وزیرستان میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات

169

گزشتہ روز پیر کی صبح خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلعے شمالی وزیرستان میں چار رضاکار خواتین کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔ خبروں کے مطابق ان خواتین کا تعلق ایک غیرسرکاری تنظیم سے تھا جو علاقے میں خواتین کو تربیت فراہم کرنے کے ایک منصوبے پر اپنی خدمات پیش کر رہی تھیں۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کچھ عرصے سے یہ اطلاعات تسلسل کے کے موصول ہو رہی ہیں کہ وہاں عسکریت پسند ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں اور ان کی کاروائیوں میں تیزی آئی ہے، بالخصوص ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اضافہ ہو رہا ہے۔ ان مختلف کاروائیوں میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت عام لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان میں سے بعض کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

وزیرستان کے لوگ سخت تشویش میں ہیں۔ قبائلی اضلاع میں امن کے قیام کی خاطر 2014ء میں شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب کے دوران ایک ملین سے زائد لوگ بے گھر ہوئے تھے۔ جب 2017ء میں ان کی واپسی شروع ہوئی تو انہیں اس بات کی امید تھی کہ یہاں شدت پسندی دوبارہ سر نہیں اٹھا سکے گی۔ تاہم ایک بار پھر تواتر کے ساتھ ایسے واقعات کے پیش آنے سے حکومت اور سکیورٹی اداروں پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے کہ اتنے قلیل عرصے میں حالات واپس بگاڑ کی جانب کیسے جا سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال اگرچہ آپریشن ضرب عضب سے پہلے والی حالت کے مقابلے میں تسلی بخش کہلائی جاسکتی ہے تاہم تواتر کے ساتھ بڑھتے شدت پسندانہ واقعات سے لوگوں میں بے چینی پھیل رہی ہے کہ شاید اب ایک بار پھر یہ علاقہ میدان جنگ نہ بن جائے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ان شدت پسندانہ واقعات کے نتیجے میں قبائلی اضلاع کے تعلیم یافتہ اور مڈل کلاس طبقات میں علاقے کو چھوڑنے کا رجحان پیدا ہو رہا ہے جس کا فائدہ عسکریت پسندوں کو ہوگا۔ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد کیے گئے وعدوں کا عدم ایفا اور اس کے ساتھ شدت پسندانہ کاروائیوں میں اضافہ وہاں کے لوگوں میں حکومت اور سکیورٹی اداروں پر اعتماد کو کمزور کرتا جائے گا، لہذا اس ضمن میں مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...