معدومی کے خطرے سے دوچار پاکستان کی مادری زبانیں

محمد حسین ہنرمال

193

20ویں صدی کے اوائل میں برطانوی حکومت نے جب پنجاب اور اُس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبہ (خیبرپختونخوا) میں اردو زبان کے نفاذ کا عزم کیا تھا تو تب اس حوالے سے برطانوی افسران کے مابین خطوط کے ذریعے کافی بحث ہوئی تھی۔ یہ ساری بات چیت اور بحثیں چوہدری محمد رفیق کی کتاب ’پنجاب میں اردو کا نفاذ‘ میں شائع ہوچکی ہیں۔

سر جیمز ولسن (1926-1853ء) جو اس وقت شاہ پور (موجودہ سرگودھا) کے ڈپٹی کشمنر تھے انہوں نے اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ ’’اگر اس زبان کو مسلط کرنے کا مقصد خواندگی کے تناسب میں اضافہ کرنا ہے تو یہ مقصد صرف مادری زبان کو نافذ کرنے سے  حاصل کیا جاسکتا ہے‘‘۔ انہوں نے اس ضمن میں برطانیہ کی مثال پیش کی کہ جب تک وہاں لاطینی زبان کا استعمال عام تھا اس وقت تک خواندگی کی شرح کم تھی، ’’وہ بالکل صحیح وقت تھا جب لاطینی کی جگہ انگریزی نے لے لی تھی‘‘۔

بلاشبہ، مسٹر ولسن کا یہ استدلال ایک صدی سے زائد عرصے کے بعد درست ثابت ہوا ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں شرح خواندگی بہت کم ہے جہاں مادری زبان کو اب تک تعلیم کا ذریعہ نہیں بنایا گیا ہے۔

1947ء میں تقسیم کے محض چند ماہ بعد ہی پاکستان میں لسانی تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا جب مسلم لیگی رہنماؤں اور دانشوروں نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں اردو کو بطور قومی زبان نافذ کرنے پر اصرار کیا تھا۔ بنگالی عوام جو 44 ملین کی آبادی رکھتے تھے، انہوں نے اردو کے ساتھ ساتھ بنگالی زبان کو بھی سرکاری زبان تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ مگر ’پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس‘ کے موقع پر ان کی زبان کو فہرست سے خارج کرتے ہوئے ان کے مطالبے کو توہین آمیز طریقے سے مسترد کردیا گیا تھا۔

23 فروری 1948ء کو کراچی میں منعقدہ آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں مشرقی پاکستان کی ایک نمایاں شخصیت دھرندرا ناتھ دتا نے بل پیش کیا جس میں انہوں نے بنگالی زبان کو قومی زبان کا حصہ بنانے کا مطلبہ کیا تھا جسے حزب مخالف نے مسترد کردیا۔ یہاں تک کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے بھی یہ کہتے ہوئے اس کی مخالفت کی کہ ’’پاکستان برصغیر کے 100 ملین مسلمانوں کے مطالبے کی اساس پر وجود میں آیا ہے اور ان کی زبان اُردو ہوگی‘‘۔ صرف اردو کے حق میں ہونے والے اس فیصلے کو ڈھاکہ کی ثقافتی تنظیم ’تمدن مجلش‘ نے مسترد کردیا تھا۔

زبان کے مسئلے پر قائد اعظم کے خیالات بنگالیوں کے دل میں نہیں اتر سکے

19 مارچ 1948ء کو گورنر جنرل محمد علی جناح نے ڈھاکہ کا دورہ کیا تھا جہاں ہزاروں بنگالیوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، انہیں یہ امید تھی تھی قائد اعظم زبان کے مسئلے پر نظرثانی کرتے ہوئے دوبارہ بات کریں گے، لیکن انہوں نے اردو کو ہی واحد قومی زبان قرار دیا۔ 21 مارچ کو رمنا ریس کورس میدان میں جمع غفیر سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر جناح نے واشگاف الفاظ میں کہا ’’میں آپ پر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہی ہوگی، اس کے علاوہ کوئی اور زبان نہیں ہوگی۔ جو بھی شخص اس مسئلے پر آپ کو گمراہ کرے گا وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ ایک قومی زبان کے بغیر کوئی قوم مضبوطی کے ساتھ مل کر نہیں چل سکتی نہ آگے بڑھ سکتی ہے۔ دیگر ممالک کی تاریخ پر نظر دوڑائیں۔ لہذا جہاں تک ریاستی زبان کا تعلق ہے تو پاکستان میں وہ اردو ہی ہوگی‘‘۔ اس مسئلے پر مسٹر جناح کے خیالات بنگالیوں کے دلوں میں نہیں اتر سکے۔

جنوری 1952ء میں پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کی بنیادی پرنسپلز کمیٹی نے اپنی سفارشات پیش کرتے ہوئے اردو کو قومی زبان قرار دینے پر اصرار کیا تھا۔ اس کے بعد بنگالیوں نے احتجاج شروع کیا تو اس سے اگلے ماہ 21 فروری کو حکومت نے ڈھاکہ میں دفعہ 144 لاگو کردی تاکہ احتجاج کی لہر روکی جاسکے، اس دن 6 بنگالی طلبہ ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

یہ شاید تاریخ کی پہلی ایسی تحریک تھی جو ایک زبان کے حق کے لیے کھڑی ہوئی تھی جسے 44 ملین سے زائد افراد بولتے تھے۔1999ء میں اقوام متحد کی تنظییم یونیسکو نے 21 فروری کے دن کو مادری زبانوں کا عالمی دن قرار دیا۔ یونیسکو کا خیال ہے دنیا میں اس وقت کم ازکم 7097 زبانیں بولی جاتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے اکیسویں صدی کے اواخر تک تین ہزار سے زائد زبانیں ممکنہ طور پہ معدوم ہوجائیں گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے 40 فیصد فیصد لوگوں کو تعلیم ان کی مادری زبانوں میں نہیں دی جاتی ہے۔

’’فورم فار لینگویج انیشی ایٹو‘‘ کے مطابق پاکستان میں 74 سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لییکن انگریزی، اردو، پنجابی، پشتو، بلوچی، براہوی، کشمیری، سرائیکی اور ہنکڈو کے علاوہ ملک کی درجنوں زبانوں کا وجود شدید خطرات سے دوچار ہے۔ خود مردم شماری میں بھی بہت ساری پسماندہ زبانوں کا ذکر ہی نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم اس اقدام کا سہرا خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف حکومت کو جاتا ہے کہ اس کے اراکین اسمبلی نے ایک بل پاس کیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مردم شماری کے فارم میں صوبے کی دیگر پندرہ زبانوں کا نام شامل کیا جائے۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں دو درجن سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لیکن مستقبل قریب میں ان میں سے کئی یا تو بہت کم متعارف ہوں گی یا پوری طرح مر چکی ہوں گی، کیونکہ وہ عالمگیریت کے دباؤ، داخلی اور بیرونی نوآبادیات کے اثرات اور اردگرد بولی جانے والی طاقتور زبانوں کے سبب متأثر ہو رہی ہیں۔ ان میں سے چند زبانیں یہ ہیں جنہیں پچھلی دو دہائیوں سے شدید خطرات لاحق ہیں:

بدیشی: سوات کے اراوے گاؤں میں بولی جانے والی یہ زبان دنیا میں سب سے زیادہ معدومی کے خطرے سے دوچار سمجھی جاتی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق صرف تین لوگ بدیشی میں بات کرسکتے ہیں۔

وخی: یہ ایرانی زبان ہے جو بنیادی طور پہ گلگت بلتستان کے علاقے گوجال اور ہنزہ میں بولی جاتی ہے۔ بی بی سی کے مطابق 9 ہزار لوگ یہ زبان بولتے ہیں اور یہ آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے۔

بلتی: یہ زبان گلگگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بولی جاتی ہے۔

بٹیری: یہ دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر بٹیرا کے علاقے میں بولی جاتی ہے۔

کنڈال شاہی: یہ بھی معدومی کے ختم سے دوچار ایک زبان ہے جسے وادی نیلم میں تقریباََ سات سو افراد بولتے ہیں۔

چلیسو: یہ زبان بھی مر رہی ہے۔ یہ شینا زبان بولنے والے اکثریتی لوگوں میں گھرے دیہاتوں میں بولی جاتی ہے۔

اورماڑی: اسے جنوبی وزیرستان میں بہت کم لوگ بولتے ہیں۔

یدغا: چترال کے تقریباََ چھ ہزار لوگ اسے بولتے ہیں۔

لسی: اسے لسبیلہ بلوچستان میں لگ بھگ گیارہ ہزار افراد بولتے ہیں۔

بھایا: یہ سندھ میں بالخصوص حیدرآباد کے مضافات میں بولی جاتی ہے۔

دتکی: یہ زبان تھرپارکر کے علاقے میں بولی جاتی ہے۔

ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان معدومی کے خطرے سے دوچار زبانوں کے تحفظ کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات کرے اور جو افراد انہیں بولتے ہیں ان کی ثقافتوں اور شناختوں کو بھی محفوظ بنایا جائے۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: فرائیڈے ٹائمز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...