مسئلہ کشمیر اور چین کا کردار

221

برصغیر پاک وہند کی تقسیم کے بعد سے مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اہم ترین مسائل میں سے شمار ہوتا ہے۔ اسے عام طور پر بھارت اور پاکستان کے مابین ایک مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے بنیادی فریق خود کشمیری ہیں۔ تاہم چین بھی کئی پہلوئوں سے اس مسئلے سے وابستگی رکھتا ہے بلکہ اگر اسے بھی اس مسئلے کا ایک فریق کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سی پیک کے معاہدے کے بعد اس مسئلے سے چین کی دلچسپی اور بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ ہم اس مضمون میں مسئلہ کشمیر سے متعلق چین کے نقطہ نظر کا بھی ذکر کریں گے۔ نیز کشمیر کے بارے میں مختلف حوالوں سے چین کے موقف کو اپنے قارئین کے سامنے پیش کریں گے۔

بھارت و چین کے مابین بعض علاقوں کی ملکیت کا دعوی

چین بھارت سرحد تقریباً 3 ہزار چار سو اٹھاسی کلو میٹر پر مشتمل ہے۔ چین کا 90 ہزار مربع کلو میٹر علاقوں پر دعویٰ ہے جسے بھارت قبول نہیں کرتا اور اس کے مقابلے میں چین کے زیر قبضہ 39 ہزار مربع کلو میٹر پر بھارت کا دعویٰ ہے۔ یہ پوری سرحد کے مختلف علاقوں سے متعلق دعوے ہیں جن میں سکم اور تبت وغیرہ کے علاقے بھی شامل ہیں۔ تاہم 1959ء میں چین کے وزیراعظم چواین لائی نے لداخ اور ارونا چل پردیش کے 40 ہزار مربع کلو میٹر علاقے پر ملکیت کا دعویٰ کیا۔

اپریل 1960ء کو چواین لائی اور نہرو کے درمیان نئی دہلی میں سرحدی تنازع حل کرنے پر مذاکرات ہوئے جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔ دسمبر 1961ء میں بھارت نے لداخ میں سرحدی چوکیاں قائم کرنا شروع کردیں۔

20 اکتوبر 1962ء کو دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے دو اطراف سے حملہ کرکے اروناچل پردیش کے اہم علاقے توانگ پر قبضہ کرلیا۔ ایک ماہ بعد جنگ بندی تو ہو گئی مگر سرحدی تنازع برقرار رہا، بھارت نے چین پر 33 ہزار کلو میٹر علاقہ ہتھیانے کا الزام لگایا جب کہ چین نے دعویٰ کیا کہ ارونا چل پردیش کا تمام علاقہ اس کی ملکیت ہے۔ اس جنگ میں انڈیا کو ہزیمت اٹھانا پڑی تھی اور اس کے ایک ہزار فوجی جنگ میں کام آئے اور تین ہزار فوجیوں کو چینی فوجیوں نے گرفتار کرلیا۔ چین کے بھی آٹھ سو فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔
اس جنگ کے بعد دونوں ملکوں کے مابین سفارتی تعلقات معطل ہو گئے جو اپریل 1976ء میں پندرہ سال بعد بحال ہوئے۔

جنوری 2000ء میں چین نے اکسائی چن کے علاقے میں سڑکیں بنانا شروع کردیں۔ انڈیا نے الزام لگایا کہ چین اس کے علاقے میں پانچ کلو میٹر اندر گھس آیاہے۔

اگست 2019ء میں انڈیا نے ایک متنازع اقدام کے ذریعے ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو یک طرفہ طور پر تبدیل کردینے کے بعد اس خطے اپنی سرحدوں کا ایک نیا نقشہ جاری کیا جس میں اِس وقت چین کے کنٹرول میں اکسائی چن کو انڈین وفاق کے زیر انتظام لداخ میں شامل کر دیا گیا ہے

اکسائی چن کا علاقہ اس وقت چین کے کنٹرول میں ہے۔ ان میں سے بعض علاقے خاص طور پر لداخ کا علاقہ مسئلہ کشمیر سے تعلق رکھتا ہے۔ اس علاقے میں مئی 2020 میں بھی چین اور بھارت کے مابین کشیدگی پیدا ہو چکی ہے جو اب تک باقی ہے۔ اس علاقے میں 5 مئی 2020 کو تین مقامات پر فوجی تصادم ہوا جن میں ایک مقام وادی گلوان، دوسرا ہاٹ سپرنگ نامی خطہ اور تیرا علاقہ پینگونگ نامی جھیل کے جنوب میں ہے۔ یہ تینوں علاقے لداخ میں ہیں۔

اگست 2019ء میں انڈیا نے ایک متنازع اقدام کے ذریعے ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو یک طرفہ طور پر تبدیل کر دیا، اس کے بعد بھارت نے اس خطے میں اپنی جانب سے اپنی سرحدوں کا ایک نیا نقشہ جاری کیا جس میں اس وقت چین کے کنٹرول میں اکسائی چن کو انڈین وفاق کے زیر انتظام لداخ میں شامل کر دیا گیا ہے۔

سیاچین گلیشئیر اور چین

سیاچین گلیشیئر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازع خطہ سمجھا جاتا ہے لیکن اس خطے کے کچھ حصے کا دعویدار چین بھی ہے۔ تاہم بھارت کی طرف سے پاکستانی کنٹرول میں موجود اس گلیشیئرپر قبضے کی چین مخالفت کر چکا ہے۔

ٹرانس قراقرم ٹریکٹ

یہ علاقہ 5800 مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے اس پر پاکستان کا دعویٰ تھا لیکن 1963ء میں پاکستان اپنے دعوے سے دستبردار ہو گیا۔ اب یہ چین کے زیر انتظام ہے جب کہ انڈیا اس ٹریکٹ کو اپنے زیر انتظام جموں وکشمیر کا حصہ قرار دیتا ہے اور اس کا دعوی اس پر برقرار ہے۔

سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر چین کا طرز عمل

چین نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے اور حالیہ دنوں میں بھی اس کا کردار اس حوالے سے بہت نمایاں رہا ہے۔ مقبوضہ وادی پر بھارت کے قبضے کو وہ ناجائز سمجھتا ہے۔ اس حوالے سے کئی مواقع پر وہ بھارت مخالف رویہ اختیار کر چکا ہے۔ اگست 2010ء میں چین نے بھارتی جنرل بی ای سجسوال کو یہ کہ کر ویزا دینے سے انکار کردیا کہ وہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کے کمانڈر رہے ہیں۔ نومبر 2010ء میں چین نے جموں وکشمیرکے شہریوں کو پاسپورٹ کے بغیر کاغذوں پر ویزوں کا اجرا شروع کردیا۔

اس موضوع کی ایک پوری تاریخ ہے۔ گزشتہ برس 15 جنوری 2020ء کو مسئلہ کشمیر پر ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس کے حوالے سے چین نے ایک بار پھر واضح کیا تھا کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے بھارت کو اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل درآمد اور سلامتی کونسل کی رائے کا احترام کرنا ہوگا۔ اس اجلاس کے حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے 17 جنوری 2020ء کو ایک بریفنگ میں بتایا تھا کہ دو روز قبل مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہونے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں چین نے کونسل کو کشمیر کی موجودہ صورت حال پر خصوصی توجہ دینے اور بھارت سے اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل درآمدکرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شیوانگ نے کہا کہ چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر پاکستان اور بھارت کے درمیان طویل عرصے سے تنازع بننے والے مسئلہ کشمیر کے حل اور تنائو کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنے پر بھی زور دیا اور کشمیر کی موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔

ترجمان وزارت خارجہ نے ایک مرتبہ پھر یقین دہانی کروائی کہ چین کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ بھارت کو سلامتی کونسل کے ارکان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کی موجودہ صورت حال پر اپنے اقدامات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے مزیدکہا کہ کشمیر پر چین کی پوزیشن ہمیشہ سے واضح رہی ہے، اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت حل کیا جانا چاہیے جس پرسلامتی کونسل نے 15 جنوری کے اجلاس میں بھی مفصل جائزہ لیا اور چین سمیت سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے بھی مقبوضہ کشمیر پر کھل کر گفتگو کی اور موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔

کشمیر پر چین کی ثالثی کی پیشکش

چین نے متعدد مرتبہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی ہے جسے بھارت مسترد کرتا چلا آیا ہے۔ جولائی 2017ء میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گنگ شوانگ نے بیجنگ میں ایک نیوز کانفرنس میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے سوال پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ کنٹرول لائن پر دونوں ملکوں کے درمیان جس طرح کا ٹکراؤ ہو رہا ہے اس سے صرف دونوں ملکوں کا امن و استحکام خطرے میں نہیں پڑے گا، بلکہ یہ کشیدگی پورے خطے پر اثر انداز ہوگی۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک ایسے اقدامات کریں گے جن سے کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام میں مدد ملے گی۔ چین کی طرف سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب انڈیا اور چین کے فوجی سکّم کی سرحد کے نزدیک ڈوکلام خطے میں ایک دوسرے کے سامنے کھڑےتھے۔

ان ہی دنوں چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز میں ایک کالم نگار نے لکھا تھا کہ جس طرح بھارت کے فوجی ڈوکلام کے متنازع علاقے میں بھوٹان کی درخواست پر داخل ہوئے ہیں اسی دلیل کی بنیاد پر تیسرے ملک کی فوج پاکستان کی درخواست پر کشمیر میں داخل ہوسکتی ہے۔
بھارت نے مسئلہ کشمیر کے حل میں چین کی ثالثی کی پیشکش یہ کہتے ہوئے مسترد کردی کہ یہ ایک دو طرفہ معاملہ ہے اور اس تنازعہ پر پاکستان سے بات چیت کے لیے دروازے کھلے ہیں۔

سی پیک، بھارت اور چین

پاکستان اور چین کے درمیان تقریباً 62 بلین ڈالر کے منصوبوں کا آغاز سنہ 2013ء میں ہوا جسے سی پیک کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت چین پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔اس میں راہداری اور توانائی کے شعبے سے متعلق منصوبوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان میں سے کئی ایک منصوبوں پر پیش رفت ہو چکی ہے اور مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے کام جاری ہے۔ بھارت نے پہلے دن سے ہی سی پیک کی مخالفت کی۔ یہ مخالفت امریکہ کی طرف سے بھی کی گئی۔ بھارت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ گلگت بلتستان چونکہ کشمیر کا حصہ ہے جو اس کے بقول پاکستان کے ناجائز قبضہ میں ہے اور بھارت کا اٹوٹ انگ ہےاس لیے پاکستان اور چین کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ یہاں کوئی بین الاقوامی منصوبہ بنائیں۔ البتہ پاکستان اور چین نے بھارت کے ایسے دعوئوں کو ہمیشہ مسترد کیا ہے اور امریکہ کی مخالفت کو بھی در خوراعتنا نہیں جانا۔

اگست 2019ء میں بھارت نے اپنے زیر قبضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر پاکستان اور چین سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جاری چائینہ پاکستان اکنامک کوری ڈور (سی پیک) پر اپنے تحفظات کا اظہار کیاجسے چین اور پاکستان نے مسترد کردیا۔

بعض تجزیہ کاروں نے بھارت کے اعتراضات کے جواب میں کہا ہے کہ بھارت اپنے زیر قبضہ کشمیر میں منصوبےشروع کر سکتا ہے تو پاکستان گلگت بلتستان میں ایسا کیوں نہیں کر سکتا۔ بعض تجزیہ کار بھارت کے سی پیک پر اعتراضات کو سیاسی نوعیت کا قرار دیتے ہیں اور بعض اسے سیکورٹی اور سٹرٹیجک نوعیت کا۔ بہرحال بھارت کا چین اور پاکستان کے بارے میں جو کلی موقف ہے، یہ اس کا ایک حصہ ہے۔ البتہ پاکستان نے 2016 میں بھارت کو بھی اس اقتصادی راہداری منصوبے میں شمولیت کی دعوت دی تھی جسے بھارت نے قبول نہیں کیا جب کہ چین نے ایران کو اس منصوبے میں شرکت کی دعوت دی تو اس نے قبول کر لیا۔

مزید دیکھیے:

https://www.bbc.com/urdu/regional-40596080
https://www.bbc.com/urdu/regional-40591029
https://jang.com.pk/amp/723578
https://www.express.pk/story/1956172/10/
https://www.nawaiwaqt.com.pk/12-Jul-2019/1038259
https://urdu.geo.tv/latest/212582
https://www.bbc.com/urdu/pakistan-49685388
https://www.bbc.com/urdu/regional-38427442
https://www.express.pk/story/2107997/268/

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...