ٹریفک حادثات کا مسئلہ ترجیحات میں کیوں شامل نہیں؟

158

گزشتہ روز 17 فروری کو پاکستان کے مختلف شہروں میں پیش آنے والے ٹریفک حادثات میں 13 شہری جاں بحق اور 65 سے زائد زخمی ہوگئے۔ یہ وہ تعداد ہے جو بڑے شہروں کی بڑی شاہراہوں پر ہونے والے واقعات میں میڈیا پر سامنے آئی ہے۔ ملک میں ٹریفک حادثات سیاسی و سماجی ترجیحات میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے اس کے اعدادوشمار کا ایک ٹھوس اور جامع نظام موجود نہیں ہے، اس لیے ممکنہ طور پہ ایسے حادثات کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں سالانہ 30 ہزار کے لگ بھگ افراد کی ٹریفک حادثات میں اموات ہوجاتی ہیں جبکہ 50 ہزار سے زائد لوگ زخمی ہوتے ہیں۔ ریلوے اور فضائی حادثات میں ہونے والی اموات اس کے علاوہ ہیں۔

ادارہ نیشنل روڈ سیفٹی کے مطابق ملک میں ان حادثات کے پیچھے جو اسباب کارفرما ہیں ان میں سے پچانوے فیصد انسانی غلطیاں ہوتی ہیں، جیساکہ تیزرفتاری، غلط اوورٹیکنگ، ڈرائیوروں کا غیرتربیت یافتہ ہونا، دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال، ٹریفک قوانین کی معلومات نہ ہونا یا لاپرواہی، وغیرہ۔ جبکہ پانچ فیصد وجوہات میں تکنیکی خرابیاں اور سڑکوں کی خستہ حالی کے مسائل شامل ہوتے ہیں۔

بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں کی طرف آبادی کا ارتکاز ٹریفک کے مسائل میں روز بروز اضافہ کر رہے ہیں مگر انہیں حل کرنے کے لیے کوئی بہتر حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ پاکستان میں ٹریفک سے متعلقہ آرڈینس بہت پرانے ہیں جنہیں روزمرہ کے بڑھتے مسائل سے نمٹنے کے لیے اپڈیٹ کرنے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کی تعداد کو سڑکوں پر کم کرنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کو زیادہ فعال اور معیاری بنانا بھی اہم ہے۔ بڑی شاہراہوں پر حادثات کی ایک بڑی وجہ مال بردار ٹرک اور گاڑیاں ہیں، سڑکوں پر ان کا بوجھ کم کرنے کے لیے ریلوے کے نظام کو بہتر بنانے کی بھی حاجت ہے۔

اس مسئلے سے نمٹے کے لیے جہاں دیگر اقدامات ضروری ہیں وہیں اس کے ساتھ نصاب میں ایسے مضامین بھی شامل کیے جائیں جن سے اس خطرے سے بچنے کے لیے نوجوانوں کو ضروری احتیاط کی آگاہی مل سکے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...