہ وہی ہے کہ اس سیاسی نظام میں شریف خاندان کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

یہ چند اسباب ہیں جن کی وجہ سے میرا خیال ہے کہ ڈسکہ کی دھند چھٹ جانے کا یہ مطلب نہیں کہ سارے ملک کا مطلع صاف ہوگیا ہے۔ قومی افق کوصرف عوامی جدوجہد ہی نکھار سکتی ہے۔ سواری اپنے سامان کی خود حفاظت کرے توراہزنوں سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ سوشل میڈیا نے یہ صورتحال پیدا کر دی ہے کہ کسی چہرے کا چھپا رہنا اب ممکن نہیں۔ کوئی ووٹ چراکر بھاگ نہیں سکتا۔ یہی امید کی کرن ہے۔

یہ عوامی جدوجہد ہے جو پُرامن طریقے سے طاقت کا مرکز تبدیل کر سکتی ہے۔ ڈسکہ کے انتخابات نے اس کا ثبوت فراہم کردیا ہے۔ اس کیلئے سیاسی جماعتوں اور میڈیا کا کردار مرکزی ہے۔ سیاسی جماعتیں اگر جمہوریت پر ڈٹ جائیں اور میڈیا جمہوری اقدار سے اپنی وابستگی کا ثبوت دے تو منظر بدل سکتا ہے۔ ڈسکہ میں دوباہ انتخابات کا فیصلہ دراصل عوامی بیداری کا نتیجہ ہے۔ یہ مرکزِ اقتدار میں کسی سوچ کی تبدیلی کا اظہار نہیں سمجھتا۔

ریاست عوام سے نہیں لڑ سکتی۔ ریاست کی نمائندگی ریاستی ادارے کرتے ہیں۔ وہ عوامی جذبات سے بے نیاز نہیں ہو سکتے۔ جب ہوتے ہیں تو ملک کو اس کی ناقابلِ تلافی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ مشرقی پاکستان کا تجربہ اس کا گواہ ہے۔ ابھی الیکشن کمیشن کو غیر ملکی فنڈنگ کا اہم فیصلہ سنانا ہے۔ سپریم کورٹ سے سینیٹ کے لیے خفیہ رائے دہی کا فیصلہ آنا ہے۔ فیصلہ راولپنڈی میں ہو یا اسلام آباد میں، فیصلہ ساز عوام کے جذبات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

پی ڈی ایم کی جدوجہد نے ان جذبات کو زبان دی ہے۔ اس جدوجہد کا تسلسل ہی تبدیلی کی ضمانت ہے۔ حیرت کتنی ہی خوش گوار کیوں نہ ہو، خوش گمانی میں نہیں ڈھلنی چاہیے۔

بشکریہ: روزنامہ دُنیا

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...