محرومیوں کا علاج چاہیے

205

جناب امانت حسین سے دیرینہ دوستی اور تعلق خاطر ہے۔ وہ جب بھی پاکستان تشریف لاتے ہیں تو ایک ملاقات کا ضرور اہتمام کرتے ہیں۔ اس بار انھوں نے اپنے ہاں مجھے آنے کی دعوت دی۔ میر پور آزاد کشمیر سے آگے اڑھائی گھنٹے کی مسافت پہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں ان کا آبائی گھر ہے۔ میر پور سے ڈڈیال تک، ڈڈیال سے ان کے گاؤں تک، اس کے بعد پنڈی روڈ پہ دھان گلی اس سے روات تک۔ آپ کو بر لب سڑک اور گاؤں میں وسیع و عریض رقبے پہ پھیلی کوٹھیاں دکھائی دیتی ہیں۔ امانت حسین صاحب انگلینڈ میں کئی سال رہے اس کے بعد بمع  فیملی ڈنمارک مستقل سکونت پذیر ہو گئے۔ میں نے سوچا، انھوں نے بھی کوئی محل تعمیر کر رکھا ہو گا لیکن مجھے دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ باوجودیکہ ان کی فیملی یورپ میں رہتی ہے لیکن ان کا رہن سہن بہت سادہ اور فطرت کے قریب ہے۔ ان کے پاس صرف جنریٹر ہے جو لوڈ شیڈنگ کے باعث انھیں استعمال کرنا پڑتا ہے۔ میں نے ان سے، اس سادگی کی وجہ پوچھی، انھوں نے کہا یہ سادگی اور اندازِ زندگی میرے ماں باپ کی نشانی ہے، اس گھر کے درودیوار سے ان کی خوشبو آتی ہے، ان کے دن رات، صبح و شام اس گھر میں ایک امانت ہیں، میں کیسے ان کی یادوں، اور شفقتوں کو بلند و بالا عمارت کے نیچے دفن کر دوں۔ اگر میری اولاد چاہے گی تو خود ہی کوئی مکان تعمیر کر لے گی۔ میرے پاس اپنی اولاد کو رکھنے اور دکھانے کے لیے یہی مکان ہے۔ یہی مکان میرے مستقبل کو ماضی سے جوڑے رکھتا ہے۔ وہ گہری بات کہتے ہیں لیکن چہرے پہ مسکراہٹ لا کر۔ اُن کا یہی انداز مجھے بھا گیا، آج تلک آمنے سامنے یا موبائل پہ لمبی گفتگو ہوتی ہے اور بات کا مزہ شروع سے اختتام تک ایک جیسا رہتا ہے۔ ایک لمحہ کے لیے بھی اکتاہٹ اور بوریت کا احساس نہیں رہتا۔

ہم رات دیر تلک باتیں کرتے رہے۔ گوناں گوں موضوعات پہ گفتگو ہوئی، گھریلو معاملات سے پاکستان کی سیاست تک، پاکستان سے یورپ اور یورپ سے اسلام تک کوئی موضوع ایسا نہ تھا جس پہ ہم نے ایک دوسرے کے خیالات و نظریات کو Shareنہ کیا ہو۔ ہم صبح بھی جلدی اٹھ گئے۔ نمازِ فجر ادا کی اور سیر کے لیے نکل پڑے۔ میں نے ان سے پوچھا ایک طرف ڈھلوان اور دوسری طرف بلندی ہے، اس ماحول میں ڈر نہیں لگتا۔ دو گاڑیوں کا گزرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ کہنے لگے ایک نیا آدمی خوف زدہ ہوتا ہے ہم یہاں پیدا ہوئے، جوان ہوئے ہمیں اس کا احساس ہی نہیں ہوتا بلکہ اب خطرہ کم ہو گیا ہے ورنہ پہلے سڑکیں بہت ہی خطرناک تھیں۔ اس کے باوجود ہم یہاں سے نہیں گئے اور ہمارے بڑوں نے بھی یہیں زندگی گزاری۔

اگر تعلیم یافتہ پاکستانی یورپ میں قیام پذیر ہیں تو وہ وہیں پہ کاروبار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں پاکستان کاروبار کرنے میں بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں

دوپہر میں کھانا کھانے کے بعد، انھوں نے بمع ڈرائیور ایک گاڑی کا انتظام کیا ہوا تھا، جس نے مجھے پورے علاقے کی سیر کرانا تھی۔ بہت دور تک میں نے سیر کی۔ میں نے اُس پورے علاقے میں اور واپس راولپنڈی آتے ہوئے دو چیزوں کی کثرت دیکھی کوٹھیاں اور مسجدیں۔ کوٹھیاں بنانے والوں نے اپنی دینداری کے ہاتھوں مجبور ہو کر مسجدیں تعمیرکیں، ہماری حکومتوں (جن میں اعلیٰ تعلیم یافتہ وزراء بھی ہوتے ہیں) نے شاید کبھی اس پہ غور و فکر بھی کیا ہے یا نہیں آخر کوٹھیاں اور مسجدیں، مدرسے کیوں بنتے ہیں؟ فیکٹریاں، ملیں، کاروباری یونٹ اور جدید تعلیمی ادارے کیوں نہیں قائم کیے جاتے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ بیرونِ ملک سکونت پذیر ہونے والی اکثریت زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہے۔ انھوں نے اپنے علاقے میں کوٹھیاں بنائیں جس سے ایک پراپرٹی بھی بن گئی (اگرچہ اتنی لاگت کے باوجود اس کی قیمت فروخت کچھ بھی نہیں ہے) دوسری بات علاقے میں ان کی دھاک بیٹھ گئی۔ بہت سے بلند و بالا مکانات، ایکدوسرے کے مقابلے میں بھی تعمیر کئے گئے۔ اگر زید نے اپنے گاؤں میں چار کینال پہ کوٹھی بنائی ہے تو عمرو نے بھی ضرور کوٹھی بنانی ہے۔ خواہ اُسے اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ مسجد کی تعمیر کے لیے چندے کا اعلان ہوا اگر زید نے ایک لاکھ دیاتو عمَرو نے ڈیڑھ لاکھ دینا ہے۔ عمرو زید کے اعلان کا انتظار کرے گا اگر زید نے اعلان نہیں کیا تو عَمرو نے بھی اللہ کی راہ میں کچھ نہیں دینا۔ اِسی طرح زید بھی عَمرو کے اعلان کے انتظار میں بیٹھا رہے گا۔ میں نے یہ ضرور سنا ہے کہ ’’امانت صاحب! میری دلی خواہش تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے دولت دے تو میں اپنے علاقے میں ایک خوبصورت مسجد تعمیر کروں گا‘‘ لیکن یہ نہیں سنا کہ ’’میں ایک جدید ادارہ قائم کروں گا جس میں بچوں کو دین اور دنیا کی جدید تعلیم مفت یا مناسب فیس پہ دی جائے گی‘‘۔ حالانکہ مسجد میں نمازیوں کی تعداد جمعہ اور عیدین پہ بڑھتی ہے اور اداروں میں ہر وقت تعلیم کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

اگر تعلیم یافتہ پاکستانی یورپ میں قیام پذیر ہیں تو وہ وہیں پہ کاروبار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ انھیں پاکستان کاروبار کرنے میں بہت سی مشکلات ہیں۔ یہاں امن عامہ کا مسئلہ ہے۔ یہاں کوئی کام بھی بغیر رشوت کے نہیں ہوتا۔ کوئی کاروباری یونٹ لگانے کے لیے، حد سے زیادہ پیچیدگیاں ہیں۔ وہ اپنا کروڑوں روپے رہائش پہ لگا دیتے ہیں لیکن کوئی کاروبار پاکستان میں شروع نہیں کرتے۔ ہر حکومت Investersکے لیے سہولتوں کا اعلان بھی کرتی ہے لیکن وہ سب دعوے ہوا ہو جاتے ہیں کیونکہ بنیادی انفراسٹرکچر تو وہی ہے وہی پٹواری، وہی ٹیکس کا نظام، وہی سرکاری دفتر، وہی سرکاری لوگ، وہی ڈاکہ زنی، وہی دہشت گردی، وہی واپڈا۔ یہ صورتِ حال بدلے تو کوئی یہاں آ کر کوئی کاروبار کرے۔ اس لیے حب الوطنی کی بنیاد پہ وہ ایک خوبصورت سا گھر اور ایک خوبصورت مسجد تعمیر کر دیتے ہیں۔ گھر میں ایک چوکیدار ہوتا ہے جسے وہ پانچ ہزار تنخواہ دیتے ہیں اور مسجد علاقے کے مکینوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اگر آپ اُن علاقوں کا سفر کریں تو جہاں آپ کو کوٹھیاں اور مساجد دکھائی دیتی ہیں وہاں چند مدرسے بھی نظر آتے ہیں۔ یہ مدرسے بہت ہی مفلوک الحالی میں ہوتے ہیں۔ جہاں طلباء کو دنیاوی کوئی سہولت حاصل نہیں ہوتی۔ وہ صرف قرآن یا درسی کتابیں پڑھتے ہیں۔ جامعہ اشرفیہ کے مدرس ایک موقع پر فرما رہے تھے۔ ہمارے ہاں پنجاب یونیورسٹی کی کمپیوٹر لیب سے بڑی لیب ہے۔ یہ سہولتیں صرف ان مدارس کو حاصل ہیں جن کے علماء و منتظمین کی رسائی حکمرانوں اور دولت مند حضرات تک ہے۔ آپ لاہور شہر سے کچھ باہر نکل جائیں تو آپ کو کہیں بھی سیکولر تعلیم نظر نہیں آئے گی، جامعات میں فقط یہی قرآن پاک حفظ و ناظرہ اور درسی کتاب کی تعلیم کا انتظام ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں پڑھایا جاتا۔

شہروں سے باہر نکل کر اندازہ ہوتا ہے کہ اصل پاکستان کیسے زندگی گزار رہا ہے

میں نے راولپنڈی آتے ہوئے کلر سیداں سے پہلے ایک مدرسے میں نمازِ مغرب ادا کی اس مدرسہ میں 10بچے بیٹھے قرآنِ پاک کا سبق یاد کررہے تھے۔ انہیں بجلی اور ایک پنکھے کے سوا دنیا کی کوئی سہولت میسر نہ تھی جب کہ اسی علاقے میں بہت خوبصورت مکانات موجود تھے اور کئی مکانات تعمیر کے مراحل سے گزر رہے تھے۔

حکومت، علماء، سیاستدان اور فلاحی تنظیمیں اور ماہرین نفسیات ومعاشیات اس نکتہ پہ سر جوڑ کربیٹھیں کہ مدارس و جامعات کو قومی دھارے میں کیسے شامل کیاجائے، انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشرے کے اہلِ ثروت ایسے ادارے تشکیل دیں جو دینی اور دنیاوی ضرورتوں کو پورا کریں۔ یہ ادارے فقط یتیموں کو پالیں نہیں بلکہ انہیں سنواریں تاکہ ان کی شخصیت میں محرومیاں نہ ہوں وہ پُراعتماد انداز میں معاشرے کی خدمت کریں۔

یقین کیجئے! شہروں سے باہر نکل کر اندازہ ہوتا ہے کہ اصل پاکستان کیسے زندگی گزار رہا ہے۔ ہم اور ہماری حکومتوں نے کبھی نہیں سوچا کہ مسائل کا حل محرومیوں کا خاتمہ ہے۔ جب ایک شخص محروم و مظلوم ہوتا ہے حکومت اس کی محرومی کا علاج نہیں کرتی پھر وہ ظالم بن جاتا ہے تو حکومت طاقت سے اس کا صفایا کر دیتی ہے اور سمجھتی ہے اس طرح محرومیوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ جب زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع میسر نہ ہوں، جب زندگی وبالِ جان بن جائے جب مقدر میں ٹھوکریں ہی ٹھوکریں ہوں تو پھر کوئی علاج نظر نہیں آتا، سوائے اس کے ماردو یا مرجاؤ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...