سوشل میڈیا کے دور میں صحافتی اقدار

188

سوشل میڈیا نے صحافت کے شعبے اور مین سٹریم میڈیا پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں؟ اس موضوع پر بہت ساری تحقیقات اور آراء موجود ہیں جن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ شروع میں جب سوشل میڈیا محض لوگوں کے باہمی رابطے کا ذریعہ ہونے کے کردار سے نکل کر ایک مؤثر سماجی تبدیلی کے وسیلے کے طور پہ سامنے آنے لگا اور لوگ اس پر سیاسی و معاشرتی موضوعات پر بحثیں کرنے لگے اور خبر کے لیے بھی اس کی کی جانب رجوع کیا جانے لگا تو تب یہ تأثر سامنے آیا تھا کہ سوشل میڈیا کبھی بھی مین سٹریم میڈیا کا متبادل نہیں بن سکے گا اور یہ صحافت کے شعبے کو خاص متأثر نہیں کرسکے گا۔ مگر یہ تأثر غلط ثابت ہوا۔ سوشل میڈیا، مین سٹریم میڈیا پر اثرانداز ہوا ہے اور اس نے صحافت کا روایتی تصور بھی بدل دیا ہے۔ اب لوگوں کی بڑی تعداد خبر کے لیے سوشل میڈیا کی جانب رجوع کرتی ہے۔

بلکہ ڈیجیٹل صحافت زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیتی ہے۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے آن لائن صحافت کو فروغ ملا ہے، اخبار و جرائد کی روایتی اشاعت گھٹ گئی اور ملازمین کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی۔

بلاشبہ سوشل میڈیا کے بہت سارے فوائد ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پاکستان جیسے ملک جہاں صحافت پر قدغنیں عائد ہیں اور کئی معتبر صحافیوں کو مین سٹریم میڈیا سے نکال باہر کیا گیا، وہاں وہ سوشل میڈیا کے توسط سے عوام کے ساتھ رابطہ قائم رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ اسی طرح وہ سماجی طبقات جن کی بات کو میڈیا پر دکھانے کی اجازت نہیں ہے وہ بھی سماجی روابط کے ذرائع ابلاغ سے اپنی بات لوگوں کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے ہیش ٹیگز اور وائرل ویڈیوز کے پیچھے بھاگتی صحافت اپنا مقام کھو رہی ہے

یہ بھی درست ہے کہ پاکستان میں بہت سارے مسائل اور جرائم کے واقعات ایسے سامنے آتے رہتے ہیں جن کے ضمن میں پیش رفت یا ان کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے جانے کے پیچھے سوشل میڈیا کا مسلسل دباؤ ہوتا ہے۔ اگر سماجی روابط کے ذرائع ابلاغ کا یہ کردار نہ ہو تو کسی کو مین سٹریم میڈیا سے امید نہیں تھی کو وہاں ان معاملات پر تسلسل کے ساتھ بات کی جاتی اور دباؤ ڈالا جاتا۔ اس حوالے سے پاکستان میں کئی حکومتی اور عدالتی فیصلے سوشل میڈیا کے ثمرات کے شاہد ہیں۔

تاہم، سوشل میڈیا کے کچھ ایسے اثرات بھی ہیں جو منفی کہلاتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہاں پروپیگنڈا کرنا اور غلط خبریں پھیلانا ایک معمول کا کام ہے جن پر بہت سے لوگ اعتبار کرلیتے ہیں۔ اسی لیے سوشل میڈیا کے ادارے غلط خبروں کی روک تھام کے لیے قوانین بنا رہے ہیں اور اس کے لیے کوششیں کرتے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں کی حکومتیں بھی اس ضمن میں اقدامات کر رہی ہیں اور وہاں جامع منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔

اس کے برعکس روایتی میڈیا اور صحافتی شعبے کا ایک ضابطہ اخلاق ہوتا ہے جس کی پابندی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ یہ بنیادی حدِفاصل ہے جو خبر کے ابلاغ کے اعتبار سے مین سٹریم میڈیا اور صحافتی شعبے کو سوشل میڈیا سے ممتاز بناتی ہے۔ لیکن عملاََ یہ ہوا ہے کہ اس ضابطہ اخلاق کی پابندی کم ہوئی ہے۔ بالخصوص پاکستان میں سوشل میڈیا، مین سٹریم میڈیا اور صحافتی حلقے کا محور بن گیا ہے۔ صرف خبر کے ابلاغ کی بات کی جائے تو اس میں مین سٹریم میڈیا، سوشل میڈیا کے ساتھ مقابلے کی کیفیت میں ہے۔ فوری خبر کے ابلاغ کی دوڑ میں بلاتحقیق خبر دیدی جاتی ہے جو عموماََ سوشل میڈیا سے لی جاتی ہے۔ ایسی خبریں بارہا بعد میں غلط ثابت ہوئی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل میرشکیل الرحمان کو سوشل میڈیا کی ایک خبر اپنے میڈیا سے پیش کردینے کی وجہ سے عدالت طلب کرلیا گیا تھا، انہوں نے بعد میں اس پہ ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا کو گٹر کہہ دیا تھا۔

صحافت، کاروبار اور پیشہ دونوں کا نام ہے۔ مگر یہ ایک ایسا پیشہ ہے جس میں جھوٹ، پروپیگنڈے اور جذباتیت سے احتراز اساسی قدر ہے۔ مگر پاکستان میں صحافت، خصوصاََ اُردو زبان کا صحافتی شعبہ اس قدر سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اس پر سوشل میڈیا کا اثر نمایاں ہے۔ سوشل میڈیا کے ہیش ٹیگز اور وائرل ویڈیوز کے پیچھے بھاگتی صحافت اپنا مقام کھو رہی ہے۔

سوشل میڈیا سے استغنا نہ ممکن ہے اور نہ اس کے فوائد سے انکار ہے مگر مین سٹریم میڈیا اور صحافت کو اس سے ممتاز بنانے والی ضابطہ اخلاق کی حدِفاصل نہیں مٹا دینی چاہیے

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو خود کو صحافی کہتے ہیں مگر اس شعبے میں ان کی کوئی علمی قابلیت، تجربہ اور ضروری مہارت نہیں ہے۔ صحافت کیمرے، تصویریں، بریکنگ نیوز اور مضامین کے دھماکے دار عنوانات کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک حساس فن اور محنت طلب سنجیدہ اخلاقی فریضہ تھا۔ مگر ایسے افراد کی مقبولیت کو دیکھ کر کئی اہل صحافی بھی اس دوڑ میں شریک ہوگئے ہیں جو اس شعبے کے مستقبل کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔

سماج میں لوگوں کی ایک تعداد ایسی موجود ہے جو حقائق تک درست رسائی اور معتبر تجزیے کے لیے مین سٹریم میڈیا اور روایتی صحافتی ذرائع ابلاغ کی طرف رجوع کرتی ہے، مگر سوشل میڈیا کے بڑھتے اثرورسوخ کی وجہ سے اس کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے۔ پاکستان میں مین سٹریم میڈیا اور روایتی صحافت کو حکومتی دباؤ اور سماجی رویوں کی خاص ترجیحات کے سبب بقاء کا چیلنج تو درپیش ہے مگر اس کے باوجود اسے اپنی انفرادی حیثیت کو برقرار رکھنا چاہیے، صرف ریٹنگ کے حصول کے لیے اور لوگوں کو متوجہ رکھنے کے لیے روایتی ذرائع ابلاغ اور صحافت کو داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔ سوشل میڈیا سے استغنا نہ ممکن ہے اور نہ اس کے فوائد سے انکار ہے مگر ضابطہ اخلاق کی حدِفاصل نہیں مٹا دینی چاہیے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...