آزادی، سیاسی استبداد اور سماجی اخلاقیات

116

’’آزادی‘‘ جس قدر ایک خوبصورت احساس ہے، ہمارے معاشرے میں بطور اصطلاح اس کا مفہوم اتنا مبہم بھی ہے۔ آزادی کے حوالے سے خالص فلسفیانہ مباحث تو موجود ہیں اور اس کا ایک گونہ گاڑھا تناظر بھی زیربحث رہتا ہے، لیکن عصرحاضر میں اس کی معنویت کیا ہے اور اس کے اطلاقات و مظاہر کونسے ہوسکتے ہیں، ہمارے ہاں عوامی سطح پر یہ پہلی نظر میں ہی سماجی سے زیادہ تہذیبی اور آئیڈیالوجی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس لیے آزادی پر آزادی کے ساتھ بات نہیں ہوسکتی۔ پھر یہاں چونکہ سماجی ساخت میں طبقاتی پہلو زیادہ غالب اور نمایاں ہے اس لیے یہ موضوع صحیح معنوں میں سیاسی حدود کو بھی نہیں چھوسکتا اور ایک خاص دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ شاید ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کا سبب محض ریاستی اور سیاسی استبداد ہو، بلکہ اس سے قبل کہیں نہ کہیں یہ سماجی اڑچن ہے جس کے عوامل میں مختلف ثقافتی، تاریخی، تہذیبی اور مذہبی قسم کی الجھی ہوئی گتھیاں ہیں جو سب مل کر آزادی کا راستہ روکتی ہیں۔ حتی کہ اس پر بات کرنا بھی ناگوار ہوتا ہے۔ اس کا فائدہ سیاسی استبداد بھی اٹھاتا ہے اور بطور سماج عام طور پہ ہمیں اس پر کوئی خاص اعتراض نہیں ہوتا یا کم ازکم مزاحمت کی جستجو طاقتور نہیں ہوتی۔

چونکہ ہمارے ہاں آزادی کا عقدہ سیاسی سے پہلے سماجی نوعیت کا ہے اسی لیے اگر آمریت نہ بھی ہو تب بھی معاشرے کی نفسیاتی یا فکری ساخت میں کوئی خاص اثر محسوس نہیں ہوتا بلکہ چند امور میں فرق کے علاوہ سیاسی ساخت بھی تقریباََ ایک جیسی ہی رہتی ہے۔

شاید یہ کہنا بے جا نہ ہو کہ ہمارے ہاں استبداد اوپر سے نیچے نہیں آرہا بلکہ یہ نیچے سے اوپر کی جانب جا رہا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سماجی فطری جڑیں ہی تحکمانہ مزاج کی پرورش اور حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ اگر آزادی کی قدر کے صرف ابتدائی مظہر سماجی روابط کی شکل کو ہی دیکھ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سماج میں کسی بھی سطح پر کوئی ایسا مقام یا مرحلہ وجود نہیں رکھتا جہاں باہمی تعلقات باہمی احترام اور آزادی کی بنیادوں پر استوار ہوں اور فرد کی عقل اور ارادے کو اہمیت حاصل ہو، بلکہ اس کے برعکس گھر کی چاردیواری سے ہی بالادستی اور محکومیت کا رویہ راسخ ہوتا ہے، حتی کہ اس نوع کے تعلق کو ثمرات کے اعتبار سے کامیابی اور عظمت کے عناصر کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ اپنی فطرت میں ایک قبائلی معاشرہ آزادی کے مفہوم اور اس کے مظاہر و اطلاقات پر بات ہی کیوں کرنا چاہے گا۔

ہمارے ہاں ’جدید سماجی اخلاقیات‘ کی تشکیل نہیں ہوپائی ہے، اور آزادی کی قدر کا مبہم یا غیراہم رہنا بھی اسی مسئلے کا حصہ ہے

اس صورتحال کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ہاں اصل میں ’جدید سماجی اخلاقیات‘ کی تشکیل نہیں ہوپائی ہے، اور آزادی کی قدر کا مبہم یا غیراہم رہنا بھی اسی مسئلے کا حصہ ہے۔ اول تو مسلم تاریخ میں مستقل بالذات سماجی اخلاقیات پر بہت ہی کم کتب تصنیف کی گئیں، اور جو لکھی گئیں اس میں خود سماج اصل اور محور نہیں ہے، اور ان تصنیفات کا منہج زیادہ تر تصوف کی جانب مائل ہے جو مخصوص حیثیت میں تزکیہ اخلاق اور فناء کو زیربحث لاتا ہے، نہ کہ سماجی اٹھان، اطوار اور ارتقاء کو۔ یہی منہج آج تک چلا آرہا ہے۔ پھر جو کتب سماجی اخلاقیات کے حوالے سے سامنے آئیں ان میں خود سماج محور نہیں ہے بلکہ ان میں ریاست اور سیاسی ڈھانچے کو فوقیت حاصل ہے، جس سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ ’حقوق‘ نہیں بلکہ ’طاقت‘ کا عنصر اہم ہوتا ہے۔ جبکہ عصرحاضر میں سماجی اخلاقیات پر لکھے گئے مواد کو آئیڈیالوجی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے اس لیے وہ معاشرے میں قبولیت عامہ حاصل نہیں کرسکا۔

بظاہر ہمارا اصل بحران سماجی اخلاقیات کا بحران ہے۔ ریاست کی بالادستی اور اس کا جبر ایک بہت بڑا مسئلہ ہے مگر اس سے بڑا مسئلہ خود سماج کا اپنا استبدادی مزاج ہے جو طبقاتی بھی ہے، مذہبی و فرقہ وارانہ بھی ہے، خاندانی نظم میں بھی ہے، بازاروں اور گلی محلوں میں بھی ہے۔ ہم حقوق کے لیے کبھی نہیں کھڑے ہوتے، ہم صرف بقاء کے بحران میں اٹھتے ہیں اور اپنے اپنے حلقے میں دوسروں سے بھی یہی امید رکھتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے ہاں آزادی کا مطلب بس غلام نہ ہونا ہے۔

مگر ایک ایسے وقت میں کہ جب جمہوری و مہذب کہلائے جانے والے معاشروں میں بھی ریاست کی عملداری اور بالادستی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، ہمارے جیسے بوجھل معاشرے میں ایک ہموار ماحول کا پنپنا کتنا مشکل ہوگا اور جدید سماجی اخلاقیات پر بات یا اس کے اطلاقات کے کتنے امکانات موجود ہوں گے؟

آج دنیا میں ہر جگہ سیاسی استبداد کو ایسے ادارے میسر ہیں جو منظم طریقے سے عوام پر اس کی بالادستی کو یقینی بناتے ہیں، اس کے پاس ماضی کے مقابلے میں ایسے وسائل کی بھرمار ہے جو اس کی آمرانہ گرفت کو زیادہ مضبوط بنانے میں معاون ہوتے ہیں۔ گویا آج کا سیاسی استبداد ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت اور ناروا ہے۔ پھر اگر اس کے ساتھ عوامی شعور کے ابہام اور تذبذب کا بوجھ بھی شامل ہوجائے تو معاشرے کی شکل وہی ہوتی ہے جو ہماری بن چکی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...