’اعتدال پسند‘ پاکستان کا انوکھا مقدمہ

محسن علی سید

128

پاکستان میں رہتے ہوئے معتدل یا جدیدیت پسند پرامن زنذگی گزارنے کے خواب کو حقیقت سے دور ایک تخیلاتی مفروضہ کہا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے تاریخ نے یہی ثابت کیا ہے۔ پاکستان شاید دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جو نظریاتی بنیاد پر بنایا گیا۔ ایک نظریہ جس کی اساس پر اُس وقت بانیان نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن حاصل کرنے کا عزم کیا تھا۔ سرسید احمد خان، قائداعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال، یہ قائدین بذات خود جدیدیت پسند مسلمان تھے۔ یہ برصغیر کے مسلمانوں کی خاطر ترقی کے خواب کو لے کر آگے بڑھے تھے۔

دوقومی نظریہ جس کی بنیادیں سرسید احمد خان کی فکر میں تلاش کی جاسکتی ہیں، آخرکار یہی نظریہ مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کے مطالبے کی مہم میں تبدیل ہوگیا جہاں وہ اپنے مذہب پر آزادانہ عمل کرسکیں اور برابر حقوق حاصل کرسکیں۔ لہذا، اس سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کی بنیاد مذہبی قوم پرستی پر رکھی گئی تھی۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر پاکستان اپنے تاریخی حقائق سے نظریں کیوں چراتا رہا ہے اور ملک میں نسبتاََ اعتدال پسند قوتوں کی حکمرانی کیوں رہی ہے؟

قائداعظم محمد علی جناح نے بھی اُس وقت مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کی ضرورت و اہمیت کو تسلیم کیا تھا کیونکہ ایک ہندو قوم پرستی کی سرزمین پر مسلم آبادی کے آگے ایک کٹھن مستقبل نظر آرہا تھا۔ لیکن کیا قائد اعظم ایک مذہبی قوم پرست شخصیت تھے؟ لنکنز اِن سے تعلیم یافتہ بیرسٹر رسمی اسلام کے پابند ہونے کے لیے کبھی بھی مشہور نہیں رہے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنی 11 اگست کی تقریر میں بھی یہ واضح کیا تھا کہ تمام پاکستانی شہری اپنے اپنے مذاہب پر عمل کے لیے آزاد ہیں۔

لنکنز اِن سے تعلیم یافتہ بیرسٹر رسمی اسلام کے پابند ہونے کے لیے کبھی بھی مشہور نہیں رہے تھے

تاہم گزشتہ سالوں کے دوران ہم نے دیکھا کہ ملک میں ایک قدامت پسند آئیڈیالوجی پروان چڑھتی رہی ہے جو معاشرے میں اسلام کے ایک مخصوص تناظر کو فروغ دیتی ہے اور ان دیگر تمام طبقات کو مسترد کرتی ہے جو اس کے دائرے میں نہیں آتے۔ نچلی سطح پر عوام کا مزاج اور اس کا رویہ اسی فکر کا حامل ہے۔

لیکن اس کے برعکس اوپر کی سطح پر(یعنی کہ حکومتی نہج پہ) چیزیں اعتدال پسند محسوس ہوتی ہیں۔ جنرل ضیاءالحق کو چھوڑ کر پاکستانی حکمرانوں کی اکثریت اعتدال پسند رہی ہے جنہوں نے جدیدیت کے حامل ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ اسی قسم کے ایجنڈے کو ذوالفقار علی بھٹو نےاپنی سوشلسٹ اصلاحات کے ذریعے مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستان کا مذہبی جوش و خروش بھی نمایاں تھا لیکن اس کی طاقت وہ نہیں تھی جو دیکھی جاسکتی ہے۔ مذہبی جماعتوں کی موجودگی کے باوجود سماج میں شراب کھلے عام دستیاب ہوتی تھی۔ مگر یہ 1977ء کے انتخابات تک ایسا تھا، اس کے بعد بھٹو نے شراب پر پابندی عائد کردی اور اتوار کی جگہ جمعہ کی چھٹی کا اعلان کیا گیا۔ یہ دونوں اقدامات حزب مخالف کے اتحاد پاکستان نیشنل الائنس (PNA) کو خوش کرنے کے لیے اٹھائے گئے تھے تاکہ وہ پیپلز پارٹی پر انتخابات میں دھاندلی کے الزمات نہ لگائے۔

1990ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران جمعہ کی عام تعطیل کا فیصلہ واپس لے لیا گیا لیکن شراب پر پابندی اب بھی موجود ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ جنرل ضیاءالحق کے عہد میں متعارف کرائے جانے والے اسلامی قوانین نے پاکستانی سماج کو مزید مذہبی ڈھلوان میں دھکیل دیا اور اب عوامی مرکزی دھارے کا واپس اعتدال پسندی کی جانب آنا شاید ایک خواب کے سوا کچھ نہیں ہے۔

جنرل ضیاء کے دور حکومت میں افغان تنازع نے پاکستان میں شدت پسند گروہوں کی بنیاد رکھی جو افغانستان میں سوویت افواج سے لڑنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ نتیجے میں اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان اب خود ان شدت پسندوں سے اپنے دفاع کے لیے جدوجہد کر رہا ہے جو اس کی اپنی سرزمین پر خطرہ بن گئے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان کب تک ایک متضاد کیفیت کا شکار رہے گا کہ جہاں حکمران طبقہ نسبتاََ اعتدال پسند رہا ہے اور عوام مذہبی قوم پرستی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں

بہت بعد میں جنرل پرویز مشرف نے معاشرے میں جدیدیت کو دوبارہ متعارف کرانے کی کوشش کی۔ ان کی خواہش تھی کہ پاکستان کو ترکی جیسا ملک بنایا جائے جہاں کمال اتاترک نے ریاست کو مذہب سے الگ کردیا تھا۔ جنرل مشرف کے دور میں میڈیا کے شعبے کو پھیلایا گیا اور کئی ٹی وی چینلز آئے جن پہ اعتدال پسند چہرے متعارف کرائے گئے۔ تاہم ان کے دور کے اختتامی مرحلے میں ہی واضح ہوگیا تھا یہ بلبلہ پھٹ جانے والا ہے اور پاکستان واپس اپنی ’اصل‘ شناخت کی طرف لوٹ آئے گا۔

وہی سوال دوبارہ دہراتے ہیں، سماج میں اس قدر مذہبی میلان اور جوش و خروش پائے جانے کے باوجود پاکستان میں مذہبی طرز کی حکومت کیوں قائم نہیں ہوسکی؟

سیددھے سادے انداز میں اس کا جواب یہ ہے کہ آزادی کے وقت سے ہی پاکستان معاشی حوالے سے خودمختار نہیں رہا ہے۔ بین الاقوامی طاقت کے مراکز اور قرض فراہم کرنے والے تمام اہم ادارے پاکستان کو نسبتاََ اعتدال پسند ملک کے طور پہ دیکھنا چاہتے ہیں جو افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کے لیے ایک راہداری کی حیثیت رکھنے کے ناطے سرمایے کو سماجی اقتصادی ترقی کے لیے صرف کرے۔ ایک مسلمان ملک جو جدید ہتھیاروں سے لیس ہے اس میں مذہبی حکومت کا تصور بین الاقوامی اشرافیہ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔

پاکستان میں جدیدیت کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ خرچ کرے۔ ماضی کی مسلم سلطنتوں کی کھلی ذہنیت کا نتیجے میں ہی کمپاس، کافی اور الجبرا کی دریافتیں ممکن ہوئی تھیں۔ تاہم آج پاکستان کے عوام جدیدیت کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو ان کے خیال میں مغربی اقدار کو فروغ دیتی ہے اور اسلام کو کمزور کرتی ہے۔

لہذا، سوال یہ ہے کہ پاکستان کب تک ایک متضاد کیفیت کا شکار رہے گا کہ جہاں حکمران طبقہ نسبتاََ اعتدال پسند ہے اور عوام مذہبی قوم پرستی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: فرائیڈے ٹائمز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...