نریندرا مودی کا رویہ بھارتی مسلمانوں کے ساتھ نرم کیوں ہونے لگا ہے؟

سلواتور بابونس

164

22 دسمبر2020ء کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صدسالہ خدمات کی تقریبِ جشن میں بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے خطاب کیا، یہ گفتگو آن لائن تھی مگر ان کی بات کوپورے ملک میں بہت اہتمام سے سنا گیا۔ مقتدر حکومتی جماعت بی جے پی  کےایک طویل عرصے سے ملک میں بسنے والے 200ملین آبادی کے حامل مسلم شہریوں کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں اور اس پر الزام ہے کہ حکومت بننے کے بعد اس نے مسلم مخالف ماحول کو گرمایا ہے اور کھلے عام مذہبی منافرت کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔ تاہم مودی کا ہمیشہ یہ کہنا رہا ہے کہ وہ بلاتفریق تمام ہندوستانیوں کے وزیراعظم ہیں۔

تقریر میں مودی نے اس پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں مذہبی امتیازی سیاست کے خلاف ہیں۔ انہوں نے مسلمان خواتین کی تعلیم میں بہتری کے اعدادوشما بھی پیش کیے۔ اور مسلم طالب علموں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی سطح پر بھارت کے اعتبار اور نیک نامی کو تقویت دینے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

غالب گمان یہ ہے کہ مودی کا یہ بیان مسلم دنیا کے ساتھ بھارت کے تعلقات کی مضبوطی کی کوششوں کا تسلسل تھا، یا کم ازکم اس تصور کا ازالہ مقصود تھا جو بن چکا ہے کہ موجودہ حکومت نہ صرف یہ کہ ہندو قوم پرست نظریہ کی حامل ہے بلکہ وہ اسلام دشمن ہے۔

بھارت کی خارجہ پالیسی میں مسلم اکثریت والے ممالک کے ساتھ خوشگوار روابط کا قیام انتہائی اہم ہے۔ حیرت انگیز طور پر وہ ایسا بیک وقت اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعلقات کو یقینی بناتے ہوئے کر رہا ہے۔ انڈیا خلیج کی عرب ریاستوں سعودی عرب اور امارات سے قریبی روابط قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے اور ان کے حریف ایران کے ساتھ بھی کاروباری معاہدے کر رکھے ہیں۔ یہ سب ایک قسم کی جادوئی واردات ہے کیونکہ بین الاقوامی تعلقات میں ایسا ہوتا نہیں ہے۔

انڈیا خلیج کی عرب ریاستوں سے قریبی روابط قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے اور ان کے حریف ایران کے ساتھ بھی کاروباری معاہدے کر رکھے ہیں

مغربی ماہرین اس پر بات کرتے رہتے ہیں کہ آج کی دنیا یک قطبی ہے، دو قطبی ہے یا پھر متعدد الجہات کی حامل ہے۔ تاہم یہ طے ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں امریکہ ایک اہم قبلہ ہے اور دیگر ممالک کے ساتھ ربط میں امریکی سمت کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ تاہم علاقائی سطح پر بین الاقوامی نظم کے اصول کچھ پیچیدگی کا شکار ہوجاتے ہیں اور اسے بھارت کے بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔

1919ء میں بنگالی ماہر سماجیات بنوئے کمار نے جرید ہ’امریکن پولیٹیکل سائنس رویو‘ میں ایک دلچسپ مضمون شائع کرایا تھا جس کا عنوان تھا ’بین الاقوامی تعلقات کا ہندو نظریہ‘۔مہابھارت اور دیگر کلاسیکی سنسکرت کے متون سے مدد لیتے ہوئے انہوں نے  باہر کے ملکوں کی تین اقسام مقررکیں۔ایک، آری(دشمن)۔دوسری قسم ہے مدھیامہ(جو اپنے ملک اور دشمن دونوں کے ساتھ الجھا ہوا ہو)،جبکہ تیسری قسم تھی اُداسینا(لاتعلق، جو کسی کے ساتھ بھی تعلقات قائم کرنے میں آزاد ہو)۔ بین الاقوامی تعلقات کے اس نظریے کو منڈالہ تھیوری کہا جاتا ہے۔

بنوئے کمار کے اصول کو سامنے رکھتے ہوئے بھارتی خارجہ تعلقات میں  مغربی سرحد پر پاکستان  کی حیثیت آری کی ہے۔ ایران اس کے لیے مدھیامہ ہے جو ناگزیر ہے۔جبکہ عرب خلیجی ریاستیں اُداسینا ہیں جو طاقت کا حتمی توازن رکھتی ہیں۔

بھارت امریکی پابندیوں کے باوجود ایران کے ساتھ کاروباری روابط قائم رکھے ہوئے ہے۔ یہاں تک کہ اسے ایران میں چاہ بہار بندرگاہ اور ریلوے لائن پر کام کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پابندیوں سے استثنا بھی حاصل رہاہے۔ ایران بھارت کا کوئی قریبی حلیف نہیں ہے لیکن منڈالہ تھیوری کے مطابق وہ آری پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ناگزیر ہے۔ ایرانی بلوچستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے کا الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے۔

بھارت کا خیال ہے کہ اسے اُدسینا کے ساتھ روابط گہرے کرنے کی ضرورت ہے جو علاقائی طاقتیں ہیں اور اپنا وزن کسی بھی جہت ڈالنے میں آزاد ہیں۔ اس لیے اس نے اپنا رخ تندہی کے ساتھ سعودی عرب، امارات اور بحرین کی جانب کیا ہے جو باہمی سطح پر یکساں مذہبی، نسلی اور دفاعی تعلقات  مشترکہ کی تاریخ رکھتے ہیں۔ سال 2000ء تک یہ خلیجی ریاستیں بھارت کو صرف سستی ورک فورس کے حوالے سے دیکھتی تھیں۔ صدی کے اختتام کے وقت سے بھارت کی تیزرفتار اقتصادی ترقی  نے ان تصورات کو بدل کر رکھ دیا۔

بظاہر  خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی کے لیے بھارت کو اب جس چیز کا دھیان رکھنا ہے وہ اپنے ملک کی مسلمان اقلیت کا ردعمل ہے

تاہم خلیجی ریاستوں کے ساتھ تیل اور سرمایہ کاری کے مواقع کی حد تک تعلقات بھارت کی منڈالہ تھیوری پر عملدرآمد کو مکمل نہیں بناتے۔ وہ ایک طویل عرصے سے عرب دنیا کے ساتھ گہرے سکیورٹی تعلقات کے قیام کا خواہاں ہے،صرف اس لیے کہ وہ پاکستان کو بھارت کی حقیقت پسند سیاست کا سامنا کرتے ہوئے دیکھے۔ پاکستان نے 1969ء میں او آئی سی بلاک میں بھارت کی شمولیت کو ناکام بنادیا تھا اور وہ سعودی عرب کے فوجی ڈھانچے کی تشکیل میں شامل رہا۔

پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے روابط کی بڑی علامت یہ تھی کہ سعودی عرب نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں تعاون کیا تھا۔ یہ دعوی کس حد تک درست ہے اس پر اختلاف ہے، تاہم یہ واضح ہے 1970ء کے بعد سے یہ مشہور تھا کہ پاکستان بھارت اور اسرائیل کے مقابلے کے لیے ایٹمی بم بنا رہا ہےجسے اسلامک بم کہا جاتا رہا۔ جب پاکستان نے 1998ء میں ایٹمی دھماکے کیے تو ساری مسلم دنیا میں خوشی کو لہر دوڑ گئی۔

یہ اب تک واضح نہیں ہے کہ بھارت خلیجی ریاستوں کو اپنے اپنی طرف متوجہ کرنے میں کیسے کامیاب ہواجو اب اپنے دیرینہ حلیف پاکستان سے نالاں ہیں۔ 2016ء تک یہ کہا جارہا تھا کہ پاک سعودی تعلقات ضرور ٹھیک ہوجائیں گے۔ لیکن شاید 2015ء سے معاملات میں تناؤ پیدا ہونا شروع ہوگیا تھا جو کبھی ختم نہ ہوسکا، جب یمن جنگ کے لیے سعودی عرب اور امارات نے پاکستان سے فوجی تعاون مانگا تھا جسے علی الاعلان ٹھکرادیاگیا ۔تب سے خلیجی ریاستوں کو یہ احساس ہونے لگا کہ پاکستان کے ساتھ ان کے روابط محض مشکلات کا سبب ہیں ان کا فائدہ کچھ نہیں۔2010ء کے بعد سے خلیجی ریاستوں کے پاس پاکستان سے اچھا فوجی سازوسامان موجود ہے اور اسے اب پاکستان کی تربیتی خدمات کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اس کے برعکس بھارت نے نہ صرف یہ کہ معاشی فوائد پیش کیے بلکہ سٹیٹس کو کے استحکام کی یقین دہانی بھی کرائی۔بحیرہ عرب میں بھارت کی فوجی فضائی وبحری موجودگی میں اضافہ اسی میلان کو تقویت دیتا ہے۔

مودی کی تقریر سے ایک دن قبل اس کے دست کار امت شاہ نے اعلان کیا کہ شہریت بل  قانون کے نفاذ کو کورونا وباء کے اختتام تک معطل کیا جاتا ہے

پاکستان کا یہ خیال رہا ہے کہ بھارت کو تناؤ کا شکار رکھنے کے لیے اس کے پاس کشمیر کارڈ موجود ہے، مگر 2019ء میں بھارت نے اس کی خصوصی حیثیت کالعدم قرار دیدی،اس پر پاکستان نے مسلم ممالک اور خلیجی ریاستوں سے تعاون کی اپیل کی، مگر مودی حکومت کی جانب سے وادی میں جابرانہ ہتھکنڈوں کے استعمال کے باوجودمسلم اکثریتی ممالک  اور او آئی سی نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔

بظاہر  خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی کے لیے بھارت کواب جس چیز کا دھیان رکھنا ہے وہ اپنے ملک کی مسلمان اقلیت کا ردعمل ہے۔اگرچہ او آئی سی نے کشمیر پر پاکستانی استدعاء کو بالائے طاق رکھا تھا مگر 2020ء میں نئے شہریت بل کو سخت مذمت کی تھی۔

علی گڑھ یونیورسٹی میں تقریر کے دوران مودی نے مسلم نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ چاہے جس بھی مذہب میں پیدا ہوئے ہوں مگر یہ اہم ہے کہ قومی مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملکی مفاد کے لیے سیاست کو ایک جانب رکھ دیا جانا چاہیے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ مودی کی تقریر سے ایک دن قبل اس کے دست کار امت شاہ نے اعلان کیا کہ شہریت بل  قانون کے نفاذ کو کورونا وباء کے اختتام تک معطل کیا جاتا ہے۔

مودی، امت شاہ اور بی جے پی شہریت بل کے وقتی تعطل اور ان کی دلجوئی سے یقینی طور پہ مستقبل میں مسلم نوجوانوں کے ووٹ کا حصول نہیں چاہتے۔بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ  وہ مسلم ممالک میں اپنی مسلم مخالف پہچان کو بدلنا چاہتے ہیں۔مسلم خلیجی ممالک میں اپنے تأثر کو بدلنے کے لیے مودی کی طرف سے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا،چاہے شہریت بل کی وقتی منسوخی ہو یا اپنی جماعت کے متشدد عناصر کو کنٹرول کرنا ہو۔بھارتی ریاست کے خلیجی ممالک کے ساتھ روابط خوشگوار ہیں لیکن ان کی حتمی کامیابی کا دارومدار اس پر ہے کہ ریاست اپنے گھر میں مسلم اقلیت کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھے گی۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: فارن پالیسی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...