جارج اورویل کی زندگی کے مختلف پڑاؤ

ہیری جے سٹیڈ

328

جارج اورویل (اصل نام ایرک آرتھر بلیئر) 1903ء میں برطانوی استعمار کے عہد میں انڈیا میں پیدا ہوئے تھے۔ مالی لحاظ سے اورویل متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی پرورش کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب وہ ایٹن کالج میں داخل ہوئے تو انہیں احساس ہوا کہ وہاں موجود دوسرے لڑکوں کے مقابلے میں ان کا کنبہ کتنا غریب تھا۔

ان کا خاندان یونیورسٹی کے اخراجات برداشت کرنے کا متحمل نہیں تھا، اس لیے اورویل نے امپیریل پولیس کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا جو عام انڈین پولیس سے بہتر درجے کی تھی۔ اس وقت انہیں برما کے علاقے میں خدمات انجام دینے کے لیے منتخب کیا گیا۔ انہوں نے برما میں ساڑھے پانچ سال گزارے، اس کی تفصیل ان کے 1934ء میں شائع کیے گئے ناول ’Burmese Days‘ میں ملتی ہے۔ یہ برطانوی استعمار کے لیے پریشان کن دن تھے۔ اورویل نے یہ سارا عرصہ ایک ایسے شخص کی طرح گزارا جو ایک مخصوص پروفیشنل طبقے کے اندر اپنی جگہ بنانے کی تگ ودو میں لگا رہا تھا۔ اس دوران انہوں نے برمی زبان روانی کے ساتھ بولنا سیکھ لی تھی۔ وہ برمی رسوم ورواج سے اتنا قریب ہوگئے تھے کہ انہوں نے اپنی انگلیوں پر ٹیٹو بھی بنوا لیے جو برمی روایات کے مطابق سانپوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ انہیں بعد میں اس بات کا شدت کے ساتھ افسوس رہا کہ انہوں نے برطانوی استعمار کے لیے کام کیا۔ اس کا اظہار ’برما میں گزارے گئے ایام‘ میں جگہ جگہ ہوتا ہے۔ وہ اس عرصے میں تنہائی کے احساس کا شکار رہے تھے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’یہ اس کا معمول تھا کہ وہ جنگل کی تنہائیوں کی جانب رخ کرتا تھا۔ پرندے، پھول، درخت، یہ سب نہایت خوبصورت احساس تھا۔ مگر خوبصورتی بے معنی ہے جب تک دوسرے اس میں ساتھ شریک نہ ہوں‘‘۔

برما میں پولیس ملازمت کے دوران، پچھلی لائن میں بائیں سے تیسرے نمبر پہ

برما میں رہتے ہوئے اورویل نے ایک مرتبہ ہاتھی کو قتل کردیا تھا۔ Shooting an Elephant ان کا ایک مختصر نثرپارہ ہے جس میں وہ اس کا ذکر کرتے ہیں۔ اس سے برطانوی سامراج کی نفسیات بھی واضح ہوتی ہے۔ ہاتھی ان کے رہائشی علاقے کی طرف آگیا تھا، مقامی لوگوں نے شور مچایا کہ وہ اسے ان کی طرف موڑ کر واپس لے آئیں۔ جب مجمعے نے دباؤ ڈالنا شروع کیا تو اورویل کو لگا اسے کمزور نہیں دکھنا چاہیے، لہذا انہوں نے اپنی سفید چمڑی کی برتری کو ثابت کرنے کے لیے ظالم بننے کا فیصلہ کیا اور ہاتھی کو گولی مار دی۔

1927ء میں اورویل لندن آگئے۔ وہاں انہوں نے شہر کے غریب علاقوں اور نچلی حیثیت والے علاقوں میں آنا جانا شروع کیا۔ مختصر وقت کے لیے اپنی متوسط مالی حیثیت کو مخفی رکھتے ہوئے ان علاقوں میں وقت بھی گزارا جہاں وہ غریب کے لوگوں کے ساتھ رہتے تھے۔ رہائشی جگہوں کی حالت انتہائی خستہ تھی۔ یہ وہ عرصہ تھا جب اورویل نے غربت کے موضوع پر غور وخوض شروع کیا اور انہیں عام آدمی کی طرف جھکاؤ محسوس ہوا۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’بھکاریوں کی سماجی حیثیت پر بات کی جانی چاہیے۔ اگر کوئی شخص ان کے قریب جاکر دیکھے تو اسے۔ محسوس ہوگا کہ وہ عام لوگوں جیسے ہیں۔ ان کے بارے میں متجسس اور امتیازی رویہ ختم ہوجائے گا‘‘۔

اورویل اور ان کی بیوی نے ایک بچہ بھی گود لیا تھا جس کی ماں فوت ہوچکی تھی

اورویل کا اگلا پڑاؤ پیرس تھا۔ وہ شہر کی ورکنگ کلاس آبادی میں رہائش پذیر ہوئے اور انہیں ایک ہوٹل میں کام مل گیا۔ کتاب Down and out in London and Paris میں اورویل کے تلاش معاش اور خستہ حالی کے دنوں کا تذکرہ ہے۔ اس میں انہوں نے پیرس کے غریبوں کی حالت زار کو بیان کیا جس کا وہ سامنا کر رہے تھے۔ پرمشقت کام اور سکون کے لیے وقت بہت کم۔ 1929ء میں اورویل شدید بیمار پڑگئے، انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہوں نے کتاب How the Poor Die تصنیف کی۔ فرانسیسی ہسپتال میں موت اور مرض کی تکلیف دہ منظر کشی کی گئی ہے۔ اورویل نے زندگی میں جو کچھ لکھا وہ ان پر بیتے ہوئے تجربے کا عکاس تھا۔

’’یہاں لوگ جانوروں کی طرح مرجاتے ہیں۔ کوئی ساتھ نہیں کھڑا ہوتا، کسی کو سروکار نہیں۔ رات کو کوئی مرجائے تو صبح اس کا علم ہوتا ہے‘‘۔

1929ء کے دسمبر میں اورویل واپس برطانیہ آگئے۔ 1932ء تک وہ نجی شعبوں میں بطور کلرک کام کرتے رہے۔ اس دوران بھی وہ نئی جگہوں کی کھوج اور تجسس میں رہے۔ وہ ہر طبقے کا قریب سے مشاہدہ کرتے تھے۔ حتی کہ اس دوران انہوں نے جان بوجھ کر دو دنوں کے لیے خود کو جیل میں بھی بند کروایا۔

ان سے اگلے دو سالوں میں اورویل نے تدریس کا شعبہ اختیار کیا اور ایک سال سکول میں جبکہ دوسرا کالج میں پڑھایا۔ اس کے بعد جب انہیں نمونیا ہوا تو تدریس ترک کردی۔

پھر اورویل نے لندن کی ایک پرانی کتب کی دکان میں ملازمت اختیار کی۔ اس وقت انہوں نے کتاب Keep the Aspidistra Flying تصنیف کی۔ اس میں ایک ایک نوجوان کی کہانی ہے جو معاشرے کے قائم کردہ سٹیٹس اور پیسے کے کامیاب اصولوں کو مسترد کرتے ہوئے من چاہی زندگی گزارتا ہے۔ سالہا سال کی غربت کی زندگی کے بعد پھر وہ شخص امیر ہوتا ہے اور اس کے خیال یکسر بدل جاتے ہیں۔ وہ آخرکار اپنے مثالی نظریات سے سبکدوش ہوجاتا ہے۔

’’آپ جو سب سے بڑی غلطی کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ آپ ایک بدعنوان معاشرے میں رہتے ہوئے خود کو بدعنوان نہیں بنانا چاہتے۔ آخر کار آپ کو اس سے کیا حاصل ہوتا ہے؟ آپ ایک مخصوص اقتصادی نظام کا حصہ نہ بننے کے لیے ایک طرف کھڑے ہوجاتے ہیں، مگر یہ زیادہ دیر ممکن نہیں ہوسکتا۔ یا تو سارا نظام تبدیل ہو یا وگرنہ اس سے فرار کا کوئی حیلہ نہیں۔‘‘

1936ء کے دوران اورویل نے لندن کے صنعتی شہروں میں وقت گزارا۔ وہ فیکٹریوں میں کام کرتے اور مزدوروں کے ساتھ رہتے۔ 1937ء میں ان کی کتاب The Road to Wigan Pier شائع ہوئی۔ اسی مرحلے میں ان کے سوشلزم کے حوالے سے نظریات کی تشکیل ہونی شروع ہوئی۔ اس عرصے میں انہوں نے کوئلے کی کان میں بھی کام کیا تھا جس کا ذکر کتاب میں موجود ہے۔

’’میں نے اپنی تمام زندگی میں اگر اپنے سے کم حیثیت اور الگ کسی کو محسوس کیا ہے تو وہ کان کن ہے‘‘۔

سوشلزم کے حق میں لکھنے کی وجہ سے اورویل اپنے ملک کی خفیہ ایجنسیوں کی نگرانی میں شامل افراد کی فہرست میں شامل رہے۔۔

تلوار کا جائزہ لیتے ہوئے

1936ء کی گرمیوں کے دوران اسپین میں خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ اورویل نے رخت سفر باندھا اور بارسلونا کی جمہوری فوج میں شامل ہوگئے۔ 1937ء کے وسط میں جنگ کے دوران اورویل کو ایک گولی لگی جو شریان کے قریب سے گزر گئی۔ 1938 میں انہوں نے Homage to Catalonia لکھی جس میں اسپین کی خانہ جنگی کا تذکرہ ہے۔

’’جنگ میں جب آپ سخت گولیوں کی بوچھاڑ میں ہوتے ہیں تو آپ کو گولی کے خوف سے زیادہ اس بات کا اضطراب ہوتا ہے کہ پتہ نہیں گولی جسم کے کس حصے میں لگے گی۔ ہر وقت یہ اضطراب کہ گولی کہاں پیوست ہوگی، پورے جسم میں بے چینی کا احساس پیدا کیے رکھتا ہے‘‘۔

جنگ کے ایام میں اورویل نے بی بی سی کے لیے بھی کام کیا۔

اورویل کی سب سے زیادہ مشہور کتابیں Animal Farm اور 1984 بالترتیب 1945ء اور 1949ء میں شائع ہوئی تھیں۔ یہ دوناول ان کی زندگی کا نچوڑ اور ثمر ہیں۔ یہ فاشزم، سوشلزم، غربت، سامراج اور سماجی سیاسی نظم کے گہرے عکاس ہیں۔

’’ونسٹن، تم سیکھنے میں بہت سست ہو۔

میں بھلا تمہاری مدد کیسے کروں، میری طرف نظر اٹھاؤ، 2 اور 2 کتنے ہوئے؟ چار۔

مگر بعض اوقات 2 اور 2 پانچ بنتے ہیں، یاکبھی کبھار تین بھی۔ بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ سب جواب بیک وقت درست ہوں۔ تمہیں بہت کوشش کرنی ہوگی۔ عقلمند بننا آسان نہیں ہے ونسٹن‘‘۔

(ناول ’1984‘)

1947ء سے اورویل کی صحت بہت خراب رہنے لگی تھی۔ انہوں نے اپنا ناول 1984 انتہائی بیماری کی حالت میں لکھا تھا۔ بالآخر 21 جنوری 1950ء کو وہ ہسپتال میں وفات پاگئے۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: میڈیم

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...