مولانا وحیدالدین خان، سیکولرزم اور بھارت کے مسلمانوں کی مذہبی قیادت

169

26 جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر بی جے پی حکومت نے پدم وبھوشن ایوارڈ کے لیے 119 شخصیات کو نامزد کیا جن میں مولانا وحیدالدین خان بھی شامل ہیں۔ 96 برس کے بزرگ مسلم عالم جنہیں ’مسلمانوں کا گاندھی‘ بھی کہا جاتا ہے اپنی عدم تشدد کی فکر کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ پندرہ سالوں تک مولانا مودودی کی رفاقت میں رہے اور پھر راستے یوں جدا کیے کہ آج تک مولانا مودودی اور ان کی سوچ پر تنقید جاری ہے۔

مولانا وحیدالدین خان کو بھارت کا تیسرا بڑا قومی ایوارڈ ملنے پر بھارت میں کئی طرح کی آراء ہیں کہ کیا یہ مسلمانوں کے لیے اعزاز کی بات ہے یا نہیں۔ انہیں بی جے پی کی طرف سے اس اعزاز سے نوازے جانے کا مطلب بظاہر مسلمانوں کو فکری ترغیب دینا ہوسکتا ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا سیاسی مفاد کے حوالے سے بی جے پی اور کانگریس دونوں کے لیے ایک جیسے ہیں، نہ ان کی کسی جماعت سے وابستگی ہے اور نہ دشمنی۔ اگر انہوں نے بابری مسجد کے انہدام یا گجرات فسادات پر مسلمانوں کو شانت رہنے کی تلقین کی تھی تو 70 اور 80 کی دہائی میں کانگریسی عناصر کی جانب سے بھی مسلمانوں کے خلاف متعدد بدترین فسادات ہوئے، اس دوران بھی ان کا موقف یہی تھا۔

مولانا وحیدالدین خان عالم دین ہیں مگر مذہبی اعتبار سے بھی ان کی توجہ کا مرکز سماجی اصلاح و فلاح ہے۔ ان کے بارے میں بقول کسے عمومی طور پہ یہ خیال پایا جاتا ہے کہ ’انہوں نے بھارتی مسلمانوں میں انقلاب کی روح کو مار دینے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور بی جے پی نے انہیں اعزاز بھی اسی وجہ سے نوازا ہے‘۔ وہ عدم تشدد کے فلسفے کے مبلغ ہیں اور اس حوالے سے وہ کسی اگر مگر کے قائل نہیں، چاہے صورتحال جتنی بھی سنگین نظر آتی ہو۔ تاہم یہ سوچ ان کی شخصیت کا مکمل پہلو نہیں ہے۔ وہ صرف یہ نہیں کہتے کہ مسلمان عدم تشدد کا طرز زندگی اپنائیں اور برداشت کریں، یا یہ کہ وہ نعرہ بازی کی شناختی جدوجہد کو ترک کریں، بلکہ وہ انہیں سیاسی حقوق کے حصول کی پرامن جدوجہد پر بھی ابھارتے ہیں۔ وہ ہاتھ باندھ کر بیٹھ جانے کی ترغیب نہیں دیتے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی ترقی سیاسی اور تعلیمی راستے سے آنی چاہیے۔ ان کے خیال میں موجودہ مسلم لیڈرشپ فرسودہ خیالات کی حامل ہے اور اس کا دائرہ فکر وسیع نہیں ہے۔ وہ ’فتوی ایکٹوازم‘ کو بھارتی مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا وبال گردانتے ہیں اور کہتے ہیں مکالمے کی زبان استعمال کی جائے۔ انہوں نے کبھی بھی مسلمانوں کو پسماندہ رہنے کی نصیحت نہیں کی، بلکہ وہ اس پر سخت نالاں ہیں اور انہیں آگے بڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ وہ اصل میں سیاسی جدوجہد اور تعلیمی انقلاب کو مرکزی اہمیت دیتے ہیں۔ مگر ان کے اس پہلو کو ان کے مخالفین ہمیشہ نظرانداز کرتے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر ان کے بارے ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے کہ ’وہ زیغ و ضلال کی راہ پر ہیں‘ اور ان کی زبان کی سلاست و جاذبیت سے دھوکہ نہ کھانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

بھارت کی مسلم قیادت یا تو مکمل مذہبی ہے یا پھر نیم مذہبی۔ تقسیم کے بعد سیاسی شعور رکھنے والا اور سیاسی جدوجہد کرسکنے والا طبقہ پاکستان منتقل ہوگیا، بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کو صرف مولانا ابوالکلام آزاد کی ایک قیادت میسر آئی، ان کے ساتھ اور ان کے بعد کوئی نمایاں مسلم قیادت سامنے نہ آسکی۔ یوں جو اتنی بڑی اقلیت کی قیادت کا جو خلا وہاں رہ گیا اسے مذہبی حلقے نے پورا کیا

ان کے کسی بھی موقف کی حمایت و تائید بالکل مقصود نہیں ہے، صرف عملی طور پر اگر دیکھا جائے تو کچھ چیزیں ایسی ہیں جو انجام کار ذرا مختلف ثابت ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پہ بابری مسجد کے انہدام پر مولانا وحیدالدین خان نے کہا تھا کہ مسلمان مسجد سے دستبردار ہوجائیں، اور عدالتی سطح پر ایک معاہدہ لکھوائیں کہ اس کے بعد بھارت میں کسی اور مسجد کو کبھی نہیں گرایا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر مسلمان اسے ایک تحریک بناتے ہیں تو اس سے ہندو قوم پرستی کو مزید تقویت کے حصول کے مواقع ملیں گے کہ وہ اس پر مسلسل سیاست کریں گے اور ویسے بھی مسلمان کمزور ہیں تو انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اب جب سالوں بعد بابری مسجد کا فیصلہ آیا ہے تو حالت یہ ہے کہ مسلمانوں کو ملک میں اس فیصلے کے خلاف کسی بڑے احتجاج کی سکت بھی نہ تھی۔ بابری مسجد اور مندر کی تعمیر کی سیاست کو آگے بڑھا کر بی جے پی کہاں پہنچ گئی ہے۔ ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ ان کی مخالف فکر کے حامل جمیعت علمائے ہند کے سربراہ مولانا محمود مدنی نے 20 اپریل 2014ء کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ’نریندرا مودی کو گجرات فسادات پر معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے‘۔ مولانا محمود مدنی نے ہی نئے شہریت بل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’این آر سی کی جانچ پڑتال پورے بھارت میں ہونی چاہیے تاکہ پتہ چلے کہ کتنے گھس پٹئیے یہاں موجود ہیں‘۔ مدنی خاندان کی دوسری شخصیت مولانا ارشد مدنی نے کہا ’آر ایس ایس انتہائی منظم جماعت ہے، بھارت میں اس جیسا کوئی اور نہیں‘۔ جمعیت علمائے ہند کے سربراہوں کے ایسے بیانات مسلمانوں کی بقاء کی مجبوری کا مسئلہ ہوسکتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ایسی بے بسی اور کنفیوژن جو آخر کار ظالم کی مدح سرائی تک حالات کو لے آئے اور جو اپنے طبقے کے سیاسی حقوق کے لیے کوئی واضح حکمت عملی بھی نہ دیتی ہو کیا اس سے بہتر یہ نہیں کہ محض نعرہ بازی کی شناختی جدوجہد ترک کرتے ہوئے سیاسی اور تعلیمی جدوجہد کو ترجیح دی جاتی جو کہیں تو امید کی روشنی لے ہی آتی۔ وہی مسلم مذہبی و سیاسی شخصیات جو کانگریس کی ہمنوا تھیں آج بی جے پی کا دفاع کرتی ہیں یا ہر ظلم پر خاموشی تانے رکھتی ہیں، مزیدبرآں ان سب کے پاس کوئی سیاسی و تعلیمی لائحہ عمل بھی نہیں ہے اور نہ مسلمانوں کے اندر اس جہت کو انگیخت دینے کا کوئی جذبہ۔

بھارت میں مسلمانوں کی پسماندگی کی وجوہات میں بلاشبہ ملک کی حکومتوں کی سوچی سمجھی پالیسی رہی ہے کہ اس طبقے کو دبا کر اور کمزور ہی رکھا جائے۔ سیکولرازم کا نام لیتے ہوئے کانگریس نے بھی ہمیشہ پس پردہ یہی کیا۔ انہیں تعلیم، صحت اور ملازمت کے شعبوں میں نچلے درجے پر رکھا گیا حتی کہ اب مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بھی گئی گزری ہے۔ مگر 180 ملین کی آبادی کی اپنی جدوجہد کیا ہے؟ یہ مجاز سوال ہے جس کا جواب مولانا وحیدالدین خان کے ہاں ملتا ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے اس حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی مسلمانوں کے اندر حقیقی لیڈرشپ کا فقدان ہے۔ ان کی موجودہ قیادت میڈیا کے راستے سے آئی ہے اور وہی مسلمانوں کا چہرہ بن گئی ہے۔ میڈیا انتخاب کرتا ہے کہ کون ان میں سے زیادہ شعلہ نوا اور بے تکان بولنے والا ہے اور جو ایسے بیانات دے سکتا ہے جو جلتی پر تیل کا کام کرسکتے ہیں۔ وہی افراد بھارت میں مسلمانوں کا چہرہ بن جاتے ہیں اور انہیں ان کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔

ریاست آسام نے 30 دسمبر 2020ء کو اعلان کیا کہ ہمیں مزید امام خطیب نہیں چاہئیں۔ اس لیے ہم ریاست کے مدرسہ بورڈ کو تحلیل کرتے ہیں اور اپریل 2021ء سے یہ تمام 615 مدارس رسمی سکولوں میں تبدیل کردیے جائیں گے۔ یہ قانون پارلیمنٹ سے پاس ہوگیا ہے۔ اب دیگر ریاستوں کے مذہبی طبقات کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ آسام ماڈل باقی جگہوں پر بھی آزمایا جائے گا

بھارت کی مسلم قیادت یا تو مکمل مذہبی ہے یا پھر نیم مذہبی۔ تقسیم کے بعد سیاسی شعور رکھنے والا اور سیاسی جدوجہد کرسکنے والا طبقہ پاکستان منتقل ہوگیا، بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کو صرف مولانا ابوالکلام آزاد کی ایک قیادت میسر آئی، ان کے ساتھ اور ان کے بعد کوئی نمایاں مسلم قیادت سامنے نہ آسکی۔ یوں جو اتنی بڑی اقلیت کی قیادت کا جو خلا وہاں رہ گیا اسے مذہبی حلقے نے پورا کیا۔ حکومت نے بھی مسلم اقلیت کی نمائندگی کے لیے جامع مسجد اور دارالعلوم دیوبند سے رابطہ کیا۔ چونکہ مسلمان کزور، پسماندہ اور غربت کا شکار تھے اس لیے انہوں نے دہائیوں تک قیادت پہ اندھا اعتبار کیا۔ اور قیادت نے وہی کیا جو اس کا شعبہ تھا۔ مزید مذہبی فکر کی ترویج۔ یعنی کہ ایک ایسی اقلیت جسے عدم مساوات کے تلخ تجربات ہوچکے تھے اس کے مستقبل کے لیے سیاسی، تعلیمی، طبی اور ملازمت کے مسائل کو اہمیت ہی نہیں دی۔ حکومتوں نے جو دیا اس پر چپ سادھی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا علی میاں ندوی نے کہا کہ بھارت کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ شریعت کا ہے۔ گویا دینی تشخص کا تحفظ ہی ایک مقصد بن کے رہ گیا، اور یہ مقصد یوں بنا کہ اس کا تصور یہ تھا کہ بھارت کے سیکولرازم سے مسلم مذہبی شناخت کو خطرہ لاحق ہے۔ پھر اس سے کیسے نمٹا جائے گا؟ سیاسی حقوق کی جدوجہد کے ذریعے یا جدید معیاری تعلیم میں آئے بڑھنے سے نہیں بلکہ مذہبی تعلیم اور مذہبی تشخص پر مزید اصرار کرکے۔

بھارت میں جدید تعلیم سے آراستہ مذہبی قیادت بھی موجود ہے۔ فرنگی محلی، ندوی اور بخاری حلقے جدید تعلیم بھی رکھتے ہیں مگر وہ جس طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں اس کے لیے کچھ نہیں کرتے، ان کی جدتِ فکری کا دائرہ اپنے خاندانوں تک محدود ہے۔ کچھ عرصہ قبل مولانا سلمان ندوی (جو ابھی حیات ہیں) کی کتب پڑھنے کا اتفاق ہوا تو دیکھ کر حیرت ہوئی کہ انہوں نے جو کتب تصنیف کی ہیں ان کی اکثریت میں بھارت کے مسلمانوں کے مذہبی تشخص اور شریعت کو لاحق خطرات کا مسئلہ زیربحث ہے۔ وہ مشورہ دیتے ہیں کہ ’’مسلمانان ہند تحریک خلافت سے روح حاصل کریں اور آوازہ حق کو پوری قوت سے بلند کریں اور عالمی نظام کی چولیں درست کرنے کے لیے زبان وقلم، فکروتدبیر اور علمی جدوجہد سے جو بھی ممکن ہو اس سے دریغ نہ کریں۔‘‘ وہ ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ ’’مسلمان یہ ذہن نشین رکھیں کہ دین ہر سطح پر ہر حالت میں واجب التنفیذ ہے، اگر اجتماعیت پر ممکن نہیں انفرادی طور پر ہی سہی۔ ملک کے مختلف حصوں میں جہاں جہاں مسلمان موجود ہیں انہیں چاہیے کہ وہ وہاں اپنے طور پہ قاضی وامیر متعین کریں۔ یہ غلط فہمی ہے جس میں بعض پڑھے لکھے افراد بھی مبتلا ہیں کہ جب تک مسلمانوں کے پاس حکومت وطاقت نہ ہو وہ قاضی وامیر بنانے کے ذمہ دار نہیں۔ یہ مہلک غلطی ہے‘‘۔

نہ بھارتی مسلمانوں کی حقوق کی فعال تنظیمیں ہیں اور نہ جدید علمی معیشت میں وہ کہیں اپنی جگہ بناسکے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کسی سڑک پر نوجوان کو روک قتل کردیا جاتا ہے اور مسلمانوں کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کریں اور کس سے رابطہ کریں۔ کیونکہ کوئی معاون سیٹ اپ تیار ہی نہیں کیا گیا۔ صرف غیرمسلم تنظیموں سے ہمدردی ملتی ہے مگر انصاف نہیں

مولانا سلمان ندوی نے بھارت میں ان مسلم مذہبی مفکرین کا بھی خوب رد کیا ہے جو جدیدیت اور عصرحاضرکے تقاضوں کی رعایت رکھتے ہوئے روایتی سوچ سے ہٹ کر بات کرتے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر راشد شاذ اور اسرار عالم پر رد میں ایک کتاب تصنیف کی ہے جس کا نام ہے ’سرسید کی بصیرت اور اسرارعالم کی بے بصیرتی‘ اس میں جو زبان انہوں نے استعمال کی وہ ملاحظہ کیجیے:

’’اسرار عالم اور ڈاکٹر شاذ کی کتابیں ان کی ہسٹیریائی مریض ہونے کی کھلی شہادت فراہم کرتی ہیں دنیا میں ہر بیماری کا علاج ممکن ہے، اگر ان مریضوں کی تمام تر عقل بالکل ماؤف نہ ہوگئی ہو تو ان کی شفایابی کے لیے توبہ استغفار کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔ اپنی بیماری کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں اور ان ان کا ضمیر(نفس لوامہ) یہ کہے کہ وہ بیمار ہیں اور انہیں یہ اعتراف بھی ہو کہ انہوں نے اسلام دسمن باطل قوتوں کے اشارے پر اپنے مغربی یاصہیونی آقاؤوں کو خوش کرنے کے لیے اور بدلے میں حقیر متاع پانے کے لیے یہ کام کیا ہے تو پھر وہ خدا کے حضور توبہ کریں۔ ان کے اس کام میں کوئی عالم، کوئی مفسر، کوئی محدث روڑا نہیں بنے گا‘‘۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا سلمان ندوی بھی بھارت کے مذہبی حلقے میں جدیدیت پسند مشہور ہیں، ایسے میں ان سے عام روایتی مذہبی حلقے کا کیا حال ہوگا۔

یہ صرف ایک مثال ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت کا مسلم مذہبی طبقہ کس قدر جدیدیت اور سیکولرازم سے حقیقت میں بے زار ہے نفرت کرتا ہے۔ مولانا محمود مدنی کے سیکولرازم کا مطلب محض اتنا ہے کہ مسلمانوں کو مارا نہ جائے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ سیاسی حقوق، جدید معیاری تعلیم کے لیے سعی اور جمہوریت کی بامعنی حمایت کہیں نہیں ملتی۔ نوجوان مفکر محمد سجاد نے اپنی کتاب ’’ہندوستانی مسلمان: مسائل و امکانات‘‘ میں اس پر روشنی ڈالی ہے کہ مسلمانوں میں ہر مسئلے پرحکومت کو موردالزام ٹھہرانے کی روش درست نہیں ہے۔ وہ تنہاپسند ہوگئے ہیں اور جذباتی نعروں کے پیچھے چلتے ہیں۔ وہ ملک کی مقبول تحریکوں جیسے عورتوں کے حقوق کی تحریک، زرعی اصلاحات کی تحریک، دلتوں کی فلاح و بہود کی تحریک، تعلیم، صحت اور پنچایت راج تحریکوں سے الگ تھلگ رہتے ہیں۔ یوں وہ اپنے مسائل کا بھی اکیلے سامنا کرتے ہیں۔

بھارتی مسلمانوں کی مذہبی یا نیم مذہبی قیادت اس طبقے کو حکومتوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔ جو مدعے وہ اکثر اچھالتے ہیں انہیں شناخت کا مسئلہ بنا کرپیش کیا جاتا ہے یوں ہندوقوم پرست بھی اس سے بخوبی فائدہ اٹھالیتے ہیں۔ جب مسلم قیادت محض شناخت کی سیاست کرتی ہے اور اصل مسائل نظرانداز کرتی ہے تو ہندوقوم پرستوں کو اس کا فائدہ ہوتا ہے کہ عام ہندو بھی ماحول کی گرما گرمی میں اپنے مذہب کی جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں اور ان کے فیصلوں پر خاموش ہوجاتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ مسلم قیادت اگر یہ نہ بھی کرے تو ہندوقوم پرست مسلم مخالف جذبات بھڑکائیں گے مگر مسلم قیادت کا طرز عمل بھی مسلمانوں کے لیے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ مثال کے طور پہ کچھ وقت پہلے جب اسدالدین اویسی اورابواعظمی ہر جگہ بس یہ کہہ رہے تھے کہ ’جے ماتا کی‘ نہیں کہیں گے تو یہ اتنا اچھالاگیا کہ گلی محلوں میں مسلم نوجوانوں کو پکڑ کر یہ کہا جانے لگا کہ یہ نعرہ لگاؤ ورنہ مار دیں گے۔

بھارت کا اردو میڈیا جو مسلم میڈیا سمجھا جاتا ہے وہ بھی مذہبی یا نیم مذہبی طبقے کے ہاتھ میں ہے۔ یہ شعبہ مسلمانوں پر اثرانداز ہوتا ہے مگر یہ بھی سیکولر اقدار اور سیاسی حقوق کی بامعنی آگہی کو فروغ نہیں دیتا۔ ان کے ہاں بھی عموماََ جدید تقاضوں کی اہمیت اور اس کے لیے حدود کا تعین یوں ہی ہے جیسے پاکستان کے مذہبی میڈیا اور صحافت میں۔ جس کا جوہری محور دین اور دینی تشخص ہے۔ باقی سب فروعی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ مذہب کی اہمیت نہیں ہونی چاہیے طرز زندگی میں۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کا زاویہ اور حدود کیا ہیں۔ اس میں غیراسلامیت کا نشانہ کون ہے۔ وغیرہ۔ مسلم اقلیت کی تعلیم و سیاست کا جوہری محور وہ نہیں ہونا چاہیے جو بنا ہوا ہے۔

مولانا وحیدالدین خان کا سیکولرزم بامعنی اور ثمرآور تھا، مولانا محمود مدنی اور جمعیت علمائے ہند کا سیکولرزم صرف تشخص کے تحفظ کی حد تک ہے جس میں سیاسی حقوق، تعلیمی انقلاب اور معاشی بہتری کے لیے کوئی لائحہ عمل موجود نہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو حکومتوں نے چاہا وہ آسانی سے ممکن ہوتا گیا اور انہیں کوئی حقیقی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا

بھارت میں مسلمانوں نے اور ان کی قیادت نے اپنی قوت صرف مذہبی تشخص کو سمجھا اور اسی پر ساری توجہ مرکوز کیے رکھی، نہ ان کی حقوق کی فعال تنظیمیں ہیں اور نہ جدید علمی معیشت میں وہ کہیں اپنی جگہ بناسکے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کسی سڑک پر نوجوان کو روک قتل کردیا جاتا ہے اور مسلمانوں سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کریں اور کس سے رابطہ کریں۔ کیونکہ کوئی معاون سیٹ اپ تیار ہی نہیں کیا گیا۔ صرف غیرمسلم تنظیموں سے ہمدردی ملتی ہے مگر انصاف نہیں۔

پچھلے دس سالوں سے بھارت میں دینی مدارس مسملمانوں کے حوالے سے اہم موضوع ہیں۔ حکومت نے کئی ریاستوں میں مدرسہ بورڈز تشکیل دیے ہیں۔ بالخصوص اترپردیش میں مدرسہ آن لائن پورٹل بنایا گیا ہے۔ دینی مدارس کی ایک بڑی تعداد جو سینکڑوں میں ہے یا تو وہ مکمل حکومت کی سرپرستی میں لیے گئے ہیں یا پھر انہیں جزوی طور پہ حکومت کی مدد ملتی ہے۔ اس طرح بہت سارے مدارس ’نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ‘ کی طرف سے دیا گیا نصاب بھی پڑھاتے ہیں۔ جن میں ریاضی، سانئس، کمپیوٹر اور انگلش کے مضامین شامل ہیں۔ ریاست بہار، مغربی بنگال، آسام اور راجھستان میں بھی بالخصوص حکومتی فنڈز دیے جاتے ہیں۔

حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد مسلمانوں کو قومی دھارے میں شریک کرنا، ملازمت کے حصول کی صلاحیت پیدا کرنا اور بنیادپرستی کا خاتمہ ہے۔ چونکہ بھارت میں مدارس کی معاشی حالت غیر ہے اس لیے مدارس کی بڑی تعداد مالی معاونت کے لیے ان بورڈز کا حصہ بن گئی۔ مگر رپورٹس کے مطابق مجموعی طور پہ مقاصد کا حصول ممکن نہیں ہوپارہا، کیونکہ مدارس ان مضامین کو یوں نہیں دیکھتے پڑھتے جیسے وہ روایتی علوم کو پڑھتے ہیں۔ اب ریاست آسام نے 30 دسمبر 2020ء کو اعلان کیا کہ ہمیں مزید امام خطیب نہیں چاہئیں۔ اس لیے ہم ریاست کے مدرسہ بورڈ کو تحلیل کرتے ہیں اور اپریل 2021ء سے یہ تمام 615 مدارس رسمی سکولوں میں تبدیل کردیے جائیں گے۔ یہ قانون پارلیمنٹ سے پاس ہوگیا ہے۔

اب دیگر ریاستوں کے مذہبی طبقات کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ آسام ماڈل باقی جگہوں پر بھی آزمایا جائے گا اس لیے وہ تنقید کر رہے ہیں۔ مگر وقت بتائے گا کہ کیا ہوتا ہے۔

اس سے البتہ یہ بات واضح ہے کہ مدارس اگر خود سے اپنے نظام میں جدید معیاری تعلیم کو جگہ دیتے اور ان تقاضوں پر پورا اترتے جن کی حاجت تھی تو انہیں وہ اتنے بے بس نہ ہوتے۔ ان کی سیاسی کمزوری، تعلیمی مسائل، صحت کی مشکلات، معاشی ابتری، اس سب نے انہیں حکومتوں کے آگے مجبور بنادیا ہے۔ حکومتوں نے یہی چاہا کہ یہ اقلیت کمزور رہے اور اس نے بھی اپنے لیے کچھ نہیں کیا۔

بھارتی مسلمانوں کو نئی نوجوان قیادت کی ضرورت ہے۔ اس کا احساس نئی نسل میں موجود ہے مگر روایتی مسلم قیادت ان کا تعاون نہیں کرتی نہ ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ حکومت بھی انہیں دبا دیتی ہے۔ شہریت بل کے مظاہروں میں عمرخالد جیسے نوجوانوں کی آواز بخوبی گونجی مگر انہیں بے سہارا چھوڑ دیاگیا، حکومت ان کے ساتھ جو چاہے کرے۔

مولانا وحیدالدین خان کا سیکولرزم بامعنی اور ثمرآور تھا، مولانا محمود مدنی اور جمعیت علمائے ہند کا سیکولرزم صرف تشخص کی حد تک تھا جس میں سیاسی حقوق، تعلیمی انقلاب اور معاشی بہتری کے لیے کوئی لائحہ عمل موجود نہ تھا، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو حکومتوں نے چاہا وہ آسانی سے ممکن ہوتا گیا اور انہیں کوئی حقیقی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...