امن و امان کے حوالے سے سال 2021ء کا متوقع منظرنامہ

627

عدم تحفظ اور تشدد کے مظاہر و رجحانات کا آنے والے وقت میں کیا منظرنامہ ہوگا اس کا اندازہ لگانا آسان نہیں ہوتا، بالخصوص پاکستان جیسے ممالک میں جہاں سکیورٹی کا چیلنج نہایت پرپیچ ہے اور اس کے مقابل ریاست کا ردعمل عجلت پسندانہ اور ابہام کا شکار ہے۔ تمام پیش بین خدشات کے برخلاف گزشتہ سال کے دوران ملک میں امن وامان کی صورتحال نسبتاََ مستحکم رہی جس کا کریڈٹ قانون نافذ کرنے والے ادارے لے سکتے ہیں۔ مگر عسکریت پسندی کے تیزی سے بدلتے منظرنامے کو پیش نظر رکھتے ہوئے  کہا جاسکتا ہے کہ 2021ء بھی ایک آزمائشی مرحلہ رہے گا اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنا سکیورٹی فورسز کی اولین ترجیح رہے گا۔

سال 2020ء میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں کمی کا رجحان برقرار رہا جو 2014ء سے تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ سال 2019ء کے مقابلے میں پچھلے برس پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں میں 36 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ اندازوں کے برخلاف وبا کے دوران میں بھی ملک کے سکیورٹی منظرنامے میں کوئی نمایاں تبدلی رونما نہیں ہوئی۔ تاہم مئی سے اکتوبر کے مہینوں کے درمیانی عرصے میں دہشت گردانہ حملوں کی تعداد اور ان کی شدت میں تھوڑا سا اضافہ ہوا، خصوصاََ خیبر پختونحخوا کے ضلع شمالی وزیرستان اور صوبہ بلوچستان میں۔ اکتوبر میں ایک بار پھر دہشت گردوں کے حملوں میں تیزی آئی اور یہ سلسلہ سال کے آخر تک جاری رہا۔ باوجود اس کے کہ عسکریت پسندوں کا بنیادی ڈھانچہ متأثر ہوا ہے اور ان کے گڑھ توڑے گئے ہیں لیکن ان گروہوں کی کاروائیاں انجام دینے کی صلاحیت اب بھی برقرار ہے، اور گزشتہ سال کے دوران اس کے نئے تشکیلی مظاہر ابھر کر سامنے آئے ہیں جو روایتی جائزوں کے مطابق ملک میں سکیورٹی کی صورتحال پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

پچھلے کئی سالوں کی طرح، 2020ء میں بھی تحریک طالبان پاکستان کے اندر عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ رہی، یہ جماعت دہشت گردی کے 46 حملوں میں ملوث رہی۔ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) دوسرا بڑا مہلک گروہ تھا جس نے سال کے دوران 19 حملے کیے۔ ان نتائج سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ تحریک طالبان کی کاروائیوں کا زمینی دائرہ کار تیزی سے سکڑ رہا ہے، کیونکہ 2020ء کے دوران اس کی جانب سے کیے گئے 46 حملوں میں سے 40 صرف خیبرپختونخوا میں کیے گئے۔ اپنی موجودگی کو نمایاں کرنے کی غرض سے تحریک طالبان وزیرستان اور باجوڑ کے اضلاع میں دوبارہ منظم ہورہی ہے۔ لیکن کئی چھوٹے چھوٹے گروہوں کے اس میں ضم ہونے کے باوجود بھی اب تک اس کی آپریشنل ترجیحات میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

اعدادوشمار سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ تحریک طالبان کی کاروائیوں کا زمینی دائرہ کار تیزی سے سکڑ رہا ہے، 2020ء کے دوران اس کی جانب سے کیے گئے 46 حملوں میں سے 40 صرف خیبرپختونخوا میں کیے گئے

داعش نے گزشتہ برس ملک میں دو دہشت گردی کے حملے کیے تھے۔ تاہم اس گروہ کے دعوے کے مطابق رواں ماہ کے شروع میں مچھ کے علاقے میں 11 ہزارہ شیعہ کان کنوں کے قتل میں اس کا ملوث ہونا اس بات کا غماض ہے کہ پاکستان میں اس کا اثرورسوخ یا اس کی آئیڈیالوجی سے متأثر تنیمی پرتو اب بھی بلوچستان میں سرگرم عمل ہے اور یہ مستقبل میں ایک خطرہ بن سکتا ہے۔

پچھلے سال بلوچستان میں 6 باغی گروہ سرگرم رہے، لیکن بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) ایسے دو نمایاں گروہ تھے جو صوبے میں ہونے والے حملوں کی اکثریت میں ملوث رہے۔ بلکہ بی ایل اے نے بلوچستان سے باہر بھی دو حملے کیے، جن میں سے ایک سٹاک ایکسچینج کراچی پر ہونے والا مشترکہ حملہ تھا جس میں اس کی شمولیت تھی۔ اس سے یہ چیز بھی ظاہر ہوتی ہے کہ بلوچ باغی اگرچہ بلوچستان کے جنوب اور جنوب مغربی حصوں میں اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور کوئٹہ میں بھی اپنی موجودگی کا اظہار تسلسل سے کر رہے ہیں، مگر اس کے ساتھ وہ اپنی کاروائیوں کا دائرہ صوبے سے باہر بڑھانے کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں۔ سال 2020ء کے دوران متشدد سندھی قوم پرست گروہوں نے سندھ میں سکیورٹی اہلکاروں اور چینی شہریوں پر متعدد حملے کیے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ بلوچ باغی گروہوں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے مابین ربط موجود ہوسکتا ہے، اور ان گروہوں کے تنظیم ’سندھو دیش انقلاب‘ کے ساتھ اتحاد نے سکیورٹی کے چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

بظاہر یہ لگتا ہے کہ سال 2021ء کے دوران پاکستان میں دہشت گردی سے وابستہ چیلنجز اور ان کے لیے اقدامات کا محور سی پیک اور چینی شہریوں کی سلامتی وتحفظ کا مسئلہ رہے گا۔ بلوچ باغی پہلے ہی سی پیک منصوبوں اور چینی شہریوں کے خلاف اپنی دہشت گرادانہ کاروائیوں کے لیے شہرت رکھتے ہیں، اور گزشتہ برس متشدد سندھی قوم پرست گروہ بھی کراچی میں چینی شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اس فہرست میں شامل ہوگئے ہیں۔ مذہبی آئیڈیالوجی کی حامل دہشت گرد تنظیمیں بھی آسان ہدف کی تلاش میں ہیں جس کے سی پیک منصوبے کی سکیورٹی پر برے اثرات پڑسکتے ہیں۔ اس تناظر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سی پیک سے متعلقہ منصوبوں کا تحفظ اولین ترجیح ہوگی۔

بظاہر یہ لگتا ہے کہ سال 2021ء کے دوران پاکستان میں دہشت گردی سے وابستہ چیلنجز اور ان کے لیے اقدامات کا محور سی پیک اور چینی شہریوں کی سلامتی وتحفظ کا مسئلہ رہے گا

ایف اے ٹی ایف کی شرائط و مطالبات پر عملدرآمد ایک چیلنج رہے گا، جس سے عسکریت پسند گروہوں اور کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کے خلاف دباؤ بڑھے گا۔ حال ہی میں لاہور کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے لشکرطیبہ کے مرکزی رہنما ذکی الرحمان لکھوی کو پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے، یہ ایک اور اشارہ ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی اداروں نے دہشت گردی کی مالی معاونت میں ملوث کالعدم تنظیموں کے سرکردہ رہنماؤں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جماعت الدعوہ کی اعلی قیادت بشمول حافظ سعید کے خلاف پہلے ہی دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ ایسے اشارے موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ دیگر کالعدم تنظیموں، بالخصوص جیش محمد کے خلاف بھی ان مقدمات میں کاروائی ہوسکتی ہے۔

یہ دلچسپ بات ہے کہ جماعت الدعوہ نے اپنی قیادت کی گرفتاری اور ان پر عائد کیے گئے مقدمات پر کاروائی کے خلاف کوئی ردعمل نہیں دیا ہے، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ تنظیم ابھی تک پرامن اور تعاون پر آمادہ ہے، اور اس نے اپنے خلاف عائد مقدمات کا عدالتوں میں سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن جیش محمد کا معاملہ اس سے مختلف ہوسکتا ہے، یہ جماعت ٹکڑوں میں تقسیم ہوتی رہی ہے اور ان سے وابستہ عناصر ماضی میں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاچکے ہیں۔ اگر جیش محمد کی قیادت کے خلاف مقدمات درج ہوتے ہیں تو قانون نافذ کرنے والے ادارے جماعت کی طرف سے ممکنہ ردعمل کے حوالے سے چوکس رہیں گے۔

ریاست کا مذہبی انتہاپسند گروہوں کے لیے نرمی اپنانے کا رویہ ان کی سب سے بڑی طاقت ہے

تاہم مذہبی انتہاپسندی سے نمٹنا ریاست کی ترجیحات کی فہرست میں نچلے درجے پر رہے گا، باوجود اس کے کہ پاکستان کے سیاسی اور سکیورٹی کے منظرنامے میں مختلف طبقات کے خلاف پرتشدد واقعات اور مذہبی وفرقہ وارانہ منافرت کے سائے پھیلتے جارہے ہیں۔ ان واقعات میں سے ایک کرک کی مثال ہے جہاں ہندوسمادھی کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا اور اسے نذرآتش کیا گیا۔ حالیہ برسوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر پرتشدد واقعات میں کمی آئی ہے لیکن فرقہ وارانہ اختلافات اور اس کو فروغ دینے والے گروہ بدستور موجود ہیں۔

ریاست کا مذہبی انتہاپسند گروہوں کے لیے نرمی اپنانے کا رویہ ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ابھی تک ریاستی اداروں کا خیال ہے کہ انتہاپسند گروہوں کی جانب سے لاحق خطرات سے سیاسی ہتھکنڈوں کے ساتھ نمٹا جاسکتا ہے۔ حکوت نے ان کے متشدد بیانیوں کی جاذبیت اور پھیلاؤ کو کم کرنے کی کوئی حکمت عملی وضع نہیں کی ہے، اور یہ عین ممکن ہے کہ انتہا پسند حکومت کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: رونامہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...