کمزور طبقات کے ساتھ بات چیت اور مکالمہ

460

نئے سال میں داخل ہوتے ساتھ ہی وقوع پذیر ہونے والے دو حادثات نے ایک بار پھر پسماندہ اور کمزور شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے ریاست کی ناکامی کو واضح کیا ہے۔ 30 دسمبر کو کرک میں ہندو سمادھی کی توڑ پھوڑ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک کی اکثریت کس طرح اب بھی اقلیت کو خوف کا احساس دلاتی اور ان سے کیسا برتاؤ کرتی ہے۔ اسی طرح، وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مقتول شیعہ ہزارہ کان کنوں کے اہل خانہ کی تعزیت کے لیے کوئٹہ جانے سے ہچکچاہٹ نے بھی اس خیال کو تقویت دی ہے کہ ملک کی مقتدر اشرافیہ کو عوام سے کچھ خاص ہمدلی، یا ان کے حوالے سے ذمہ داری کا احساس موجود نہیں ہے۔

تاہم سپریم کورٹ نے ہندو مندر کی توڑ پھوڑ کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ملک کے غیرمسلم شہریوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کہ مذہبی اقلیتوں کے لیے آخری امید، پاکستان کی اعلی عدالتیں ان کے آئینی حقوق کے تحفظ کی پوری کوشش کر رہی ہیں۔ جیسے جیسے آبادی کے لحاظ سے اکثریتی مگر کم روادار ذہنیت کی حامل فکر سماج میں غالب آرہی ہے، ایسے میں مقتدر اشرافیہ بھی نہ صرف یہ کہ اسی سوچ کی ہمنوا نظر آتی ہے بلکہ منافرت اور تشدد کو فروغ دینے والے عناصر سے نرمی کا معاملہ کرتی یا حتی کہ ان کو تحفظ بھی فراہم کرتی ہے۔

حکومت اور اس کے ادارے، بشمول شہری قانون نافذ کرنے والی انتظامیہ مذہبی منافرت کے مسائل پر پیشقدمی کے ساتھ اور بروقت قابو پانے سے پس وپیش کرتے ہیں۔ ممکن ہے ان کے پاس اس طرزعمل کے حق میں متعدد جواز ہوں لیکن اس لاتعلقی ظاہر کرنے والے اور غیرذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے معاشرے میں مذہبی منافرت کی چنگاری تیزی سے بھڑک رہی ہے۔

’’ملک میں طاقت کا حقیقی منبع سمجھی جانے والی ذہنیت کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں مسائل کے حوالے سے پسماندہ طبقات کے ساتھ بات چیت کی صلاحیتیں محدود درجہ کی ہیں‘‘

پاکستان میں طاقت کی حرکیات کی تفہیم کے پر کیے جانے والے ایک علمی کام کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں طاقت کا حقیقی منبع سمجھی جانے والی ذہنیت کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں مسائل کے حوالے سے پسماندہ طبقات کے ساتھ بات چیت کی صلاحیتیں محدود درجہ کی ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے مذہب کے نام پر متحرک دہشت گردوں سے مؤثر طریقے سے نمٹا ہے اور ملک کے اندر ان کے مضبوط گڑھ توڑ دیے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عروج والے دنوں میں ریاستی اداروں نے پہلے دہشت گردوں کے ساتھ متعدد معاہدے کیے، تاہم ان میں سے کوئی بھی دیرپا ثابت نہ ہوسکا، پھر آخری حل کے طور پہ ان گروہوں کا طاقت کے بھرپور استعمال سے مقابلہ کیا گیا۔ یہ معاہدے مختلف نوعیت کے تھے اور سیاسی حکمت عملی کا حصہ تھے جس کا مقصد دہشت گردوں کے تباہ کن کردار کو لگام دینا تھا۔

ریاستی اداروں کے لیے کسی فریق کے ساتھ مذاکرات کے دوران سخت لہجہ استعمال کرنا آسان ہے۔ اگر فریق ثانی جارحانہ یا متشدد طرز عمل کا حامل ہو تو ایسی حالت میں ریاست کے لیے ان کے ساتھ نمٹنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔ برصغیر میں غیرمتشدد تحریکوں کی ایک روایت ہے جو مختلف سیاسی تحریکوں اور سماجی مذہبی تحریکوں کی شکل میں زندہ رہتی ہے۔ لیکن اقتدار میں ایک گونہ انا کا عنصر ہوتا ہے جو اسے کمزور کے ساتھ مذاکرات کرنے سے روکتا ہے، اسے یہ خدشہ بھی لاحق ہوتا ہے کہ کمزور طبقات کے ساتھ مذاکرات کا عمل انہیں بااختیار بنادے گا اور ان کو سٹیک ہولڈرز کے مساوی لے آئے گا۔

ریاستی ادارے ابھی تک پختون تحفظ تحریک کے ساتھ بات چیت کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ یہی صورتحال بلوچستان میں بھی ہے جہاں کئی دہائیوں کے تنازع کے دوران سیاسی مکالمہ آگے نہیں بڑھ پایا ہے۔

یہ واضح ہے کہ کمزور طبقے کے پاس تابعدار رہنے اور مضبوط اکثریت کے احکامات کو بجا لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ تاہم حقوق کی آگہی کی سوچ اور ایسی ریاست کا خواب جہاں تمام شہری برابر ہوں کبھی نہیں مرتے، بالخصوص کوئٹہ میں رہنے والی ہزارہ جیسی برادریوں میں جو تعلیم یافتہ اور سیاسی طور پہ بیدار لوگ ہیں۔ جب بھی ہزارہ اپنی برادری کے افراد کے قتل کے خلاف احتجاج کے لیے نکلتے ہیں تو مقتدر اشرافیہ بے چین ہوجاتی ہے۔ یہ احتجاج ملکی اور عالمی میڈیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتے ہیں، اور ریاست کی توجہ بھی جو عالمی سطح پہ اپنا امیج بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ حکومت ہزارہ برداری کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اس کے زخموں کا مداوا نہیں ہوتا۔

حقوق کی آگہی کی سوچ اور ایسی ریاست کا خواب جہاں تمام شہری برابر ہوں کبھی نہیں مرتے، بالخصوص کوئٹہ میں رہنے والی ہزارہ جیسی برادریوں میں جو تعلیم یافتہ اور سیاسی طور پہ بیدار لوگ ہیں۔ جب بھی ہزارہ اپنی برادری کے افراد کے قتل کے خلاف احتجاج کے لیے نکلتے ہیں تو مقتدر اشرافیہ بے چین ہوجاتی ہے

سکیورٹی سے متعلقہ اعدادوشمار ملک کے لیے حوصلہ افزا منظرنامہ پیش کرتے ہیں کیونکہ پچھلے چند سالوں سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی آرہی ہے۔ تاہم، 2019ء  کے مقابلے میں اگرچہ سال 2020ء کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 36 فیصد کمی واقع ہوئی ہے لیکن شدت پسند گروہ ملک میں تین خودکش دھماکوں سے سمیت 146 حملے کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں اعدادوشمار کی کمی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مذہبی انتہاپسندی کے مسئلے کو حل کرلیا گیا ہے۔ پاکستان میں انتہاپسندی طاقت کے خلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اس سے تنوع کے مسئلے کو سلجھانے میں ریاست کی ناکامی بھی آشکار ہوتی ہے۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت پورا جنوبی ایشیا، بالخصوص بھارت مذہبی اور نسلی تنوع کے مسئلے کو سلجھانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ ہندوتوا اور ہندو قوم پرست انتہاپسندی نے بھارت میں معاشرتی اور سیاسی سطح پر توازن کو متزلزل کردیا ہے۔ اگرچہ بھارت کا مسئلہ نسبتاََ زیادہ سنگین دکھائی دیتا ہے تاہم پاکستان اور بھارت کی متشدد رویوں کے مابین کسی حد تک مماثلت بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔ ایک تو یہ کہ سماج کی اکثریتی ذہنیت ساری دنیا میں ایک جیسا تعامل کرتی ہے اور تنوع کو ناپسند کرتی ہے۔ وجہ واضح ہے، وہ یہ کہ تنوع کے مسئلے کو سلجھانے کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ دوسروں کے مذاہب کے لیے رواداری کا مظاہرہ کریں یا ان کے مذہبی، ثقافتی اور نسلی تہواروں کو منائیں، بلکہ یہ بھی مطلوب ہوتا ہے کہ معیشت اور سیاسی طاقت میں ان کے حصے کو تسلیم کیا جائے۔

یہ مساوات کی قدر کی پیچیدہ اور حساس جہت ہے جو معاشرے کی اجتماعی شناخت، سماجی سیاسی ہم آہنگی اور اس کی قبولیت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یہ فطری امر ہے کہ ایک ہی عقیدے، نسل، قبیلے، ثقافت اور طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے مابین خاص ربط ہوتا ہے اور ان کے مشترکہ مفادات بن جاتے ہیں۔ اگر معاشی وسائل کا حجم بڑا ہو تو انہیں دوسروں کو اس میں شریک کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا، اور اگر اس کا حجم چھوٹا ہو تو اکثریتی طبقہ دوسروں کو طاقت میں حصہ نہ دینے اور وسائل کی تقسیم نہ کرنے کے لیے بہانے تلاش کرتا ہے۔

معاشرے کا اکثریتی آبادی والا طبقہ احساس برتری کا حامل ہوتا ہے، اور اس برتر ذہنیت کا خطرناک مظہر آئیڈیالوجیکل ہوتا ہے۔ اس میں بڑے پیمانے پر منافرت، تشدد، اضطراب، انتشار اور جغرافیائی تقسیم کے بیج بونے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس کیفیت کا عملی مظاہرہ بھارت میں بخوبی نظر آتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس نوع کے فکری رجحانات وجود رکھتے ہیں مگر یہ نچلی سطح پر ہیں کیونکہ پاکستان کی اپنی مخصوص مجبوریاں ہیں جس کی وجہ سے اکثریت کا احساس برتری کا رجحان دبا رہتا ہے۔ اس کی سیاسی جغرافیائی مجبوریاں دلچسپ منظرنامہ پیش کرتی ہیں، یہ دو بڑے ایشیائی ممالک کے درمیان واقع ہے اور خلیج میں اس کے سنی و شیعہ ریاستوں کے ساتھ تعلقات پیچیدہ ہیں۔ پاکستان اس کا متحمل نہیں ہے کہ وہ اپنی سنی اکثریت کو برتری کے ثمرات سے پوری طرح لطف اندوز ہونے دے، اگرچہ وہ ان کے نظریے سے ہمدردی رکھتا ہے۔ اسی طرح چین اور مغربی ممالک کے ساتھ جغرافیائی معاشی تعلقات بھی ملک کی مقتدر اشرافیہ پر دباؤ قائم رکھتے ہیں کہ وہ اس حد تک اکثریتی برتری کے جذبات کے ساتھ نہ کھیلیں کہ اس سے انتشار اور سکیورٹی کے مسائل پیدا ہوں۔

آخرکار پاکستان کو ملک کے کمزور طبقات کے ساتھ بات چیت اور مذاکرات کرنے ہوں گے، ایسا کرنے سے مقتدر اشرافیہ کی انا کو ٹھیس نہیں پہنچے گی، بلکہ اس کے ذریعے قومی ہم آہنگی کی راہ ہموار ہوگی۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: روزنامہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...