چی گویرا کا دورہ پاکستان اور حقائق کی درست نشاندہی

301

گزشتہ دنوں رشید یوسفزئی نے سوشل میڈیا پر لگائی گئی اپنی ایک پوسٹ میں بائیں بازو کے ہیروازم کے حوالے سے کچھ سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے لیفٹ پر شخصیت پرستی کا الزام لگاتے ہوئے مارکس ازم کومذہب کے قریب تر قرار دیا۔ عظیم انقلابی چی گویرا پرتنقید کی۔ چی گویرا ایوب آمریت کے عہد میں پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ ایوب خان اور وزیرخارجہ منظور قادر کے ساتھ چی گویرا کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے رشید یوسفزئی نے لکھا:

’’چی گویرا ایوب دور میں پاکستان آیا تھا۔ کراچی میں صدر ایوب سے ملا۔ پاکستانی چی گویرا پرست ابھی تک اس کی مقامی آمر سے ملاقات کی قابل قبول و معقول  تشریح پیش  نہ کرسکے۔ زیر نظر تصویر میں چی پاکستان میں آمریت کی بنیاد رکھنے والے جنرل ایوب کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘

اسی طرح کی ایک پوسٹ عدیل انجم نے سوشل میڈیا پر کی۔ سعدیہ طور نے عدیل انجم کی پوسٹ پرکمنٹس میں تعجب کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ کیا ستم ظریفی ہے‘۔ سعدیہ طور کے مطابق منظور قادر نے پروگریسو پیپرز کو ضبط کرنے میں کردار ادا کیا اور ایوب سرکار کی کلچرل پالیسی بھی وضع کی۔ ماروی سرمد نے عدیل انجم کی پوسٹ پرحیرت کا اظہار کیا کہ آخر چی کو ایک فوجی آمر سے ملنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔

میرے خیال میں بظاہر چی گویرا کی ایک آمر سے ملنے کی وجہ عملیت پسندی کا نقطہ نظر ہے جسے بین الاقوامی تعلقات میں ترجیح دی جاتی ہے، اور اسی عملیت پسندی کی جھلک اس تصویر میں بھی نظر آتی ہے کہ دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ چی گویرا نے شاید ظلم، جبر اور حقوق کے استحصال کو مدنظر نہیں رکھا۔ عالمی حالات کے پیش نظر کسی ملک کی عملیت پسندی کی حکمت عملی کو بین الاقوامی تعلقات کی تھیوری میں خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اُس وقت روس، چین اور کیوبا کی خارجہ پالیسیاں ہر جگہ استحصال اور جبر کے شکار عوام کے حق میں عملی ردعمل دینے سے زیادہ سرد جنگ کے مخصوص حالات کے تحت وضع ہورہی تھیں۔ یہ چیز تیسری دنیا کے استحصال اور جبر کے شکار عوام اور خود کمیونسٹوں کے لیے کسی المیہ سے کم نہ تھی۔

چی گویرا دو مرتبہ پاکستان آئے تھے۔ پہلی مرتبہ 1959ء میں نجی دورے پر اور دوسری مرتبہ 1965ء میں سرکاری دورے پرتشریف لائے۔ دونوں ہی مرتبہ جنرل ایوب خان کی حکومت تھی۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ترقی پسند فوجی افسران تیسری دنیا کے اکثرممالک میں اقتدار پر قبضہ کر رہے تھے۔ کیوبا میں فیڈل کاسترو اور چی گویرا کی قیادت میں ایک مختصر سا گوریلا جتھہ یہ کام سر انجام دینے میں کامیاب ہوا۔ تیسری دنیا کے دیگرممالک سے البتہ پاکستان کا معاملہ یوں مختلف تھا کہ یہاں تبدیلی امریکی پشت پناہی سے آئی اور پاکستان پہلے ہی امریکہ کے ساتھ کئی معاہدوں کے ذریعے سامراجی کیمپ کاحصہ بن چکا تھا۔ دوسری طرف کاسترو کے کیوبا کوامریکی پابندیوں کا سامنا تھا، یوں اسےعالمی سطح پر حلیفوں کی بھی ضرورت تھی۔ اسی لیے جس طرح پہلے روسی بیوروکریسی نے اپنی تنہائی ختم کرنے کے لیے دیگرممالک کے ساتھ تعلقات میں وہاں کی مزدور اور کسان تحریکوں کو نظرانداز کیا تھا، کیوبا بھی بالکل اسی راہ پر گامزن تھا۔

اُس وقت روس، چین اور کیوبا کی خارجہ پالیسیاں ہر جگہ استحصال اور جبر کے شکار عوام کے حق میں عملی ردعمل دینے سے زیادہ سرد جنگ کے مخصوص حالات کے تحت وضع ہورہی تھیں۔ یہ چیز تیسری دنیا کے استحصال زدہ اور جبر کے شکار عوام اور خود کمیونسٹوں کے لیے کسی المیہ سے کم نہ تھی

چی گویرا دنیا بھرمیں مزاحمت کی علامت ہے۔ لہذا چی کے حوالے سے واقعات وحقائق کو گڈمڈ کر کے اس عظیم انقلابی کی شخصیت کو داغدار نہیں بنانا چاہیے۔ چی گویرا نے کیوبا انقلاب کے بعد فیڈل کاسترو سرکار میں ایک کلیدی حیثیت حاصل کرلی تھی اور اس حکومت کے لیے غیرملکی تعاون حاصل کرنے کی کوششیں کیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے دورے کا مقصد بھی یہی تھا۔ لیکن یہ حالات کا محض ایک رخ ہے۔ بہت جلد چی گویرا پر حقائق واضح ہونا شروع ہوگئے تھے۔

کتاب ’’کیوبا انقلاب اور چی گویرا‘‘ کے مصنف مائیک گنزالز لکھتے ہیں کہ بہت جلد چی، فیڈل کاسترو کی عملیت پسندی سے عاجز آگئے تھے۔ اس نے اول کوشش کی تھی کہ کسی طرح معاشی ترقی سے کیوبا کے انقلاب کو محفوظ بنالیا جائے۔ اس کے لیے اس نے 1959ء تا 1965ء کیوبا میں صنعت کاری کی پالیسی کو کامیاب بنانے کی سعی کی۔ اس کے خیال میں یوں عوام کی زندگی میں بہتری آئے گی۔ روسی معاشی منصوبہ بندی کے زیراثر اس کا خیال تھا کہ صنعتوں کو قومیانے کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے تمام بنیادی وسائل اور خدمات کو حکومت اپنے ہاتھ میں لے اور ان شعبوں میں مراعات کو تقسیم کردیا جائے۔ لیکن داخلی مضبوطی کے حصول کے ساتھ چی کیوبا کی تنہائی کے خطرے سے بھی بخوبی آگاہ تھا جواس کو اپنے سے کئی گنا بڑے معاشی اور فوجی لحاظ سے ایک طاقتور سامراجی ملک امریکہ کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے درپیش تھا۔

اکتوبر 1962ء میں میزائل کے بحران نے امریکہ اور روس کوجنگ کے دہانے پر دھکیلا تو کیوبا کے انقلابیوں نے خود کو سخت مشکل وقت میں محسوس کیا، تب وہ روسی امدادی نعرہ بازی اور اس کی محدودیت سے آگاہ ہوئے۔ اس وقت کاسترو نے روس سے فاصلہ بڑھانا شروع کیا۔

کیوبا کی عالمی سطح پر تنہائی کو ختم کرنے کے لیے اس کے پاس دو راستے تھے۔ پہلا یہ کہ ڈپلومیسی کے راستے سے کیوبا کی تنہائی  دور کی جائے۔ اور دوسرا یہ تھا کہ انقلاب کو دیگر ممالک تک پھیلایا جائے۔ میک لینن لکھتے ہیں کہ کیوبا کے انقلاب کو لاطینی امریکہ کے دیگرممالک تک وسیع کرنے کے لیے ریگس ڈیبری نے نظریاتی کوششیں کیں اور چی گویرا نے عملی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔ 1965ء جس سال اس نے پاکستان کا دورہ کیا اسی سال چی نے اپنی آخری تقریر میں روس کی بین الاقوامیت کو نظرانداز کرنے کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسی سال کے وسط میں چی گویرا کیوبا میں اپنے تمام عہدوں سے استعفی دے کر انقلاب کو افریقہ اورجنوبی امریکہ میں  پھیلانے کے لیے ایک نئی گوریلا جنگ کا آغاز کرنے نکلا۔ یہ کاسترو کی داخلہ پالیسیوں اور روس کی عالمی پالیسیوں پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار تھا۔ مگر اس دوران یہ ہوا کانگو اور بولیویا میں یہ کوششیں باور ثابت نہ ہوسکیں اور چی 8 اکتوبر 1967ء کو گرفتار ہوکر اس کے اگلے دن سی آئی اے کے ہاتھوں مار دیے گئے۔

چی گویرا کا دور انقلابات کی دہائیوں کا عہد تھا۔ بہت سارے خطوں میں حکومتیں عوام کی حمایت سے محروم تھیں، ایسے میں کیوبا جیسے ملک میں گوریلاجتھے نے عوامی حمایت سے محروم ایک بہت ہی کمزورحکومت کا تختہ الٹنے کی کامیاب کاروائی کی تھی۔ اس دوران وہاں عوام کی بڑی تعداد کا رویہ تقریباََ غیرجانبدرانہ تھا۔ یوں حکومت سے عوامی بیگانگی گوریلاجتھے کے لیے غنمیت ثابت ہوئی۔ بعدازاں انقلاب کوسوشلسٹ کہا گیا۔ چی گویرا ایک حقیقی انقلابی اور سامراج دشمن تھا۔ اوریہی اس کی شناخت اور مقبولیت کی بڑی وجہ ہے۔

لہذا حقائق اس بہتان طرازی کے برعکس ہیں جو اس عظیم انقلابی کے اوپر اب یہاں لگائے جارہے ہیں۔ اگرچہ اس کے انقلاب میں مزدور طبقے اور پسے ہوئے عوام کی جگہ عملی طور پہ ایک ایسے طبقے کی جگہ زیادہ تھی جو جدوجہد پر کمربستہ پرعزم گوریلا جنگ کے لیے آمادہ ہو۔ یہ طریقہ اوپرسے انقلاب لانے کی ایک مختلف کوشش تھا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...