عربی زبان و ثقافت اور مقامی تشخص

92

اسلام کسی قومیت، ثقافت اور زبان کو نہ تو فرد پر مسلط کرتا ہے اور نہ ہی کسی قومیت، ثقافت اور زبان کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ یہ دین کا دائرہ کار ہے ہی نہیں۔ جوسماجی قومیتیں، شناختیں، ثقافتیں اور زبانیں اسلام سے قبل اپنا وجود رکھتی تھیں وہ اس کے بعد آنحضرتﷺ کی حیات مبارکہ میں بھی موجود رہیں۔ بلکہ قرآن کریم میں تو اس تنوع کی تعریف کی گئی ہے اور اسے خدائے تعالی کی جانب سے گویا نعمت قرار دیا گیا ہے۔

بلاشبہ دین اسلام اسلام عربی زبان میں منصہ شہود پر آیا تاہم وہ باقی زبانوں اور ثقافتوں کو کم درجہ نہیں کہتا۔ دین اسلام اگر مختلف غیرعرب سماجی شناختوں کو کم درجہ قرار دیتا تو اس کا اظہار سب سے پہلےآپﷺ کی موجودگی میں صحابہ کرام کی زندگیوں میں نظر آتا، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان آخردم تک سلیمان الفارسی رہے، حضرت صہیب ہمیشہ صہیب رومی کے نام سے یاد کیے گئے، حضرت بلال کو آج بھی بلال حبشی کہا جاتا ہے۔

اسلام کا شناختوں کے حوالے سے رواداری اور وسعت ظرفی کا معاملہ غیرمحدود ہے۔ اسلام کی تعلیمات سے یہی سمجھ میں آتا ہے۔ مگر مسلم تاریخ میں نظر آتا ہے کہ ایک فکر اپنے عملی پیرہن کے ساتھ خاموشی سے پھلتی پھولتی رہی اور جو ابھی تک پوری قوت کے ساتھ وجود رکھتی ہے۔ وہ یہ کہ عربی زبان وثقافت اور عربی بالادستی کے تصور کو دین اسلام کے ساتھ  جوڑ دیا گیا۔ یہ تصور عجمی مسلم سماج پر اس طرح سے نافذ کردیا گیا کہ یہ برتری ایک استحصالی صورت بھی اختیار کرگئی۔ عربی ہونا ہر حوالے سے افضلیت کا مترادف بن گیا اور عجمیت کمتری کی علامت ٹھہر گئی۔ کوئی زبان قال سے اس حقیقت کا انکار کرکے یہ کہے کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں تو یہ الگ بات ہے وگرنہ زبان حال تو اسے جھٹلانے سے قاصر ہے۔ اس تصور کی مضبوطی اور تقدس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ دینِ اسلام کو دینِ عربی کہا جاتا ہے۔ یہ تصور اتنا ہی غیرمعقول ہے جتنا یہودیت اور عیسائیت کو دینِ عبرانی اور دینِ سریانی کہنا۔ وحی کے جزیرہ عرب میں نازل ہونے سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ دین عربی ہے اور یہ کہ مسلمانوں پر عربی زبان اور رسوم ورواج سے تقدس وبرتری کا ربط رکھنا ضروری ہے۔

حضرت سلیمان آخردم تک سلیمان الفارسی رہے، حضرت صہیب ہمیشہ صہیب رومی کے نام سے یاد کیے گئے، حضرت بلال کو آج بھی بلال حبشی کہا جاتا ہے

یہ درست ہے کہ قرآن کریم کی زبان عربی ہے اور آنحضرتﷺ کی تعلیمات بھی عربی میں ہیں، اس طور ان کا احترام ہرمسلمان پر ضروری ہے مگر اشکال عربی کے بطور زبان سیکھنے یا اس کا احترام کرنے پربالکل نہیں ہے۔ بلکہ اس کے پیچھے تخلیق کیے گئے اس تصور پہ ہے جو یہ محسوس کراتا ہے کہ عجمیت اپنی مقامی ثقافتوں، زبانوں اور قومیتوں کے ساتھ ایک ثانوی درجہ رکھتی ہے اور یہ کہ دین اسلام کی عصبیت عربیت ہے جبکہ عجمیت مسلم تہدیب وعظمت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔ عربی زبان کا مخصوص احترام قرآن کی آیت کریمہ اور حدیث مبارکہ کی حد تک محدود ہے۔

اسلام کی برتری کا مطلب بھی عربی زبان وثقافت کی بالادستی نہیں ہے۔ اور نہ ہی یہ کہ عجمی مسلمان اپنی قومیتوں اور دیگر سماجی شناختوں سے دستبردار ہوجائیں اور عربوں کوقائد اورمسیحا خیال کرتے ہوئے ہر معاملے میں ان کے آگے سرِتسلیم بھی خم کردیں۔ اسلام کا جوہر اس کا پیغام اور مقاصد ہیں۔ دین اسلام کسی زبان، نسل اور ثقافت کو برتر نہیں قرار دیتا۔ قرآن اسی زبان میں نازل ہوا جو زبان جزیرہ عرب میں وحی سے قبل بولی جاتی تھی، جس پر فخر کیا جاتا تھا اور جو اس وقت کی سماجی شناخت کی آئینہ دار بھی تھی۔ مذہب کا مقصود اگر اس زبان کی برتری کو ثابت کرنا ہوتا تو قرآن عین اسی زبان میں نازل نہ ہوتا جو معلقات سبعہ کی زبان تھی اور جسے ابوجہل اور دیگر غیرمسلم بھی بولا کرتے تھے بلکہ اس میں کچھ تبدیلی کی جاتی، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اگر محض وحی کی زبان برتر ہوتی تو ہمارے لیے عبرانی اور سریانی زبانوں کا بھی وہی مقام ہونا چاہیے جوعربی کو دیا جاتاہے کیونکہ توریت اور انجیل میں خدائے تعالی نے انہی زبانوں میں کلام کیا تھا۔

فرد کے لیے دین اور عربیت کے درمیان تعلق کی نوعیت لازم وملزوم کی نہیں ہے، اگر کوئی شخص دین اسلام قبول کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ عربیت کو بطور زبان اور رسم ورواج بھی اپنائے اورعربوں سے برتری و کمتری والارشتہ رکھے۔

عربیت وعجمیت کے مابین برتری اور کمتری والے تعلق کی حوصلہ شکنی عربوں کے کسی طبقے میں نظر نہیں آتی۔ ان کے علما بھی اس غیرمجاز تعلق کی عملاََ ستائش کرتے ہیں اور کسی نے دونوں کے تعلق کو برابری کا تعلق کہنے کی زحمت نہیں کی۔ عربوں کا عجمی مسلمانوں پر برتری کا احساس اتنا گہرا ہے کہ ان کے لبرل اہل علم بھی نفسیاتی طور پر اس احساس برتری کا شدید شکار ہیں۔ ناقص معلومات کے مطابق سوائے ایک آدھ عرب صاحب علم کے کسی نے اس پر آج تک بات کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ فہمی جدعان نے چند جملے اس تصور کی مذمت میں لکھے، وہ کہتے ہیں:

’’قرآن کی تمام تر فضیلت اور اعجاز کو صرف عربی لغت سے منسلک کرنے کا ایک خطرناک نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اسلام کو عربیت کے ساتھ جوڑ دیا گیا اور یہ یہودیت کی طرح قومی دین بن کررہ گیا۔ جبکہ قران کریم صراحت کے ساتھ اس نسبت کا انکار کرتا ہے اس اعتراف کے ساتھ کہ اس کا نزول لسان عربی مبین میں ہوا۔۔۔اسلام قبول کرنے کا مطلب اگر یہ لیا جاتا ہے کہ اس کے بعد عجمی مسلمان عربی قیادت کے آگے جھکیں یا اس دین کوعربی دین کہیں تو یہ قطعا غلط ہے‘‘

برتری کے تصور کی مضبوطی اور تقدس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ دینِ اسلام کو دینِ عربی کہا جاتا ہے

عربیت وعجمیت کے مابین عدم مساوات کا عقدہ تاریخی ہے۔ خلافت عثمانیہ کے آخری دنوں میں جب ترک عرب کشمکش عروج پر تھی اس وقت امام عبدہ کے استاد جمال الدین افغانی، قومیت کی بجائے اسلامی وحدت پر اصرار کررہے تھے۔ انہوں نے عربوں کو بارہا نصیحت کی کہ ان کی حقیقی اور اولین شناخت دین ہے اور اسی کی بنیاد پر اتحاد قائم رکھا جائے تاکہ خلافت کا ڈھانچہ محفوظ رہے، مگر عربوں میں ان کی زیادہ شنوائی نہ ہوسکی۔ اپنی جدوجہد کے آخری ایام میں انہوں نے قومیت کے مسئلہ پر رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک قوم کو دوسری قوم سے ممتاز کرنے کا واحد ذریعہ زبان ہوتی ہے اور عرب قوم کسی بھی دین اور مذہب سے پہلے صرف عرب ہیں۔

عرب مفکر عبدالرحما ن کواکبی اور جمال الدین افغانی نے عربوں کی اپنی زبان و ثقافت کے ساتھ حد درجہ جذباتیت کو دیکھ کر عثمانی خلیفہ سلطان عبدالحمید اور ترک عوام سے یہ مطالبہ بھی کر ڈالا تھا کہ وہ عربیت کو اختیار کرلیں تاکہ امت کی وحدت کوبچایا جاسکے۔ اس سے عربوں کی اپنی زبانی و ثقافتی بالادستی کے شدید احساس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، اور اس کا بھی کہ عربوں کے ہاں ’امت مسلمہ‘ کا کیا تصور باقی رہ گیا تھا اور ہم کیا سمجھ بیٹھے ہیں۔

عربی کو بطور زبان و ادب سیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ زبانیں علم ومعلومات کا ذریعہ ہوتی ہیں تاہم اسے بالادست و برتر سمجھنا درست نہیں ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ عربی زبان اور عرب بالادستی کی اس سوچ کی حوصلہ شکنی کی جائے اور یہ بات اجاگر کی جائے کہ دین وعربیت کے درمیان لازم وملزوم کا رشتہ نہیں ہے۔ مذہب کا فہم ایک زبان سے وابستہ ضرور ہے لیکن اس کے مفہوم پر کسی کی اجارہ داری نہیں اور نہ ہی اسے استحصال کا ذریعہ بنایا جاسکتاہے، اور یہ کہ ہماری مقامی عجمی قومی شناختیں محترم ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...