ایف اے ٹی ایف کی تلوار کب تک مسلط رہے گی؟

157

منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے سدباب کے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس‘ نے اپنے تین روزہ اجلاس کی تکمیل کے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستان جُون 2021ء تک بدستور گرے لسٹ میں رہے گا۔ اگرچہ تنظیم کے صدر کی جانب سے حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا گیا، تاہم بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کی جانب سے پیش کی گئیں 27 تجاویز میں سے 3 پر مزید بہتر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ حکومت نے اب تک بھرپور اقدامات کیے ہیں لیکن اگر مزید کچھ چیزوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تو ہم وہ بھی کریں گے۔

پاکستان نے اب تک منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے معاشی اور بینکنگ کے نظام کے حوالے سے کئی مؤثر اقدامات کیے ہیں، تاہم ایف اے ٹی ایف کا موجودہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ حکومت اب بھی ان جرائم میں ملوث تنظیموں اور مشتبہ عسکریت پسندوں کو مکمل طور پہ قانونی گرفت میں نہیں لائی ہے اور ان کے سزایاب ہونے ہونے کا عمل تسلی بخش نہیں ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے پچھلے کچھ عرصے میں کئی تنظیموں پر پابندی عائد کی اور کئی عسکریت پسند رہنماؤں کو عدالتی کٹہرے میں بھی لائی ہے، لیکن اس ضمن میں کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے لیے شاید یہ ناکافی ہے، جب تک ان کے خلاف عملی کاروائیاں نہیں کی جاتیں۔ جن تین نکات پر مزید کام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ مجموعی طور پہ اسی پہلو سے متعلق ہیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فیصلے پر بعض حکومتی ذمہ داران کی طرف سے یہ تأثر بھی دیا گیا ہے کہ اس تنظیم کا فیصلہ سیاسی اور جانبدارانہ ہے۔ تاہم، باوجود اس کے کہ تنظیم کے فیصلے میں سیاسی عنصر کا عمل دخل ہوسکتا ہے، یہ بات نظرانداز نہیں کی جاسکتی ہے کہ جو مطالبات ایک عرصے سے کیے جارہے ہیں وہ پاکستان کے اپنے مفاد میں ہی ہیں۔ اور دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ شدت پسندی کے حوالے سے واقعات تسلسل کے ساتھ رونما ہورہے ہیں، اس لیے ہمارا نقطہ نظر جو بھی ہو بین الاقوامی سطح پر حالات ہمارے حق میں نہیں ہیں۔ قانونی حوالے سے ملک میں کافی پیش رفت موجود ہے مگر ان سب کو عملی جامہ پہنانا بھی ضروری ہے۔

ایک طویل عرصے سے گرے لسٹ میں رہنے کی وجہ سے پاکستان کو معیشت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ اس چیز کی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ پاکستان اب تیزی کے ساتھ سنجیدہ اقدامات کرتے ہوئے ان پابندیوں سے باہر نکلے۔ ایف اے ٹی ایف کے فیصلے میں چاہے سیاسی پہلو موجود ہو ہمارے لیے مگر اس کی تجاویز پر عملدرآمد کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے، اور یہ پاکستان کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ آخر ہم کب تک ان پابندیوں میں جکڑے رہیں گے اور ان کی تاب لاسکیں گے؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...