شیخ الازہر کی اقلیتوں کے لیے مذہبی لٹریچر سے لفظ ’ذمی‘ ترک کردینے کی تجویز

140

شیخ الازہر احمد الطیب نے جامعہ ازہر کے فقہی تحقیقی مجلے میں شائع شدہ اپنے حالیہ مضمون میں کہا ہے کہ مسلم دنیا کو چاہیے کہ وہ فقہ کی زبان سے اقلیتوں کے لیے ’ذمی‘ کی اصطلاح کے استعمال کو ختم کردے۔ ان کے مطابق علماء درس و تدریس میں بھی مذہبی اقلیت کے لیے برابر کے شہری ہونے کی فکر کو رائج کریں، اسے ذمی کی بجائے شہری کہا جائے۔

معتدل مذہبی فکر کے حامل علماء نے شیخ الازہر کی رائے کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ مسلم ممالک کے اندر اب روزمرہ میں مذہبی اقلیتوں کے لیے ذمی کا لفظ استعمال نہیں کیا جاتا لیکن علماء و مذہبی تعلیمی اداروں کے ہاں اس لفظ کے استعمال اور اس اصطلاح کی تاریخی معنویت کے زیراثر لوگوں کے ذہنوں میں یہ احساس موجود ہے کہ مذہبی اقلیت برابر کی شہری نہیں ہوتی نہ اسے مساوی حقوق حاصل ہوتے ہیں، اس بنا پر ان کے خلاف منافرت پر مبنی اقدامات ممکن ہوجاتے ہیں۔ اس لیے اگر علماء اس لفظ کو ترک کرنے کا اعلان کریں اور اقلیتوں کو مساوی شہری کہا جائے تو وقت کے ساتھ ماضی کے تاریخی تعامل کا اثر زائل ہوجائے گا اور اقلیتوں کے خلاف پائے جانے والے حساسیت کے ماحول کی شدت میں کمی آئے گی۔

اگرچہ آئین میں اقلیتوں کو برابر کا شہری قرار دیا گیا ہے لیکن عملاََ پاکستان مذہبی اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے دنیا کے خطرناک ممالک میں شامل ہے جس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد سخت گیر شعلہ نوا مذہبی شخصیات کی پرستار ہے جن کے ہاں دیگر مذاہب کے لیے نرمی کے رجحانات نظر نہیں آتے اس لیے منافرت پر مبنی تقاریر کے باعث وقتاََ فوقتاََ ملک میں ناپسندیدہ واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایسے اقدامات کے ممکن ہوجانے کا ایک سبب اقلیتوں کے حوالے سے مذہبی تشریحات کا لٹریچر ہے جس سے یہ ذہن بنتا ہے کہ مذہبی اقلیت کم درجہ اور مشکوک ہوتی ہے۔ اگر ریاست مدارس اصلاحات کے ضمن میں یہ یقینی بناسکے کہ پاکستان کے علماء و مدارس مذہبی لٹریچر میں دینی اقلیت کے لیے شہری کا لفظ استعمال کریں گے تو یہ بین المذاہب ہم آہنگی کی سمت میں ایک حقیقی و مؤثر پیش رفت ہوگی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...