مسلم علمی و تہذیبی ورثے میں دلچسپی رکھنے والے ہندو ناشرین اور مصنفین

778

 برصغیر کی قدیم روایت میں بین المذاہب رواداری ایک ایسا عنصر ہے جس کی عملی مثال میں صرف لوگوں کے روزمرہ کے باہمی تعامل کو ہی نہیں پیش کیا جاسکتا بلکہ اس کی حدود میں فکری و علمی مثالوں کی بھی بھرمار ہے۔ اس پر تو جدید ہندوستان کی تاریخ و تہذیبی روایت بھی مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے کہ ہندو مذہب کے ماننے والوں کے طرز بودو باش میں مسلم ثقافت کے اثرات نمایاں ہیں، جبکہ ہندو مذہب کی علمی و فکری تاریخ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ برصغیر میں مسلمانوں کے علوم و فنون پر صرف مسلمانوں کو ہی دسترس حاصل نہیں تھی بلکہ اس شعبے میں درجنوں ایسے ہندو علماء، مفکرین و ادباء کے نام لیے جاسکتے ہیں جو مسلم علوم وفنون کی نہ صرف یہ کہ سمجھ رکھتے تھے بلکہ ان میں گہری فنی مہارت بھی رکھتے تھے اور انہوں نے اس میں طبع آزمائی بھی کی۔

منشی نول کشور کی شخصیت اس کی ایک بہترین و قابل قدر مثال ہے جنہوں نے 1857ء کے فوراََ بعد جب مسلمانوں کو شدید دھچکا لگا تھا، دہلی کی علمی روایت اجڑ گئی اور مسلمان مجموعی طور پہ کمزور ہوگئے تھے، ایسے میں میں منشی نول کشور نے مسلم علمی روایت کو نہ صرف محفوظ کرلیا بلکہ اس میں ایک نئی روح پھونک دی۔ دارالعلوم دیوبند کی اپنی یادداشتوں میں درج ہے کہ اس وقت ادارے میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ طالبعلوں کے لیے کتابیں پوری کرپاتا، تب منشی نول  کشور دارالعلوم کی اسلامی کتابیں شائع کرکے اسے ہدیے میں دیتے رہے(1)۔

منشی نول کشور کے علاوہ بھی متعدد ایسی ہندو شخصیات گزری ہیں ہیں جنہوں نے اسلامی علمی روایت کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیا تھا۔ یہ درست ہے کہ برصغیر کا مسلم فکری ذخیرہ متنوع الجہات تھا جس کی مثال ہندو یا برصغیر کے کسی اور مذہب میں نہیں پائی جاتی تھی۔ یہ نیا رجحان سوچنے سمجھنے والوں کے لیے پرکیف وپرتجسس تھا جس کی وجہ سے ہندومذہب کی کئی شخصیات اس جانب متوجہ ہوئیں۔ تاہم یہ ربط محض تہذیبی تعارف تک محدود نہیں تھا بلکہ اس عملی شہادتیں یہ بتاتی ہیں کہ ان کا مسلم روایت کے ساتھ تعلق ایک گونہ انس و محبت کابھی تھا۔

دارالعلوم دیوبند کی اپنی یادداشتوں میں درج ہے کہ اس وقت ادارے میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ طالبعلوں کے لیے کتابیں پوری کرپاتا، تب منشی نول  کشور دارالعلوم کی اسلامی کتابیں شائع کرکے اسے ہدیے میں دیتے رہے

منشی نول کشور ہی کے مطبع میں کام کرنے والے کئی ایسے ہندو تھے جو اسلامی کتب کا ترجمہ کرنے پر مامور تھے۔ متعدد ایسے افراد کا نام آتا ہے جو مسلم دینی علوم کی کتب کی پروف ریڈنگ اور تصحیح کرتے تھے۔ حتی کہ ایسی ہندو شخصیات کے نام بھی موجود ہیں جنہوں نے قرآن پاک کا ترجمہ کیا۔

مثال کے طور پہ پنڈت کیلاش ناتھ برہست نے امام الدین رام نگری کے ساتھ مل کر مولانا صدرالدین کے اردد ترجمہ کو ہندی کی شکل دی تھی۔ اس ترجمے کا کچھ حصہ 1955ء میں جماعت اسلامی رامپور نے بھی شائع کیا تھا۔ ہندی کے مشہور شاعر ہرش چندر نے بھی قرآن کریم کا ترجمہ شروع کیا تھاجو 1877ء میں ایک ہندی رسالے میں قسط وار شائع ہونا شروع ہوا تھا، اگرچہ یہ مکمل نہیں ہوسکا تھا۔(2) اسی طرح کنہیا لال لکھداری نام کی ایک ہندو شخصیت کا ترجمہ دھرم سبھا لدھیانہ سے 1928ء میں شائع ہوا تھاجو 415 صفحات پر مشتمل تھا۔ متن کے بغیر اس ترجمہ کی تیاری میں شاہ عبدالقادر کے ترجمہ قرآن سے مددلی گئی تھی۔ یہ سردار جگجوت سنگھ کی فرمائش پر لکھا گیا تھا۔ ترجمے کے پہلے صفحے پر مترجم کی تصویر بھی چھپی تھی جو مذہباََ ہندو تھا۔(3)

ہندو مذہب سے تعق رکھنےوالی کئی ایسی نامور شخصیات بھی گزری ہیں جنہوں نے اسلامی علمی روایت کی دقیق مباحث پر بھی زبردست کلام کیا ہے۔ ہندو مذہب کی اہم شخصیات کے اس طرح مسلم روایت سے ربط کا یہ اثر ہوا کہ عام ہندو لوگ کثرت کے ساتھ اسلام کی طرف مائل ہونے لگے۔ ان علمی شخصیات میں سے ایک نام مالک رام کا بھی ہے جن کی اسلام سے متعلق لکھی گئی کتب کو دیکھ کر یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ وہ ہندو تھے۔ مثال کے طور پہ ان کی ایک کتاب ’’عورت اور اسلامی تعلیم‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ اس کتاب میں عورتوں کے حقوق کو اسلام کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ اس میں قرآنی آیات و احادیث کو کثرت کے ساتھ شواہد میں پیش کیا گیا ہے۔ نہ انہوں نے ترجمے میں کوئی خیانت کی اور نہ ہی اسلامی تصور کو مسخ کیا۔ انہوں نے اس میں عورت کی آدھی گواہی کے اسباب ا ور وراثت میں اس کے   حصے کے عدم مساوات پر بھی تفصیلی کلام کیا ہے(4)۔

یہ ہندوؤں کے مسلم علمی ورثے میں حصے کی چند مثالیں ہیں۔ اگر مذہب اسلام اور اس کے شعائر سے عقیدت و جذباتی ربط کی بات کی جائے تو ایک فہرست ان شخصیات کی بھی بنتی ہے جو مذہب کے اعتبار سے ہندو تھے لیکن انہوں نے اپنے فن کے ذریعے اسلام اور اس کے شعائر سے عقیدت کے بے پایاں اظہار کیا۔ بہت سارے ایسے ہندو تھے جنہوں نے حمد لکھی اور نعت گوئی کی۔ لچھی نرائن کا ’معراج نامہ‘ اور راج مکھن لال کا نعتیہ کلام اس  صنف کے کے بڑے نمونے ہیں۔شو پرشاد لکھنوی، مہاراجہ سرکشن، دلورام کوثری،پنڈت بالکمند عرش، جگن ناتھ آزاد، کرشن بہاری، کنور مہندر سنگھ بیدی جیسے مزید نام بھی اس میں شامل کیے جاسکتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے مذہبی حلقے میں بھی بہت محترم تھے اور انہوں نے اسلام سے بھی کھلے عام عقیدت کا اظہار کیا۔ درجنوں ایسے ہندو ادیب و شعراء گزرے ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی طرح عمدہ مرثیہ نگاری بھی کی(5)۔

ہندو مذہب سے تعق رکھنےوالی کئی ایسی نامور شخصیات بھی گزری ہیں جنہوں نے اسلامی علمی روایت کی دقیق مباحث پر بھی زبردست کلام کیا ہے

یہ چند ایسی مثالیں ہیں جن سے مقصود اس بات  کا اظہار ہے کہ ہندو ؤں کا مسلم علمی، فکری و تہذیبی روایت کے ساتھ کیا تعلق رہا ہے اور انہوں نے اس کے تعارف و ترویج میں کیا کردار ادا کیا۔ آئندہ صحات میں انہی شخصیات میں سے ایک منشی نول کشور کی خدمات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔

راقم کے طالب علمی سے کتابوں، مخطوطات و مطبوعات سے جنونی حد تک عشق ہے۔ بہت سے پرانے کتابوں پر “منشی نول کشور” کا نام نظر سے گذرا، ایک بار پٹنہ کے امیر حسن نورانی کی تفصیلی کتاب سوانح منشی نول کشور پڑھنے کا موقع ملا، کتاب کے آخر میں مطبوعات کی فہرست دیکھ کر رونگھٹے کھڑے ہوگئے ۔ ایک ہندو مذہب کا طابع اتنا عظیم کام اکیلے کیسے کرسکتا ہے؟

برطانوی استعمار کی برصغیر پر قبضے کے بعد اگرمسلم علمی روایت کا احیاء اور نشاۃ ثانیہ اگر کسی نے کیا ہے تو ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے منشی نول کشور ہی ہیں۔ منشی صاحب کے اس عظیم الشان علمی خدمات پر وہ پوری امت مسلمہ کی طرف سے شکریے اور تحسین کے مستحق ہیں۔ مختلف کانفرنسز اور علمی مجالس میں علوم اسلامیہ اور شعر و ادب کے طلبہ و اساتذہ سے منشی صاحب کے بارے میں گفتگو ہوئی تو بیشتر لوگ بالکل بے خبر تھے۔ تبھی سے یہ خیال ذہن میں رہا ہے کہ آج اگلی نسل کو رواداری اور باہمی احترام پر مبنی اس روایت سے روشناس کرانے کے لیے منشی صاحب  کی شخصیت کو پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

مصادر ومراجع:

عہد سلطنت کے فقہاء، صوفیاء اور دانشوروں کی نظر میں ہندوؤں کی حیثیت، ڈاکٹر شیث اسماعیل، اسلامک بک فاؤنڈیشن، نئی دہلی، 1998، ص 73۔ سوانح منشی نول کشور، امیر حسن نورانی، ص 178-180

اسلام کا ہندوستانی تہذیب پر اثر، تارا چند، مترجم رحم علی الہاشمی، آزاد کتاب گھر کلاں محل دہلی، 1966ء، ص 113

سابق مرجع، ص 116

منشی مالک رام، صحیفہ خوشنویساں، چوہدری احترام الدین عثمانی، یونین پریس، دہلی، 1994ء، ص144

شاعری کے ارتقاء میں ہندو شاعروں کا حصہ،گیت سہائے سرواستو، اسرارکریمی پریس، دہلی، 1969ء، 22-23

نوٹ: یہ مضمون معروف ہندو ناشر “منشی نول کشور” پر راقم کی زیر طبع کتاب بعنوان ’مسلم علمی و تہذیبی ورثے کے عظیم ہندو ناشر منشی نول کشور‘ کے لیے بطور پیش لفظ تحریرکیا گیا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...