مہاتما بدھ اور فلسفہ خوشی و غم

169

مہاتما بدھ نے دو باتیں کہی ہیں۔ ایک بات یہ کہ انسان کی خواہش اس کے دکھ کا سبب ہے۔ دوسری بات یہ کہ دنیا میں ہر شئی ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے۔

دوسری بات سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں کوئی پیدا ہو رہا ہے، کوئی فوت ہو رہا ہے۔ کسی کے رزق میں کمی اور کسی کے رزق میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کوئی تخت سے اتارا جا رہا ہے۔ کسی کو تخت پر بٹھایا جا رہا ہے۔ کوئی نئی زندگی کا آغاز کر رہا ہے، اور کوئی اپنی زندگی بِتا چکا ہے۔

جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے اس میں متوازن راستہ یہ ہے کہ خواہش بذات خود پریشانی کا پیش خیمہ نہیں ہوتی۔ اگر خواہش بے لگام ہو تو پریشانی کو جنم دیتی ہے۔ مہاتما کے فلسفے پر عمل کرنا نا ممکن ہی نہیں محال بھی ہے۔ کوئی انسان خواہش میں کیسے آزاد ہو سکتا ہے۔ خواہش و آرزو اس کی جبلّت و فطرت میں ہے وہ بھی اس سے آزاد نہیں ہو سکتا وہ جب تک زندہ ہے اس کا اسیر رہے گا۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ انسان پریشان اس لیے ہے کہ اس میں خواہش ہے یا جب بھی خواہش کرتا ہے تو پریشانیوں میں گِھر جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان دو باتوں سے پریشانی میں گِھرتا ہے۔

ایک بات: جب یہ ناجائز اور حرام کی خواہش کرتا ہے۔ اس کی تکمیل کے لئے بھاگتا ہے۔ دوسری بات: جب یہ اپنی چادر سے باہر پاؤں پھیلا تا ہے۔ اگر اس میں ان دو خرابیوں سے آزاد و پاک خواہش جنم لے تو وہ کبھی آزار و تکلیف کا باعث نہیں بنتی۔ جب انسان ظلم و عدوان کے راستے پر چل کر اپنی خواہشات کی تکمیل و حصول چاہتا ہے پریشانیوں میں ہی نہیں گِھرتا بلکہ وہ اس تاریک سُرنگ میں داخل ہو جاتا ہے جس کا دوسرا راستہ بھاگنے دوڑنے کے باوجود دکھائی نہیں دیتا۔ وہ تمام زندگی تاریک راہوں کا مسافر بن کر خواہشات کے صحرا میں بھٹکتا رہتا ہے۔ اُسے دور سے چمکنے والی ہر شے اپنی خواہش کی تکمیل دکھائی دیتی ہے۔ لیکن وہ تکمیل ہوتی نہیں ہے۔ وہ پیاسے کی طرح دربدر ٹھوکریں کھاتا اور اس کی زٙد میں رہتا ہے۔

اگر انسان اپنی چادر سے باہر پاؤں پھیلانا چھوڑ دے یعنی قناعت کا راستہ اختیار کرے تو یہ بھی اسے پریشانی سے بچاتی ہے۔ یہ ایک سادہ اور آسان اصولِ زندگی ہے۔ اس کے سمجھنے اور اختیار کرنے میں کسی فلسفے کو پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہم میں سے ہر ایک کا تجربہ ہے۔ جب بھی ہم اپنی آمدن اور وسائل سے باہر نکلتے ہیں۔ ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔ خدائے لم یزل کا عرفان، قُرب اور محبت میں سکون ہے۔ یہ سکون آپ کی مادی ضرورتوں کے خلاف نہیں ہے۔ یہ سکون اپنی مادی ضرورتوں کو اُس کے حکم کے تابع رکھنے سے نصیب ہوتا ہے۔ مادی ضرورتوں سے ماوراء مقامِ بشر نہیں اور نہ ہی یہ بشر کی علامت ہے۔ بشر کا مقامِ بلند یہی ہے کہ وہ ان لوازمات کے باوجود سکون و آشتی کو پا سکتا ہے۔ رب تعالی نے اسے زمین پر بھیجا تو اپنی ہدایت دے کر بھیجا۔ وہی ہدایت ہی اسے پریشانیوں سے بچاتی ہے۔ دنیا کو تیاگ دینا باعث راحت و مسرت نہیں ہے۔ دنیا میں رہ کر اُس رب کی چاہت کے مطابق زندگی گزارنا راحت و مسرت کی اصل بنیاد ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...