وزیرستان میں 3 جی 4 جی انٹرنیٹ سروس کی بحالی

118

آج دوپہر کو جنوبی وزیرستان کے صدرمقام وانا میں وزیراعظم عمران خان نے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیرستان کے نوجوانوں کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا کہ یہاں 3 جی اور 4 جی انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے جو آج سے بحال کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ خدشہ موجود تھا کہ انٹرنیٹ سروس کو عسکریت پسند کاروائیوں کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں اس لیے اسے بحال کرنے میں پس وپیش سے کام لیا جا رہا تھا، تاہم اب سکیورٹی اداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسے بحال کردینا چاہیے۔

وزیرستان میں ضرب عضب کے بعد سے لوگوں کو جہاں دیگر کئی طرح کے انتظامی مسائل کا سامنا رہا ہے ان میں سے ایک انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کا مسئلہ بھی نمایاں ہے۔ وہاں کے رہائشی 3 جی 4 جی کی سہولت کی بحالی کے لیے مسلسل احتجاج کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس بندش سے تعلیم اور کاروبار کے شعبے سخت متأثر ہوئے ہیں۔ بالخصوص جب سے آن لائن کلاسز کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ اس کا حصہ نہیں بن سکے۔ نوجوانوں کو معلومات تک رسائی نہیں ہوپاتی اور نہ ملازمتوں کے لیے اشتہارات کا علم ہوپاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپلائی نہیں کرسکتے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں آن لائن داخلوں کے لیے بھی انہیں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

وزیرستان میں تقریباََ 86 ہزار طلبہ ہیں جن کا تعلیمی سلسلہ آپریشن ضرب عضب کے بعد سے کسی نہ کسی حوالے سے متأثر ہے۔ انٹرنیٹ کی بلاتعطل اور درست فراہمی سے انہیں یہ مواقع دستیاب ہوسکتے ہیں کہ وہ اپنے محصور ماحول سے باہر جھانک سکیں اور علم و معلومات تک رسائی حاصل کرسکیں۔ معلومات تک آزادانہ رسائی اور باہر کی دنیا کے ساتھ ربط سے شدت پسند ماحول اور ذہنیت میں تبدیلی ممکن ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق وزیرستان کے 90 فیصد افراد کے لیے معلومات کا ذریعہ محض ریڈیو ہے۔ وہ علاقہ جو ایک عرصے سے شدت پسندوں کا گڑھ رہا ہے اسے اگر جدید ذرائع ابلاغ سے نہیں جوڑا جائے گا تو وہ ان عناصر کے لیے ہمیشہ آسان ہدف رہے گا۔

وزیراعظم کا آج کا یہ اعلان خوش آئند ہے تاہم اس فیصلے پر صرف وقتی اور محدود عملدرآمد نہیں ہونا چاہیے۔ پہلے بھی کئی بار اس طرح کے فیصلے کیے گئے مگر چند دنوں کے بعد انٹرنیٹ کو واپس بند کردیا گیا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...