کپاس کی پیداوار گزشتہ 30 سالوں کی کم ترین سطح پر

194

پاکستان میں کاٹن کی پیداوار اور مصنوعات کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم ’پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن‘ نے گزشتہ روز جاری کی گئی اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ رواں سال ملک میں کپاس کی پیداوار میں 34 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ پچھلے سال کپاس کی کاشت سے 8.487 ملین گانٹھیں حاصل ہوئی تھیں، جبکہ اِس سال 5.571 ملین گانٹھیں حاصل ہوپائی ہیں۔

ماضی قریب تک پاکستان دنیا میں کپاس کی اچھی اور معیاری کاشت کرنے والے ممالک کی فہرست میں ایک نمایاں ملک تھا۔ کپاس کی زراعت اس کے اقتصادی ڈھانچے کا اہم ترین جزو تھی، جی ڈی پی میں اس کے وزن کے اعتبار سے بھی اور ٹیکسٹائل مصنوعات کے لیے بھی جو صنعتی شعبے میں برآمدات کی شرح میں سب سے آگے سمجھی جاتی ہے۔ مگر پچھلے چند برسوں سے اس کی پیداوار میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ ملکی معاشی حالت پر اس کا نہایت منفی اثر پڑ رہا ہے، کسانوں کو نقصان ہو رہا ہے اور ان پر بوجھ میں اضافہ ہوا ہے، اسی طرح ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کپاس باہر سے منگوانی پڑتی ہے۔

ماہرین پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں کمی کے کئی اسباب بتاتے ہیں۔ ان میں سے ایک حکومت کا زراعت کے شعبے میں جدید تحقیق پر توجہ نہ دینا ہے۔ تنظیم ’پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن‘ کے مطابق عام کسانوں کو معیاری بیج کی نئی قسم اور جدید مشینری تک رسائی نہیں ہے جس کی وجہ سے پیداوار میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ اس کا ایک اور سبب موسمیاتی تبدیلی ہے کہ غیرمتوقع بارشیں کپاس کی فصلوں کو تباہ کر رہی ہیں۔ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے متأثرہ ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے، اس لیے فصلوں کے تحفظ کے لیے اس بات کی حاجت ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بارشوں کا درست اندازہ لگانے کے لیے نئے آلات اور جدید تحقیق سے استفادہ کیا جائے تاکہ ملک صنعتی اور غذائی شعبوں میں قلت کا شکار نہ ہو۔

اس کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ماضی قریب میں جب گنے کی پیداوار میں اضافہ ہونے لگا تو حکومت نے کراپ زوننگ قانون بنایا تھا جس کا مقصد کپاس کے لیے موزوں زمینوں پر گنے کی کاشت پر پابندی عائد کرنا تھا۔ مگر اس قانون پر عملدرآمد نہیں ہوسکا اور پنجاب و سندھ کے وہ علاقے جو صرف کپاس کے لیے مختص تھے ان پر گنے کی کاشت کی جانے لگی۔ چونکہ چینی کی ملز بااثر سیاستدانوں کی ملکیت ہیں اور اس عمل میں ان کا فائدہ ہے اس لیے قانون پر عملدرآمد نہیں ہو پارہا اور کپاس کی پیداوار کمی کا شکار ہورہی ہے۔

حالیہ عرصے میں پاکستان گندم، چینی اور کپاس کو باہر سے منگوانے پر مجبور ہوا ہے حالانکہ ان تینوں شعبوں میں پاکستان پیداوار کے اعتبار سے خودکفیل ہے۔ اس کے باوجود اگر ایسا ہو رہا ہے تو اس پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...